Thursday, April 6, 2017

Babri Masjid Shah Bano Cases: Was there any deal?اجودھیا اورشاہ بانو معاملہ : کیا کوئی ڈیل ہوئی تھی؟

اجودھیا اورشاہ بانو معاملہ : کیا کوئی ڈیل ہوئی تھی؟
( منصور آغا، نئی دہلی)
گزشتہ ہفتہ اس کالم میں راقم نے اجودھیا تنازعہ کے بعض پہلوؤں پراپنی معروضات پیش کی تھیں۔ اسی دوران سابق مرکزی وزیر برادرم عارف محمد خان کا یہ بیان آیا کہ بابری مسجد کا تالا کھولا جانا اور اس کے بعد شیلانیاس دراصل اس وقت کی کانگریسی سرکار اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قائدین کے درمیان ایک ’ڈیل‘ کا نتیجہ تھا۔ بات تو یہ پہلے بھی آئی، لیکن ایسے موقع پر جب سپریم کورٹ اجودھیا تنازعہ اورطلاق ثلاثہ سے متعلق کیسوں کی طرف متوجہ ہے، اس کا دوہرایا جانا اوراس پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خاموشی کا نہ ٹوٹنا کچھ کہتا ہے حالانکہ کہ بورڈ کا رول ان دونوں معاملات میں رہاہے۔
جیسا کہ عارف صاحب کہتے ہیں اس ’ڈیل‘ (سودے)کا تعلق ’مسلم مطلقہ خاتون کے حقوق سے متعلق ایکٹ (Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act 1984سے ہے جس کیلئے شاہ بانوکیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک گیر تحریک چلائی تھی اورراجیوگاندھی سرکار نے آخر کاربورڈ کے مطالبہ کو قبول کرلیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے مذکورہ بالا ایکٹ منظورکرادیا تھاجس کے مسودے سے بورڈ کے قانونی ماہرین نے اتفاق کرلیا تھا۔ اس زمانے میں عارف صاحب مرکزی کابینہ میں شامل تھے۔ابتدا میں مرکزی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے (23اپریل 1985) کے حق میں تھی۔ لوک سبھا میں اس پر بحث ہوئی توسرکارکی طرف سے خاص اسپیکر عارف خان صاحب ہی تھے اور انہوں جو تقریر کی تھی اس کی گونج دور تک اوردیر تک سنائی دی تھی۔لیکن کچھ عرصہ بعد جب کانگریس قیادت نے پراسرارطریقہ سے اپنا موقف تبدیل کرلیا اوربورڈ کے مطالبہ پر مذکورہ بل لانے کیلئے آمادہ ہوگئی۔تاہم عارف صاحب اپنے موقف پر قائم رہے اور کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ حکومت کے موقف میں اس تبدیلی پر بھوئیں اس وقت بھی تنی تھیں اور یہ سوال بھی گونجا تھا:
چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں
کوئی معشوق ہے اس پردہٗ زنگاری میں
بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ مسلمانوں پر بظاہر یہ کرم فرمائی ایسی ہی تھی جیسے قتل کیلئے جواہرات جڑا سونے کا کٹار سینے میں اتاردیا جائے۔زیادہ ملال کی بات یہ ہے کہ یہ ایکٹ ، جس کا کریڈٹ بورڈ نے لیا، قطعی ناقص ثابت ہوا۔ مختصرمدت میں ہی عدالتوں سے اس کے خلاف منشاء فیصلے آنے لگے۔ چنانچہ عارف خان کا یہ اصراراپنی جگہ اہم ہے کہ کانگریس سرکار نے مسلم جذبات کی یکسوئی کے نام پر یہ ایکٹ منظورکرانے کے بعد ہندو جذبات کی منھ بھرائی کیلئے تالا کھلوایا اورشیلانیاس کرایا ۔ یہ ساری حکمت عملی اطلاع کے مطابق مسٹرنرسمہاراؤ کی تھی۔ عارف صاحب کہتے ہیں کہ تالے کا کھولا جانا اورشیلانیاس کا کرایا جانا اس ’ڈیل‘ کا حصہ تھے جس کے تحت مذکورہ ایکٹ منظورہوا۔ اس میں دوسرافریق مسلم پرسنل لاء بورڈتھا۔
بورڈ کے موجودہ جنرل سیکریٹری صاحب اس دور کے محترم جنرل سیکرٹری حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ کے فرزند ہیں۔وہ یقیناًان امورسے بے خبر نہ ہونگے۔ عارف صاحب نے جس ’ڈیل ‘کا ذکر کیا ہے ،ا سی کے بعد یہ صاحب بہار قانون ساز کونسل کے ممبراور ڈپٹی چیرمین بنائے گئے تھے جو ظاہرکرتا ہے کہ ملّی اورقومی سیاسی امورمیں ان کو گہری دلچپسی تھی۔اس لئے عارف محمدخان صاحب کے بیان پران کی خاموشی کچھ کہتی ہے۔حسن ظن سے کام لیا جائے توکہہ سکتے ہیں کہ عاقبت کی فکر کے سوا کوئی اورچیز ان کیلئے اس بیان کی تردید میں مانع نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اس پر بھی غورکرلیجئے۔ 
مسلم پرسنل لاء بورڈ اس دور میں کسی کی جیبی تنظیم نہیں تھی کہ صدراورجنرل سیکریٹری نے جوچاہا کر لیا۔ اس وقت جو کچھ ہوا، اس سے بہت سے نمائندہ حضرات باخبر ہونگے۔ ہم ڈرتے ڈرتے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ پوری جرأتمندی کے ساتھ ملت کو بتادیتے کہ ہماری قیادت نے مذکورہ ایکٹ کے مقابلے ایک مسجد کی قربانی کو اصولاً قبول کرلیا تھا۔کیا خدانخواستہ ہم پراللہ کے سامنے جوابدہی کے خوف پر بندوں کے روبرو جوابدہی کا ڈر غالب آجاتا ہے؟ برادر گرامی محمود مدنی صاحب نے رجت شراما کے پروگرام ’آپ کی عدالت ‘میں شاید ٹھیک ہی کہا ہے کہ ملی قائد ملت کی قیادت کہاں کرتے ہیں۔ وہ تو ہوا کا رخ دیکھ کر قوم کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ایسی قیادت کولوگوں کی خفگی کا ڈراول رہتا ہے۔اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
چند اہم کیس
اوپر یہ ذکرآیا کہ بعد میں عدالتی فیصلوں کی روسے مسلم مطلقہ خاتون حقوق ایکٹ 1984عملاً کالعد م ہوگیا ہے۔ مناسب ہوگا کہ ایسے چند اہم کیسوں کا ذکریہاں کر دیا جائے۔ پہلا کیس شمیم آرا بنام یوپی سرکار ہے جس میں مسماۃ شمیم آرانے اپنے شوہر ابرار احمد سے گزارہ دلانے کی استدعا کی تھی۔ شمیم آرا کا نکاح 1968میں ابراراحمد سے ہوا تھا جس سے اس کے چاربیٹے ہوئے۔ الہ آباد کی فیملی کورٹ نے ابراراحمد کا یہ بیان بلا ثبوت قبول کرلیا کہ وہ شمیم کو طلاق دے چکا ہے۔اس لئے شمیم کو گزارہ نہیں دلوایا، البتہ اس کے ایک بچے کو صرف ڈیرھ سوروپیہ ماہانہ خرچہ دینے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقراررکھا لیکن سپریم کورٹ میں جسٹس آرسی لاہوتی اورجسٹس پی وینکٹ رما ریڈی پر مشتمل بنچ نے ایک تاریخی فیصلہ صادرکرتے ہوئے کہاتھا کہ عدالت میں مقدمہ کی کاروائی کے دوران کسی مدعالیہ کا محض یہ دعوا کہ اس نے طلاق دیدی معتبرنہیں تاوقتیکہ ثبوت پیش نہ ہوں۔ ابرار نے ان 5گواہوں کو بھی جرح کیلئے عدالت میں پیش نہیں کیا جن کے سامنے اس نے مبینہ طور سے طلاق دی تھی۔ مدعالیہ نے طلاق کا کوئی معقول سبب بھی بیان نہیں کیا اورنہ قرآن میں مذکور ہدایات کے مطابق معاملہ کو سلجھانے کیلئے کسی طرح کی کوشش کا کوئی ذکرکیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قرآن نے جو احسن طریقہ کارمقرر کیا ہے اس کے علاوہ کوئی ایسا حکم نہیں ملتا جس سے بلا جواز، بناثبوت وگواہ من موجی طلاق کا جواز نکلتا ہو۔ البتہ عدالت نے اس تاریخ (31.8.1988) سے فسخ نکاح کو تسلیم کرلیا جس کومدعالیہ نے تحریری بیان عدالت میں داخل کیا اوراس کی نقل اس کے چاربچوں کی بے آسرا ماں کو دی گئی۔جسٹس لاہوتی نے اپنے فیصلے میں جسٹس کرشنا ایر اور جسٹس وی خالد کے علاوہ بشمول پروفیسر طاہرمحمودکئی ماہرین قانون کے حوالے دئے ہیں اورلکھا ہے:
’’قرآن کا قانون طلاق ،جس کا حکم مقدس قرآن نے دیا ہے یہ لازم کرتا ہے طلاق کسی معقول وجہ سے ہونی چاہئے اوراس سے پہلے ثالثوں کی مدد سے، جن میں ایک بیوی کے خاندان سے اوردسرا ثالث شوہرکے خاندان سے ہو، زوجین کے درمیان موافقت کی کوشش ہونی چاہئے۔ اگریہ تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تبھی طلاق دی جاسکتی ہے۔‘‘
دوسرا کیس
تقریباًاسی دوران ڈی پٹھان بنام رحیم بی کیس میں اورنگ آباد بنچ کے چیف جج جسٹس مارلاپلّے کا فیصلہ آیا جس میں قرآن کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ قرآن ’’بغیرکسی معقول وجہ کے محض بیوی کو تنگ کرنے، نقصان پہچانے یا اذیت دینے کیلئے یا اس کے غیرواجب مطالبات قبول نہ کرنے پر طلاق دینے سے بازرہنے کا حکم دیتا ہے۔‘‘( 2:231-233اور 65:1-3) کورٹ نے فیصلہ صادر کیا کہ مسلمان شوہر من موجی نکاح کو فسخ کرنے کا اختیارنہیں رکھتا اوراس کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا کہ طلاق معقول وجہ سے دی گئی، ثالث مقررکئے گئے تھے، مفاہمت کی کوشش ناکام ہونے پر ہی طلاق دی گئی۔‘‘
تیسری مثال
ایک تیسری دلچسپ مثال دانیال لطیفی کیس کی ہے جو دراصل شاہ بانو کیس کا ہی طفیلی ہے۔ اس میں عدالت عالیہ نے ’مسلم مطلقہ خاتون حقوق تحفظ ایکٹ (Muslim Wome (Protection of Rights on Divorce) Act 1984 کو توآئینی نقطہ نظر سے جائز قراردیا لیکن کہا کہ اس ایکٹ کے تحت یہ لازم ہے کہ شوہر اپنی مطلقہ بیوی اور بچوں کے گزارے کیلئے طلاق کے بعد جلد از جلد ایک معقول رقم بالمشت اداکرے ۔ اگرشوہر اس شق پر عمل نہیں کرتا تو مطلقہ بیوی کو اختیارہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125کے تحت گزارہ بھتے کے لئے مجسٹریٹ کی عدالت سے رجوع کرے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مہرکے طور پر جو رقم دی جاتی ہے وہ بھی معقول ہونی چاہئے۔ (جاری)

No comments: