Saturday, January 7, 2017

Sex assault in Bangalore a Delhi on New Year Day. How to control?

بنگلوراوردہلی: یہ سیاہ راتیں باربار کیوں آتی ہیں؟
سید ہ مہرافشاں، نئی دہلی

میں جولکھ رہی ہوں،وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔روز میڈیا میں خبریں آتی ہیں کہ آج یہاں کسی کی عزت لٹ گئی ، کل وہاں کوئی معصوم کسی کی 
ہوس کا شکار بن گئی ۔ہم ان خبروں کو سنا ان سنا کردیتے ہیں۔ مگر جو خبر دل کوزخمی کردے اورجس کی کسک دیر تک برقرار رہے، اسی سے کوئی سبق حاصل کرکے ہم سماج کی گندگی کو صاف کرسکتے ہیں۔ نیا سال 2017شروع ہوا ۔ 2016 میں کتنی بھی پریشانیاں جھیلی ہوں،لیکن نیاسال شروع ہوتاہے تو سبھی چاہتے ہیں کہ اس کی خوشی منائیں ۔ لیکن اگرنئے سال کا جشن کسی کے لئے ایسے غم میں بدل جاتاہے کہ مرتے دم تک زندگی بوجھ بن جائے، جس کو آخری دم تک لئے پھرتے ر ہیں اورسکون سے جی نہ پائیں، اس کے بار ے میں سوچنا پڑتا ہے۔ 
آپ کویاد ہوگی 16دسمبر 2012کی وہ کالی رات جس میں ایک بے خوف بیٹی کی عزت ایک چلتی بس میں تارتار ہوئی تھی۔وحشی جنسی درندوں نے اس پرظلم کی انتہا کردی۔ ایک پورے خاندان کے ارمان اور نوجوان لڑکی کی زندگی چند روزہ داستان بن کر شمع کی طرح بجھ گئی۔ دہلی کے اوردیش کے ماتھے پر بدنما داغ لگا۔ پورا ہندستان دہل گیا۔ ہرحساس انسان کا دل رونے لگا۔ہر فرد احتجاج میں شریک ہوگیا۔ اورہونا بھی چاہئے تھا۔ایک ہونہار بیٹی کی زندگی بیش قیمت ہوتی ہے۔ اس طرح کی درندگی پرکس طرح قابو پائیں؟اس پر بحثیں ہوئیں، آزادی نسواں کی باتیں ہوئیں، سخت قانون بنا مگر آج بھی ماحول وہی ہے۔ جس درندہ صفت کو جب،جہاں اورجتناموقع ملتا ہے، کسی کی عزت اورزندگی سے کھلواڑ کربیٹھتا ہے اوروہ بیچاری زندہ بھی رہتی تو انسان کی شکل میں مردہ لاش بن جاتی ہے۔16دسمبر کے بعد لگتا تھا کہ شاید اب ایسا نہیں ہوگا، حکومت بھی جاگ گئی ہے۔ اورہر وہ انسان جو ہندستان میں رہتا ہے، ایسی شرمناک حرکت برداشت نہیں کریگا، لیکن یہ امید پوری نہیں ہوئی۔
2017شروع ہوا۔ بنگلور اوردہلی جو ترقی یافتہ بڑے شہر ہیں،دونوں جگہ وحشی حرکتیں ہوئیں اورنئے سال کی خوشی کو خاک میں ملادیا۔ خدا کرے ہمیں ایسی اور وحشت ناک راتیں نہ دیکھنی پڑیں۔لیکن ہم اس کے لئے کیا کررہے ہیں؟ مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ ہمارے اس ملک میں چھ ماہ کی بچی سے لے کر معمر خواتین تک بھی اس درندگی سے محفوظ کیوں نہیں ہیں؟ اس میں کس کو ہم خطاوارسمجھیں؟ ہمارے ٹوٹتے ہوئے خاندان، بدلتا ہوا معاشرہ، جدید مغربی تہذیب کے زیراثر ہمارا آدھا ادھورہ پہناوایا ہماری ضرورت سے زیادہ آزادی اورلاپروائی؟ کون ہے ذمہ دار؟ اونچے سے اونچے مقام تک پہنچنے کی دوڑ کے ساتھ جسم کی نمائش، ان سب میں کہیں کچھ تو گڑ بڑ ہے جو ہم سمجھ نہیں پارہے ہیں،یا سمجھا نہیں پارہے ہیں؟افسوس ہم سبھی اس ہمام میں ننگے ہوتے جارہے ہیں۔ یا تو اپنی نئی نسل سے مجبور ہیں کہ وہ ہماری سننا نہیں چاہتی یا یہ کہیں کہ ہم اس قابل نہیں رہے کہ ان کو تمیزوتہذیب اوراچھے سنسکار دے سکیں۔ہر چیز کا فیصلہ کورٹ نہیں کرسکتا۔ ہمیں آزادی ہے کہ ہم کیا پہناوا پہنیں، کس کے ساتھ آئیں جائیں ، کس سے شادی رچائیں ، لیکن جنسی درندگی کے ماحول اپنی حفاظت بھی تو ضروری ہے۔ ہماری قدیم تہذیب جو اس معاملہ میں بہت محتاط تھی، ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے۔جوبن سب پر آتا ہے مگرحسن نسواں کو عام نمائش کی چیز بنالینا اوراپنی تہذیب کو بھلادینا ایک بڑی بھول ہے۔ اگراپنی تہذیب ہی چھوڑ دی تو ہمارے پاس کیا رہا؟ تہذیب کو بھلا کرہماری اورحیوانوں کی زندگی میں کیا فرق رہ جائیگا؟ انسان ہونے کا احساس ہی ہمیں زندہ رکھتا ہے۔ رات دوبجے ہماری بیٹیاں اگرسڑکوں پر اکیلی نکلیں گی تو اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے! یہ خیال رہے۔ ہم زیوراورپیسہ تو حفاظت کے لئے چھپا کر رکھتے ہیں، لیکن بیٹیوں کی حفاظت کے لئے ہمارے پاس کوئی نظام نہیں ہے۔ کیا مجبوری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پورے سے کپڑے پہننے کے لئے آمادہ نہیں کرسکتے؟ کیا اس کا واحد جواب آزادی ہے؟ کیاآزادی کے ساتھ احتیاط کوئی چیز نہیں؟ نئے سال کے جشن میں ہمارے بزرگ کیوں نوجوانوں کے ساتھ نہیں ہوسکتے؟ کیوں قیمتی جانوں کو سیاہ راتوں میں بھٹکنے کو چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں تعلیم اوراعلا نوکریوں کی چکا چوندھ میں اپنی آنکھوں کو موند لیتے ہیں؟ کیوں ویلن ٹائن جیسی فضول اورعریاں رسموں کو اوربوائے فرینڈ جیسی رسم وراہ کو جس میں خطرہ ہی خطرہ ہے، پروان چڑھاتے ہیں؟ کیوں بزرگوں کی روک ٹوک کو پسند نہیں کرتے؟ دادا دادی کے ساتھ رہ کر بچے ان کی عزت کیوں نہیں کرتے؟ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان کو بے راہ روی سے روکے، ٹوکے۔ کیوں نئی اورپرانی نسل میں اتنی دوریاں بڑھ گئیں؟

درندگی کو انجام دینے والے بھی ہمارے ہی بچے ہیں۔ ہماری ہی خام پرورش کا نتیجہ ہیں۔یا یہ اس ماحول کا اثر ہے جس میں ہرطرف عریانیت اورجنسی اشتعال انگریزی بکھری ہوئی ہیں۔جو انسان کو ذہنی جنسی مریض بنادیتی ہیں۔ جس سے خطاہوگئی ،اس کو سزادے کر، شورمچاکر، نام کما کرکیا ان برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے؟ سادھو سنتوں کے جس دیش میں ہماری عورتیں محفوظ نہیں، اس میں کس طرح ترقی اورخوش حالی آسکتی ہے؟سترسال کی آزادی کے بعد آج ہم محفوظ نہیں۔ انگریزوں کے دورمیں ہم غلام ضرور تھے، لیکن عورتیں محفوظ تھیں۔ قانون کا بھی ڈر تھا اورسماج کا بھی۔ دن تو دن رات کے کسی پہر میں کوئی غلط نظر نہیں ڈال سکتا تھا۔ ملک کی آزادی کے لئے ہزاروں نے اپنی جانیں قربان کیں، کیا اسی آزادی کے لئے جس میں ہم اپنے کو قطعی غیرمحفوظ پاتے ہیں؟ نہ جان ومال محفوظ اورنہ عزتیں؟ روک ٹوک کرنے والوں پر اعتراض کرنا بہت آسان ہے ۔ ہم غنڈہ ذہنیت پراگرقابو نہیں پاسکتے تو اس سے خود کو بچا تو سکتے ہیں۔ مانا کہ بلاخوف وخطر پوری آزادی ہمارا حق ہے۔ لیکن جب ماحول خراب ہو تو کیا احتیاط نہیں کرنی چاہئے؟ کیا آلودگی ہوتی ہے تو ماسک ضروری نہیں ہوتا؟ جب تک ہم سب مل کر کوشش نہیں کریں گے،کالے ناگ ڈستے رہیں گے۔ سماج سے برائیاں ختم نہیں ہونگیں۔ ہرمسئلہ پرہم بحث اورمباحثہ کرتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں دیکھا گیا کہ اس طرح کی شرمناک حرکتوں کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا ہو۔ اس ملک کے قاعدے اورقانون ہمارے ہی لئے ہیں۔ لیکن جب ان کااحترام ہی نہیں کیا جاتا توپھر ان سے کیا فائدہ ؟ قانون کے محافظ خود قانون شکن بن گئے۔ وہ بھول گئے کہ جب ملک کی ترقی کا اتہاس لکھا جائیگا، اسی میں ہردن اورہررات اس کی بیٹوں کی عزتیں لوٹے جانے کا بھی ایک اتہاس ہوگا۔ اسے ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ ہماری یہ بے حسی نئی نسلوں کو تباہ کرجائے گی اوراس کا ازالہ صدیوں تک بھی نہیں ہوسکے گا۔ (ختم)Cell:Cell: 7827219301 

No comments: