Sunday, March 26, 2017

Minority Status of Muslims is not a new phenomenon - by Dr. Zafarul Islam Khan. مسلمان اور مسئلۂ اقلیت


مسلمان اور مسئلۂ اقلیت
ڈاکٹر ظفرالاسلام خان
مسلمانوں کا بحیثیت اقلیت ہوناکوئی عجیب بات نہیں ہے بلکہ تاریخ میں یہ ایک عمومی کیفیت رہی ہے۔مکہ میں ۱۳سال  مسلمان اقلیت تھے ، حبشہ میں سالوں اقلیت رہے اور مدینہ منورہ میں بھی حضورپاک ﷺ کے باتھوں فتح مکہ سے قبل مسلمان اقلیت میں ہی تھے حالانکہ حکمت کے ذریعے حضور پاکﷺ نے مسلمانوں کی سیادت مدینہ میں دستور مدینہ کے ذریعے قائم کردی تھی۔اسی طرح  اسلامی حکومت کے ختم ہونے کے بعد بھی  اندلس اور صقلیہ میں  مسلمان لمبے عرصے تک اقلیت میں رہے۔ بعد کی صدیوں میں مسلمانوں کا اقلیت کی صورت میں رہنا ایک عام بات ہوگئی اور اسی‌وجہ سے  چین ، روس ، مشرقی یوروپ اور بر صغیروغیرہ میں بڑی مسلم اقلیتیں وجود میں آئیں۔ اقلیت میں رہنے والا اتنا ہی مکمل مسلمان ہے جتنا اکثریت میں رہنے والا ، بالکل اسی طرح جس طرح مکہ کے مسلمان اتنے ہی مکمل  مومن تھے جتنے مدینہ کے مسلمان۔

اسلام سے پہلے بھی عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی  بحیثیت اقلیت مختلف ممالک میں رہنا تاریخ کے صفحات پر واضح ہے۔حضرت یوسف نے نہ صرف بحیثیت اقلیت مصر میں رہنا قبول کیا بلکہ بادشاہِ وقت ،یعنی فرعون ، سے وزیر رسدیا وزیر خرانہ کا عہدہ بھی طلب کیا اور اسے بہت عمدہ طریقے سے نبھایا۔ آج بھی مسلمان دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں میں بحیثیت اقلیت رہ رہے ہیں جبکہ ۵۸ملکوں میں وہ اکثریت ہیں۔ خود ہمارے ملک ہندوستان  میں دنیا کی سب سے بڑی  مسلم اقلیت رہتی ہے۔

اسلامی حکومتوں میں مذہبی اقلیتوں یعنی اہل ذمہ کے حقوق محفوظ تھے بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کے لئے حضورپاک ﷺنے شدید تاکید کی تھی۔ یہ سلسلہ اموی، عباسی، فاطمی خلافتوں اور بعد کی اسلامی سلطنتوں میں جاری رہا۔ سلطنت عثمانیہ میں آخر تک ’’ملت سسٹم‘‘ جاری تھا جس کے تحت مذہبی اقلیتوں کو مذہبی خود مختاری حاصل تھی۔

عصر حاضر سے پہلےیوروپین ممالک میں  یہودی اور مسلم اقلیتوں کے ساتھ عمدہ سلوک نہیں ہوتا تھا لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں روسی شہنشاہیت اور سلطنت عثمانیہ کے بکھراؤ کے بعد لیگ آف نیشنز پھر یونائٹیڈ نیشنز آرگنائزیشن (تنظیم اقوام متحدہ )کے تحت‌بین الاقوامی قوانین بنے اور متعدد بین الاقوامی معاہدے ہوئے جن  کے تحت  اقلیتوں کو واضح طورپر حقوق دئے گئے، ان کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا اور اب بالعموم تمام ملکوں میں دینی، ثقافتی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ کم از کم قانون کی سطح پر عمدہ سلوک ہوتا ہے۔

سنہ ۱۹۹۲میں اقوام متحدہ نے ایک تاریخی اعلانیہ جاری کر کےاقلیتوں کے حقوق کی تحدید کی۔ اس اعلانیہ  کا نام ہے :
UN Declaration on the Rights of Persons belonging to National or Ethnic, Religious or Linguistic Minorities.
پھر سنہ ۱۹۹۸میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد پاس کرکے حکومتی اور غیر حکومتی ایجنسیوں کے اقلیتوں کے تئیں فرائض کو طے کیا۔اس کے علاوہ شہری ہونے کے ناطے اقلیتوں کو دوسرے مختلف عمومی  بین الاقوامی اعلانیوں کا بھی فائدہ ملتا ہے، مثلا :
- UN Charter, 1945
- Universal Declaration of Human Rights, 1948
- International Covenant of Economic, Cultural and Social Rights, 1966
- Convention on the Elimination of All Forms of Racial Discrimination, 1965
- Declaration on the Elimination of All Forms of Intolerance and Discrimination based on Religion or Belief, 1981
- Declaration & Programme of Action adopted by the World Conference on Human Rights, Vienna, 1993

مغربی ممالک میں اقلیتی حقوق  Minority Rights کے بارے میں پچھلے چند دہو ں میں کافی تحقیقی کام  ہوا ہے اگرچہ ہمارا ملک اس معاملے میں پیچھے ہے۔لندن میں ایک تحقیقی  ادارہ Minority Rights Group اسی مقصد سے ۱۹۶۸  سے قائم ہے۔

 ہمارے دستور نے تمام اقلیتوں کو اپنے دین، کلچر  اور شناخت برقرار رکھنے کے لئے واضح حقوق دئے ہیں (مثلاً  آرٹیکل ۲۵بنیادی حقوق کا تعین کرتا ہے اور آرٹیکل ۳۰ اقلیتی تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے)۔ہمارا فرض ہے کہ حکومتوں اور سرکاری اداروں کو عوامی دباؤ اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے مجبور کریں کہ وہ دستورکی متعلقہ دفعات پرعمل کریں اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری بھی کریں کیونکہ حکومت ہند نے ان پر دستخط کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی معاہدے قومی قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں۔

بین الا قوامی سماج نے بڑی حد تک اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے لیکن وہ ابھی  تک صہیونیت ا ور ہندوستان کے ظالم طبقاتی نظام کے بارے میں واضح رائے نہیں بنا سکا ہے  جس کے تحت فلسطین کے عربوں اور ہندوستان کے دلتوں اور اد یوا سیوں کے ساتھ برا سلوک کیاجاتا ہے۔ ہندوتوا بھی اسی دائرے میں آتا  ہے کیو نکہ وہ ایک ہی ملک کے شہریوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔ ہندتوا کے بارے میں ہماری سپریم کورٹ نے اگرچہ غلط تاویل کرکے اسے کلچرکا نام دیا تھا لیکن ایک حالیہ فیصلے نے اس فیصلے کو ایک حد تک کالعدم قرار دے  دیا ہے۔ ہندتوا کی حقیقت کو اجاگر کرنے کے لئے بڑی قانونی اور سیاسی لڑائی لڑنی  ہوگی ورنہ اس کی وجہ سے اس ملک میں ہمارے اقلیتی حقوق ختم ہو جائیں گے۔ پچھلے دنوں آر ا یس ا یس  کے ایک بڑے  ذمےدار نے کہا ہے کہ  اگر مسلمان اپنے پرسنل لا پرعمل  کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ووٹ دینے کے حقوق سے محروم ہونا ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں شریعت پر عمل کرنے کے لئے مسلمانوں کو اپنے سیاسی حقوق سے دستبردار ہونا ہوگا ۔  

عالمگیریت (عولمۃ یا  globalisation) ایک نئی روایت ہے جو پچھلے چند دہو ں سے شرو ع ہوئی  ہے اور اس کی وجہ سے نہ صرف سامان ا ور افکار بلکہ انسان بھی بڑی تیزی سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو  رہے ہیں۔ آج کے دور میں ہماری دار الحرب ،دار الکفر اور دار الاسلام کی پرانی اصطلاحات اپنے معنی کھو چکی ہیں۔آج  اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ کے حقوق کا تحفظ ،دین پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا موقعہ آپ کو ایک غیر مسلم ملک میں ملے اور خود اپنے’’مسلم ‘‘ ملک میں نہ ملے ۔غیر مسلم بالخصوص مغربی ممالک میں بالعموم قانون کی با لا  دستی ہے جبکہ  ہمارے مسلم ممالک میں قانون کے بجائے بالعموم حاکم یا حکومت کی بالادستی ہے۔

آخر میں ایک بات:  اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ضرور بات کریں لیکن کچھ وقت اقلیتوں کے واجبات پر بھی غور کرنے کے لئے صرف کریں کہ  کس طرح ایک اقلیت کسی ملک رہے کہ اس کو بوجھ اور مسئلہ نہ سمجھا جا ئے بلکہ  کس طرح وہ ملک کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی میں اتنے  اچھے طریقہ سے حصّہ لے کہ  اس کے وجود کو نعمت سمجھا جائے۔ کیا مسلم اقلیتوں کا وجود  غیر مسلم ممالک میں ایسا ہی ہے؟ 

اوائل اسلام میں ہمیں کسی مسلم اقلیت کے اپنے ملک کی حکومت اور فوج پر حملے کی مثال نہیں ملتی ہے۔لیکن پچھلے چند دہوںمیں بعض مسلم اقلیتوں نے اپنے ملک کی حکومت اور فوج کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہے جیسے فیلیپینز اور تھائی لینڈ میں، لیکن اس کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کوآج تک  گھاٹے کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ پچھلے دنوں برما میں روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف فوج کے حملے شروع ہوئے ہیں جس کی وجہ وہاں روہنگیا کے  ایک مسلح گروپ کے فوج پر حملے ہیں  اور نتیجۃ ً  اب روہنگیا مسلمانوں کو القاعدہ اور داعش سے جوڑا جارہا ہے ۔ یہ ایک بڑی نادانی تھی جس کی وجہ سے فوج کے روہنگیا علاقوں پر حملے شروع ہوئے اور کم از کم ۶۰ہزار روہنگیااپنے ملک کو چھوڑ کر بنگلا دیش بھاگنے پر مجبور ہوگئے جبکہ اتنی ہی تعداد  میں خود برما  کے اندر روہنگیا  پناہ گزیں بنے پر مجبور ہوئے ۔ خود ہمارے اپنے ملک میں ہمارے بعض جوشیلے کشمیری بھائیوں نے پچھلے تین دہوں میں بندوق اٹھاکر  تباہی اور گھاٹے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کیا۔اگر وہ سیاسی جدوجہد کرتے تو شائد ان کو بہت فائدہ ملتا۔چند عبث گولیاں چلاکر ہم پولیس اورفوج کو اپنے شہریوں اور علاقوں پر حملے کرنے کا لامحدود جوازفراہم کردیتے ہیں۔ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے اور یہ ایک فطری قانون ہے۔اس لئے ہم کو کوئی عمل کرنے سے پہلے اس کے عواقب پر بھی خوب غور کرلینا چاہئے۔
(ختم)

No comments: