Thursday, May 25, 2017

Donald Trump, World Terror and "ISLAMIC EXTREMISM-2"

ونالڈ ٹرمپ ،عالمی دہشت گردی اور ’اسلامی انتہا پسندی‘-2

منصور آغا، نئی دہلی

(حصہ -2)


عالمی سطح پر ہلاکتیں:
انسانی ہلاکتوں اورسفاکانہ مظالم کاعالمی ریکارڈ کسی اورکے نہیں امریکاکے ہی نام ہے۔ گوانٹانامو کی جیل میں غیرقانونی طورسے دنیا بھرسے لائے گئے بے گنتی مسلم باشندوں کے ساتھ جس بربرتا کا سلوک کیا گیا وہ سفاکی میں کسی بھی طرح خود امریکاکی پیداکردہ آئی ایس آئی ایس کی سفاکیوں سے کم نہیں۔ جنگ عظیم۔ 2کے دوران یہودی سائنس دانوں کے عطا کئے ہوئے تحفہ ایٹمی بم سے جاپان کے دو شہروں ہیروشیمااورناگاساکی کے ہزارہاباشندوں کی ہلاکت کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ’گلوبل رِسرچ‘ میں شائع جیمس اے لیوکاس (
James A Lucas) کی رپورٹ کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دنیا بھر کے37ممالک میں امریکا کی فوجی مداخلت سے کم از کم دوکروڑ افراد مارے جا چکے ہیں۔ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی دوفلک بوس ٹاورس (بلندی 417 اور 415 میٹر) کی 9نومبر2001 (9/11) میں تباہی میں 2996افراد مارے گئے تھے۔ اس حملے کے چند منٹوں میں ہی بلا تحقیق اس وقت کے صدربش نے افغانستان کے حکمران طالبان کو مورد الزام ٹھہرادیا اوراس کو بہانا بناکر افغانستان پر حملہ کردیا جس میں تاحال7لاکھ 48ہزارافراد مارے جاچکے ہیں اوریہ سلسلہ بدستورجاری ہے۔ عراق پروسیع تباہی والے اسلحہ سازی کا جھوٹا الزام لگاکر حملہ کیا گیا جس میں 50لاکھ سے زیادہ غیرفوجی عراقی مارے جاچکے ہیں۔واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی 62,000 افرادہلاک اور67,000 زخمی ہوچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ مسلکی دہشت گردی میں ہزاروں اموات ہوچکی ہیں۔امریکا نے اپنی بالادستی حاصل کرنے کے لئے انڈوچائنا ( ویتنام ، لاؤس اورکمبوڈیا) پر 1954میں جو جنگ مسلط کی تھی اورجو1975 میں امریکا کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی 1,450,000 افراد مارے گئے ۔
ان کارستانیوں کاکوئی مقابلہ نام نہاد مسلم دہشت گردی سے نہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ (16 جولائی 2016) کے مطابق یورپی اوردیگرممالک میں آئی ایس آئی ایس کے قاتلہ حملوں سے مرنے والوں کی تعداد صرف 1200 ہے۔ہم ان تمام ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ہمارادین اجازت نہیں دیتاکی ایک بھی جان بنا حق کے لی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ملک گلے گلے انسانوں اورخاص طور سے مسلمانوں کے خون میں ڈوبا ہے ،اس کو یہ اخلاقی اورقانونی حق کیسے مل گیاکہ وہ ایک دو نہیں دنیاکے پچاس مسلم اکثریتی ممالک کی نصیحت کرے اوربھی اسلام پر دہشت گردی کا بدنما داغ لگاکر۔ بقول جناب کلیم عاجزؔ :
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
ہندستان اوردہشت گردی:
مسٹرٹرمپ نے دہشت گردی کے مارے ممالک میں چین اورہندستان کا نام بھی لیا۔ چین نے ایک خودمختارمسلم اکثریتی علاقہ ’ترکستان شرقیہ‘ پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے اوراس کا نام ’زنجیانگ‘ یعنی ’نیاصوبہ‘ رکھا ہے۔ یوں توپورے چین میں مسلم زندگی پابندیوں سے جکڑی ہوئی ہے۔ لیکن ترکستان شرقیہ میں چین کی ریاستی دہشت گردی کی انتہاہے۔ الٹا چین اس خطے کے قدم مسلمانوں باشندوں پر ہی دہشت گردی کا الزام لگا تا رہتا ہے۔ مسٹرٹرمپ کے بیان میں چین کے حوالہ میں اسی غیرمنصفانہ الزام کی گونج سنائی دیتی ہے۔
جہاں تک ہندستان کا سوال ہے،بیشک پڑوسی ملک کے بعض عناصرکی شہ پر جو ہلاکت خیز سرگرمیاں ہوتی ہیں ،ان کو دہشت گردی ہی کہا جائیگا۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی زد بھی بیچارے مسلمانوں پر ہی زیادہ پڑتی ہے، چاہے وہ کشمیری ہوں، یا کسی اورریاست کے۔ان شیطانی سرگرمیوں نے کشمیر، کشمیریت اورکشمیری باشندوں کوبربادہی کردیا ہے۔ پنجاب کے سکھوں نے بھی اسی طرح کا کرب جھیلا ہے۔علاوہ ازیں سنہ 2001سے ملک بھر میں ایک منظم سازش کے تحت بم دھماکوں کا سلسلہ چلا۔ حکومت کسی بھی رہی ہو،واردات ہوتے ہی کسی ایسی تنظیم یا افرادپرانگلی اٹھادی گئی جس کی شناخت مسلم کے طور ہوتی ہے۔ مختلف واردتوں کے لئے بے شمار نوجوانوں کو گرفتارکیاگیااورایک ایک پر درجنوں کیس لگادئے گئے۔ بیشتر معاملات میں اکثر ملزمان بے قصوربری ہوگئے مگرطویل مدت جیل میں کاٹ لینے کے بعد۔ اس کی تازہ مثال اے ایم یو کے رسرچ اسکالر غلام وانی کی ہے جس کوسابرمتی ٹرین بم دھماکہ کیس میں بلا ثبوت جولائی سنہ 2001 میں دہلی میں گرفتارکیا گیا تھا۔ اس پر ایک دونہیں 21کیس لگائے گئے جن میں 14کیسوں میں وہ بری ہوگیا۔ مگرابھی سات کیس باقی ہیں۔ 44سالہ وانی کے 16بیش قیمت سال جیل میں گزرچکے ہیں اوررہائی نہیں ملی۔ یہ کہانی ایک وانی کی نہیں بلکہ نجانے کتنے افراد کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگربے قصورافراد کو گرفتارکیا گیا تھا تو پھراصل مجرم کون تھے؟ کیا ان کی پردہ پوشی مقصود نہیں تھی؟
غرض یہ کہ افغانستان ہو،یا عراق، پاکستان،شام،یمن یا انڈیا دہشت گرد حملوں کی زد مسلمانوں پر ہی پڑتی ہے ۔ بیشک ان وارداتوں میں بعض بدبخت مسلمان آلہ کار بنتے ہیں اوراصل مجرم پردے میں رہ جاتے ہیں۔ہم ہرطرح کی دہشت گردی کی سخت مذمت کرتے ہیں ، لیکن دہشت گردی کو اسلام یا کسی اورمذہب سے جوڑنا بھی قابل مذمت شاطری ہے۔
نئے سنٹرکاقیام
سعودی عرب میں انتہاپسندی کی مانیٹرنگ اوراس کی اصلاح کی تدابیر کے لئے اوراعتدال پسندی کو فروغ دینے کے لئے ایک ہائی ٹیک سنٹر کے قیام کااعلان ایک درست قدم ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ اس کی توجہات کو سیاست زدگی سے محفوظ رکھا جائے اورجیساکاعندیہ ظاہرکیاگیاتمام اقوام اورانجمنوں کا اس کو تعاون حاصل ہو جائے۔ ان اسباب اورغلط تاویلات کاازالہ ہونا چاہئے جو فکرونظر اورپھر عمل میں انتہاپسندی کا سبب ہیں۔انتہاپسندی کا سب سے بڑاسبب اقوام کے ساتھ اجتماعی ناانصافی اورانصاف سے انکارہے۔
آخری بات:
امریکانے ستمبرسنہ 2001 میں اپنے یورپی حلیفوں کے ساتھ ملک ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ‘ چھیڑی تھی۔ اس جارحانہ کوشش کانتیجہ کیا نکلا؟ دہشت گردی میں کیا کمی آئی یا الٹا اضافہ ہوا؟ کتنے عرب ممالک تباہ ہوگئے؟ کتنوں کے تیل ذخائرپر غیروں کا قبضہ ہوگیا؟اب کسی نئی مہم کو شروع کرنے سے پہلے اس اولین کوشش کا تجزیہ کرلینا چاہئے۔ اس پر اعتراض کا کسی کوحق نہیں کوئی ملک اپنے قومی تقاضے کے پیش نظر کسم ملک سے تعلقات استوارکرتا ہے؟اس وقت ٹرمپ کی امیج کٹرمسلم مخالف کی ہے۔ سعودی عرب میں ان کی جوپذیرائی ہوئی ہے، اس سے امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے رویہ میں مثبت تبدیلی آئیگی اوروہ حقیقت پسندی سے کام لیں گے۔ یقیناًبشمول سعودی عرب،50مسلم ملکوں کی رائے کو امریکا آسانی سے نظرنہیں کریگا۔ ہماری اس تجزیہ کا مقصد یہ ہے کہ دنیامیں جوکچھ ہورہا ہے اس کے لئے اسلام اورمسلمانوں کو مطعون نہیں کیا جاناچاہئے۔ ہم اگراپنے دین کو اللہ اوررسول ﷺ کے لئے خالص رکھتے ہیں، اپنی دینی بنیادوں پر قائم رہتے ہیں تواس پر انتہا پسندی کا طعنہ بے معنی ہے۔ہم اپنی مہمات میں رہنمائی سیرت نبوی ﷺ سے حاصل کریں۔ بیشک اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مخالفین کو مدعو کیا جائے، ان کی ضیافت کی جائے اوران کو حق کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اللہ بہترفرمائیں۔ 

No comments: