Wednesday, September 27, 2017

کرب جہاں کو کرب جاں بنالینے کا آزار

سید منصورآغا، نئی دہلی
برادرِ مکرم عالم نقوی صاحب نے اپنے ایک حالیہ کالم’’ کرب ایک حقیقت کا ‘‘ آغاز یوں کیا ہے،’ہم آج کل ایک نامعلوم کرب میں مبتلا ہیں جوساری آئی گئی لکھتے رہنے پرہی ہے۔ یقین جانئے ایسا لگتا ہے جیسا کچھ لکھاہی نہیں، لیکن لکھے بغیر کا م بھی تو نہیں چلتا۔ کبھی کبھی پورادن گزرجاتا ہے اور یہی طے نہیں ہوتا کہ لکھیں تو کیالکھیں۔‘
عالم صاحب کو یہ کرب اس پس منظر میں محسوس ہواکہ حالات میں یکسانیت کا سلسلہ برقرار ہے۔ ہرپہلو پر باربارلکھ کردیکھ لیا ، کچھ بدلتا نظر نہیںآتا۔ ایک ہی بات کب تک دوہرائیں۔پڑھنے والے بھی ٹوکنے لگے ہیں۔ وغیرہ۔ ان کا یہ کالم حسب معمول مختصرہے،مگرہمارامطالعہ اس کے ابتدائیہ سے آگے نہ بڑھ سکا ۔ کرب کایہ اظہاراس قدر بے ساختہ اوربرملا ہے کہ خیالات کے سیل رواں کہیں دور بہا لے گیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ جو کچھ چھپا ہوانظروں کے سامنے ہے، اسی کی بازگزشت کہیں اندرسے آرہی ہے۔
عالم صاحب سے میری شناسائی کوئی ۳۵سال پرانی ہے۔ اس لئے یہ عرض کرنے کی جرأت کررہا ہوں کہ جب کرب جہاں کوکرب جاں بنالوگے توبھائی آزار میں تو مبتلاہوناہی پڑیگا ۔ یہ تو تمام انبیاء اورصالحین کی سنت ہے۔ اور آخر آخر سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی۔ایام عاشورہ میں بھی اگریہ کرب قلب وذہن کو مضطرب نہ کریگا تو پھر کب کریگا؟ بظاہرہم ہیچ مند وناکارہ سہی، لیکن رو ح کا رشتہ تو اہل بیت سے جڑاہوا ہے۔ فضامعطرہے اس ہستی کی عزیمت اورعظمت کے ذکر سے جس نے اپنی خاطرنہیں، عالم انسانیت کی خاطر، اساسات دین کی حفاظت کے خاطر،جام شہادت نوش کیا اور شہادت کا حق اس طرح ادا کیا جس کی کوئی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔
یہ الگ بات ہے کہ جانتے بوجھتے خود ہماری ذات المیہ کا شکار ہے ۔ جس حق کی شہادت کیلئے سیدالشہدا، امام عالی مقام نے معہ اہل بیت جام شہادت نوش فرمایا، اس کی روداد سن کر ہماری آنکھوں سے آنسوتورواں ہوجاتے ہیں، ہمارے سینوں سے آہیں تو نکلتی ہیں، لیکن اس حق کو خوداپنی ذات میں سمولینے اور اپنے قرب جوار میں اس کی خوشبو کوبسادینے کی کوئی للک ، کوئی لہر نہیں اٹھتی۔چنانچہ تبدیلی نہ اپنی ذات کے اندر ہوتی ہے اورنہ مجموعی ماحول میں نظر آتی ہے۔ ہرسو یاحسنؓ ، یا حسینؓ کے نعرے تو بلند ہوتے ہیں، لیکن وہی وجود جن کی زبانوں پر احداوراحمدؐ کی تسبیح رہتی ہے، امام عالی مقام کا پاکیزہ نام نامی رہتاہے، انہی میں سے کچھ وہ لوگ نکل آتے ہیں جوعملی زندگی میں یزیدکے سپاہی بنے پھرتے ہیں۔ ہم مالک حقیقی کے شکرگزار ہیں کہ بحیثیت صحافی، کرب جہاں کو کرب جاں بنانے کی توفیق عطاکی جو شہیداعظم نواسۂ رسولؓ کی شان امتیاز ہے۔ شاید اسی لئے نہ آزمائش سے فرار اورنہ ستائش کا انتظار۔
رہا لکھتے رہنے کاسوال، تو آغاز ۲۰؍ویں صدی کے ایک یورپی ادیب وشاعر ’رائنرماریہ رلکے‘ (Rainer Maria Rilke)نے ایک نوجوان شاعر کے نام اپنے ایک خط (Letters to a young poet) میں لکھا ہے کہ اگرلکھناآپ کے ضمیر کی آواز ہے اوراس آواز کو سنے بغیر آپ کو چین نہیں آتاتو پھرلکھتے رہئے ،اس کی فکر کئے بغیر کہ دوسروں کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔مجھے رلکے کایہ مشورہ اچھا لگا، خصوصاً اس کا دوسرا حصہ ۔یہ اس دورکی بات ہے جب یوروپ میں قدامت پسندی کا سحرسمٹ رہا تھا اور حریت خیال کے نظریہ کا غلغلہ تھا۔لیکن ہمارا ذہن ایسے ’انقلاب ‘ کو، ایسی جدیدیت کو قبول نہیں کرتا جس میں قدیم کی تمام صالح اقدار کومتروک ومعیوب قراردیدیا جائے اور ،جج کے منصب پر اپنے ضمیر کو بٹھادیا جائے۔ چنانچہ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ضمیرکا مشورہ کو پتھر کی لکیرسمجھ لینے سے پہلے یہ غورکرلو کہ ضمیرکی تربیت کسی شائستہ ماحول میں ہوئی ہے یا انارکی میں؟ اگر روح کے اندرصالح روی زندہ ہے،خودسری اورخودنمائی حاوی نہیں توضمیر کی آواز پر مغلوب ہوجاؤ۔اگرکسی بھی درجہ میں اس پر یزیدیت یا سفاکیت کا سایہ ہے توضمیر کا زورنہ چلنے دو، اس کو کچل ڈالو ۔ ایسے لکھنے سے نہ لکھنا افضل ہے۔
ہماراتجربہ ہے کہ کالم نویسی کے لئے ہرلمحہ پل صراط سے گزرناپڑتا ہے۔ زراسی لغزش ہوئی، کسی کی مخالفت یامروت حاوی آئی اورجہنم کا دروازہ کھلا۔مجھے عالم نقوی صاحب سے عرض یہ کرناہے کہ آپ کی تحریروں میں للٰہیت کا عنصرجورنگ چھلکا رہا ہے، وہ اس دور میں مثل تریاق ہے۔ معلومات میں اضافہ اور حالات کا تجزیہ ایک بات ہے۔ آپ جولکھ رہے ہیں اس سے مزاجوں میں درستگی اور درست سمت میں ر ہنمائی کا سامان فراہم ہونا دیگربات ہے۔ چنانچہ یہ بات خوش کن ہے کہ آپ کا کچھ لکھے بغیرکام نہیں چلتا۔رہابعض باتوں کی تکرار سے تردد ہے، یا اس پراعتراض تو سورۃ رحمٰن دوہرالیجیے۔ دعا ہے کہ اللہ کرے حسن نظراورزیادہ۔میراپیغام محبت ہے ، جہاں تک پہنچے۔

No comments: