Sunday, April 2, 2017

Ayodhya Dispute: No Mosque on Either Side of Kosi-II

Makeshif Ram Mandir at the debris of Babri Masjid
(2)اجودھیا تنازعہ: مسجد کوسی کے اِس پارنہ اُس پار
( منصور آغا)
(گزشتہ سے پیوستہ )اس عقیدے کو پروان چڑھانے کا سیاسی عمل آزادی کے فوراً بعد ہی اس وقت شروع ہو گیا تھا جب 22 اور23دسمبر1948کی رات میں چبوترے) سے اٹھاکر مورتیاں مسجد کی محراب میں رکھ دی گئیں اور6دسمبر1992کو اس وقت شباب پر پہنچا جب آڈوانی جی، اشوک سنگھل اوردیگرسنگھی لیڈروں کی پکار پر لاکھوں قانون شکن اجودھیا میں جمع ہوگئے اورا ن لیڈروں کی موجودگی میں ایک قدیم عبادت گاہ کو مسمار کردیا گیا اورپھرسرکارکی نگرانی میں اس کے ملبہ پر عارضی ہی سہی، مندربنادیا گیا۔اس دوران کس کا کا کیارول رہا؟ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ جب مورتیاں رکھی گئیں تب بھی کانگریس کی سرکارتھی۔ جب تالا کھلا تب بھی، جب شیلانیاس ہوا تب اورجب مسجدگرائی گئی تب بھی سرکار کانگریس کی ہی تھی۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس کو قومی مسئلہ بنانے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی شاطرانہ چال کا سنگھ پریوار کا حربہ دراصل سیاست کے کھیل میں کانگریس کے نہلے پر دہلے کا حکم رکھتا ہے۔
لبراہن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں فاسد ہندوقوم پرستی کے فروغ میں عبوری وزیر اعظم گلزاری لال نندا کا توذکرکیا ، لیکن باقی کو چھوڑدیا۔ان میں سے کئی نام ذہن میں آج بھی تازہ ہیں۔ مثلاً جدید ذہن کے حامل وزیر اعظم راجیو گاندھی( جن کو سبرامنیم سوامی نے اصل ہندووزیراعظم قرارددیا ہے) ان کے وزیر داخلہ سردار بوٹا سنگھ اور وزیر مملکت برائے داخلی سلامتی ارون نہروجن کے ورغلانے پر مسجد کا تالا کھلواکر باضابطہ مندر میں تبدیل کرادیا اور پھر دھوم دھام سے الیکشن سے چندروزقبل شیلانیاس کرادیا اورراجیو نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی اجودھیا سے ’رام راجیہ‘ کے قیام کے وعدے کے ساتھ کیا۔
راجیو گاندھی گو کہ سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، مگر ان کو سیاست سے دلچسپی نہیں تھی۔ 1980ء میں چھوٹے بھائی سنجے گاندھی کی ہوائی حادثہ میں موت کے بعد ان کوسیاست میں لایا گیا اور صرف چار سال بعد1984ء میں محترمہ اندرا گاندھی کیقتل کے بعدوزیر اعظم بنادیا گیا۔ یہ اتفاقات سیاسی تجربہ کا بدل نہیں ہوتے۔ وہ مشیروں پرمنحصررہے۔تالا کھلوانے سے پہلے سرکاری دوردرشن پر ایک سال تک ’رامائن سیریل‘ کی نمائش ہوئی جس کی بدولت ذہنوں میں شری رام کی عظمت کے نقوش خوب نکھرگئے اس کے بعد تالا کھلوانا ، شیلانیاس کرانا اور ’رام راجیہ‘ کا بھولا بسرا سبق یاد دلانا وغیرہ روشن خیالی اورترقی پذیری کے منافی سیاسی حکمت عملی تھی جس کیلئے ان کے کوتاہ نظراورسیکولرزم سے بے خبر مشیرکم ذمہ دار نہیں تھے۔یہ سب محض اتفاقات نہیں تھے بلکہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ابھارکر ان سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی منظم کوشش تھی۔ اسی کے بعد ہندواکثریت پرستی کے تحریک کو پرلگ گئے اورآندھی میں کانگریس خودبھی بہہ گئی۔جوماحول کانگریس نے بنایا تھا آڈوانی اوروی ایچ پی نے اسے چرالیا۔
بابری مسجد کی آراضی کی ملکیت پر تنازعہ بھی نیانہیں۔ جنوری 1885میں ایک ہندومہنت رگھوبر داس نے فیض آباد کے سب جج کی عدالت میں ایک عرضی گزاری کہ مسجدجس مقام پربنی ہے وہ رام جنم بھومی ہے۔ وہاں رام مندربنانے کی اجازت دی جائے مگرجج پنڈت ہری کرشن نے اس کو خارج کردیا۔ دسمبر 1949میں مسجد میں مورتیا ں رکھ دئے جانے کے بعد دوطرفہ کیس دائر ہوئے ۔ سپریم کورٹ میں یہ انہی مقدموں کی اپیل ہے جو 69سال سے جاری ہیں، جن کوانتہائی حساس اورجذبات سے وابستہ قراردیتے ہوئے چیف جسٹس جے ایس کھہرنے 21مارچ کو مشورہ دیا ہے کہ فریقین باہمی بات چیت سے تنازعہ کو حل کرلیں اوریہ کہ وہ خود ثالثی کیلئے آمادہ ہیں۔اس تجویز پر بحث چھڑ گئی ہے۔ 
بیشک اصولی بات یہ ہے کہ عدالت کو آراضی کی ملکیت پر فیصلہ دینا چاہئے اور سرکار کو اس فیصلہ کو نافذ بھی کرنا چاہئے۔ لیکن ایسی نظیریں موجود ہیں کہ حساس معاملات میں عدالتی فیصلوں کا نفاذ نہیں ہوپاتا۔ اس تنازعہ کے باب میں یہ بات روز روشن کی طرح صاف نظرآتی ہے کی اگرفیصلہ مسلم فریق کیخلاف ہوا تو وہ تو گھربیٹھ جائیں گے لیکن اگرخلاف گیا تو پورے ملک میں قتل وغارت کا جو طوفان اٹھے سکتا ہے،وہ مابعد مسجد انہدام 1992 اورگجرات 2002سے زیادہ بھیانک ہوگا۔ ہمارے جواب بیشک اس اندیشہ کو ذہن میں رکھ کر ہونا چاہئے۔ اصول پراڑنے سے زیادہ دور اندیشانہ سیاسی حکمت عملی وقت کا تقاضا ہے۔ہمارے موقف میں یہ لحاظ رکھا جانا چاہئے کہ غیرجانب ہندستانیوں کی ہمدردی ہمیں حاصل ہو اورسپریم کورٹ میں بھی خیرسگالی پیداہو۔چیف جسٹس کی پیش کش کو پریس کانفرنس میں مستردکردینا نہایت غیرموزوں اورغیرحکیمانہ ہے۔
اس طرح کی ایک باضابطہ تجویز جون 2003میں کانچی کی شنکرآچاریہ کی طرف سے آئی تھی جس میں یہ پیش کش تھی کہ اگراجودھیا کی آراضی مندرکیلئے دان کردی جائے تومحکمہ آثار قدیمہ کے تحت بند پڑی ایک ہزار سے زیادہ مسجدوں کو نماز کیلئے کھو ل دیا جائیگا۔ مسلم نوجوانوں کوسرکاری ملازمتوں میں9؍ فیصد ریزرویشن دیدیا جائے گا۔ کاشی اور متھرا کی عبادت گاہوں پر سے مطالبہ ہٹا لیا جائے۔اس وقت یہ یقین کرنے کی وجوہات موجود تھی کہ اس پیش کش کوباجپئی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔دو صفحات پر مشتمل یہ تجاویز 21؍جون کو مسلم پرسنل بورڈ کو ملی تھیں،لیکن ان کونہ تو مسلم فریق نے قبول کیا اور نہ وی ایچ پی نے ۔( ہندستان ٹائمز ۲۲؍ جون2003)
اس وقت ماحول یہ ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی عیارانہ تائید سے’اینمی پراپرٹی ایکٹ‘ منظور ہوگیا، راجیہ سبھا میں اس کی مخالفت کرنے کے بجائے اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا اسی طرح ’رام مندر ‘ کے لئے بھی قانون پاس کرایا جاسکتا ہے۔جمع خاطررکھئے کوئی اپوزیشن پارٹی اس کی مخالفت نہیں کریگی۔ غورکیجئے کہ اس وقت کیا صورت ہوگی؟ ہمارے لئے جینا کتنا دشوار ہوگا؟
یہ بھی غورکیجئے، اگرمندربنا تو اس پر رات دن جو دولت برسے گی، وہ کن ہاتھوں میں جائے گی، اور اس کا استعمال کس مقصدکے لئے ہوگا؟اس کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے روزنامہ قومی آواز میں ایک طویل مضمون (28-27جون 2003)میں یہ عرض کیا تھا:اگرمسلم فریق شنکرآچاریہ کی تجویز کو اس شرط کے ساتھ قبول کرلے کہ مندر کی تعمیر اور انتظام حکومت اپنے ہاتھ میں لے اور وی ایچ پی کو اس سے بے دخل کیا جائے تو وی ایچ پی کو بے نقا ب کرنے اورفرقہ پرستی کے ناگ کو کچلنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ وی ایچ پی اگر اس کے باوجود خودمندرتعمیر کرنے کے اصرار پر قائم رہتی ہے توعوام کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہُ اس کا مقصد رام مندر نہیں، کچھ اور ہے۔ اگرچہ خیال یہ ہے کہ کسی سمجھوتے کیلئے تمام فریقوں کا رضامند ہونا ضروری ہے ، مگر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اصل فریق کوئی تنظیم نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ ہمارے موقف کو چاہے وی ایچ پی مسترد کردے مگروہ ان اعتدال پسند مذہبی ہندوؤں کے دل میں اتر جانی چاہئے جن کوورغلا کر فرقہ پرست عناصر طاقت حاصل کرتے ہیں۔ عوام کو شری رام سے عقیدت ہے اور ان کورام کے نام پر ایک مندر کی تعمیر میں دلچسپی ہوگئی ہے لیکن اس بات سے ہر گز نہیں کہ یہ مندر وی ایچ پی ہی تعمیر کرے۔جس طرح ہزاروں مساجد پر قبضہ مخالفانہ انگیز ہے، اسی طرح اس ایک اور مسجد کے ملبے پر بھی کر لیا جائے تو ملک کی فرقہ ورانہ فضا کو بدلنے میں بڑی مدد ملے گی۔‘‘لیکن افسوس یہ صداسنی نہیں گئی۔ اورکیوں سنی جاتی!اپنی اپنی قیادت کا مسئلہ جو ہے۔ اب وہ قائد نہیں رہے جو قوم کو ساتھ لیکر چلیں۔ اب وہ ہیں جو قو م کے جذبات بھڑکاتے ہیں اورپھرجذبات میں بہتی قوم کے آگے آگے چلتے ہیں۔
اگرآثارقدیمہ کے تحت بندہماری کوئی ایک ہزارمساجد کھل جاتیں، تو اللہ کے یہاں کسی کی پکڑ نہیں ہوتی۔ رہا اجودھیا میں بدلہ میں مسجد تو کہہ دیجئے اگراصل جگہ نہیں تو نہ کوسی کے اس پار اورنہ اس پار ہمیں مسجد نہیں درکار۔(ختم)

No comments: