Thursday, April 13, 2017

By-poll in Srinagar speaks of Modi's failure;کشمیر میں ضمنی چناؤمرکز کی ناکامی

کشمیر میں ضمنی چناؤمرکز کی ناکامی

سید منصورآغا
سرینگرکی پارلیمانی سیٹ پر ضمنی چناؤ میں سات فیصدسے کچھ زیادہ ووٹ پڑے اور آٹھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ خبرہے کہ ’علیحدگی پسندوں‘ کی بائیکاٹ کی اپیل کی بدولت پر تشدد ہوا۔ایسی اپیلیں تو2014 کے لوک سبھا اور اس کے بعد اسمبلی چناؤ کے وقت بھی کی گئی تھیں اورہمیشہ کی جاتی ہیں۔ مگر لوک سبھا چناؤمیں 27 فیصداورچند ماہ بعد اسمبلی چناؤ میں 65 فیصدسے زیادہ ووٹ پڑا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پولنگ پر منفی اثرکسی کی اپیل کا نہیں پڑا۔بلکہ وجہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کی 2014 میں جو امیدیں مرکزی حکومت سے بندھ گئی تھیں اوراسمبلی چناؤ میں وزیراعظم مودی کے جن وعدوں پرعوام نے اعتبارکرلیا تھا، ان سے وہ اب شدید مایوس اور وادی میں مختلف کاریوں سے شدید نالاں ہیں۔ ہم راہل گاندھی کے اس مشاہدہ کی تائید کریں گے کہ سالہا سال کی کوششوں کے بعد کشمیر میں امن اوراعتماد کا جو ماحول بنا تھا اس کومودی سرکار کی جارحانہ خارجہ اورداخلہ پالیسیوں نے تین ہی سال میں تباہ کر دیا ہے۔ضرورت ہے کہ مودی سرکار اس پالیسی کی طرف پلٹے جس کے معماراول اٹل بہاری باجپئی ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکمراں سنگھی نظریہ کے تحت کام کر رہے ہیں جس کانقطہ آغاز اورنقطہ اختتام ملک بھرمیں اقلیت مخالف جذبات کو مشتعل کرکے ہندوتعصبی ذہن کوفروغ دیناہے۔اس مقصدکیلئے کشمیریوں کو کچلا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرکزی حکومت اورجمہوری نظام کے خلاف عوام میں شدید غم وغصہ پیدا ہوگیا ہے۔ حد یہ ہے کہ جن جگہوں پر کبھی انتخابات کا بائی کاٹ نہیں ہوا تھا، اس باروہاں بھی ہوا ہے۔
افسوس کہ مسلم دشمنی کی جو آگ بھڑکائی جارہی ہے،اس میں گھی ڈالنے کا کام ہمارے خودغرض کوزہ ذہن لیڈران بھی کرتے ہیں۔یوپی کے حالیہ چناؤ اس کا ثبوت ہیں۔ لیکن وہ دن دورنظرنہیں آتے جب مودی جی بھی اسی طرح پردہ خفامیں چلے جائیں گے جس طرح انہوں نے اپنے سیاسی محسن آڈوانی جی کو پہنچادیا ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ یوگی جی کے عروج سے مودی ،مودی کی گونج کو گہن لگ گیا ہے۔

No comments: