Thursday, May 25, 2017

Donald Trump, World Terror and "Islamic Extremism-1

ونالڈ ٹرمپ ،عالمی دہشت گردی اور ’اسلامی انتہا پسندی

منصور آغا، نئی دہلی

(حصہ -1)



دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو


وہ دوست ہو، دشمن کو بھی تم مات کرو ہو



مجھے کلیم عاجز کاؔ یہ شعرامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس تقریر پر یاد آگیا جوانہوں نے 21مئی بروز اتوار، ریاض(سعودی عرب) میں پچاس مسلم ممالک کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس میں انہوں نے جو تلقین کی اس کا لب لباب ان کی ہی زبانی سن لیجئے: ’ ’ اس کا مطلب ہے ’اسلامی انتہا پسندی‘ کا اور اس سے جن ’اسلامی دہشت گرد گروپوں‘ کو حوصلہ ملتا ہے، ان کا ایمانداری سے مقابلہ کیا جائے۔ اس کا مطلب ہوگا بے قصورمسلمانوں کی ہلاکتوں، عورتوں پر زیادتیوں، یہودیوں پر ظلم وستم اور عیسائیوں کے قتل کو روکاجاسکے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا:’ مذہبی رہنماؤں کو یہ واضح کردینا چاہئے کہ بربریت آپ کو جلال فراہم نہیں کریگی۔ برائی کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک آپ کیلئے کوئی وقار نہیں لے آئے گا۔ اگر آپ ’دہشت گردی‘ کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کی زندگی بے فیض اور مختصر ہو جائے گی اور آپ کی روح سزایاب ہوگی۔مسٹرٹرمپ کی اس تقریر سے یہ گمان ہوتا ہے کہ دنیا میں ظلم صرف مسلمان ہی کررہے ہیں۔ مسلم اقوام پر کوئی ظلم نہیں ہورہاہے۔ دنیا میں ظلم کے لئے صرف ’اسلامی انتہا پسندی‘ اور’اسلامی دہشت گرد گروہ‘ ذمہ دار ہیں۔ عیسائی اوریہودی سب مسلمانوں کے ہی ظلم وستم کا نشانہ ہیں ۔تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ خوداندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ تاثرخلاف واقعہ ہے اوردنیا کی درست تصویرپیش نہیں کرتا۔ مرض کی تشخیص اوراس کے اسباب کی نشاندہی درست نہیں ہوگی توعلاج بے سود رہیگا۔ البتہ اتنا درست ہے کہ بعض مسلم عناصر میں اوربعض خطوں میں بیشک انتہاپسندانہ رجحانات بڑھے ہیں اوروہ تشدد کا باعث بھی ہیں۔ بعض سیاست داں ان کا استعمال سیاسی مقاصد کے بھی کررہے ہیں۔ بیشک ان کی اصلاح ہونی چاہئے۔لیکن اس کے لئے اسلام کو بدنام کرنا غلط ہے۔یہ امربھی قابل لحاظ ہے کہ دین اورانسانیت کے دشمن ان عناصر کے کرتوتوں سے نقصان کا شورزیادہ مچتا ہے جب کہ یہ نقصان اس کے مقابلے حقیر ہے جو امریکااوراس کے حلیف یورپی طاقتوں کے ہاتھوں انسانیت اورخصوصا مسلم دنیا کو پہنچا ہے اورپہنچ رہاہے۔تاریخ کاانکار:مسٹرٹرمپ کا یہ بیان تاریخی حقائق کا سفاکانہ انکار ہے ۔ عیسائیوں کی مظلومیت محض فریب نظرہے۔ سچائی یہ ہے کہ دنیابھرمیں سامراج قائم کرنے اورقائم رکھنے اور قدرتی وسائل کو ہتھیانے کے لئے جتنے مظالم عیسائی اقوام نے کئے ہیں ،ان کی کوئی مثال نہیں۔ لیکن ہم اس کے لئے عیسائیت کو الزام نہیں دیتے۔ بیشک دنیا کے مختلف حصوں میں یہودیوں پر ظلم ہواہے۔ مگریہ ظلم مسلم اقوام نے نہیں کیا۔عیسائیوں نے کیا۔ اسپین پر سنہ711سے جنوری سنہ 1492 تک 780سال مسلم حکمرانی رہی جس میں عیسائی اوریہودی بھی مسلمانوں کے شانہ بشانہ خوب پھلے پھولے۔ان کے ساتھ اسلامی ریاست نے کوئی تعصب نہیں برتا۔ جب کہ وہ مملکت کے خلاف مہمات میں شامل رہے۔سقوط غرناطہ (جنوری 1492) سانحہ کے بعداقتدارپر فردیناند اور اسابیلا[Ferdinand and Isabella] کی سربراہی میں کیتھولک عیسائیوں کو قبضہ ہو گیا۔ اس کے تین ماہ کے اندرہی 31مارچ کو ’الحمرااعلانیہ ‘یا ’حکم نامہ اخراج‘ جاری ہوا، جس میں اسپین اورپرتگال کے تمام یہودی باشندوں کوعیسائی مذہب اختیار کرلینے یا چارماہ کے اندرملک چھوڑدینے کا حکم دیا گیا۔ان کو سامان کے ساتھ نقدی،سونا اورچاندی لیجانے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے لئے زمین کے راستے بند تھے۔ کوئی پڑوسی عیسائی ملک پناہ دینے کو تیارنہیں تھا۔ چنانچہ ہزاروں ہسپانوی یہودی خاندانوں کو کشتیوں میں بھربھر کر سمند ر میں دھکیل دیا ۔ اس صورت میں ان کی دستگیری کے لئے کوئی اورنہیں ترکی کے مسلم حکمراں آئے اوران کو اپنی مملکت میں ہرطرح کی سہولتیں دے کر بسالیا ۔Eli Barnavi146s کی کتاب "A Historical Atlas of the Jewish People" کے مطابق سلطنت عثمانیہ یہودیوں کے لئے جنت بن گیا۔اس کا یہودیوں نے یہ صلہ دیا کہ جنگ عظیم کے موقع پر ترکی کے خلاف سازشیں کیں اور نقصان پہنچایا۔ اس کے باوجو ترکوں نے ان سے بدلہ نہیں لیا۔یہ تاریخ کی ایک روشن حقیقت ہے جس کو بھلایانہیں جاسکتا ہے۔ یہودیوں پر دوسرابڑاظلم نازی جرمنی میں ہوا۔ شدید سختیوں سے گھبراکر بہت سے یہودی ملک چھوڑ کر فرارہوگئے ۔ دنیا جانتی ہے کہ لاکھوں یہودیوں کو کس بے رحمی کے ساتھ گیس چیمرس میں بند کرکے نازی ہٹلر کے حکم پر موت کے گھاٹ اتاردیاگیا۔ میں یہاں یہودیوں کی اس سرشت اور ان اسباب میں نہیں جاؤنگا جنہوں نے اسپین اورجرمنی کے حکمرانوں کو اتنا سخت قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔ ظلم بہرحال ظلم ہے اوراسپین کے فردیناند،اسابیلا اورجرمنی کے اڈولف ہٹلر مسلمان نہیں عیسائی تھے۔دنیا میں اسوقت یہودی کہیں بھی مظلوم نہیں ،بلکہ 1948ء سے صیہونی یہودی ارض فلسطین میں ظالم کا کردارادا کر رہے ہیں۔امریکی صدر کو مظلوم فلطینیوں کی فکر کرنی چاہئے۔حزب اللہ:صدرٹرمپ نے اپنی تقریر میں حزب اللہ کو مطعون کیا ہے۔ اس تنظیم کاقصوراس کے سوا کیا ہے کہ اس نے مئی سنہ 2000میں لبنان کے اس خطہ کو آزادکرالیا تھا جس پر 1982 میں اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا؟ اس توسیع پسندانہ جارحیت میں بیشک اسرائیل کو امریکا، فرانس اوردیگریورپی ممالک کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ان طاقتوں کی ریشہ دوانیوں نے بیروت کا تباہ کردیا جو دنیا کے چوٹی کے شہروں میں شمارہوتا تھا۔اسرائیل نے جس طرح ارض فلسطین کے عربوں کو مظالم کا شکاربنایا اوراب بھی یہ سلسلہ جاری ہے، جس کو دنیا اب نسل پرستانہ دہشت گردی تسلیم کرچکی ہے، امریکا کو نظر آنا چاہئے اور غزہ کی غیرقانونی ناکہ بندی کو کھلوانا چاہئے۔ (جاری ۔ ملاحظہ فرمائیں حصہ -2)

No comments: