Thursday, September 28, 2017

Bhopal Meeting of AIMMP Board's EC مسلم پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کابھوپال اجلاس

مسلم پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کابھوپال اجلاس
سید منصورآغا، نئی دہلی
کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی عاملہ کا اجلاس ۱۰؍ستمبربروزاتوار بھوپال میں منعقد ہوا۔ اس کا اعلان ۲۲ ؍اگست کو ، جس دن سپریم کورٹ کافیصلہ طلاق پر آیا ، اسی دن کردیا گیا تھا،لیکن۱۱ ؍ستمبرکے اخبارات میں جو خبریں بعض ارکان عاملہ کے بیانات کے حوالے سے شائع ہوئی ہیں، ظاہر کرتی ہیں اجلاس کے انعقاد کے اعلان اوراجلاس کے درمیان ۱۸؍ دنوں کی جو مہلت ملی تھی اس میں محترم ارکان نے اس اہم فیصلے کو سمجھنے کی زحمت نہیں کی۔مثلاًاجلاس سے قبل ایک محترم رکن نے فرمایا کہ’ ’بورڈ سب سے پہلے اس بات پر غورکریگاکہ کورٹ نے ’چھ ماہ‘ کے لئے طلاق بدعت پر جوپابندی لگادی ہے توہم اس پرآگے کیا حکمت عملی اختیارکریں۔‘ حالانکہ یہ بات پہلے ہی دن واضح ہوگئی تھی کہ چھ ماہ روک کی تجویزپانچ رکنی بنچ کے صرف دوجج صاحبان کی تھی۔ اکثریتی رائے سے جوایک سطری فیصلہ صادرکیا گیا اس نے طلاق بدعت پر فوری اور حتمی پاپندی لگادی ہے۔یہ بے خبری اس لئے افسوسناک ہے کہ پورا فیصلہ اسی دن انٹرنیٹ پرآگیا تھا اوردوسرے ہی دن اس پر مسلم ماہرین قانون کے جامع خلاصے بھی اخباروں میں آگئے تھے، جن میں پروفیسر فیضان مصطفی ،وی سی نلسار یونیورسٹی آف لاء حیدرآباد کا تجزیہ نہایت اہم ہے۔لاء کمیشن کے سابق رکن ڈاکٹر سید طاہرمحمود کاتنقیدی تبصرہ بھی اسی دن شائع ہوگیا تھا۔اوربھی کئی تجزیے اورتبصرے آئے جن میں یہ بات واضح ہوگئی تھی۔
ایک اوررکن کا یہ تبصرہ خبروں میں شائع ہوا ہے کہ بورڈ کے پہلے ہی اجلاس میں یہ رضابن گئی ہے کہ’ شریعت میں کورٹ کادخل برداشت نہیں ہوگا‘۔ بعض اخبارات نے یہی سرخی لگائی ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس (۱۱؍ستمبر) نے بورڈ کی پریس رلیز کے حوالے سے (جو دستیاب نہیں ہوسکی) لکھا ہے کہ’’ ملت عدالت کی مداخلت کونہ برداشت کرسکتی ہے اورنہ کریگی۔‘‘دوسری طرف مکرر یہ بھی کہاگیا ہے کہ ’’بورڈ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتاہے۔‘‘ہم حیران ہیں کہ عدم برداشت کے اعلان اورفیصلے کے احترام کے دعوے میں جوڑ کس طرح بٹھایا جائے گا؟اوریہ کہ ’برداشت‘ نہ کرنے کی صورت میں کیاکرنے کا ارادہ ہے اورموجودہ ملکی حالات میں اس کے کیا اثرات ونتائج مرتب ہوسکتے ہیں؟اس انداز کی باتیں بورڈ کی مہم کے دوران جلسوں میں بھی کہی گئیں اورشہ سرخیاں بنیں۔ سخت لب ولہجہ اور سخت الفاظ کا استعمال افرادکی انا کو تسکین تو دیتے ہیں،لیکن مسائل کو حل نہیں کرتے۔ دانائی ؂ تو رسائی اورسمائی کا تقاضا کرتی ہے ۔کامیابی مطلوب ہے تو حکمت کی بات نرمی سے کہی جائے اورسختی سے اس پر جما جائے۔ ہمارے ملک میںآر ایس ایس کے لوگ اس لئے کامیاب ہوجاتے ہیں کہ بات چپکے سے کان میں کہتے ہیں اوراس پر جم جاتے ہیں۔ ہم شورمچاتے ہیں اورسوجاتے ہیں۔البتہ اگر کہا جائے کہ ہم بہرحال اپنے اصول دین پر قائم رہیں گے، چاہے عدالت میں سزاوار ہی کیوں نہ قرار پائیں، تویہ عزیمت کا اظہارہوگا۔
بھوپال میں بورڈکے محترم ارکان کیوں کہ عدالتی فیصلے پرتفصیلی غوروفکرکے بغیر جمع ہوگئے تھے، اس لئے طے ہوا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جواگلے دس دن میں فیصلے کے قانونی اورشرعی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کردے ۔ ہونا حالانکہ یہ چاہئے تھا کہ ۲۲؍اگست کو فیصلہ آتے ہی ایسی کوئی کمیٹی مقررکردی جاتی، جواس اجلاس سے پہلے رپورٹ تیارکرلیتی اور عاملہ کے اراکین کو پیشگی فراہم کرادی جاتی ۔اس کے لئے عاملہ کی منظوری درکار نہیں تھی۔ محترم ارکان رپورٹ کا بھی مطالعہ فرماکرآتے اوراپنے طورپربھی فیصلے کوسمجھنے کی کوشش کرتے۔اجلاس میں چندقانونی جانکاروں کو مدعو جاتا جو قانونی نکات کی فہم میں مدد کرتے اور خطابت کے بجائے اصل موضوع کوزیر غورآتا۔ پھرکوئی رائے قائم کی جاتی۔ دراصل مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک ایسی اکلوتی کل ہند تنظیم ہے جس کا کوئی باقاعدہ سیکریٹریٹ نہیں، تمام اعلیٰ وقارعہدیداران جزوقتی ہیں اورانپی دیگرذمہ داریوں ودلچپسیوں میں مصروف رہتے ہیں۔
تاہم یہ غنیمت ہے کہ۱۱؍ستمبر کو ڈاکٹروقارالدین لطیفی، آفس سیکریٹری کے دستخط سے جو پریس رلیزجاری ہوئی ہے ،اس میں یہ تیورنہیں دکھائے گئے ہیں اورسیدھی سی اصولی بات کہی گئی ہے کہ ’اسلامی قوانین کا مآخذ قرآن کے ساتھ حدیث، اجماع اورقیاس بھی ہیں اورہمارے شرعی ضوابط ان چاروں پرجامع ہیں۔‘ یہ بات قطعی درست ہے لیکن یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ ان مآخذ سے مسائل کے استباط اورقیاس میں کثیراختلاف رائے موجود ہے۔ہررائے شریعت کا حصہ ہے اوراختلاف کے باوجود اس کا احترام لازم ہے۔ کسی ایک رائے کوقطعی اورباقی آراکو گمراہی قرارنہیں دیا جاسکتا۔بیک وقت تین طلاق کا معاملہ بھی ایسا ہے۔ فقہ جعفری میں، جس سے چاروں ائمہ کرام نے خوشہ چینی کی ہے اور مسلک اہل حدیث میں ایک نشست کی کثیر طلاقوں کوایک قراردیا گیا ہے۔
البتہ اس نکتہ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے یک مشت طلاق کو غیر اسلامی قرار دے کرخارج کردیاہے۔ عدالت نے دلیل یہ دی ہے کہ یہ طریقہ ( جو متفقہ طور سے مذموم ہے) اس حکمت کے خلاف ہے جوقرآن میں صراحت سے مذکور طریقۂ طلاق کی روح ہے۔ہماری نظر میں عدالت کی یہ رائے اس لئے ناقص ہے کہ تین طلاق کوابتدائی دور سے نافذ قراردیاجاتارہا ہے۔اسی بنیاد پر اس کو قانون شریعت کاحصہ قراردیاگیا۔ اس دلیل کوعدالت نے منظور نہیں کیا ۔ لیکن ساتھ ہی عدالت نے دوکے مقابلے تین کی اکثریت سے پرسنل لاء کے خلاف حکومت کے دلائل کو بھی خارج کر دیا ہے اوراس دلیل کو بھی قبول نہیں کیا کہ بعض مسلم ممالک میں بیک وقت تین طلاق کو ایک ہی شمارکیا جاتا ہے۔ ان نکات کابھی نوٹس لیا جانا چاہئے۔ سچائی یہی ہے ، جس کا اعتراف ۲۲؍ اگست کوہی بورڈ نے بھی کیا ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے وسیع ترموقف کے حق میں ہے اورہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ (خصوصاً اس لئے کہ اس نے یونیفارم سول کوڈ کی راہ روک دی ہے۔)
مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جون میں تسلیم کیا تھا کہ یکمشت تین طلاق گناہ ہے ۔اس کے مرتکب کے سماجی بائی کاٹ کی بھی کال دی گئی تھی ۔سپریم کورٹ میں جولائی میں داخل حلف نامے میں بھی بورڈ نے یہ عندیہ ظاہر کیا تھا کہ اس طریقہ کے خلاف بیداری مہم چلائی جائے گی۔یہ ایک قابل تحسین موقف ہے ، لیکن اس پر عمل آوری کامنصوبہ بنانے کے بجائے بھوپال کانفرنس میں ایک دوسری ہی تجویز کو زیر عمل لانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔جگہ جگہ خواتین کے جلسے ہونگے۔ طلاق بدعت کے حق میں قراردادیں منظورہونگیں اورصدرجمہوریہ، وزیراعظم ، چیف جسٹس، لاء کمیشن وغیرہ کو بھیجی جائیں گی۔ گویا اس مسئلہ کو زندہ رکھا جائے گا۔ یہ تجویزسیاسی ذہن کی اختراع ہے ۔ہمیں یہ سوچ لینا چاہئے کہ اگرچیف جسٹس نے ان قراردادوں کو نوٹس لے لیا توپنڈارہ باکس دوبارہ کھل سکتا ہے ۔اگرمعاملہ پھر کسی سات رکنی بنچ کے حوالے کردیا گیا تو کون جانے اس کاکیا فیصلہ ہوگا؟چنانچہ ہم باخبرکردیناچاہتے ہیں کہ اس تدبیر پر عمل درآمد سے ان عناصرکو تقویت ملے گی جو اسلامیان ہند کے مخالف ہیں اوروہ مسئلہ جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد منظرسے ہٹ گیا ہے، پھر شرپھیلانے کاذریعہ بن جائیگا۔اب گلے چناؤ میں دوسال ہی باقی ہیں۔
اس فیصلے نے طلاق کااختیارسلب نہیں کیاہے۔یک مشت تین طلاق کی صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اگرمتاثرہ خاتون اس کے خلاف عدالت میں گئی توعدالت اس کو نان نفقہ دلوائے گی اور گھرمیں رہنے کا حق دلوائے گی۔ لیکن اگرکوئی شخص قرآن کی ہدایت کے مطابق عمل کرتا ہے، اس کو کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ اس لئے ہماری توجہ کامرکزاصلاح معاشرپر ہونا چاہئے۔ نا کہ سیاسی اکھاڑہ جگانے پر۔
syyedagha@hotmail.com 
cell: 9818678677

No comments: