Thursday, September 28, 2017

یکمشت تین طلاق؛کیا مفتی خطاوارہے؟Instant Talaq: why blame Mufti or Cleric?

یکمشت تین طلاق؛کیا مفتی خطاوارہے؟
سید منصورآغا، نئی دہلی
تین طلاق کے مسئلہ پر بحث میں ایک ایسا رجحان ابھررہا ہے جس کے نتیجہ میں آخرکار خسارے کے سوا کچھ ہاتھ آنے والا نہیں۔اس بحث کی ضمن میں بعض حلقے مسلسل ایسی رایوں کا اظہار کررہے ہیں جن سے عوام میں علمائے دین کی بے توقیری اوران کے خلاف تشددکی ذہنیت کے پنپنے کا اندیشہ ہے۔ گرمیت کے قصے اس رجحان کو تقویت پہنچائی جا رہی ہے۔یہ انداز فکر یقیناًغلط ہے۔
اعتراض کرنے وا لوں کے نشانے پر خصوصاًبریلوی اوردیوبندی علماء کایہ موقف ہے کہ ایک نشست میں تین طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ جب کہ بعض مکتب فکر اس سے اختلاف کرتے ہیں اور ایک ساتھ بکثرت طلاق کوایک ہی قراردیتے ہیں۔اس موضوع پر بحث صدیوں سے ہورہی ہے لیکن کوئی متفقہ رائے قائم نہیں ہوسکی۔ آئندہ بھی اس کا امکان نہیں ہے۔ اس لئے اس پرمزید بحث اوروہ بھی میڈیا میں لاحاصل بلکہ گمراہ کن ہے۔یہ ایک دقیق قانونی مسئلہ ہے، جس پر بحث میں ہرکوئی شامل ہوجاتا ہے اور علماء کو لعن وطعن کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اب بات اس سے بھی آگے بڑھتی جاتی ہے۔
عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ لیکن مفتی کی جورائے ہے وہ بھی اپنی جگہ ہے۔ یہ تو عدالت نے بھی نہیں کہا کہ تین کوایک مانو۔چنانچہ صاحب معاملہ کا اطمینان علماء کے جس طبقہ پر ہوگا، وہ اس رائے کے مطابق عمل کرے گا۔ کسی تیسرے شخص کے لئے ا س میں رد وقدح کی کیا گنجائش؟ چنانچہ کوئی شخص کسی عالم یا مفتی کو اس لئے مطعون کرنے میں حق بجانب نہیں کہ اس نے یہ فتوٰی کیوں دیا وہ کیوں نہیں دیا؟
آج اس موضوع پرقلم اس لئے اٹھایاجارہا کہ میڈیا میں علمائے دین کو برابھلا کہنے والوں کی آوازوں کے ساتھ اکا دکا آوازمارو، کاٹو کی بھی آنے لگی ہے۔ یہ آوازیں جوابھی مدھم سروں میں سنائی دے رہی ہیں، اندیشہ کہ کسی بڑی بدنصیبی کا پیش خیمہ نہ بن جائیں۔ 
بات بہت تلخ ہے ، لیکن دل پر پتھررکھ کر سن لیجئے۔ ہم وہ بدقسمت ملت ہیں جس نے اپنے چار میں سے تین خلفائے راشدین کو،جو اللہ کے رسول ﷺ کے افضل ترین تربیت یافتہ اصحاب میں تھے، اپنی شوریدہ سری کے چلتے قتل کردیا۔حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اورحضرت علیؓ کی شہادت کے سانحات کی تاریخ میں جائیے توملتا ہے کہ ابتدا میں کچھ ایسی ہی آوازیں اٹھی تھیں، جن میں رفتہ رفتہ شدت آتی چلی گئی۔ اور آخر کار کچھ لوگ وہ کرگزرے جن کے داغ مٹائے نہ مٹیں گے۔ ہم اس حوالے سے ملت کے ہمدردوں کو،جو جذبات میں بہہ کر اس طرح کی آوازیں اٹھا رہے ہیں، آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ اُس دور میں جوکچھ ہوا ہمیں اس سے سبق لینا چاہئے۔ماحول کسی کے بھی خلاف بن سکتا ہے۔جو بات شروع کرتے ہیں وہ مخلص ہوسکتے ہیں، لیکن جب پھیلنے لگتی ہے تو قابو سے باہرہوجاتی ہے اورکچھ طالع آزما موقع کافائدہ اٹھا لیتے ہیں۔اس لئے احتیاط لازم ہے۔ موجودہ عالمی اورقومی ماحول میں ہم ہرگزاس کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ ملت کا کوئی بھی فرد، کجا کہ وہ افراد جنہوں نے اپنی زندگیاں قرآن، حدیث اوردیگردینی علوم کو سیکھنے ، سکھانے میں لگادی ہیں، جب گھروں سے نکلیں، توکچھ شودے ان کے پیچھے لگ جائیں، ان کی ٹوپیاں اچھالیں، اوردرازدستی و خونریزی کی نوبت آجائے۔ ہمیںیہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہرشخص کی عزت نفس کی حفاظت ہونی چاہئے۔جو قومیں اپنے اہل علم کی قدرومنزلت نہیں کرتیں، وہ خود اپنی تباہی کودعوت دیتی ہیں۔تاریخ شاہد ہے اور ہمارا مشاہدہ ہے کہ یہ تباہی فرد و خاندان پربھی آتی ہے اورقوم وقبیلے پر بھی۔ جان لینا چاہئے کہ کسی قوم یافرد کے لئے مذہبی شخصیات اور تنظیموں کی اندھی عقیدت مندی اورتقلیدجس قدرمہلک ہے، پرتشدد مخالفت اس سے بھی زیادہ ہلاکت خیزہوتی ہے۔ سوال کرنے کا حق توہرایک کوہے، اٹھا کرپٹخ دینے کاکسی کو نہیں۔
ناراضگی کی بنیاد
ہمارے جو دوست علمائے دین سے ناراضگی کا اظہارفرمارہے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ زراٹھنڈے دل ودماغ سے یہ بھی غورفرمائیں کہ تین طلاق معاملے میں اصل خطا کار کون ہے؟ جو شخص تین طلاق ایک ساتھ دیتا ہے وہ یہ حرکت کیا سوچ کرتا ہے؟ یہی نہ کہ اس تدبیر سے عورت سے قطعی پیچھا چھڑالیا جائے!چنانچہ وہ بد بخت اللہ کے حکم اوراس کے رسول ﷺناراضگی کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔پھر مفتی صاحب سے جاکر پوچھتا ہے تو تصدیق ہوجاتی ہے کہ تم جوچاہتے تھے وہ ہوگیا۔ عورت سے قطعی پیچھا چھوٹ گیا۔سوچئے اصل خطاوار کون ہے؟ ہماری نظر میں خطا کار کیوں کرمظلوم اور مفتی ظالم وجاہل ہوگیا؟
جس خاتون سے پیچھا چھڑایا گیا ،اس کے مرکز عقیدت کسی عالم نے بھی کہہ دیاکہ علیحدگی قطعی ہوگئی، تواس کی ایمانی غیرت یہ کیونکر گوارا کرلیگی کہ پھراس مرد سے تنہائی میں بے تکلف ہوجائے اوریہ مان لے کہ چلوکوئی بات نہیں۔فلاں کے کہنے پر اس کو ایک مان لیتے ہیں۔ سوچئے، جس معاشرے میں طلاق ازحد معیوب فعل ہے،اس میں اگرکسی نے ایسا کیا توسماج میں اس کی عزت کتنی کوڑی کی رہ جائے گی اوراس کی اولاد پر کیا گزرے گی؟کیا طعنے ان کو جینے دیں گے؟اس لئے تین کوتین ہی مانیں یا ایک مانیں ،ہمارے معاشرتی ماحول میں طلاق کے بعد خاندان، خاندانی زندگی اورسماجی زندگی متاثرہوئے بغیرنہیں رہ سکتی۔ پرسکون خاندانی زندگی کے لئے روٹی، کپڑا اور مکان ہی کافی نہیں، باہمی ہمدردی اور رشتوں کااحترام بھی لازم ہے جوطلاق کے ذکرسے ہی مجروح ہوجاتے ہیں۔بقول کبیر داس:
کبیرا دھاگہ پریم کا مت توڑو چٹکائے
ٹوٹے سے پھر نہ جرے، جرے گانٹھ پڑ جائے
چنانچہ کرب سے بچنے اورخاندانی زندگی کے وقارکاراستہ یہ نہیں کہ تین کوایک مان لو بلکہ صرف یہ ہے کہ یہ نوبت نہیں آنی چاہئے کہ زبان پر لفظ طلاق آئے۔ اس کے لئے معاشرے کی اصلاح اوراسلامی اقدار کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثریت کو نہیں معلوم کہ خوشگوارفیملی لائف کس طرح بنتی یا بگڑتی ہے؟’میں‘، ’تو‘ اور’ہمیشہ‘ رشتوں میں کتنا زہر گھولتے ہیں، اس کا اندازہ کم ہی لوگوں کو ہے۔خوشگوارازدواجی و خاندانی زندگی کے لئے ہرایک کواپنی انا اورآرام کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ زوجین میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔جو زیادہ بہترطریقے سے ایڈجسٹ کرنا جانتا ہے وہی بڑاہو جاتا ہے۔چنانچہ جب مسلم پرسنل لاء بورڈنے اصلاح معاشرہ کی تحریک چلانے کا عندیہ ظاہرکیا توہم نے ’’مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مستحسن اقدام‘‘ عنوان سے اس کالم میں اس کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ جماعت اسلامی ہند نے اصلاح معاشرہ کی بڑی مہم چلائی تواس پر بھی تائیدی کالم لکھا۔جمعیۃ علماء ہنداوردیگر تنظیموں کے پروگراموں میں بھی اصلاح معاشرہ کی شق شامل ہے۔اب ہم پھرکہتے ہیں کہ مسلکی تفرقات سے اوپر اٹھ کرتمام ملی تنظیموں کو اور باشعور افراد کو خوشگوارخاندانی ،شرعی حقوق وفرائض سے عوام کو باخبرکرنے کے لئے لگا تار جدوجہدجاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ازواج میں اختلاف کے باوجود سمائی کی رغبت قائم رہے اورنادانی میں اپنے چین وآرام اوراپنے بچوں کے مستقبل کوبرباد نہ ہونے دیں۔
ضمناًیہ عرض کردوں کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے سونے ، جاگنے اور روز مرہ کے معمولات کودرست رکھنے اورصحت کی حفاظت کی بڑی اہمیت ہے۔ دل کو بڑا رکھیں۔ اکڑفوں سے بازرہیں۔ شک سے بچیں اورشریک حیات کی خدمت کا جذبہ ظاہر وباطن میں رواں دواں رہے۔بہت سے مسائل خود بخودحل ہو جاتے ہیں۔
اطمینان کی بات یہ ہے کہ عموماً مسلم خاندانوں میں شعوری یا غیر شعوری طورپر صالح خاندانی واسلامی اقدارباقی ہیں۔ان پر جو گرد وغبار زمانہ کے اثرپڑگیا ہے اس کو ہٹاتے رہنا چاہئے۔ ہماری خواتین اکثر خدمت شعارہوتی ہیں۔مردوں کوبھی ہوناچاہئے۔یہ ذمہ داری بڑوں کی ہے کہ اگرکسی جوڑے میں کچھ اونچ نیچ نظرآئے تواس پرفوری توجہ دیں۔ کچھ دنوں کی علیحدگی بہت سی تلخیوں کو دفن کردیتی ہے۔خلع اورطلاق میں عجلت سے بچنا چاہئے۔آخر میں پھرعرض کردوں کہ مسئلہ کا حل علماء کو مطعون کرنے اورغصہ کو شہ دینے میں نہیں۔

No comments: