Thursday, April 13, 2017

Modern languages and English in Yogi Raj in Schools یوگی راج میں غیرملکی زبانیں پڑھانے کا عزم

یوگی راج میں جدیدغیرملکی زبانیں پڑھانے کا عزم

سید منصورآغا
یوپی کے وزیراعلایوگی آدتیہ ناتھ نے، جن کا اصل نام اجے سنگھ بشٹ ہے اور میتھ میٹکس میں بی ایس سی ہیں، ریاست میں انگریزی کی تعلیم نرسری سے شروع کرانے اورہائی اسکول سے جدید غیرملکی زبانوں کی تعلیم کو رائج کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ہم ان کے اس ارادے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ہمارا مشورہ ہے کہ غیرملکی زبانوں کا تعین کرتے وقت کیرالہ میں عمومی خوشحالی اور اس میں عربی کے رول پر غورکرلیا جائے۔وہاں عربی تعلیم عام ہے جو کہ 20 سے زیادہ ایسے ملکوں کی زبان ہے جن میں روزگار کے بہت مواقع ہیں۔ کیرالہ کا تو کوئی گھرایسا نہیں جس کا ایک دو فردعربی دانی کی بدولت کسی عرب ملک میں بر سرروزگار نہ ہو۔ دیگر جدید غیرملکی زبانوں جیسے جاپانی، جرمنی ، فرینچ وغیرہ بھی اہم ہیں مگران میں روزگار کے اتنے مواقع نہیں جتنے عربی میں ہیں۔ دوسرے ان زبانوں کے ٹیچر بمشکل ملیں گے، جب کہ عربی ٹیچر آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگرجدید تعلیم سے آراستہ مسٹراجے کمار بشٹ عرف یوگی جی یہ جرأتمندانہ اقدام کرسکے تویوپی کی نئی نسل کیلئے امن اورخوشحالی کے دروازے کھل جائیں گے اورریاست بھر میں اس ماحول کی توسیع ہوگی جو میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان کے مٹھ میں پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے مندر میں مذہب اورجنس کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں برتی جاتی۔
آزادی کے فوراً بعد جب گووندبلبھ پنت یوپی کے ویزراعلا بنے، تو ایک فرمان جاری کرکے اردوکو، جو ریاست کی کثیرآبادی کی زبان ہے، یکسرنصاب سے خارج کر دیا ۔ 1984-85میں اوراس کے بعد حال ہی میں اکھلیش سرکار نے پرائمری اسکولوں میں کئی ہزار اردوٹیچربھرتی کئے مگران سے کام کچھ اور لیا جاتا ہے۔اس بے قاعدگی کو ختم کیا جانا چاہئے۔1989سے اردو یوپی کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہورہا ہے۔ جس طرح یوگی جی نے ذبیحہ خانوں کے معاملے میں ضابطوں کو سختی سے نافذ کیا اسی طرح اس معاملہ میں بھی کرنا چاہئے۔اگر صرف اتنا کردیاجائے کہ بھرتی اورترقی میں اردو داں کوایک پائنٹ ترجیحی دے دیا جائے تو پھر ہندواورمسلمان سبھی اردوکی طرف متوجہ ہونگے۔ہمارامشاہدہ ہے نئی نسل میں بھی اردوکیلئے بڑی کشش ہے۔اس کی شرینی ہرکسی کو بھاتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ خالص ہندستانی زبان ہے اوراب دنیا بھر میں بولی سمجھی جاتی ہے۔

No comments: