Wednesday, March 29, 2017

ذکرحضرت امیر خسروکا اور قصہ گوئی ساحل آغا کی MUZAFFAR ALI's Jehan e Khusro :Joy of oneness

ذکرحضرت امیر خسروکا اور قصہ گوئی ساحل آغا کی

سید منصورآغا
ملک کے موجودہ ماحول میں یکتائے روزگار صوفی بزرگ ابوالحسن یمین الدولہ حضرت امیر خسروؒ کا تذکرہ معنویت وافادیت سے خالی نہیں۔حال ہی میں الہندایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ‘ کے تعاون سے ان پرایک وقیع سیمنار کرایا جس کے مقالوں کو برادرم یوسف رامپوری نے سلیقہ سے مرتب کیا ،پرمغز مقدمہ لکھا اور مفتی افروزعالم قاسمی نے ان کوشائع کرادیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ وقیع جناب مظفرعلی کاوہ تین روزہ پروگرام ہے جو’جہان خسرو۔سرورِیکتائی‘کے عنوان سے ہمایوں مقبرے سے متصل عرب کی سرائے میں منعقد ہوا۔ پرتکلف بندوبست اورجمالیاتی حسن سے شرابور یہ جشن، جس کا مرکزی نکتہ شرف انسانیت کی بازیابی ہے، کس قدرمقبول ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ تینوں دن وسیع نشست گاہ شائقین سے کھچاکچھ بھری رہی۔جن کوجگہ نہ ملی وہ گھنٹوں کھڑے سنتے رہے جب کہ ہزاروں کو داخلہ نہ مل سکا۔بزم رومی کے تحت یہ پروگرام مظفرعلی صاحب گزشتہ 13سال سے کررہے ہیں۔استاد اقبال احمدخان،دلیرمہندی، پہلے دن انل چوینگ درولما(نیپال)، ویونامیوزک انسمبل (ایران)، مالنی اوستھی (لکھنؤ) نے صوفیانہ کلام پیش کیا۔ دوسرے دن دہلی گھرانے کے استاد اقبال احمدخان نے اپنے مخصوص کلاسیکی انداز میں شائقین کو مسحورکیا۔ اسی دن سمیتابیلور (بنگلور) اورہنس راج ہنس (پنجاب ) نے بھی پنجابی اوراردو میں صوفیانہ موسیقی پیش کی۔ آخری دن دنیش سہگل، شیریا گھوشال اوردلیر مہندی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ 
تین دن کے موسیقی ریزاس پروگرام کے درمیان حضرت امیر خسروؒ کی پرکشش شخصیت، ان کے جذبہ خدمت حلق، انسانیت نوازنظریہ تصوف اور ان کے کلام کے جمالیاتی وافادی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے جب نوجوان قصّہ گوسیدساحل آغا نے شستہ اردو نثرمیں ’قصہ امیر خسروکا‘پیش کیا اوران کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا تواشراف دہلی کا یہ مجمع، جس میں غالب اکثریت غیرمسلم تھی، جھوم جھوم اٹھا۔ساحل کا انداز بیاں کیا تھا، بقول غالبؔ 
ہیں اوربھی دنیا میں سخنوربہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب ؔ کا انداز بیاں اور
چنانچہ ان کواصرارکرکے مکرراسٹیج پر بلایا گیا۔اس کمال میں کچھ حصہ فنکار کی اپنی محنت ،لگن اورفطری صلاحیت کا بیشک ہے لیکن دراصل یہ نشانی اس بات کی ہے کہ بولی وہ بولی جائے جو امیر خسرونے بولی، جس میں کسی کیلئے غیریت و اجنبیت نہ تھی بلکہ ہرکسی کیلئے توجہ وانسیت تھی، توزمانہ کو آج بھی اسے سننے ، سمجھنے اوردل کی گہرائیوں سے اس کی پذیرائی میں گریز نہیں ۔ ہم کسی کوکیادوش دیں:
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے
شاید ساحل کی توجہ اس طرف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالب علمی کے دورمیں گئی جہاں پروفیسر اخترالواسع کی شفقتیں ان کوحاصل رہیں،جن کا نقطہ نظرصوفیا کی فکر سے اخذ ہے۔امید کہ ساحل دیانتداری سے یہ سلسلہ سخن جاری رکھیں گے اوردنیا کو دلداری اوردلسوزی کا وہ پیغام دیتے رہیں گے جو حضرت امیر خسرو،ان کے پیر حضرت نظام الدین اولیاؒ اوراس سلسلہ کے دیگربرزگوں نے دیا ہے۔ ہم نے تصوف کو یہ جانا کہ وہ دنیا سے بے رغبتی کا نام ہے۔لیکن شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں: 
مراد اہل طریقت لباس ظاہر نیست
کمربخدمت سلطان بند وصوفی باش
’ظاہری لباس طریقت کا مقصود نہیں۔ سلطان (قوم) کی خدمت پر کمرباندھ اورپھر صوفی ہو۔‘ یہی امیر خسرو کا مشرب تھا اور یہی وہ فلسفہ ہے ہندومقدس کتابوں میں ’راج دھرم‘کہلاتا ہے۔ انسان اپنے سماجی، قومی اورگھریلوذمہ داری دیانتداری کے اداکرے، لقمہ حلال کے سوا پیٹ میں کچھ نہ جائے اوراللہ سے لولگی رہی، یہی سچا تصوف ہے۔مظفرعلی صاحب اس پیغام کو اس دورمیں عام کررہے ہیں۔ یہ بڑی بات ہے۔ مگرایک جشن سال میں ایک بار ہی کیوں ہو؟باربارہو، ملک کے گوشے گوشے میں ہو اوراس کی صدا بھی چہاردانگ گونجے۔ (ختم)

2 comments:

pv said...

Who is the person in the photo used?

dastangoi india the classic art of storytelling said...

Dastangoi artist syed sahil agha