Saturday, January 7, 2017

The vision of the men on the Fringe: After Fifty Days of Demonetization:

نوٹ بندی: پچاس دن پورے ہونے پرمعمولی آدمی کا نظریہ
یہ صنم بے وفا نہیں !!
سید ہ مہرافشاں، نئی دہلی
یہ کوئی فلمی مکھڑا نہیں، بلکہ پی ایم کی وفاداری کی مہر ہے۔آٹھ نومبرسے جاری نوٹ بندی کی بدولت جن تھکے ہارے لوگوں نے بنکوں کی لائن میں دم توڑدیا اوراف تک نہ کی انہوں نے تو یقیناًاپنی وفاداری کا ثبوت دیدیا۔ پی ایم صاحب کو لوگ کیا کیاکہہ گئے، اخبار، رسالے، وہاٹس ایپ، فیس بک، ،کارٹون، شعرجس کی جتنی پہنچ تھی اپنے من کی بات کہہ کر اپنا من ہلکا کرلیا۔ لیکن سوچیں کہ اتناسب کچھ انہوں نے کس کے لئے کیا اور سہا؟ نوٹ بندی کا مشورہ سب سے پہلے آرایس ایس نے دیا تھا۔ پھرایک این جی ’ارتھ کرانتی ‘کا نام اایا۔ اس نے تویہ مشورہ بھی دیا تھا کہ پٹرول ڈیزل سے 25روپیہ لیٹرٹیکس کم کردو۔ سونے پر امپورٹ ڈیوٹی ہٹادو۔ جائدادوں کی رجسٹری فیس معمولی کردو۔ کالی دولت کے سوتے خودبند ہوجائیں گے، خوش حالی آئے گی۔ مگرمودی جی نے صرف وہ سنا جو آرایس ایس نے کان میں پھونک دیا ۔ یشودابہن سے بے وفائی کے بعد کون بچا جس کی فکرکرتے۔ماں دہلی آگئی تھیں، چندروز میں ہی چلتا کردیا۔ یشودابہن توبڑی جگرگردے کی بھارتیہ ناری ہیں، جو پتی کے ساتھ ستی بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن ان کے بھائی توان کے خلاف بولتے ہیں۔ 8 نومبرسے جنتا بھی اتنا دکھی ہے نجانے کب لاواپھوٹ پڑے۔
سیاسی پارٹیاں اپنا اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ جس کا سودا پٹ گیا وہ پیچھے ہٹ گئی۔ ان کو چھوٹ بھی مل گئی، چاہے جتنا کالا دھن ہو، سب معاف۔ ان کو غریب جنتا کی کیا پڑی۔ مخالفتوں کاشور تو ہے۔ مگر مودی جی شاید اس خیال میں مگن ہیں کہ جنتا ان کے ساتھ ہے حالانکہ جنتا کی کمرٹوٹ چکی ہے۔ پروفیسرسلیم انجنئرنے ٹھیک کہا کہ اگرمریض کا 85فیصد خون نکال لواورپھر تھوڑا کرکے 50دن میں چڑھاؤ تو کیا وہ زندہ بچے گا؟ ہزاروں بے روزگار ہوگئے۔ کاروبار ٹھپ ہوگئے جن کا سنبھلنا مشکل ہے۔ نوٹ بندی کا اثر مودی جی پر بھی ہے ۔ بیچارے کئی ہفتہ سے ودیش نہیں گئے۔ لیکن داد دینی پڑیگی حوصلہ کی پانچ آدمیوں کے(امت شاہ، راجناتھ،روی شنکرپرساد، جیٹلی اور ونکیانائڈو)جن کے دم پر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ پوراسنسدمانگ کرتا رہا ،پی ایم صاحب کو نہ سنسد میں بولنا تھا نہ بولے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ کسی سے ڈرکر یا گھبراکر نہیں بولے، یا بولیں گے توکوئی ان کا کچھ بگاڑ لے گا۔ سنسد میں ان کے چہرے گمبھیر دکھائی دیا۔ لیکن جنتا میں جوچہرہ نظرآتا ہے وہ تو سواارب کے وزیراعظم کا نہیں ہوتو۔ وہ ہاؤ بھاؤ توکسی کلاکار کے ہوتے ہیں۔نہ لائن میں دم توڑدینے والوں کا غم، ناناحق بے گنتی فوجیوں کے شہید ہونے کاصدمہ۔
انہوں نے کہا ماں سے بھی بڑادیش ہوتا ہے۔شائد اسی لئے ماں کو بھی لائن میں لگاتے زورنہیں پڑا۔ لیکن جس سنگھ سے تربیت پاکر یے ایم بنے اس کا حق وفاداری کیسے ادا نہیں کریں؟ یہ اوربات ہے کہ سنگھ پریوار میں بھی ان کے فیصلے سے اختلاف کی آواز آنے لگی۔ اب اگر توگڑیا جی بولتے ہیں کہ نوٹ بندی سے جنتا کو بہت نقصان ہوا ہے، تو حیرت ہے کہ ان کو پی ایم کی پریوارسے وفاداری پر شک ہوا؟کالا دھن توجنتاکو تسلی دینے کے لئے ایک طاقت ورجملہ ہے۔ ڈجیٹل انڈیا بھی اچھا سپنا ہے۔ جو پی ایم صاحب دکھا رہے ہیں۔ ان سپنوں کی تعبیر سبھی دیکھنا چاہیں گے۔ ڈھائی سال تو اچھے دن آنے کی آس میں گزرگئے۔ باقی ڈھائی سال کمرسیدھی کرتے ان سپنوں میں گزر جائیں گے۔پی ایم نے کوچی میں کہا کہ بھائیو اوربہنو! پارٹی سے بڑادیش ہوتا ہے۔ اگرپارٹی جاتی ہے تو جائے، لیکن میں کالے دھن اوربھرشٹاچار کے خلاف لڑتا رہوں گا۔‘‘ حوصلہ کی داد دیجئے۔ یقیناًوہ یہ سب اپنی ذات کے لئے تو نہیں کر رہے ہیں وہ تو فقیر آدمی ہیں۔ یہ سب وہ صرف اقلیت کے گھٹنے توڑنے کے لئے بھی نہیں کررہے ہیں۔اس کی زد میں تو پورا دیش ہے۔غریب جنتا ہے۔جہاں تک ہماری اقلیت کا سوال ہے ، سب کو معلوم کہ ہمارے دین میں سود ی کاروبار حرام ہے۔ زیادہ دولت جمع ہوگی تو زکوٰۃ دینا لازم ہے۔ کوڑی کوڑی حساب دینا ہے۔ دوچار کو چھوڑ کر سبھی اس پر عمل کرتے ہیں ۔ چائے کی پیالی پر شادی کی تعریف پی ایم صاحب کریں گے توکتنا دل خوش ہوگا۔ لیکن شادی بیاہ پر کون نہیں چاہتا، ہاتھ کھلا ہو۔ سوچئے جس لڑکی کے والد اس کی شادی کے لئے پیسے نکالنے کی جدوجہد میں لائن میں لگ کراس دنیا سے رخصت ہوگئے اس خاندان پر کیا گزری ہوگی؟سسرال میں طعنہ ملے گا، شادی سے پہلے ہی باپ کو کھاگئی۔ کیا وہ خاندان بھی خوش ہوگا کہ باپ جان دیکر مودی نظریہ سے وفاداری کا ثبوت دیا۔
کاش مودی جی، اپنا صحیح موقف ظاہر کرتے، اوراس کالے دھن سے زیادہ جن سنگین اورشرمناک مسئلوں سے ملک گزررہا ہے، اس پر نگاہ رکھتے۔ لسٹ لمبی ہے۔ گنانا مشکل ہے۔ جس طرح بنارس میں مودی جی نے اپنے ۲۶ہزارورکروں کے ساتھ لنچ کرتے ہوئے دلتوں کے درمیان جانے کی نصیحت کی، اسی طرح اگروہ ان کمزوراوربے بس لڑکیوں کا سہارا بن کر ایک چائے کی پیالی پران کے غم میں شریک ہوجاتے جن کے باپ بھائی لائن میں لگ کر مارے گئے۔ اسی طرح زورزبردستی کی سیاست اورتشدد کی وارداتوں پر اپنے ورکروں کو دوالفاظ بول دیتے تومودی جی کے راج میں اقلیتوں کو بھی سنہرا سپنا آ جاتا۔ تاریخی بابری مسجد شہید کرکے، کچھ لوگ اپنا جھنڈا بلند کرتے ہیں۔ قانون اپنے ہاتھ میں لیکر سماج کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے ہیں اوراقلیت آج بھی صبر سے کورٹ کے فیصلے کی منتظرہے۔50دن پورے ہورہے ہیں۔ حالات بدلے نہیں۔اور50دن بعد بھی نہیں بدلیں گے ۔ اب مودی جی کس چوراہے پر جنتا کو حساب دیں گے؟رہا کالادھن، جب تک دولت کے پچاری موجودہیں، تب تک کالا دھن تو ککرمتھے کی طرح اگتا ہی رہے گا۔ یہ توہمارے سماج کا وہ ناسور ہے جو بند ہوہی نہیں سکتا۔ ہرکسی کا دل چاہتاہے دس لاکھ کا سوٹ پہنے۔ دن میں کئی کئی باربرانڈڈ کپڑے تبدیل کرے۔ رنگ برنگی واسکٹیں سلوائے۔ نہ رشوت خوری بند ہوگی اورنہ کالادھن پیدا ہونا بند ہوگا۔ اس کنسرکو تو ہمارے دیش میں ہزاروں سال سے پوجا جارہا ہے۔ اس کی جڑیں، ذہنیت میں گہری بیٹھی ہوئی ہیں۔ و ہ پچاس دن کیا پچاس مہینے میں بھی جانے والا نہیں۔یہ تو مندر کا پرساد ہے۔ بٹتا ہی رہے گا۔ مودی جی سے گزارش ہے، جس طرح وہ اس فیصلے پر اڑے ہوئے ، جس میں ان کو اپنی جان کا خطرہ بھی نجانے کہاں سے نظرآگیا، اسی طرح جی کڑاکرکے اپنا راج دھرم نبھائیں اگروہ ہرمذہب کے لوگوں کو عزت ، آزادی اورحقوق کی حفاظت کریں توان کا نام بھی محمد بن تغلق کی طرح تاریخ میں امرہوجائے گا۔اس نے راجدھانی جنوب میں لے جانے کا تباہ کن فیصلہ کیا تھا اورمودی جی نے نوٹ بندی کا۔ ان کو سمجھنا چاہئے اچھا حاکم وہ ہوتا ہے جو سب کے لئے انصاف کرے۔ اقلیتوں کو غداری کا طعنہ دینے والوں کے منھ میں لگام لگائیں۔ ووٹ ملے نہ ملے،دوسرے جنم کے لئے کچھ کرلیں۔ 

Cell:Cell: 7827219301 

No comments: