Thursday, April 13, 2017

Mohan Bhagwat jee and Gau Raksha موہن بھاگوت جی اورگؤ رکشک

موہن بھاگوت جی اورگؤ رکشک

سید منصورآغا
الور میں ہریانہ کے ایک مسلم مویشی تاجر کی نام نہاد گؤ رکشکوں کی مارپیٹ سے موت کے بعد سنگھ رہنما موہن جی بھاگوت نے کہا ہے کہ ا گرچہ ان کی بھی خواہش ہے کہ گؤونش کی ہتیا پورے ملک میں بند ہو، لیکن عملاً اس میں بڑی دشواریاں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں بھی ہمارے پرچارک مکھیہ منتری ہیں وہاں سخت قانون بن گئے ہیں۔ انہوں نے گؤپریمیوں کو تلقین کی کہ وہ اپنا کام کرتے رہیں ، لیکن تشدد نہ کریں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی لغت میں تشدد کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ جدید ماہرین اورقدیم گیانیوں کا کہنا ہے کہ ہررجحان کا بیج پہلے ذہن میں پڑتا ہے ، پھر انسان کے عمل میں نظرآتا ہے۔اب اگربھاگوت جی واقعی شدت پسندی سے نوجوانوں کو بچانا چاہتے ہیں، توان کو سنگھ کی تعلیمات کا جائزہ لے لینا چاہئے جس کی بدولت ہندونوجوانوں میں شدت پسندی اورجارحیت میں روزاضافہ ہورہا ہے۔ نوجوانوں کا خون کھولاتے رہیں اور تلقین عدم تشدد کی کرتے رہیں، تو یہ چلنے والا نہیں۔ 

بھاگوت جی یہ بھی معلوم کرائیں کہ امریکہ ،جرمنی، فرانس، روس، چین، برازیل اورپاکستان و ڈنمارک وغیرہ ممالک میں جہاں گائے کے گھی دودھ کی ندیاں بہتی ہیں اور دودھ مصنوعات دیگر ممالک کوایکسپورٹ کی جاتی ہیں، وہاں گایوں کے بچھڑوں کااوران گایوں کا کیا ہوتا ہے جو دودھ نہیں دیتیں اوربچے دینے کی اہل نہیں رہتیں؟بعض یورپی ممالک میں توگایوں کا گوبراتنا ہوتا ہے کہ کیمیائی کھاد کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔پاکستان آبادی اوررقبہ میں ہم سے بہت چھوٹا ہے مگر گائے کے دودھ کی پیداورمیں وہ دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ بھاگوت جی برادران وطن کے جذبات کے لحاظ میں ذبیحہ گؤ کے حق میں ہم بھی نہیں مگر آپ کے زیراثرسرکاریں اورآپ کے گؤ رکشک گؤ ونش کی رکشا کے نام پرجو تماشے کررہے ہیں،ان سے دراصل گائے کی افزائش نسل اورتجارت کی حوصلہ شکنی ہورہی ہیں۔ اگرگائے اوراس کی دودھ گھی اور کھاد سے پیار ہے، ملک کی خوشحالی مقصود ہے اورویدک دورکا احترام دل میں ہے تو دیکھئے کہ اس قدیم دور میں گؤ ونش کے ساتھ ہندوقوم کے بزرگوں کا رویہ کیا تھا؟ 

No comments: