Saturday, January 7, 2017

Tributes to Saiyid Hamid on His Second Death Anniversary

سید حامد کی دوسری برسی پر خاص
’’میں تجھ کو بتاتاہوں، تقدیرامم کیا ہے‘‘
سید منصورآغا،نئی دہلی
لیجئے مروجہ کلنڈر کا ایک سال اورپورا ہوا۔ چندروز میں سنہ 2016تاریخ کا حصہ بن جائیگا اورنیا سنہ عیسوی 2017 شروع ہوجائیگا۔ جو سال گزرہا
ہے، میڈیا میں اس کے جائزے آرہے ہیں اور خال خال آئندہ سال کے امکانات بھی۔ لیکن کیا ان جائزوں سے ہماری ذات کا، ہماری ملت اورقوم کا کچھ بھلا ہوگا؟ شایدنہیں۔ہمیں خود اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ گزرے سال کے 365 دنوں میں جو 8760 گھنٹوں کا بیش بہا عطیہ بغیرمحنت اورطلب ہمیں ملا تھا، اس کو ہم نے کن کاموں میں گزارا؟امحترم سید حامد کی بات یاد آتی ہے۔ ’’نظام قدرت یہ ہے کہ علم اوردولت سب کو برابربرابر نہیں ملتے۔ لیکن وقت سب کو برابربرابرملتا ہے۔ حالات کی بہتری اورکم تری کا دارومداربہت کچھ اس پر ہے کہ اپنے وقت کو ہم نے کس کام میں لگایا۔‘‘ 
اب اگر گزشتہ سال فضول کاموں اور کاہلی میں گزراتو اس کا منطقی تقاضا ہے کہ آئندہ کے لئے خبردارہوجائیں اورپختہ عزم کے ساتھ مفیدلائحہ عمل بناکر اس پرقدم بڑھائیں۔بلکہ کہنا چاہئے کہ زیادہ مستعدی دکھائیں تاکہ گذشتہ کوتاہی کی کچھ تلافی ہوجائے اور جو مہلت ملی ہے اس کا حق ادا ہو جائے۔ اللہ کا ذکر و فکرتواول ہے کہ س سے ایمان میں تازگی اورارادوں میں پختگی آتی ہے، لیکن یہ نہیں بھول جانا چاہئے کہ اللہ نے جو فطری صلاحیتیں ذہنی و جسمانی عطاکی ہیں ان کا ہرایک سے اس کے ظرف و شعور کے مطابق سوال ہوگا۔ مراسم عبادت اور ریاضت کے ساتھ اللہ کا فضل بھی تلاش کیجئے جیسا کہ سورۃ جمعہ میں حکم دیا گیا ہے۔علم بھی اللہ کا بڑافضل ہے، جس کوامام یوسفؒ نے روکھی سوکھی کھاکراوربھوکا رہ کر بھی حاصل کیا۔وقت کا درست استعمال ہردوجہاں کی دولتوں کا ضامن ہے۔ایک بڑی ذمہ داری ہماری یہ بھی ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ مٹرگشتی میں وقت گزاری کے بجائے ا ن میں بھی صالح محنت کی عادت پڑے۔
ساتویں صدی ہجری کے ایک صوفی برزگ شیخ ابوبکرطوسی حیدریؒ (جن کا آستانہ،معروف بہ’ مٹکے والی درگاہ‘ دہلی میں پرگتی میدان کے نکڑ پرہے) کے سوانح نگار علامہ سید اخلاق حسین دہلوی ؒ نے ان کا ایک قول نقل کیا ہے، آپ بھی سن لیجئے: ’’انسان کیسا ہی گھامڑ سے گھامڑ کیوں نہ ہو، اگر ملاقاتوں کوزیادہ شوق نہیں اورکسی کام میں لگارہے تو کچھ نہ کچھ ضرورکر گزریگا۔‘‘ اس قولِ حکمت کا لب لباب یہی ہے وقت کو ضائع نہ کرو اورپوری دلجمعی کے ساتھ کسی اچھے کام میں لگے رہو،اس کا اچھا نتیجہ نکلے گا، چاہے وہ کم ہو ا زیادہ۔غورکیجئے ہماراکتنا وقت ملنے ملانے اور غیر ضروری باتوں میں چلا جاتا ہے۔ سماجی روابط بیشک اہم ہیں، لیکن اعتدال لازم ہے۔
وقت ضائع کرنے کے علاوہ ایک مسئلہ کاہلی کا بھی ہے۔سرسیداحمدخان کے ایک رفیق کار، سید مہدی علی، جو اٹاوہ میں پیدا ہوئے اورنواب محسن الملک کے نام سے مشہور ہوئے ، انگریزی دور میں سول سروس کا امتحان ٹاپ کیا، ’’آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس ‘‘کے دسویں سالانہ جلسے کے صدارتی خطبہ میں کہتے ہیں: ’’اے حضرات! ہم جویہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری کوششوں میں کامیابی نہیں ہوتی ،غلط ہے۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ درحقیقت ہم کچھ کوشش ہی نہیں کرتے۔۔۔ اول تو کاہلی ہم کو کچھ کام ہی نہیں کرنے دیتی اوراگر کرتے ہیں تو اس پر ثابت قدم نہیں رہتے۔۔۔ اوریہی بیماری ہے جو ہم مسلمانوں میں وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے اورجس کانام کاہلی ہے۔۔۔ اوراس کاہلی پر بوالہوسی اور خیال کی بلند پروازی مزاجوں میں اس قدر ہے کہ جو کام ہم کرسکتے ہیں ،اسے تو کرتے نہیں۔ بلکہ ہمیشہ کسی بڑی چیز کا خیال قائم کرتے ہیں اور اپنے ذہن میں بڑا بلند نمونہ ٹھہرالیتے ہیں۔ ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنے کو منتہائے خیال بنارکھا ہے اورزمین پر دوقدم چلنے کاارادہ تک نہیں کرتے۔۔۔ سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ ہم سے ہوسکے، اسے کریں۔ بڑے کاموں کے انتظار میں نہ بیٹھے رہیں اور بڑ ے کام کی ہوس میں چھوٹے کام کرنے سے بھی باز نہ رہیں۔۔۔ جو کچھ ہم سے بن پڑے اسے کرنا چاہئے تاکہ ہمارا جوش بیکار نہ جائے۔‘‘
لب لباب یہ کہ ہم ادھرادھر ٹامک ٹیاں کرنے کے بجائے اپنے حالات پر نظرکریں اورزبانی نہیں عملاً اصلاح کی فکرکریں۔مجھے معذرت کے ساتھ یہ عرض کرناہے کہ گزشتہ تقریباً 160 سال سے ہماری دلچسپیوں کا محوربے پیندے کی سیاست اورمحاذآرائی رہاہے۔دورغلامی میں انگریز کے خلاف محاذ کھلا رہا ۔جائز تھا۔ لیکن نئے ماحول میں وہی حال ! حقیقت پسندی اورحکمت کے بغیر۔ جذباتی محاذآرائی سے سینہ توپھول جاتا ہے مگرملتا کچھ نہیں۔ ان پٹخنیوں کے باوجود ہم نے اس حقیقت کوبھلا رکھا ہے کہ مسلم حکمرانوں کی جمی جمائی عسکری طاقت اگرچہ سامراجی طاقتوں سے کئی گنا زیادہ تھی، لیکن ہم مغلوب اوروہ فاتح کیوں بن گئے؟ سلطنت عثمانیہ کیوں شکست کھاگئی؟ ہمارے گردنو ں میں طوق غلامی کیسے آ گیا؟ اس غلامی سے نجات کی جوتدابیراختیار کی گئیں وہ الٹی کیوں پڑیں؟بیشک ہم اپنے مجاہدین آزادی کو داد شجاعت دیتے ہیں جنہوں نے بے لوث جذبہ سے قربانیاں دیں۔ لیکن ہمیں اس گستاخانہ سوال کا جواب بھی چاہئے کہ ان عظیم قربانیوں سے آخرحاصل کیا ہوا؟ نتیجہ کیا نکلا؟ سوچنا چاہئے کہ تدبیر میں کیا غلطی ہوئی؟ 
کیا ایسا تو نہیں ہوا کہ اس شکست کے اسباب کو زیرکئے بغیر ہم سائنس اورٹکنالوجی کے جدیداسلحہ سے لیس دشمن کے مقابلے کند اور فرسودہ اسلحہ لے کرنکل کھڑے ہوئے؟ یادکیجئے اسلام کے صدر اول میں ہم نے جو علمی فتوحات حاصل کی تھیں، باقی ساری فتوحات بھی ان کے جلو میں حاصل ہوئیں۔ جس زمانے میں یوروپ توہمات اورجہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، علم کی شمعیں روشن کرکے دنیا کو راہ ہم نے دکھائی۔ لیکن ایک زمانہ وہ آیا کہ ہم نے پسپائی اختیار کرلی۔جو نظریہ ہم لے کر اٹھے تھے، جس کی تابناکی سے دنیا کی نگاہیں خیرہ ہوگئی تھیں، اب ہم اس کو خودساختہ حصاروں میں بند کرکے بیٹھ گئے۔ پیش قدمی ترک کردی، پسپائی اختیارکرلی۔ دماغ سوزی کے دروازے خود پر بند کرلئے اورعلمی فتوحات سے کنارہ کرلیا۔لے دے کر فقہی اور تفسیری موشگافیاں، ماضی کی تلخیوں کے تذکرے اور شعر و شاعری علمی مشغلے قرارپائے۔اہل ثروت اورصاحب اختیار طبقہ کا وقت عیش وطرب کی محفلوں اور مجروں میں گزرنے لگا۔ غنیمت یہ رہا کہ مساجد اورمدارس کی بدولت کلام اللہ سے ناطہ نہیں ٹوٹا، چاہے بے سمجھے ہی رٹا اورپڑھا ہو مگر حقانیت پر ایمان رہا۔اس تعلق کے باوجود چوک ہوئی۔ ایک دانشورنے لکھا ہے،’جس طرح قرآن پاک رب کائنات کا قول ہے ، اسی طرح یہ کائنات، اس کی قدرت کے عملی مظہرہے۔ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ اللہ کے قول میں تفکر تو عبادت قرارپائے اوراس عملی کے نمونوں پر غور وفکراورجستجو گمراہی ؟ ‘
بیشک ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ ترجمہ بھی پڑھ لیتے ہیں ۔ لیکن ان سینکڑوں مقامات سے ہونقوں کی طرح گزرجاتے ہیں جن میں اللہ نے مظاہر قدرت میں غوروفکرکی تلقین کی ہے۔اس کا کوئی نظم نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ جس دورمیں اہل مغرب ہمارے ہی حکماء کی کتابوں سے علم اخذ کرکے سائنس اور ٹکنالوجی میں ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، ہمارے خواص محنت کشوں کا خون کشید کرکے بے فکری کی زندگی گزاررہے تھے۔ بیشک خیروخیرات کا غلغلہ تھااورنگزیبؒ کی مثال موجود تھی، مگر نوابوں، زمیداروں اور ان کے کارندوں میں کتنے اس مثال کانمونہ بنے؟پھروہی اشراف قرارپائے جو خود محنت کے بجائے دوسروں کی کمائی پر عیش کرتے تھے اورمحنت کش ارذال ہوگئے۔ یہ ذینیت آج بھی پیروں کی بیڑی بنی ہوئی ہے۔
بات لمبی ہوگئی۔قصہ مختصرکامیابی کی راہ وہی ہے جس پر اسلامی دورکی ابتدائی صدیوں پرعمل ہوا۔ اللہ کے فضل سے 1850کی دہائی میں ایک دیدہ ور نے اس نکتہ کو سمجھا کہ باختیاری کی راہ جنگ وجدال میں نہیں بلکہتمام فتوحات علمی فتوحات کی مرہون منت ہیں۔ اس دیدہ ور نے جو سرسیداحمدخان کے نام سے معروف ہوا، جو تعلیمی مہم چھیڑی اگرچہ تقسیم وطن سے اس کو سخت دھکا پہنچا لیکن اس کے ثمرات پوری دنیا میں نظرآتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں ہم پھر سنبھلے ہیں۔ ملک بھرمیں جدید تعلیم گاہوں کا قیام دراصل اسی تحریک کا ثمرہ ہے۔ دسمبر2014میں اوراس سال اپریل میں راقم الحروف کو جنوبی ہند کے درجنوں تعلیمی اداروں میں حاضری اورخطاب کا موقع ملا۔ یہ دیکھ کرجی خوش ہوا کہ پاک صاف ماحول میں اخلاقی اقدار کے تحفظ کے ساتھ طلباء وطالبات جدید علوم میں کامیابی کی منزلیں طے کررہے ہیں۔ ادھرشمالی ہند میں بھی کوششیں ہورہی ہیں۔ ان میں بڑااثر اس تحریک کاہے جس کا غلغلہ گزشتہ صدی کی آخری چوتھائی اوراس صدی کی پہلی دہائی میں جناب سید حامد کی سربراہی میں اٹھا۔ میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہم اپنے لئے کوئی لائحہ عمل طے کرکے اس پر جم جائیں۔ جب آپ اس پرغورکرنے بیٹھیں تویہ ضرور سمجھ لیجئے کہ صدراول میں اسلامی فتوحات کا سہرا بھی علمی فتوحات کے سر ہے اوراب بھی ملت کی بااختیاری کا راستہ حصول علم میں جدوجہد کے سوا کچھ نہیں۔ علامہ اقبالؔ نے کہا تھا:
میں تجھ کو بتاتا ہوں، تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر
اس دورکی شمشیروسناں نیزہ اورتلوار، توپ اوربندوق نہیں، سائنس اورٹکنالوجی ہیں جن کے بل پر مغرب نے پوری دنیا کو زیرکررکھا ہے۔آج ہرشخص موبائل اورنیٹ کا غلام ہے، گویا امریکا اوریہودی ذہن کا غلام ہے۔ اس کے برخلاف آج بھی ہماری مصروفیات ہمہ وقت طرب ونغمہ میں ڈوبے رہنا ہے جو امتوں کی تقدیر کا نکتہ زوال ہے۔
آج یہ موضوع اس لئے چھیڑا کہ 29دسمبرکوتعلیمی تحریک کی اہم ہستی جناب سید حامد، سابق وی سی اے ایم یو ،کی دوسری برسی ہے۔ اس مناسبت سے یہ چندسطور اس دیدہ ور کو بطورنذرانہ عقیدت پیش ہیں۔ لیکن بڑاحق تواس ہادی کامل، محسن اعظم کا ہے جواسی ماہ کے دوران دنیا میں تشریف لائے اورعالم انسانیت کوسچے علم کی راہ دکھائی۔ جناب حفیظؔ میرٹھی سے مستعار یہ شعربطورنذرانہ پیش ہے:
اجازت ہو تو شاہاؐ پیش کر دوں
میرے پہلو میں ہے ٹوٹا ہوا دل 
Published in several dailies on 4-5 Jamuary

No comments: