Thursday, April 6, 2017

Babri and Shah Bano Case: Was there any "Deal"بابری مسجد اورشاہ بانو معاملہ: کیا کوئی ’ڈیل ‘ہوئی تھی؟(۲)

بابری مسجد اورشاہ بانو معاملہ: کیا کوئی ’ڈیل ‘ہوئی تھی؟(۲)

سید منصورآغا

چوتھا کیس
جموں وکشمیرہائی کورٹ کے جسٹس حسنین مسعودی نے محمد نسیم بھٹ بنام بلقیس اخترکیس میں نومبر 2012میں ایک عالمانہ فیصلہ صادر کیا ہے جس میں اسلام کے قانون طلاق کی صراحت کے ساتھ اس کی گمراہ کن خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ لب لباب اس کیس کا یہ ہے کہ اسلام شوہر کو طلاق اورنکاح ثانی کا اختیارتو دیتا ہے لیکن طلاق اورکثرت ازدواج کی غیرمشروط چھوٹ نہیں دیتا ۔مثلاً طلاق حالت طہر میں دی جانی چاہئے جب کہ اس طہر میں عورت سے قربت نہ کی ہو۔مگراس شرط کی کوئی پرواہ کہاں کرتا ہے۔( دسمبرسنہ 2012میں اس فیصلے کا راقم کا تحریرکردہ خلاصہ متعدد اخبارات ورسائل میں شائع ہوچکا ہے۔)
کئی اورمثالیں
اس طرح کی اوربھی بہت سی مثالیں موجودہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن فیصلوں میں ایک نشست میں بلاوجہ تین طلاق کے قانونی جواز کو کالعدم کیا گیاہے ان میں سے کسی میں بھی خاطی شوہر کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ مطلقہ کو واپس لے اوردونوں زوجین کی طرح رہیں۔ بلکہ ایک معمولی رقم ایک محدود مدت کیلئے گزارے کے طور پر دینے کا حکم دیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جس خاتون کی جوانی کو نچوڑا، اس کو بلامعقول وجہ بے سہاراکردئے جانے کو توحق بجانب قراردیا جاتا ہے اوراس کے اوراس کے بچوں کے ساتھ معمولی حسن سلوک کو بھی کو خلاف شریعت کہا جاتا ہے اوراس بات اصرار کیا جاتا ہے کہ یہی رحمٰن اوررحیم کی دی ہوئی ہماری شریعت کا حکم ہے۔ قرآن میں جوآیات حسن سلوک اوربیوی کو تنگ نہ کرنے سے متعلق آئی ہیں گویا وہ محض تلاوت کیلئے ہیں۔ استغفراللہ ربی۔ افسوس کہ غیرمسلم جج کہہ رہے ہیں قرآن کا طریقہ اختیارکرلو۔ اس کی ہدایات کو اختیارکرلو۔اورہم اس سے انکار کرتے ہیں۔ ہم آج تک یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگرطلاق دینا ہی ہے توایک طلاق پر بس کرلینے میں کیا قباحت ہے اورکیوں بیک وقت تین طلاق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے؟ تاکہ اس کے بعد حلالہ کے نام سے بے حیائی کا درکھلا رہے؟؟؟
اس کیس کا ایک اورپہلو بھی غورطلب ہے۔ سپریم کورٹ کے اتنے سارے فیصلوں کی موجود گی میں ذیلی عدالتیں پابند ہیں کہ ان کے مطابق ہی فیصلے صادر کریں۔ پھرطلاق ثلاثہ کو ایک اہم مسئلہ بناکر پیش کیا جانا، اس کیلئے آئینی بنچ تشکیل دیا جانا کیا کسی قانونی ضرورت کا تقاضا ہے یا یہ بھی کوئی سیاسی ایجنڈہ ہے جس پر ہماری سرکار بہت زورلگارہی ہے؟
شاہ بانوکیس
مناسب معلوم ہوتا ہے بطورتتمہ شاہ بانو کیس کا مختصرخلاصہ بھی پیش کردیا جائے کیونکہ بہت سے قارئین کے علم میں نہ ہوگا کہ تیس سال قبل کیا ہوا تھا؟
شاہ بانوکی شادی 1932میں اندورکے باشندہ محمداحمدخان سے ہوئی جب کہ ان کی شاہ بانو کی عمرصرف 17سال تھی۔ 14سال بعد1946 خانصاحب نے ایک اورکم عمرلڑکی سے شادی کرلی۔29سال تک شاہ بانوان کی دوسری بیوی کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتی رہیں۔اس دوران شاہ بانو سے ان کے پانچ بچے بھی ہوئے اور خانصاحب ایک بڑے وکیل بھی بن گئے۔ 1975 میں جب شاہ بانو کی عمر62سال تھی،اورشادی کو 43سال گزرچکے تھے،کسی بات پر خفاہوکر ان کو اس گھرسے نکال دیاجس میں وہ عمرکے بڑے حصے میں ان کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ وہ بچوں کے ساتھ ایک دوسرے مکان میں چلی گئیں۔ وکیل صاحب کی اس وقت آمدنی 5000روپیہ ماہانہ سے زیادہ تھی، مگربوڑھی، بیماربیوی اوراس کے چاربچوں کیلئے صرف 200روپیہ ماہانہ خرچہ دیا اوروہ بھی دوسال کے بعد بندکردیا۔ جب وہ اپنی روش پر اڑے رہے تب 1978میں شاہ بانو نے فیملی کورٹ سے استدعا کی کہ ان کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہیں۔ شوہر سے ان کے اوربچوں کے مصارف کیلئے 500روپیہ ماہانہ دلایا جائے۔ وکیل صاحب نے اس کے جواب میں6 نومبر1978کو عدالت کو لکھ بھیجا کہ وہ شاہ بانو کوتین طلاق دیتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مبلغ 3000روپیہ بمد مہراورنان ونفقہ دوران مدت عدت بھی عدالت میں جمع کرادیا اورکہہ دیا اب ان پر شاہ بانوکے بطن سے پیداہونے چاربچوں کی اوربوڑھی بیمار شاہ بانو کی کوئی ذمہ داری نہیں جو 17سال کی عمر سے 62سال کی عمرتک 45سال ان کی شریک حیات رہی۔ تاہم مجسٹریٹ نے ان کو ہدایت دی کہ وہ صرف 25روپیہ ماہانہ شاہ بانوکو ادا کردیاکریں۔ اس کے خلاف خانصاحب نے ہائی کورٹ میں اپیل کی اور ہائی کورٹ نے مجسٹریٹ کے فیصلے کو باقی رکھتے ہوئے یہ رقم 179روپیہ 20پیسہ ماہانہ کردی۔ مگران کو یہ بھی قبول نہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 125کے تحت شاہ بانوکیلئے نان ونفقہ کا حکم برقراررکھا۔ جس کے خلاف پرسنل بورڈ نے ملک گیر مہم چلائی۔اس کے نتیجہ میں نیا ایکٹ بن گیا مگربقول سید ہ مہر افشاں یہ ناسور ابھی تک رس رہا ہے۔ اگراس رقم سے جو اس مہم پر1984-85میں اورتحفظ شریعت کے نام پر حالیہ مہم کے دوران اشتہاروں اور جلسوں وغیرہ پر خرچ ہوئی ،اس سے اگرایک فنڈ قائم کر دیا جاتا تو ملک بھر کی مطلقہ بے سہارا خواتین کی کلی یا جزوی کفالت ہوجاتی اورملت اس کلفت سے محفوظ رہتی جس میں وہ آج مبتلا ہے۔ یہ مسائل ہمیں اس قدرمصروف رکھتے ہیں کہ ہم اپنی تعلیم وترقی کی ترجیحات کو بھلادیتے ہیں۔اے اللہ !ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ راستہ ان نیکوکاروں کا جن پر تیرا انعام ہوا، ان کا نہیں جن پر تیرا غضب ہوا(ختم)

No comments: