Wednesday, September 27, 2017

Tablinghi Jamat banned in Darul Uloom Deoband

دارالعلوم دیوبند میں تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد، تشکیل کرنے کی صورت میں پکڑے جانے پر سخت تادیبی کاروائی کا انتباہ، دارالعلوم کو انتشار سے بچانے کیلئے لیا گیا یہ بڑا فیصلہ 
دیوبند، 9-اگست، (شاہد معین قاسمی) دارالعلوم دیوبند کے اہتمام میں منعقد اساتذہ کی میٹنگ میں آج ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے، موصولہ اطلاعات کے مطابق دارالعلوم کی انتظامیہ نے دارالعلوم کی چہار دیواری کے اندر جماعتِ تبلیغ کی مکمل سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی ہے، اس فیصلے کی تائید و توثیق کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ جماعتِ تبلیغ کی مخالفت میں نہیں لیا گیا بلکہ دارالعلوم دیوبند کو کسی انتشار سے بچانے ، اور اس کے تحفظ کیلئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے، مولانا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے اکابر نے جو دنیا میں انقلابی کام کیا ہے ان میں ایک انقلابی کام جماعتِ تبلیغ بھی ہے، اکابر کا اس میں کوئی اختلاف نہیں تھا اور نہ رہا ہے، اختلاف اس سلسلے میں ہے کہ طالب علم زمانہ طالب علمی میں دعوت و تبلیغ کے کی سرگرمیوں میں مشغول نہ رہے اور ہم بھی اس شخص کی مخالفت کرتے ہیں جو طلباء کے لئے جمعیت کی ممبر سازی کرتا ہے ہم نے کبھی طلبہ کے درمیان جمعیت کی ممبر سازی نہیں کی، تاکہ وہ جس مقصد کے لئے یہاں آئے ہیں اسی میں منہمک رہیں، دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہوکر اپنی استعداد خراب نہ کرلیں، باقی تبلیغی جماعت کے ساتھ دارالعلوم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جماعت تبلیغ میں پھوٹ پڑ گئی، دونوں فریق کے درمیان مصالحت کی بھی کوشش کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا، دونوں فریق کے آپسی اختلاف کی وجہ سے تبلیغی جماعت کا نظام پوری دنیا میں اتھل پتھل ہوگیا، مولانا نے فرمایا کہ ہم ابھی حال ہی میں مغربی ممالک کے دورے پر تھے تو ہم کناڈا میں گئے وہاں تبلیغی جماعت کا آپسی اختلاف، انگلینڈ میں گئے وہاں اختلاف، واشنگٹن میں گئے وہاں اختلاف، الغرض جہاں گئے وہاں ہم نے تبلیغی جماعت کے آپسی اختلاف کو پایا، جماعت دو حصوں میں بٹی اور بٹ کر انتہائی متشدد ہوگئی، یہاں تکہ کے دنیا کے بیشتر ممالک میں دونوں فریقین کے باہم دست و گریباں ہونے کی خبریں اخبار کی زینت بننے لگیں، اور یہ تشدد ہندوستان اور بنگلہ دیش میں تیزی سے پھیل تا جارہا ہے، اس تشدد اور غلو پسندی کی آنچ دارالعلوم کے اندر بھی پہنچ سکتی ہیں، اگر خدانخواستہ تبلیغی جماعت کے دونوں فریق کے نظریات رکھنے والے طلبہ احاطہ دارالعلوم میں باہم دست و گریباں ہوگئے تو یہ دارالعلوم کے لئے بڑا خراب وقت ہوگا اور اس کی وجہ سے دارالعلوم کسی بھی وقت انتشار و خلفشار کا شکار ہوسکتا ہے، موجودہ حکومت نے فرقہ پرست طاقتوں کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے، دارالعلوم دیوبند اور مدارس اسلامیہ کیلئے یہ وقت انتہائی گھٹن وقت ہے اگر یہاں انتشار برپا ہوتا ہے تو یہ اکابر کی مقدس امانت ضائع ہوسکتی ہے، اس صورت حال میں دارالعلوم کو سنبھل کر چلنا بھت ضروری ہے، اسی لئے انتظامیہ نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ دارالعلوم کی حفاظت کی خاطر تبلیغی جماعت کی مکمل سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی جائے، کمرے میں جا کر تشکیل کرنے، عصر کے بعد مسجد چھتہ میں مشورہ کرنے، نیز دونوں فریقین میں سے کسی کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت کرنے پر مکمل قد غن لگا دیا جائے، اگر کوئی طالب علم تبلیغی جماعت کی کسی بھی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس پر سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی ، عدم تعمیل کی صورت میں سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے انتظامیہ بڑے اقدام کی تیاری میں ہے اس لیے لئے طلباء کو پہلے ہی متنبہ کیا جارہا ہے وہ تمام تر سرگرمیوں کو ترک کرکے تعلیم کے حصول پر دھیان دیں، انتظامیہ کے لئے آزمائش کا سبب نہ بنیں ۔
سعید احمد ( دیو بند )

No comments: