Wednesday, March 1, 2017

طلاق بدعی اورنکاح حلالہ سپریم کورٹ میںTriple Talaq, Nikah Halala, Polygamy in SC.

طلاق بدعی اورنکاح حلالہ سپریم کورٹ میں
سید منصورآغا،نئی دہلی
چیف جسٹس آف آنڈیا جسٹس جے ایس کیہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی ایک تین رکنی بنچ نے منگل ، 14فروری کو یہ واضح کردیا ہے کہ طلاق بدعی (ایک مجلس میں تین طلاق) سے متعلق زیر سماعت کیس میں’ یونیفارم سول کوڈ‘زیرغورنہیں ۔ صرف ’طلاق بدعی ،‘ ’نکاح حلالہ ‘اور ’کثرت ازدواج‘ کے قانونی پہلو ہی زیرغورآئیں گے ۔اس سے یقیناًان لوگوں کو مایوسی ہوئی ہوگی جویکساں سول کوڈ کے نام پر شرپھیلاتے اورسیاست کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم مرد کا حق طلاق محدود کرنے یا اس پر عدالت کی یا کسی اورطرح کی نگرانی کا سوال بھی اس کے پیش نظر نہیں ہے۔اس کیس کی تنقیح کیلئے 30مارچ مقرر ہوئی ہے۔ سماعت پانچ رکنی آئینی بنچ کریگی جس کی تشکیل ابھی نہیں ہوئی۔ توقع ہے کہ یہ سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ہوگی۔
سپریم کورٹ کی ان وضاحتوں سے وہ تشویش دورہوجانی چاہئے جو ’تحفظ شریعت ‘تحریک سے عوام کے ذہنوں میں پیداہوگئی تھی ۔ اس تحریک کا سارازوراس گمان پرتھا کہ تیاری مسلم عائلی قانون کو ختم کرکے ’یکساں سول کوڈ‘ نافذ کرنے کی ہے۔ جس وقت اس تحریک کا اعلان ہوا، اس کالم میں اس اندیشہ کے بے اصل ہونے پر اصرار کے ساتھ ہم نے یہ لکھا تھا ’’اگرحکومت الٹی بھی لٹک جائے گی تب بھی ہندستان میں یکساں سول کوڈ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘ لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کہاں سنائی دیتی ہے؟ ہمارے اس خیال کی بنیاد ہندستانی سماج کی یہ حقیقت ہے کہ رسم رواج یہاں ہرچند میل پر بدل جاتے ہیں اوران کوعدالتیں بھی دیگرقوانین پر وزن دیتی ہیں۔ چنانچہ جمہوری ہندستان میں یہ ممکن ہی نہیں کہ’یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے۔اس لئے یہ مسئلہ محض اہل اسلام کا نہیں،تمام اقوام کا ہے۔مگر ہمارے ارباب دانش اوربینش نے اس کو بلا وجہ از خود اوڑھ لیا ہے ۔ملک گیرتحریک چلائی گئی جس میں کثیرافرادی اورخطیرمالی وسائل کام میں آئے۔ ہمیں دشمنان اسلام کے آلہ کار بن جانے کے بجائے کھل کر چیلنج کرنا چاہئے کہ’’ حکومت زرا یکساں سول کوڈ کا مسودہ تو پیش کرکے دکھائے! ‘‘ جب سارے ہندوطبقے اس کو قبول کرلیں تب رخ اقلیتوں کی طرف کیا جائے۔ 
طلاق بدعی
طلاق بدعی کے خلاف عدالتوں کے متعدد فیصلے آچکے ہیں۔قانونی حیثیت آج بھی یہی ہے کہ یہ طریقہ قابل قبول نہیں ۔اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ کئی فیصلوں میں طلاق کے باب میں قرآنی تصریحات کو سراہا گیا ہے اورانتہائی معقول تسلیم کیا گیا ہے۔ تعمیر ی بات بھی یہی ہے کہ قرآن میں مذکورطریقہ کار کو چھوڑکر طلاق بدعی کو اختیارکرنا ، اس کی تائید میں تحریک کھڑی کرنا ہرگزپسندیدہ فعل ہے۔ ’طلاق بدعی‘ روزاول سے سخت ناپسندیدہ اورمکروہ طریقہ ہے جس کا چلن نادانی میں پڑ گیا۔ ایک سروے کے مطابق ہندستانی مسلمانوں میں 525طلاقوں میں 349کیس طلاق بدعی کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن نے جو طریقہ تفصیل سے بتایا ہے اس پر عمل کرنے والوں کی تعداد طلاق بدعی کے مقابلے ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے۔جوطلاقیں جذبات کی رومیں بہہ کردی جاتی ہیں ان میں سے اکثرطلاق کی شرعی شرطوں کو بھی پورا نہیں کرتیں۔ ہم حامل قرآن ہیں اور ہماری تشویش کا موضوع یہ ہونا چاہئے کہ عمل قرآنی طریقہ پرہو۔ البتہ اگر کوئی مجبوری لاحق ہوگئی اورکسی نے مکروہ اورمذموم طریقہ اختیارکرلیا ہے تواس کیلئے ملامت کے ساتھ رخصت ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹ گیا ہے۔ سوچئے اس مسئلہ پر جو تحریک اٹھی اس سے حوصلہ افزائی کس طرح کی ذہنیت کی ہورہی ہے؟ کیا یہ بات ہمارے لئے باعث ندامت نہیں کہ قرانی طریقہ کو مقدم رکھنے کے تلقین کے بجائے ،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مذموم طریقہ بے روک وٹوک جاری رہے؟
نکاح حلالہ
طلاق بدعی کی لعنت کے بطن سے ہی ’نکاح حلالہ‘ کے مکروہ طریقے نے جنم لیا۔جب کوئی شخص نادانی میں ایک سانس میں تین طلاق دیدیتا ہے اورکچھ عرصہ بعد پچتاتا ہے اورمفتی صاحب سے بیوی کی واپسی کی ترکیب پوچھتا ہے تو وہ بتادیتے ہیں کہ دوسرے مرد سے نکاح اورہم بستری ہوجائے، اورپھر وہ طلاق دیدے تو بیوی واپس ہوسکتی ہے۔ایک پاکیزہ نفس خاتون کے لئے یہ کتنی بڑی اذیت ہے؟ عورت عورت نہ ہوئی ایک زندہ لاش ہوگئی کہ آج اس کے بستر پر کل اس کے بستر پر۔یہ نکاح تومصنوعی نکاح ہوا۔ اس طرح کا نکاح اوراگلی صبح طلاق کی کراہیت ناقابل بیان ہے۔افسوس کہ اس کج فکری کو شریعت کی منشا قراردے دیاگیا ہے حالانکہ شریعت کی واضح منشاء یہ ہے کہ اگرکسی خاتون کو طلاق ہوگئی، اس نے کسی دوسری جگہ نکاح کرلیا اوراتفاق سے اس کی وہاں بھی گزر نہیں ہوئی، طلاق ہوگئی ،یابیوہ ہوگئی تو اس کیلئے یہ گنجائش ہے کہ سابق شوہر سے پھر نکاح کرلے۔ اس رخصت کو جس طرح حیلہ بناکر نکاح حلالہ تجویزکیا جاتا وہ بے غیرتی نہیں تواورکیا ہے؟ اس بے غیرتی کے موئد کیا ہیں؟ آپ سمجھیں۔ 
کثرت ازدواج
ایسی ہی لاپرواہی نکاح ثانی کے معاملوں میں ہوتی ہے۔ قرآن نے جہاں چارتک نکاح کی حدمقرر کی ہے وہاں تمام بیویوں کے ساتھ عدل و انصا ف اوریکساں سلوک کی ہدایت بھی دی ہے۔ اور یہ بھی فرمادیا ہے کہ اگرتم سب کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو بہتر ہے کہ اکتفاایک پر ہی کرو۔(سورہ نساء: 2) لیکن ہمارے معاشرے میں اکثرنکاح ثانی کرنے والے قرآن کی اس کھلی ہدایت کو توجہ نہیں دیتے۔ ہم جب غیروں سے زورکے ساتھ کہتے ہیں کہ ہماری شریعت نے مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی ہے توہماری یہ ذمہ داری بھی ہے اس سے زیادہ زورسے ہم اپنوں کو خبردارکریں کہ کسی بیوی کے حق تلفی نہ ہونے پائے، کسی کو بیجاتکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ اللہ کی پکڑ سے ڈرو۔
دعائے خیر:
اگرآپ ’تحفظ شریعت‘ کا نام لے کر طلاق بدعی، نکاح حلالہ اورکثرت ازدواج کی مروجہ شکل کی وکالت کرتے ہیں تو ہم بس دعائے خیر ہی کرسکتے ہیں۔لیکن یاد رہے وہ دن دورنہیں جب اس عدالت میں حاضری ہوگی جس میں فیصلہ ظاہر پر نہیں، باطن پرہوگا۔جس کی ذات سے زرا بھی شرپھیلا ہوگا اس کی دین پسندی کے وہ لبادے کچھ کام نہ آئیں گے جن سے عوام کومرعوب کیا جاتا ہے۔ اسلام صرف ظاہرداری کا نام نہیں، باطن کی اصلاح اول ہے، جس کی راہ بیشمار صاحب علم وفضل متقی صوفیا ئے کرام اور علمائے عظام نے دکھائی ہے۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے اورصراط مستقیم کی ہدایت دے۔

No comments: