Monday, May 15, 2017

Adhar a curse for weaker sections: Dr. Manzoor Alam. کمزور طبقات کے لیے نقصان دہ

ڈاکٹر محمدمنظور عالم

یونیک آڈینٹی پروجیکٹ کی کمیوں کو ذہن نشیں کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پہلے ہی یہ کہہ دیا تھا کہ آدھار کارڈ ضروری نہیں ہے۔ ادھر کچھ وقت سے ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ سہولیات اور کچھ قانونی حقوق کی حصولیابی کے لیے آدھار کارڈ کو ضروری قرار نہ دیا جائے۔ اس معاملے کی شنوائی کی تاریخوں کا اعلان ہفتوں پہلے کیا جا چکا ہے اور اس کے بعد ہی صحیح تصویر ابھر کر سامنے آئے گی لیکن تب تک سپریم کورٹ کے احکامات کو درکنار کرتے ہوئے مرکزی اور صوبائی حکومتیں من مانے ڈھنگ سے کام کررہی ہیں۔
یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ انفرادیت کا حق بنیادی حق ہے یا نہیں۔ اس بیچ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ ہندوستاینوں کو انفرادیت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آیا ہندوستانیوں کو اگر انفرادیت کا حق بنیادی حق نہیں ہے تو کیا اس کا انہیں حق بھی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنسی ضمن میں لوگوں کے کئی ایسے گروپ ہیں جو اپنی شناخت عیاں نہیں کرنا چاہتے۔ مثال کے طور پر کوئی جنسی ورکر اپنے پیشہ کو جسم فروشی کا پیشہ نہیں کہنا چاہتا۔ اسی طرح سڑک پر چلنے والے کال گرل یا اپنے جال میں پھنسانے والے لوگ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کے کام کے بارے میں ان کی شناخت ہو۔ کوئی جنسی ورکر کے طور پر اپنی شناخت بتانا نہیں چاہے گا چاہے اسے انسانیت سے گرا ہوا یا اسے بغیر اہمیت والا کیوں نہ بتایا جائے۔ اس طرح کا طبقہ اپنی شناخت کو عوام کے سامنے عیاں نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ اس سے اس کی بے عزتی ہو سکتی ہے اور اس پر جسمانی حملہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ایسے لوگ جن کا جنسی رجحان یا ان کی پسند روایتی نہیں ہے تو وہ بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی شناخت کو عام کیا جائے۔ زنانہ ہم جنس پرستی، مرد اور عورت دونوں کی خصوصیات کے حامل اور جنسی مخالف کی طرح لباس زیب تن کرنے والے ایک جنسی کی بھاری اکثریت کے ذریعہ ان کو پریشان کرنے اور ان کو جسمانی نقصان پہنچایا جانے کی بہ نسبت اپنی چھوٹی برادری میں ہی رہ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لوگ جو ایڈز (ہندوستان میں جن کی آبادی دسویں لاکھ ہے) سے متاثر ہیں، وہ اپنی شناخت کو عام نہیں کرنا چاہتے۔ یونیک آڈینٹی پروجیکٹ کے ذریعہ برآمد کیے جانے والا بھاری ڈیٹا بیس لین دین کے سیکڑوں معاملوں میں کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اس ضمن میں علاج، معالجہ کے مشورے، بینک کے کاروبار، گھر کی خریداری، ٹیکس کی ریٹرن فائل کرنے، سفر، خریداری اور پین کارڈ کا استعمال بھی شامل ہے جن سے لوگوں کی شناخت از خود باہر آجائے گی۔ ہم نے ابھی اس پر غور ہی نہیں کیا ہے کہ کتنے ایسے راستے ہیں جن کے ذریعہ شہریوں کی انفرادیت نیست ونابود ہو جائے گی۔
حکومت کے ذریعہ ممکنہ بیجا استعمال
یہ سول آزادی کے پیروکاروں کے دل میں گہرا خوف پیدا کرتا ہے جنہیں ڈر ہے کہ ’ملازمین‘ (حکومت) اپنے ’حکمرانوں‘ (عوام) کو برطانیہ کے وزیر داخلہ کے الفاظ میں غلام بنانے کی کوشش کرے گی جس کا ذکر اس سیریز کے پچھلے مضمون میں کیا جا چکا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ برطانیہ کس طرح سے حکومت کے ذریعہ شہریوں کو ڈراتی رہتی ہے۔
حکومت کے ذریعہ حاصل کیے گئے اس طرح کے ڈیٹا کے بیجا استعمال کا ہمیشہ خدشہ رہتا ہے۔ ماضی میں بھی گجرات حکومت نے مسلمانوں سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ 2002 میں ہوئے گجرات دنگوں میں فسادیوں نے مسلمانوں کے گھروں کے پتہ اور ان کے کاروبار کے بارے میں تفصیلی پرنٹ آؤٹ حاصل کر کے ان پر حملے کیے تھے۔ سیتارام یچوری نے بتایا ہے کہ کس طرح سے جرمنی میں نازیوں نے یہودی گھروں پر حملہ کرنے کے لیے ان کے گھروں کی نشاندہی کی تھی۔ اس طرح کی جانکاری سے خطرات لاحق ہیں خاص طور سے ایسے میں جب حکومت فاشسٹ جھکاؤ والی ہو۔
ذات ایک بوجھ
ذات ایک وزنی صلیب کی طرح ہے جسے دلت ہزاروں سالوں سے اپنے کندھے پر ڈھو رہے ہیں۔ یہ بے وجہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے مطالبہ کیا اور اپنی ساری زندگی اس کے لیے لگائی جسے وہ ’’ذات کا خاتمہ‘‘ کہتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو اس عنوان کے طلباء اور ماہرین کے لیے سب سے بہتر کتابوں میں سے ایک ہے۔
یہی وجہ ہے رام پنیانی جیسے امبیڈکر وادی تھنکر سنگھ کی موجودہ مہم جاتی سمرستا (ذاتوں کا ضم ہونا) کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جیسا امبیڈکر چاہتے تھے اس طرح یہ ذات کو ختم نہیں کرتے بلکہ یہ ذات کے نظام کو بنائے رکھنا چاہتی ہے نیز روایتی وسماجی نظام میں ہندو ذاتوں کو اس طرح یکجا کرنا چاہتی ہے کہ یہ معلوم نہ ہو سکے کہ وہ اس کام میں ملوث ہے۔ پنیانی جیسے مفکرین کے بقول یہ دلتوں کو مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف صرف اکٹھا کرنا ہے اور بی جے پی کے لیے ووٹ مستحکم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلت ایکٹوسٹ اپنی شناخت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔
حالانکہ ملازمتوں اور ترقیوں میں خصوصاً کوٹہ سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن ان میں سے تمام لوگ بغیر کسی وجہ کے اپنی شناخت کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ صفائی کرمچاری آندولن کے قومی صدر بیچ واڑہ ولسن نے انتباہ کیا ہے کہ اگر ذاتوں کی شناخت کا خلاصہ کیا جاتا ہے تو طاقتور گروپ صفائی کرمچاریوں کے پڑھے لکھے بچوں کو صفائی اور مین سول کی صفائی کے لیے انہیں سماجی طور پر اسی کام تک محدود کر دیں گے۔
ولسن نے اپنی خود کی مثال دیتے ہوئے اس کا ثبوت دیا ہے کہ اس ذات کے دلتوں کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے یا کیا ہونے والا ہے؟ اپنی ہائی اسکول کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد جب انہوں نے گریجوٹ کے لیے ایک مستقل ملازمت کے لیے عرضی دی تو سرکاری روزگار دفتر نے ان کے معاملے کو ان کی ذات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے بعد محکمہ صفائی کرمچاری کو بھیج دیا۔ ولسن کبھی بھی صفائی کرمچاری نہیں بننا چاہتے تھے ان ہی کی طرح زیادہ تر ایکٹوسٹ اپنے آباء واجداد کے صفائی کرمچاری کا کام نہیں کرنا چاہتے جو انہیں ان کی ذات کی بنا پر دیا گیا تھا۔ ولسن کی طرح ہزاروں لوگوں کو صفائی کا کام کرنے والے اور مین ہول صاف کرنے والے لوگوں کے طور پر نہیں کہلانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک عتاب ہے جو یو آئی ڈی (آدھار) بنائے رکھنا چاہتی ہے۔

(مضمون نگار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ہیں)

No comments: