Wednesday, October 4, 2017

ٹام جس دیس سدھارے تم وہاں آزاد ، ظفر اور غالب سے ضرور ملنا In the Memory of Thomas Alter




 محمد علم اللہ

یہ کم بخت کینسر ایسا مرض ہے، جو اکثر جان لے کر پیچھا چھوڑتا ہے۔ اب اس نے تھیٹر اور فلم کی دنیا کے لیجنڈ اور مایہ ناز اداکار ٹام آلٹر کو ابدی نیند سلا دیا ۔ ٹام آلٹر کے مرنے کی اطلاع ملی تو تھوڑی دیر کے لیے یقین ہی نہیں ہوا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے؛ سوشل میڈیا پر اول اول جب یہ خبر دیکھی تو لگا کہ یہ افواہ ہوگی، جو بس ایسے ہی اڑا دی گئی ہے۔ مجھے ایسا لگا جیسے کل ہی تو ان سے ملاقات ہوئی تھی اور اتنی جلدی وہ کیسے جا سکتے ہیں۔ تصدیق کے لیے انٹرنیٹ کھولا تو دیکھا کہ نو منٹ قبل ٹائمس آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ سچ مچ میں اب ٹام آلٹر نہیں رہے۔ خبر پڑھتے ہی بس دل سے یہی نکلا "خدایا !ٹام کے روح کو شانتی دے!!!۔
ٹام سے میری کوئی ایسی شناسائی نہیں تھی کہ میں ان کے بارے میں کچھ لکھتا ،لیکن ان کی انتقال کے خبر کے بعد ان کے ذریعے ادا کئے گئے ڈرامے اور مکالمات بہت یاد آئے اور انگلیاں خود بخود ہی کی بورڈ  پر ناچنے لگیں ۔ مجھے دو تین پروگراموں میں ٹام آلٹر کے ڈرامے دیکھنے اور ایک آدھ مرتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان سے ملنے کا موقع ملا تھا؛ تب سے ٹام سے ایک انسیت سی ہو گئی تھی؛ وہ میرے پسندیدہ اداکاروں میں سے ایک تھے اور دہلی میں جب کہیں ان کا پروگرام ہوتا، میں اس میں شرکت کی کوشش ضرور کرتا۔ ان کے پروگرام کو جتنی مرتبہ بھی دیکھتا طبیعت کو سیری حاصل نہیں ہوتی اور بے چین طبیعت کو منانے کے لیے اکثر یوٹیوب کا سہارا لیتا۔
ٹام آلٹر سے شاید  یہ محبت فن کی روح تک اترجانے کے ان کے انفرادی فن کے علاوہ ان کی اردو دوستی کی وجہ سے بھی تھی۔ میرے لئے  آج بھی اس منظر کو  بھول پانا بہت مشکل ہے، جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کھچا کھچ بھرے انصاری آڈیٹوریم میں دو اداکار مولانا ابوالکلام آزاد اور ہمایوں کبیر کا کردار ادا کررہے تھے؛ سکوت اور مدھم روشنی میں ڈراما جاری تھا۔ مولانا آزاد کی بہروپ میں شیروانی زیب تن کیے ہوئے، لاٹھی ٹیکتے نحیف مگر با رعب انداز میں ٹام آلٹر اسٹیج پر نمودار ہوئے تھے۔ سارا آڈیٹوریم تالیوں کی گونج کے ساتھ جاگ اٹھا تھا۔ ایک ہیولا ہمایوں کبیر کے کردار میں محرر کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ مولانا آزاد کی زبان کھلی ہے اور پورا ماحول مہر بلب ہوگیا۔ مولانا آزاد اپنے مخصوص انداز میں ”انڈیا ونز فریڈم“ کا املا لکھوا رہے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے اردوئے مبین میں کسی الہامی کتاب کا نزول ہورہا ہے۔ جامعہ کے وہ شرارتی لڑکے جو کسی کو اسٹیج میں ٹکنے نہیں دیتے اور جن کی ہوڈنگ اچھے اچھوں کی بولتی بند کر دیتی ہے ، ہمہ تن گوش ہوکے قائد ملت کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینوں میں جذب کر رہے تھے۔ مولانا آزاد کے بہروپ میں ٹام آلٹر کی زبان سے کبھی بجلی کڑکتی دکھائی دیتی، کبھی ماحول پر غم کے بادل چھا جاتے، کہیں دلوں کو ان کی مسکراہٹ گدگداتی ، تو کبھی اچانک ساری فضا قہقہوں سے لالہ زار ہوجاتی۔ کہیں اپنوں کی نارسائیوں کا قصہ شروع ہوتا، تو کبھی غیروں کی دھوکے بازی اور دغا بازی کی المیہ داستان سن کے آنکھیں ڈبڈبا جاتیں۔ علم و ادب کی شکل میں انوار رحمت برستی تو کبھی فصاحت و بلاغت کا غلغلہ بلند ہوجاتا؛ تاریخ کے جھروکے کھلتے، تو کہیں چوٹ، درد، کسک کی صرصر عصیاں جیسا معلوم ہوتا۔ اس سمئے ایسا لگ رہا تھا، جیسے سچ چ ٹام آلٹر کی صورت میں مولانا ابوالکلام آزاد فلک سے زمین پر اتر آئے ہیں اور ایک مرتبہ پھر سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ مولانا آزاد کی کو گزرے برسوں بیت گئے، اب ٹام آلٹر بھی آنجہانی ہوئے۔
ٹام آلٹر! تمہارے ذریعے ادا کئے گئے غالب کے اس کردار کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے جب اٹھارہ سو ستاون کے غدر کا خوں آشام ماحول ہے اور آپ اس بے کسی ، بے بسی ، روتی بلکتی ، بین کرتی جنگ کی داستان سنا رہے ہیں ، جن لوگوں نے اٹھارہ سو ستاون کی تاریخ نہیں پڑھی تھی ، انھیں تم  نے اپنی اداکاری کے ذریعہ اس عہد کی داستان گوش گذار کرائی، وہ بھی مرزا غالب کی زبان میں ۔ جب تم  مرزا غالب کا کردار ادا کرتے تھے تو ایسا لگتا تھا جیسے واقعی درد، کرب ، کسک اور زمانے بھر کا دکھ لئے ہوئے غالب اس زمین پر اتر آئے ہیں ۔ ہم نے تو غالب کو محض کتابوں میں پڑھا تھا ، بزرگوں اور اساتذہ سے ان کے قصے سنے تھے ، ان قصوں میں زیادہ تر ان کی شراب نوشی ، عشق و عاشقی اور شعر گوئی کی باتیں کی جاتی تھیں لیکن تم  جب غالب کے روپ میں اسٹیج پر آتے تو محسوس ہوتا جیسے دلی کی پوری تہذیب غالب کے ساتھ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ واپس لوٹ آئی ہے ۔ یہ تمہارا انداز تھا ، تمہارا اسٹائل تھا، تم روح تک پہنچ جاتے تھے ۔ دلوں کو چھو لیتے تھے ۔
تمہارے ذریعے نباہے مغل سلطنت کے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر کے روپ کو کون فراموش کر سکتا ہے۔ جب انگریز ایک بوڑھے بادشاہ کو سزا دینے کی خاطر رنگون جیسی بے کیف جگہ میں قید کرکے رکھ چھوڑتے ہیں۔ ان کے دونوں بیٹوں کا سر کاٹ کر ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ پورے ہندُستان کو اس کے سامنے یوں لوٹا جاتا ہے، تباہ کیا جاتا ہے جیسے کسی بچے کے سامنے اس کی ماں کی آب رو تار تار کی جاتی ہو؛ وہ دشمنوں کو تکا بوٹی کردینا چاہتے ہوں مگر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں صدیوں بعد جب ہندُستان کی بساط بدل چکی ہے، یعنی ہندُستان تین ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے، اتنے سالوں میں نجانے کتنی جانوں کا اتلاف ہو چکا ہے، ایسے میں ماضی کی داستان سننے کے لیے ایک لڑکا پھٹی پرانی جینز پہنے بہادر شاہ ظفر کے پاس پہنچتا ہے۔ ٹام آلٹر بہادر شاہ ظفر کا کردار ادا کرتے ہوئے اسے اس ہندوستان کی کہانی سناتے ہیں، جس میں شیر اور بکری ایک ساتھ پانی پیتے تھے، لیکن عیاروں کو یہ رویہ اچھا نہیں لگتا اور وہ اس کو توڑ پھوڑ کر پورے جنگل کا نظام درہم برہم کر دیتے ہیں۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر بدلے حالات، نوجوان کی تلفظ اور تذکیر و تانیث سے ماورا ہندی زبان سن کر ششدر رہ جاتے ہیں، لیکن اس کی دل چسپی دیکھ کر کہانی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ صدیاں الٹی جاتی ہیں۔ تہذیبوں، روایتوں اور حقیقتوں کا تصادم ہوتا ہے، اکیسویں صدی میں لوگ وہ زبان سن رہے ہوتے ہیں جو قلعہ معلی میں بولی جاتی تھی، لیکن یہ قلعہ معلی زیادہ دیر نہیں سجتا، چراغ گل کردیے جاتے ہیں؛ بہادر شاہ ظفر کہانی سناتے سناتے ابدی نیند سو جاتے ہیں، لڑکا بہت جگاتا ہے مگر وہ نہیں جاگتے اور پردہ گر جاتا ہے۔
ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہم کو اپنے پرکھوں کی یاد دلانے والا آپ جیسا زندہ اداکار جو ہمیں ہماری تاریخ سے رُوشناس کرارہا تھا، کہانی کہتے کہتے یوں سو جائے گا؛ پردہ گر جائے گا۔ حق ہے کہ وہ پردے کے اس پار سے کبھی نہیں آئے گا۔ سچ کہا ہےکہنے والے نے کہ جانے والے تو چلے جاتے ہیں، صرف ان کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں؛ سو اب صرف تمھاری یادیں ہی باقی ہیں۔ ٹام آلٹر تم ہماری تہذیب اور تاریخ کی باقیات کی شکل میں دیر تلک یاد رکھے جاوگے؛ تمھاری فصیح لسان، تمھارا شستہ لہجہ اور تمھارا دل کش انداز۔ تمھارے چاہنے والے جو تمھاری کلا کے رسیا ہیں، انھیں لگتا ہے کہ نیلی آنکھوں والا ٹام آلٹر مرا نہیں، ہنوز اداکاری کر رہے۔ کاش ایسا ہوتا، مگر ایسا نہیں ہے۔ نہیں! اب تم نہیں آوگے؛ تمھاری متحرک نیلی آنکھیں اب ساکت ہوگئی ہیں؛ یہی سچ ہے۔
مگر سنو! تم جس دیس گئے ہو وہاں غالب ، ظفر اور آزاد سے ضرور ملنا ۔ اور غالب سے کہنا جس دیس کے اٹھارہ سو ستاون میں ہوئے جنگ کی تم نے داستان لکھی تھی اب وہاں روزانہ اٹھارہ سو ستاون کی غدر دہرائی جاتی ہے ۔ چچا غالب کو بتا دینا دلی سے لاہور ، کلکتہ اور ڈھاکہ تک جس دیس میں تم خطوط لکھ لکھ کر یاری گانٹھا کرتے تھے اب وہ تین حصوں میں بٹ چکا ہے اور تینوں جانب بہت اونچی دیوارِ چین کی طرح باڑھ لگا دی گئی ہے ، تینوں جگہ روزانہ جنگ ہوتی ہے مگر اب کوئی تاریخ نہیں لکھتا ، قلم کار ہی نہیں تم جسے ابلاغ کہتے تھے اب ابلاغ کے ذرائع کی فراوانی ہو گئی ہے ، مگر وہ سب چند گھرانوں کے بکے ہوئے مخصوص کھلونے ہیں۔اب تمہارے زمانے کی طرح وہاں قلم دوات اور روشنائی کا چلن نہیں ہے ، اب لوگ کمپیوٹر،  لیپ ، ٹاپ اور موبائل میں لکھتے ہیں جس میں قلم ، دوات اور پنسل کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔فارسی اب صرف ایران تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، تمہارے فارسی کلام تو چھوڑو اردو کو بھی سمجھنے والے بہت محدود رہ گئے ہیں ۔اب وہاں تمہاری طرح نہ تو کوئی خطوط لکھتا ہے اور نہ ہی بغاوت اور حالات کی تاریخ رقم ہوتی ہے ۔اگر کوئی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کی انگلیاں کاٹ لی جاتی ہیں، سر قلم کر دیا جاتا ہے۔
 آزاد سے بھی ملنا اور اسے ضرور بتا دینا تمہارا تو اب نام و نشان تک وہاں باقی نہیں ہے جو کچھ بچا ہے اسے بھی مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس فاشزم اور ملک دشمن عناصر سے تم زندگی بھر لڑتے رہے تھے اب انھوں نے ہی وہاں ڈیرا جما لیا ہے جو روزانہ ملک کی آبرو کو تار تار کر رہے ہیں ۔ ان کو ضرور بتانا کہ جس اردو کی تم زندگی بھر دہائی دیتے رہے اور جس زبان میں تم نے آزادی کا صور پھونکا تھا اسے دیش نکالا جا چکا ہے ۔ تمہارے جانے کے بعد جامع مسجد دہلی کے بغل میں تمہارا مقبرہ بنایا گیا تھا ، جہاں اردو میں تمہارا نام بھی غلط لکھا تھا شاید اسی وجہ سے ہندوستان کے کتوں کو بھی نہیں پتہ کہ وہ جہاں لڑتے ، جھگڑتے اور غراتے ہیں وہاں کون سویا ہے وہ تو تمہارے مقبرے میں آکر پیشاب بھی کرتے ہیں لیکن انھیں کوئی نہیں بھگاتا۔ 
اور ہاں تم سے اللہ کا واسطہ بہادر شاہ ظفر کو کچھ بھی مت بتانا ورنہ وہ دکھیارا ایک مرتبہ پھر جیتے جی مر جائے گا ، اب تک وہ اپنے دکھ کی داستان کو شاید بھول چکا ہوگا تم ادھر سے گذرنا بھی مت کہ اس کی نظر تم پر پڑ جائے ۔ اگر ملاقات کے لئے تمہارا دل اتنا ہی بے چین ہوجائے تو کوشش کرنا کہ کنی کاٹ لو ، مگر مجھے پتہ ہے تم سے ایسا ہوگا نہیں اور تم ان سے ملوگے ضرور ۔ چلو اچھا ہے مل لینا مگر شکوہ شکایت مت کرنا ، ان سے کچھ مت بتانا ہندوستان کی حالت کے بارے ۔ اگر وہ پوچھیں بھی تو ان کو صرف اچھی اچھی باتیں بتانا جیسے مودی جی اپنے عوام کو بتاتے ہیں ۔ انھیں بتانا وہاں بہت خوشحالی ہے ، آپ کے جانے کے بعد انگریزوں نے ہندوستان چھوڑ دیا ان میں سے تین بھائیوں نے اپنے اپنے خوبصورت محل تعمیر کرا ئے ،تینوں کے بہت اچھے تعلقات ہیں، وہ بہت ہنسی خوشی رہتے ہیں ، تینوں جگہ خوب ترقی ہوئی ہے ، ہر جگہ امن اور سکون کا ماحول ہے اب انگریزوں کے زمانے جیسا انارکی اور بد امنی کا ماحول نہیں ہے ۔ اب آپ کے زمانے کی طرح ٹم ٹم اور بگھی نہیں چلتی ، کہار ڈولی نہیں ڈھوتے ،گھوڑے اور ہاتھیوں کو زحمت نہیں دی جاتی اب ہر جگہ سکون ہی سکون ہے ، اب تینوں جگہ ہوائی جہاز ، بلٹ ٹرین اور میٹرو دوڑ رہی ہیں ۔ انھیں بتا دینا ابھی کچھ دن قبل ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے رنگون کا دورہ کیا تھا ، جہاں آپ کا مزار ہے وہاں انھوں نے پھول چڑھائے اور آپ کو بہت یاد کیا۔وہاں آپ کو سب بہت یاد کرتے ہیں ۔ 

No comments: