Thursday, September 28, 2017

آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت جی کے چاربیان Four Statements of Shri Mohan Bhagwat

سيد منصور أغا 


آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت جی کے گزشتہ چندروز میں مختلف مواقع پرچاربیانات آئے ہیں جوسنگھ کے قدیم موقف کے قطعی خلاف ہیں۔۱۰؍ستمبرکو انہوں نے سنگھ پریوارسے وابستہ وکیلوں سے خطاب میں کہاکہ ہندستان میں مروج قانون یہاں کی سماجی قدروں کے مطابق ہونے چاہئیں نہ کو مغربی اقدارکے۔اس کا مطلب یہ ہواکہ سماجی اقدار جن میں عائلی ضابطے اورقانون بھی شامل ہیں، اہم ہیں اورمغربی نظریات کی پیروی میں ان کو مسخ نہیں کیاجاناچاہئے جیسا کہ ہم جنسی کو جائز، اورزوجہ کے ساتھ جنسی تعلق کو بعض حالت میں ’بلاتکار‘ قراردئے جانے کے لئے مہم جاری ہے۔ایسا ہی معاملہ دوسری شادی کاہے جس کا قدیم ہندستان میں رواج رہا ہے۔
۱۲؍ستمبرکودہلی میں غیرملکی سفارت کاروں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوارکسی باشندے کے ساتھ امتیازی سلوک میں یقین نہیں رکھتا۔ اسی جلسہ میں انہوں نے کہا کہ سنگھ اجودھیا مسئلے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابندرہے گی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سنگھ سوشل میڈیا پر پیچھاگھیرنے (ٹرولنگ) کے خلاف ہے اورگھٹیا قسم کے تبصروں کی سنگھ تائید نہیں کرتا۔ جے پورمیں ۱۸؍ستمبرکو انہوں نے کہا جو لوگ گائے کااحترام کرتے ہیں وہ گائے پالتے ہیں،تشدد نہیں کرتے، چاہے ان کے جذبات کوکیسی بھی ٹھیس کیوں نہ پہنچے۔
ہم ان بیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔خداکرے یہ صرف کہنے بھرکی باتیں نہ ہوں بلکہ سنگھ پریواراپنی پالیسیوں اور رویوں میں بھی ان کے مطابق اصلاح کرلے۔
موجودہ سیاسی ماحول میںیہ بیانات وقتی ضرورت کے تحت بھی ہو سکتے ہیں۔بھاجپا کیرالہ میں قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔ بنگال اورشمال مشرقی ریاستیں بھی پیش نظرہیں اورکرناٹک کے اسمبلی چناؤ اور تمل ناڈو کی صورت حال بھی۔ اگران بیانات کے مطابق سنگھ کے موقف میں تبدیلی آتی ہے توبیشک ہرفرد کو اس کا خیرمقدم کرناچاہئے۔(ختم)

No comments: