Thursday, October 5, 2017

Sir Syed Ahmad Khan for 21th century سرسید کی معنویت اکیسویں صدی میں

سرسید کی معنویت اکیسویں صدی میں

سید منصورآغا، نئی دہلی
ہندستان میں انیسویں صدی اصلاحات کی صدی ہے جس میں کئی نامور ہستیوں نے مختلف عنوانات سے معاشرے میں بیداری لانے ، توہمات اور جہالت کی تاریکیوں کو دورکرنے اور علم وعرفان کی روشنی پھیلانے کی مہم چلائی۔ ان شخصیات میں مسلمانان ہند میں جدید تعلیمی تحریک کیبانی اورعلم بردار سرسید احمد خاںؒ کی شخصیت ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔
سرسیداحمد خاں کی ولادت سنہ ۱۸۱۷ء میں ۱۷؍ اکتوبر کودہلی میں ہوئی تھی۔ اس سال ۱۷؍ اکتوبر کو ان کی ولادت کو دوسوسال پورے ہوجائیں گے ۔ اس تعلق سے اہل علم ودانش سرسید کی کثیر جہت شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جہاں ذکرکررہے ہیں ،وہیں ان کی تعلیمی تحریک کی معنویت، اس دور میں اس کی افادیت اوراس کے حوالے سے برصغیر کے مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف تقریبات کا اہتمام ہورہا ہے۔
دومطبوعات اورایک اہم پہلو
اس موقع کی مناسبت سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ڈاکٹرراحت ابرار کی ادارت میں سہ ماہی’ فکرونظر‘کا ایک نہایت وقیع اور جامع شمارہ بعنوان’سرسید نمبر‘چندماہ قبل منظرعام پرآیا ہے۔ اس ضخیم مجلہ میں سرسید کے حالات زندگی،ان کے تعلیمی ، مذہبی اور سیاسی افکار ونظریات، تحریک آزادی سے متعلق ان کی روش، ان کی طبی خدمات ، معاشیات سے متعلق ان کے نظریات ، اردوزبان وادب میں ان کے گرانقدراضافے، ان کیصحافتی خدمات، تعلیم نسوا ں اورخواتین کی بااختیاری کے لئے ان کی کاوشیں وغیرہ مختلف عنوانات کے تحت ابواب قائم کرکے منتخب مضامین جمع کردئے گئے ہیں۔لیکن میری نظر میں اس کاسب سے وقیع اورقیمتی باب خود مدیرکا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس کاعنوان ہے، ’’سرسید اور ان کے غیرمسلم معاصرین‘‘۔ سرسید کے مطالعہ کے باب میں یہ ایک انوکھا اضافہ ہے جو معلومات افزابھی ہے اورفکرانگیز بھی۔مقالہ نویس نے اس میں سرسید کی ہم عصر دس اہم غیر مسلم شخصیات ( راجہ رام موہن رائے، دادابھائی نوروجی، سریندر ناتھ چٹرجی، سوامی دیانندسرسوتی،لالہ لاجپت رائے، کے سی سین، راجہ شیوپرساد، راجہ شمبھو نارائن، بھارتیندوہریش چندر اورراجہ جے کشن داس)کی تحریکات ، سرسیدکی نظر میں ان کی اہمیت اوران سے سرسید کے تعلقات پرروشنی ڈالی ہے۔ 
اس مجلہ کے علاوہ ڈاکٹرراحت ابرارنے ایک مختصرکتاب’سرسید احمدخاں، اور ان کے معاصرین‘ عنوان سے شائع کی ہے۔ اس میں ان کی ہم عصر۱۶؍اہم مسلم وغیر مسلم شخصیات کا تعارف اورسرسید سے ان کے روابط کا ذکرہے۔مذکورہ مقالہ اور یہ مختصر کتاب دواعتبار سے اہم ہیں۔اول تو یہ کہ ہم کسی تحریک اورتحریکی شخصیت کو بغیراس کے ٹھیک ٹھیک سمجھ نہیں سکتے کہ اس دور کے ماحول ،اس میں اٹھنے والی تحریکات اوراہم شخصیات سے واقف ہوں۔ دوسرے یہ کہ اپنے دورکی دیگرشخصیات اور تحریکات سے اس کا کس طرح کا رابطہ اور واسطہ رہا؟
مذکورہ کتاب پر پروفیسرشافع قدوائی نے اپنے مختصرمقدمہ میںیہ نشاندہی کی ہے کہ اب تک کے مطالعوں میں ’’سرسید کے رفقا کی گرانقدرخدمات کو توموضوع بحث بنایا گیا ہے، مگر سرسید کے علمی ادبی، سیاسی معاصرین کو شاذ ہی موضوع بنایا گیا ہے اورعلی الخصوص یہ کوشش بہت کم ہوسکی کہ اپنے زمانہ کی قابل ذکرشخصیات کے بارے میں خود سرسید کی آراء کو مطالعہ کا ہدف بنایا جائے۔‘‘ چنانچہ مختصرہونے کے باوجود اس کتاب کو پروفیسر قدوائی مقالہ نگار کی تحقیقی جانفشانی کا علمی ثمرہ قراردیتے ہیں، جس سے ایک اہم خلا کو پرکرنے کی راہ کھلی ہے۔بیشک یہ مطالعہ دورسرسید کے ہندوستان کی دانشورانہ تاریخ کا زریں باب ہے، جس میں توقع ہے مزید گل بوٹے کھلیں گے۔
عام طورسے ہم سرسیدسے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے فکرمندشخصیت کی حیثیت سے متعارف ہیں۔بیشک یہ ان کی سرگرم زندگی کااہم ترین نقش ہے، لیکن ان کی شخصیت کے کئی دوسرے پہلو بھی ہیں۔ان کی وسعت فکرونظر کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے’’ہندو قومیت کے نظریہ کا بیج بونے والوں کے ساتھ بھی تعلقات استواررکھے‘‘ اور ’’دوسری (اصلاحی) تنظیموں کے قائدین سے بھی رابطہ قائم رکھا تاکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت میں اورملک وقوم کی بہبود میں باہم اشتراک عمل کی راہیں تلاش کی جاسکیں۔‘‘ ڈاکٹرراحت ابرار کے اس اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ سرسید کا قداس سے بہت بڑا ہے جس سے ہم عموماً متعارف ہیں۔ بیشک وہ اپنی ملت کے لئے فکرمند تھے لیکن صرف ملت کے لئے ہی نہیں، بلکہ ان کی فکرمندی پوری قوم کے لئے تھی جس کا مداوا وہ مختلف ومخالف نظریات کے حامل افراد کے ساتھ مل کرکرنے کو بھی عار نہیں سمجھتے تھے۔اسی سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے اپنے قائم کردہ تعلیمی ادارے کے دروازے تمام اقوام کے لئے کیوں کھلے رکھے اورسب سے تعاون کیسے لیا؟ سرسیداحمد خاں کی تعلیمی تحریک سے خوشہ چینی کرنے والوں اوران کے مداحوں کے لئے موجودہ حالات میں ان کی شخصیت کایہ پہلو مشعل راہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی فکرو نظر میں وسعت پیدا کریں۔ بیشک اپنی فکرکریں مگراس میں پوری ملک وقوم کی فکرمندی کا عنصربھی شامل رہے۔ 
ان کی دیدہ وری
سرسید نے فروغ تعلیم کے ذریعہ مسلم معاشرے کی اصلاح اوربہبود کی فکر اس وقت کی جب مسلمانان ہند سنہ۵۸۔۱۸۵۷میں ہرچہارطرف سے لٹے پٹے ، مضمحل اور مایوس تھے۔ نئے حکمرانوں نے ان کی معیشت کو تباہ کردیا تھا۔ ان کی معاشرت بھی نشانے پر تھی اوران کا دین وایمان بھی خطرے میں تھا۔ مسلمانان ہند ابھی اس افتاد سے سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ دوسری افتاداس کے نوے سال بعد سنہ۱۹۴۷ میں تقسیم وطن کی صورت میں آن پڑی۔ہم نے جس آزادی کے لئے نوے سال قربانیاں دیں، وہ دولخت ہوگئی۔ کچھ قدم جمے تھے کہ پھراکھڑ گئے اور اس آفت نے ایک مرتبہ پھر مسلمانان ہند کی کمر توڑ دی ۔ بے بسی کم نہ ہوئی۔ نئے حکمراں ہمارے مسائل سے چشم پوشی اوروعدہ فراموشی سے کام نکالتے رہے اور ہم بہت سی خودفریبیوں کے سہارے جیتے رہے۔تین سال قبل یہ سترسالہ دور ختم ہوگیا۔ بہت سے خوشنما فریب دیوانے کا خواب بن کر بکھرگئے اورہم پھرکگارپر کھڑے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ دیوار شکستہ ہے ، ایک دھکا اورمارو کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ لیکن کرب وا نحطاط کایہ عالم اس سے زیادہ شدیدا ور سخت نہیں، جس میں تن تنہا سرسید نے ایک آواز بلند کی تھی اورغیروں سے زیادہ اپنو ں کی زد میں رہے تھے۔یہ خیال ہمارے دل میں روشنی کی کرن پیداکرتا ہے،ڈھارس بندھتی ہے اوردل کہتاکہ اس کے نقش قدم تلاش کرو اورقرآن وسنت کی روشنی میں ان پر قدم آگے بڑھاؤ۔ہم سمجھتے ہیں موجودہ ماحول میں سرسید کے کردار میں ہمارے لئے بڑی رہنمائی ہے۔ تعلیمی اور معاشرتی ماحول کے بھگواکرن کی تحریکات، جن سے ہم آج بیزار ہیں، سرسید کے زمانے میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں، مگرسرسید نے اس کے باوجود اپنے مقاصد کے حصول میں شدیدترین مخالفین کی معاونت حاصل کرنے سے گریز نہیں کیاہرچند ان پر اعتراض ہوئے۔ 
ا عتراض اس بات پر بھی ہوا کہ وہ کانگریس میں شامل نہیں ہوئے جو تحریک آزادی کی علامت تھی۔ان کی حب الوطنی پرانگلیاں اٹھیں، ان پر علیحدگی پسندی کا الزام لگا۔ بقول ڈاکٹر راحت ابراروہ چاہتے تھے، ’’اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہوکر جب تک مسلمانوں کا سیاسی شعوربیدار نہ ہوجائے، ان کو سیاست سے دوررہنا چاہئے۔وہ جانتے تھے کہ تعلیم سے اعتدال پیداہوتا ہے، اور سیاست سے اشتعال۔ تعلیم مدت چاہتی ہے اورسیاست شدت۔‘‘(یہاں یہ جائزہ پیش کرنے کی گنجائش نہیں کہ عدم تحمل اور جذباتی سیاست نے ہماری ملت کوکس قدر نقصان پہنچایا ہے؟ ہم آسانی سے دوسروں کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور اپنی راہ بھول جاتے ہیں۔)ان کا یہ یقین اس قدر پختہ تھا کہ تمام تراعتراضات کے باوجود وہ اپنی مقررہ ڈگرپر مستقل مزاجی سے بڑھتے چلے گئے۔ ان کا نظریہ بالکل واضح تھا۔ ہرتاریک سرنگ کے آخر میں روشنی ملتی ہے۔آپا پیٹنے اور مطالبات کرنے سے کچھ نہیں ملتا۔جو کچھ ملتا ہے وہ اہلیت پیداکرنے سے ملتا ہے۔
سرسید کی معنویت
اس پس منظرمیں محسوس ہوتا ہے کہ قومی اورملی معاملات میں سرسید کے انداز فکر کی معنویت آج بھی ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی بھی مسلمان، جس کا تعلق اس برصغیرسے ہے، خوشحال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، اس کے نکھار میں سرسید کے مشن کا حصہ ضروررہا ہے۔جو تحریکات ملت اسلامیہ میں فروغ تعلیم اورسیاسی شعور کی پختگی کے لئے سرگرم ہیں، انہوں نے بھی کچھ نہ کچھ خوشہ چینی سرسید کے تعلیمی نظریہ سے کی ہے۔جس کا لب لباب اقدارکے تحفظ کے ساتھ علمی لیاقت ،مشقت کی عادت، خودضبطی، صبروتحمل، استقلال اور دوراندیشی ہے۔
تعلیمی کارواں
ایسی ہی ایک تحریک وہ بھی ہے جس کے سرخیل ہمارے سید حامد تھے۔ جس کو آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کا نام دیاگیا۔ سید حامد نے اس کوذریعہ بنایا اورملت کو بیدارکرنے،ملک کو پکارنے اور فلاحی، اصلاحی اورتعلیمی مقاصد کے لئے جناب امان اللہ خاں کی نظامت میں کئی کارواں نکالے۔فرقہ ورانہ ہم آہنگی کی جوت جگائی۔ ان کوششوں کی پذیرائی بھی ہوئی۔ سرسید کے دوسوسالہ جشن ولادت کے موقع پر اس تحریک نے کئی سال کے وقفہ کے بعد ایک بار پھر ایک ملک گیرکارواں ترتیب دیا ہے جو ۱۷؍ کو علی گڑھ سے روانہ ہوگا اوریوپی، بہار، جھارکھنڈ، بنگال،اڑیسہ، آسام، مدھیہ پردیش اورراجستھان وغیرہ میں سرسید احمد خاں اورجناب سید حامد کی تعلیمی تحریکات کواجاگر کرتا ہوا، ۲۹؍ اکتوبرکودہلی میں ختم ہوگا۔ امید کہ یہ کارواں جن مقامات سے گزرے گا، علم دوست حلقے حسب سابق اس کی پذیرائی کریں گے۔
منصوبہ بندی مطلوب
سرسید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جو تدابیر کی جارہی ہیں وہ سب اہم ہیں۔ لیکن کافی نہیں۔ سرسید کا مشن ایک وسیع منصوبہ بندی اوراس پر تندہی سے عمل سے تعبیرہے۔ان کوصحیح خراج عقیدت یہ ہوگاکہ ان تدابیر سے بڑھ کرموجودہ ضروریات کا جامع جائزہ لیاجائے اور ملک وملت کو تعلیمی معیار کے انحطاط اور تعلیم گاہوں میں غیرذمہ دارانہ ماحول پر گرفت کے لئے منصوبہ بندطریقے سے کوئی کوشش کی جائے۔ جابجا دانشورانہ گروپ تشکیل دے کرہم اس کوشش کا آغاز فی زمانہ مقبول سوشل میڈیا سے کرسکتے ہیں۔ 
آخری بات۔
اگرچہ حالیہ برسوں ہمارے ملک میں تعلیم کا غلغلہ بڑھا ہے، جس کا فیض کم وبیش سبھی طبقات کو پہنچا ہے۔ ایک سروے کے مطابق اب کوئی ۹۵فیصد بچے اسکول میں داخل ہونے لگے ہیں، لیکن داخلہ کی شرح بڑھ جانا کافی نہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ اسکولوں کا نظم و ضبط اورمعیار تعلیم کیسا ہے؟تعلیم پر عالمی بنک کی تازہ رپورٹ کے مطابق ،پرائمری درجات میں داخل ہونے والے صرف ۴۰؍فیصدبچے اپرپرائمری اورہائی اسکول میں پہنچ پاتے ہیں۔تعلیم کا معیاراس قدرپست ہے کہ تیسری جماعت کے دوتہائی بچے دوہندسے والی جمع وتفریق کے سوال نہیں کرسکتے ۔ پانچویں کے بچے تیسری جماعت کی کتاب کا ایک جملہ درست نہیں پڑھ سکتے۔یہ ملک کی عمومی صورت حال ہے بعض ریاستوں کا حال قدرے بہتر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پرائمری میں داخلوں میں حوصلہ افزااضافوں کے باوجودپیش رفت اورنتیجہ حوصلہ شکن ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلم طلباء کا حال ہرگز بہتر نہ ہوگا، جو صدیوں سے تعلیمی انحطاط میں گرفتارہیں۔
جسٹس باڈم، چیف جسٹس ہائی کورٹ مدراس نے ۱۱۵ سال قبل ہماراحال بیان کیا تھا:’’ دارالعلوم مدراس کی سالانہ رپورٹ سے جس میں میسور، ٹراونکور اور حیدرآباد شامل ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ جملہ۷۲۳۰؍ گریجویٹس میں صرف ۵۷ مسلمان ہیں،۱۱۶؍ایم اے میں صرف ۲مسلمان، ۹۰۰؍بی ایل (بیچلر آف لاء)میں صرف۷ مسلمان۔" ( خطبۂ صدارت، پندرہواں سالانہ اجلاس سنہ ۱۹۰۱ء،،کل ہند مسلم ایجوکیشنل کانفرنس)
اورموجودہ صورت یہ ہے،’’ہندستان میں مسلم آبادی کل 14.2فیصد ہے جب کہ اعلیٰ تعلیم میں داخلہ پانے والے طلبا میں ان کا تناسب صرف 4.4فیصد ہے۔ دس ہزار خواندہ مسلمانوں میں صرف 275 گریجوئیٹ ہیں۔یہ شرح2.75 فیصد ہوتی ہے۔کل آبادی میں یہ شرح 1.25 فیصد کے قریب ہے۔۔۔۔یہ شرحیں تمام فرقوں میں سب سے کم ہیں۔‘‘( 2011 کی مردم شماری کے اعداد وشمارپر مبنی سرکاری رپورٹ، 4ستمبر 2016)
جسٹس باڈم نے ۱۹۰۱ء میں مشورہ دیا تھا، ’’اگرآپ پورے طورسے ڈوب جانانہیں چاہتے تو نہایت ضروری ہے کہ اپنی اولاد کے لئے کچھ کریں۔آپ اپنی رسوم میں خرچ کرنے کے لئے غریب نہیں۔ اس خرچ سے آپ کویا آپ کی اولاد کو کیانفع ہے؟ایک روز کی ناموری اورنمائش کے لئے اپنے سرمایہ کو ضائع نہ کیجئے ۔۔۔۔ وہ خرچ گھٹا دیجئے اور اس رقم کو اپنی ا ولاد کی تعلیم وترقی میں خرچ کیجئے ۔ ‘‘
ہمارامشاہدہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسا کیا اوراوردشواریوں کے باوجودبچوں کو پڑھا یا ان کے خاندانوں کی حالت بہتر ہوئی ہے اوریہ رتبہ بڑھا ہے۔ جن کے پاس کچھ نہیں تھا وہ اللہ کے فضل سے خوشحال ہیں۔سرسید کو ان کی دوسوویں سال گرہ پر بہترین خراج عقیدت یہ ہوگاکہ معیاری تعلیم جس میں اقداری تعلیم بھی شامل ہے، ہماری اولین ترجیح بن جائے۔ہمارے جدید تعلیم یافتہ نوجوان دین سے واقف اوراس میں راسخ ہوں اور ہمارے فارغین مدرسہ عصری معاملات میں سوجھ بوجھ سے داخل اندازی کے اہل ہوں۔اورہمارا وطیرہ تواصو بالحق و تواصو بالصبر ہو۔ 

No comments: