Sunday, April 2, 2017

Ayodhya Dispute: No Mosque now on either side of Kosi-I

اجودھیا تنازعہ: مسجد کوسی کے اِس پارنہ اُس پار(1)
( منصور آغا)
اس حکمت الٰہی کو کیا کہا جائے کی شاہ جہاں نے دہلی میں جامع مسجد بنوائی تواسے ایسی قبولیت حاصل ہوئی کہ کیا اہل ایمان اور کیا دولت ایمان سے تہی دست، دنیا بھر سے لوگ جوق در جوق اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔کسی وقت کی نماز ایسی نہیں ہوتی کہہزاروں سر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز نظر نہ آتے ہوں۔رمضان میں درجنوں حفاظ الگ الگ جماعتوں میں قرآن سناتے ہیں۔ 1857کے بعدانگریزوں نے اس پرقبضہ کرلیا۔ اس میں گھوڑے باندھے۔ مگرافتاد ٹلی اور اس کی میناروں سے اذان کی آواز پھرگونجی ۔ آج اسے مرکزی مسجد کی حیثیت حاصل ہے۔ خدا کی شان کہ جو اس سے وابستہ ہوگیا ہے وہ بھی عزت پاتا ہے۔ جب کہ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے اجودھیا میں ایک مسجد تعمیر کرائی۔یہ مسجد بھی اپنے فن تعمیر کی وجہ سے یکتا تھی۔ شہرت اس نے بھی پائی، مگر غلط وجوہ سے۔ ہمارا یہ مقام نہیں کہ شاہ جہاں کو للٰہیت کی سند عطا کریں یا میر باقی کے اخلاص پر شک کریں، تاہم یہ سوال ضرور ہے کہدونوں کی تقدیر میں یہ تضاد کیوں؟
حضور اکرم ﷺ نے ہجرت کرکے مکہ پہنچے اورمسجد بنانے کا ارادہ فرمایا ۔جس جگہ کومسجدکیلئے پسند فرمایا، پہلے یہ معلوم کیا کہ وہ کس کی ملک ہے؟ جب اس کے نابالغ مالکان اور ان کے ورثاء نے زمین ہدیہ کرنے کی پیش کش کی تو آپ ؐنے کمال احتیاط سے کا م لیا ، ہدیہ قبول نہیں فرمالیا بلکہ مروجہ شرح سے زیادہ رقم ادا کرکے اس کو خریدا اور پھر مسجد بنوائی۔چنانچہ ہمارے لئے اس گمان کی گنجائش موجود ہے کہ اجودھیا میں ’رام کوٹ ‘ کے ٹیلے پرمسجد کی جگہ کے انتخاب میں میر باقی سے چوک ہوئی اور اس احتیاط کو پیش نظرنہیں رکھا جس کی مثال نبی کریم ؐنے قائم کردی تھی۔
گمان کیا جاسکتا ہے کہ اودھ کے گورنرپر وقتی سیاسی رعب و دبدے کی مصلحت حاوی آگئی ورنہ اس پر فوری تنازعہ کھڑانہ ہوگیا ہوتا۔بابرکی حکومت ہندستان میں 1526میں قائم ہوئی۔ مسجد 1928-29 میں بنی ۔بابرکا پوتا اکبر 1556میں گدی نشین ہوا اور اس مسجدکا قضیہ اس کی عدالت میں بھی پہنچا ۔ بادشاہ نے درمیانی راہ نکالی اور مسجد کے احاطے میں، صدردروازے متصل ایک 17 فٹ چوڑا21لمبا چپوترہ تعمیر کرا دایا جس پر رام للا، سیتا جی اور لکشمن کی مورتیاں رکھ دی گئیں جن کی باضابطہ پوجاہوتی رہی۔غالباً اسی لئے اس کو ’’مسجد جنم استھان‘‘ بھی کہاجاتا تھا(بابری مسجد: سید صباح الدین عبدالرحمٰن مرحوم)۔ یہی وہ مورتیاں تھیں جن کو دسمبر1949 میں مسجد کی محراب میں رکھ دیا گیا ۔
دسمبر1949تک یہ قضیہ مقامی نوعیت کا رہا۔ لیکن تقسیم وطن کے بعد اس کی نوعیت بدل گئی اور اس کو ہندو آستھا اور عقیدہ کا مسئلہ بنادیا گیا۔ہندوعقیدے کے مطابق شری رام وشنو کے اوتارہیں اور ’تریتا یگ ‘ میں آئے جو 12لاکھ96ہزارشمسی سال پر محیط تھا۔ اس کے بعد ’دواپر‘ یگ آیا جو آٹھ لاکھ 64ہزارسال کا تھا۔ اب کل یگ چل رہا ہے جوچارلاکھ32ہزارسال پر ختم ہوگا۔گویا رام جی کا جنم کوئی 21لاکھ سال قبل ہوا تھا۔ اگرچہ ویدوں کے نزول کا زمانہ ایک کروڑ97لاکھ سال قبل تصور کیا جاتا ہے لیکن ان کی ٹیکائیں توہردورمیں لکھی جاتی رہیں اورانمیں اس طرح مدغم ہوگئیں کہ اب الگ شناخت بھی ممکن نہیں۔ یہی حال اپنشدوں کا ہے، لیکن کسی بھی قدیم ہندوگرنتھ سے اس عقیدے کی تائید نہیں ہوتی کی رام جی کا جنم اسی مقام پرہوا تھا جہاں مسجد تھی۔ لیکن یہ بحث لاحاصل ہے۔ ہمیں تواتنا معلوم ہے کہ خودہمارے دورکی کسی ممتازشخصیت کے بارے میں متعین طریقہ یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ اس کی ولادت چارفٹ مربع کے کس مقام پرہوئی، جیسا کہ دعوا کیا جارہاہے کہ رام جی عین اس جگہ پیداہوئے تھے، جہاں مسجد کی محراب تھی، گوکہ ان کی ولادت قبل تاریخ دور کی ہے اورگاندھی جی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کوئی تاریخی ہستی نہیں تھے۔ لیکن عقیدہ تو بس عقیدہ ہوتا ہے اوراس کو پروان چڑھاکرسیاسی حربہ بنادیا گیا ہے۔ (جاری)


No comments: