Thursday, April 13, 2017

دانائی کل بھوشن کی جان بخشی کی طالب"Wisdom demands, "Spare the life of Kulbhushan

دانائی کل بھوشن کی جان بخشی کی طالب
 سیدمنصور آغا
پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے ایک ہندستانی باشندہ کل بھوشن جادھوکو موت کی سزاسنائی ہے۔فطری طورسے ہندستان میں اس کا سخت ردعمل ہوا ہے۔ پاکستان کہتا ہے کہ کل بھوشن جاسوسی کرنے اورانتشار پھیلانے آیا تھا۔ ہندستان اس کی تردید کرتا ہے۔ ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ بات کس کی درست ہے۔سروکار پھانسی دئے جانے کی صورت میں برصغیرمیں کشیدگی میں اضافہ سے ہے جو گزشتہ تین سال سے روز بڑھ رہی ہے۔ یہ بھی یقینی ہے کہ اگرسزا کے اس حکم کو نافذکیا گیا تو اس سے پاکستان کو حاصل کچھ نہیں ہوگا جب کہ ہندستان میں سخت گیر ہندوقوم پرستی کے علمبرداروں کو ماحول کو مزید زہرآلود کرنے کاموقع مل جائیگا۔ 
کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ دہلی کی تہاڑجیل میں 11فروری 1984کو ایک 46 سالہ کشمیری مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تھی۔وہ جے کے ایل ایف کا بانی لیڈر تھا۔ 1971 میں سرینگرسے جموں پرواز کے دوران دوکشمیریوں نے، جن کا تعلق جے کے ایل ایف سے بتایا گیا، ایک مسافرطیارے کو اغواکرلیا تھا جسے لاہورلیجاکربٹھو صاحب کی موجودگی میں نذرآتش کردیا گیا۔ ہرچند کہ جنرل یحیٰ خان کی سرکار نے جہاز کے عملے اور مسافروں کووطن بھجوا دیا لیکن حالات اس قدر بگڑے کہ پاکستان دولخت ہوگیا اورچندسال بعد خود بھٹو صاحب کو پھانسی ہو گئی۔جہازاغوا کی سازش میں بٹ کو سزائے موت ہوگئی مگراس کی رحم کی درخواست دبی رہی۔ اسی دوران برطانیہ میں کچھ لوگوں نے ایک ہندستانی سفارت کار روندرا مہاترا کو اغوا کرلیا اور مطالبہ کیا کہ مہاترا کی رہائی کیلئے مقبول کو رہا کیا جائے۔ مگر تیسرے ہی 6فروری کوان مکاروں نے مہاترا کو قتل کر دیا۔ یہ اغواکار کس کیلئے کام کررہے تھے،کس نے مہاترا کو قتل کیا؟ یہ توواضح نہیں ہوا، مگر اس کے ردعمل میں مقبول بٹ کوانافانا پھانسی دیدی گئی۔اس دوران بٹ کی تنطیم کا ایک اہم لیڈرلاپتہ ہوگیا اوردو کا کشمیر میں قتل ہوگیا۔غورکیجئے اول تاآخراس تخریب کاری سے کسی کو کیا فائدہ پہنچا۔
دوسرا واقعہ 9فروری 2013کا ہے جب اسی تہاڑ جیل میں ایک دوسرے کشمیری افضل گروکو رازدارانہ طور پرپھانسی دی گئی۔ کشمیرکے موجودہ حالات کا جائزہ بتاتا ہے اس واقعہ کے بعد حالات سدھرے نہیں ، بگڑے ہیں۔ تاریخ میں زرا ور پیچھے چلئے۔ انگریزوں نے سرداربھگت سنگھ،اشفاق اللہ، رام پرساد بسمل، مولوی باقرآزادی کے ہزاروں متوالوں کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ ڈپٹی نذیراحمد کے صاحبزادے بشیرلدین احمد نے اپنی کتاب ’واقعات دارالحکومت دہلی ‘ میں لکھا ہے کہ دہلی پر قبضہ کے بعد انگریزوں نے جو قہرنازل کیااس میں مہرولی سے دہلی گیٹ تک پیڑوں پر انسانوں کی لاشیں اس طرح لٹکی ہوئی تھیں جس طرح بیا کے گھونسلے لٹکے ہوں۔‘‘ انگریزوں نے ہزاروں معززین کے گھروں کو مسمارکرادیا۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ اسی طرح امریکی انتظامیہ کہ شہ پر بغدادمیں صدر صدام حسین کو پھانسی دیدی گئی ۔
لب لباب اس کا یہ ہے کہ سیاسی حربہ کے طور پر دی گئی موت کی سزاؤں سے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا کہ پاکستان یہ امید کرے کہ کل بھوشن جادھو کی جان لینے سے اس کا پلڑا بھاری ہوجائیگا یا مسئلہ کشمیراس کی خواہش کے مطابق حل ہوجائیگا۔ اگرنواز شریف صاحب کو یہ گمان ہے کہ اس اقدام سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوجائیگا توان کو سشیل کمار شندے سے عبرت حاصل کرنی چاہئے جو افضل گرو (9فروری 2013) اوراجمل قصاب کو پھانسی (5نومبر 2012) کے وقت ہمار ے وزیر داخلہ تھے اور2014میں لوک سبھا چناؤہارگئے ۔ 
ہمیں نہیں معلوم کہ کل بھوشن کوئی ایسی خطا کی ہے کہ اس کو پھانسی دی ہی جانی چاہئے۔ لیکن اتنا معلوم ہے کہ اسکی پھانسی میں برصغیرکے امن پسند باشندوں کیلئے خیر کا پیغام نہیں۔ اسلئے ایک شہری کی حیثیت سے ہم حکومت پاکستان سے اس کی جان بخشی کی گزارش کرتے ہیں۔ یہ دھرتی بہت خون سے سینچی جاچکی ہے۔ خدارا اب بس کیجئے۔ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظرمناسب ہوگا کہ ہماری ملی تنظیمیں اوراہم شخصیات بھی اس اپیل کی تائید فرمائیں۔

No comments: