Monday, May 22, 2017

حیدرآباد اسٹیٹ پر پولیس ایکشن کے بارے میں نئی کتاب کا اجراء Police action against Hyderabad State> New book released

حیدرآباد: حیدرآباد اسٹیٹ کے خلاف ۱۹۴۸ میں ہونے والے فوجی حملے کے بارے میں ایک کتاب کا اجراء یہاں پریس کلب میں پچھلے سنیچر کو ہوا۔ اس میں شہر کے ہندو اور مسلمان سب طبقات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سوسائٹی فار پروموشن آف ٹولرنس کے زیر اہتمام اس تقریب میں معروف اسکالر سید علی ہاشمی کی انگریزی کتاب ’’حیدرآباد ۱۹۴۸: ایک قابل احتراز فوج کشی‘‘  Hyderabad 1948: an avoidable invasionکا اجراء عمل میں آیا۔۳۰۰ صفحات پرمشتمل اس کتاب کو دہلی کے معروف پبلشر فاروس میڈیا نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں پہلی بار ۱۹۴۸ میں ہونے والے فوجی حملے کے حالات اور مظالم بیان کئے گئے ہیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ مذکورہ فوجی حملہ قطعاً غیر ضروری تھا اور وہ اس وقت عمل میں آیا جب نظام حیدرآباد بہت سنجیدگی کے ساتھ حکومت ہند کے ساتھ ریاست کے انڈین یونین میں الحاق کے بارے میں مباحثات کررہے تھے۔

سوسائٹی فار پروموشن آف ٹالرنس کے جنرل سکریٹری سید یاسین ہاشمی نے مہمانوں اور حاضرین کا استقبال کیا اور تنظیم کے نائب صدر انعام الرحمٰن غیور نے جلسے کی صدارت کی جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی معروف صحافی کنگشوک ناگ تھے جو ٹائمز آف انڈیا حیدرآباد کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

جن حالات کے دوران اس کتاب کو لکھا گیا ہے، ان کی تفصیل بتاتے ہوئے مصنف نے بتایا کہ یہ کتاب سالوں کی محنت سے تیار ہوئی ہے۔ اس کا کام انہوں نے ۱۹۹۴ میں اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد شروع کیا لیکن اس دوران امریکا میں ایک لمبی بیماری کے دوران ان کے کاغذات تلف ہوگئے۔ دراصل وہ ۱۹۹۵میں امریکن لائبریری اسوسی ایشن کی کانفرنس میں شکا گوگئے ۔اس کے بعد وہ ایک لائبریری کے ڈائرکٹر بنادئے گئے اور پھر انہوں نے جارج میسن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے داخلہ لے لیا۔اسی دوران ان کو برین ہمریج ہوا اور فیر فاکس اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعلان کردیا کہ ان کا دماغ مرچکا ہے۔اعزہ کی خواہش کی وجہ سے ان کو ایک خصوصی طیارے سے حیدرآباد لایا گیا جہاں اپالو اور درشہوار شفاخانوں میں ان کا کامیابی سے علاج ہوا اور وہ دوبارہ صحت یاب ہوگئے ۔اس کے بعد انہوں نے اس کام کو دوبارہ شروع کیا۔

مصنف نے بتایا کہ وہ خود ۱۹۴۸ کے پولیس ایکشن کے ستم زدہ ہیں اور اس وقت کے دردناک حالات کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کہنے کو تو وہ ’’پولیس ایکشن ‘‘تھا لیکن دراصل وہ ایک مکمل فوجی کارروائی تھی۔ کتاب میں انہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات درج کئے ہیں اور ساتھ ہی ان حالات کی عینی شاہد رہنے والی متعدد اہم شخصیات کے انٹرویوز بھی کتاب میں ضمیمے کے طورسے شامل کئے ہیں۔

معروف صحافی مسٹر ناگ نے کتاب کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کو شروع کرنے کے بعد چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا ہے۔ اس کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے کے لائق ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب کے مندرجات کا تقاضا تھا کہ کتاب کا عنوان ذرا اور سخت ہوتا۔

کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی نے کتاب کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نظام کی فوج کا سربراہ غدار تھا۔ انہوں نے کہا کہ نظام کے نائب وزیر اعظم کرشنا ریڈی کا لڑکا بھی غدار تھا جس نے ریاست کے خفیہ راز انڈین یونین کے ایجنٹوں کے حوالے کردئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب پڑھنی چاہئے۔ انہوں نے مسٹر ناگ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کا عنوان اور سخت ہونا چاہئے تھا جیسے) Rape of Hyderabad حیدرآباد کی عصمت دری)۔انہوں نے کہا کہ انڈین یونین نے رضاکاروں کے مظالم کے بہانے حیدرآباد اسٹیٹ پر فوجی حملہ کیا تھا جبکہ مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس رستم جی نے لکھا ہے کہ بمبئی اسٹیٹ نے اپنے بہت سے لوگ ’’رضاکار‘‘ کے بھیس میں حیدرآباد اسٹیٹ میں داخل کئے اور ان لوگوں نے وہاں بہت سے مظالم ڈھائے تاکہ رضاکاروں کوبدنام کیا جاسکے۔

انعام الرحمٰن غیور نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مصنف کے اس انداز بیان سے بہت متاثر ہوئے ہیں کہ وہ ماضی کے واقعات کا مقارنہ حاضر کے واقعات سے بھی کرتے ہیں جس سے ان کے تجزیے کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے ونسٹن چرچل کا قول نقل کیا کہ ’’یہ غلط نہیں ہے کہ ہم مستقبل کے سامنے ماضی کے واقعات کا سبق بیان کردیں ‘‘۔
(ختم)

No comments: