Wednesday, September 7, 2016

خواندگی میں انڈیا پست مسلم انڈیا پست ترIndia defaults in Education, Indian Muslims most backward

خواندگی میں انڈیا پست مسلم انڈیا پست تر
سید منصورآغا،نئی دہلی
یونیسکو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبہ میں اگرموجودہ روش جاری رہی توہندستان سنہ2030 تک صد فیصد خواندگی کاحدف حاصل نہیں کرسکے گا۔اندازاہ کیا گیا ہے کہ شرح خواندگی کا یہ ہدف سنہ2050 تک،صد فی صدلوورسیکنڈری کا 2060  تک اور اپر سیکنڈری کا 2085تک حاصل ہوسکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیم کے اہداف میں ہندستان نصف صدی پچھڑ رہا ہے۔ تعلیم کسی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ان اہداف کو جلد ازجلدحاصل کرنے کے لئے نظام تعلیم اورفروغ تعلیم کے لئے فکرمندی میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔یہ رپورٹ منگل،6ستمبرکو منظرعام پر آئی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں تعلیم سے محروم بچوں کی سب سے بڑی تعدادہندستان میں رہتی ہے۔ ان کی تعداد 6کروڑ ہے۔
اس کے متعدداسباب ہیں، جن میں غربت، صحت بخش غذا اورفضاکی کمی اہم ہیں۔ بڑامسئلہ سماج کے ان طبقوں کے بچوں تک تعلیم پہنچانا ہے جو تعلیم سے ناآشنا ہے۔ اگروہ تعلیم تک نہیں آسکتے توہمارا قومی فریضہ ہے کہ تعلیم ان کے گھروں تک پہنچائیں۔بہت سے سماجی خدمت گاروں نے یہ کر بھی دکھایا ہے۔ انہوں نے جھگیوں، جھونپڑیوں میں اوردرختوں کے نیچے بچوں کو پڑھا شروع کیا۔ مگر بعض سرکاری رکاوٹیں ان کی راہ میں آگئیں جن سے ان کی حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی ہوئی۔ مثلاً ہمارے ملک کا ”مفت اورلازمی تعلیم کا قانون“ ہے جس کا اثرالٹا ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی ہے اورمطلوبہ تعداد میں اسکول قائم نہیں کئے۔اس قانون میں پرائیویٹ اسکولوں کے انفرااسٹرکچر(عمارات وغیرہ) کے لئے جو معیارمقرر کئے گئے ان کا حصول غریب خطوں میں ممکن نہیں اوران کی زد میں آکر بہت سے اسکول بندہوگئے۔
 مجوزہ قومی پالیسی  میں بعض خامیاں ہیں جن کا زد تعلیم کے اہداف پر پڑیگی۔ یہ اندیشہ اس لئے ہوتاہے کہ موجودہ حکمراں ٹولہ اوراس کی نظریاتی ماں آرایس ایس فروغ تعلیم کی ہمہ گیریت کے بجائے ایک خاص تہذیب کو فروغ دینے کے درپے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اقلیتوں کے لئے سرکاری نظام تعلیم کے دروازے بندیا کم از کم تنگ ہوجائیں گے کیونکہ بہت سے لوگ تعلیم کے نام پراپنے بچوں کے معصوم ذہنوں میں مشرکانہ عقائد اوراعمال کی تخم ریزی وشجرکاری گوارا نہیں کریں گے۔
اس قومی پس منظرمیں جب ہم مسلم اقلیت کی تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں توتشویش میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ سنہ2011کی مردم شماری کی بنیاد پرسرکار نے جو اعداد وشمار4/ ستمبرکوشائع کئے ہیں ان سے مسلم تعلیم کی حالت دیگراقوام کے مقابلہ بھی بدتر ہے۔ ہمارے ملک میں مسلم آبادی تقریباسواسترہ کروڑ ہے۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے نصف سے کچھ زیادہ 57.3فیصد یعنی فی ہزار 573افراد ہی خواندہ ہیں۔ باقی 427 ناخواندہ ہیں۔ جب کہ مجموعی طورپر ہندواقوام میں ناخواندگی کی شرح 364فی ہزار، سکھوں میں 325، بودھوں میں 282، عیسائیوں میں 256 اور جین فرقہ میں صرف 136فی ہزار ہے۔
خواندگی ایک وسیع اصطلاح ہے جس کو ”حرف شناسی“ کہتے ہیں۔خواندہ وہ شخص ہے جوحروف کو پہچان لیتاہو، اپنا نام لکھ سکتا ہو اورجوڑگھٹا کا سادہ حساب رکھ سکتا ہو۔چنانچہ مسلم آبادی میں جن افراد نے قاعدہ یا ناظرہ سیپارہ پڑھ لیا، وہ خواندہ شمار ہوگا۔ خواندگی کے لئے کسی مدرسہ، مکتب یا اسکول میں جانا ضروری نہیں۔ مسلم آبادی میں فی ہزار 573 خواندہ افرادمیں پچاس ایسے ہوتے ہیں، جنہوں نے مدرسہ یا اسکول کی شکل نہیں دیکھی۔ 
ہماری یہ صورت حال ہمیشہ سے نہیں تھی۔ لارڈ میکالے نے فروری سنہ 1835میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہندستانی تعلیمی نظام کی اپنی جائزہ رپورٹ میں تسلیم کیا تھا کہ مسلمانوں کا تعلیمی نظام بڑا مستحکم اوروسیع ہے۔ ہرمسجد میں اسکول ہے۔ ان کی شرح خواندگی 90 فیصد سے زیادہ ہے۔اُس دورمیں بھی اگرچہ اعلا تعلیم عام نہیں تھی۔لیکن مخصوص خاندانوں میں  بڑا اہتمام تھا۔ علماء اورفضلاء اپنے گھروں میں یا مساجد میں درس وتدریس کا فریضہ انجام دیتے اوریہ بابرکت نظام کسب معاش کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ اہل علم کی علم دوستی کا ثمرہ تھا۔ سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک کی بدولت جب محمڈن اینگلو اوریئنٹل کالج اوراس کے بعد مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا توان میں داخلہ لینے بیشتر طلباء کا تعلق اہل ثروت گھرانوں سے تھا۔ مگراب یہ امتیاز ختم ہوگیا ہے۔ الحمداللہ سبھی مسلم طبقے مسلم یونیورسٹی اورسرسید تحریک کے زیراثرقائم ہونے والے اداروں سے یکساں طور فیض پارہے ہیں۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ مدرسہ تعلیم میں داخلوں کی نوعیت ہی بدل گئی ہے۔ اب یا توان خاندانوں کے طلباء دینی تعلیم میں آتے ہیں جن میں اس کی روایت رہی ہے وہ بچے آتے ہیں جن کے ورثاء تعلیم کے مصارف برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ عصری تعلیم میں اہل ثروت اورسابق زمینداروسرمایہ دار طبقہ پچھڑتا جاتا ہے، جب کہ دیگرطبقات میں کچھ روشنی پھیلی ہے مگرکسی بھی طبقے میں تعلیم کی اہمیت اس طرح قائم نہیں ہوئی جس طرح ہونی چاہئے۔ لیکن کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور نظرآتی ہے۔ حال ہی میں    ”نیشنل یونیورسٹی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن“نے ملک بھر کی 35ریاستوں کے635اضلاع میں واقع 128 لاکھ منظورشدہ پرائمری واپرپرائمری اسکولوں کے سروے کے بعد جو اعداد شمار شائع کئے ان کے یہ خوش آئند اطلاع ملتی ہے کہ مسلم بچوں کے داخلوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے  اور یہ اضافہ دیگر مذہبی اقوا م کے مقابلے زیادہ ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2008-09میں پرائمری کلاسوں میں کل داخلے 130لاکھ4ہزار ہوئے تھے۔ ان کی تعداد 2009-10میں بڑھ کر171لاکھ 70ہزارہوگئی ہے۔اس دورانیہ میں مسلم بچوں کے داخلوں کی تعداد میں اضافہ23لاکھ 40ہزارکا ہوا ہے۔  2007-08میں کل داخلوں میں مسلم بچوں کا تناسب 8.45 فیصد تھا جو 2009-10 میں بڑھ کر 11.47فیصد ہوگیاہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ان میں بچیوں کی شرح 49 فیصد کے قریب (48.89) پہنچ گئی ہے جب کہ قومی سطح پر یہ شرح اس سے کم (48.88)فیصد ہے۔  ایک خوش آئند انکشاف یہ ہواہے کہ آسام، بہار، دہلی، جھارکھنڈ، کرناٹک، کیرالہ، مہاراشٹرا، یوپی، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال میں مسلم داخلوں کی شرح دیگر کے مقابلے بلند ہے۔   
لیکن یہ پس منظرایسا نہیں ہے اطمینان سے بیٹھ جایا جائے۔ اس کی چنددرچند وجوہ ہیں۔ داخلوں میں یہ اچھال تعلیم کی اہمیت ذہن نشین ہوجانے کی بدولت کم اورغریب خاندانوں کے بچوں کو ایک وقت کا کھانا مل جانے کی بدولت زیادہ آیا ہے۔ ورنہ حق تعلیم قانون میں بعض شقوں کی بدولت آٹھویں تک کی تعلیم کا معیار پہلے کے بھی مقابلے پست ہوگیا ہے اورڈراپ آؤٹ کا جو مسئلہ پہلے مسلم بچوں کے لئے سنگین تھا اب وہ سنگین ترہوگیا ہے۔ ہمارے علم اورمشاہدے کی حد تک مہاراشٹرا اور کیرلاجیسی ریاستوں کوچھوڑ کر جہاں تعلیمی شعور بیدار ہے اورسرکاریں بھی مستعد ہیں، باقی ریاستوں میں پرائمری اوراپر پرائمری تعلیم کا معیار بہت تشویشناک ہے۔ہرچند کی چند دہائیوں میں سرکاری ٹیچرس کے مشاہروں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، مگر احساس ذمہ داری میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ البتہ پرائیویٹ اسکولوں کی حالت نسبتاً بہتر ہے۔ 
ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ اعلا تعلیم میں مسلمان سب سے زیادہ پھسڈی ہیں۔ ہندستان میں مسلم آبادی کل آبادی کی  14.2فیصد ہے جب کہ اعلا تعلیم میں داخلہ پانے والے طلباء میں ان کا تناسب صرف4.4فیصد ہے۔ دس ہزار خواندہ افرد میں 275گریجوئیٹ صرف ہیں۔یہ شرح2.75 فیصد ہوتی ہے۔کل آبادی میں یہ شرح 1.25فیصد کے قریب ہے۔جب کہ جین فرقہ میں فی دس ہزار خواندہ افراد میں 2565 گریجوئیٹ ہیں۔ (شرح25.65فیصد)۔ فی دس ہزار خواندہ عیسائیوں میں یہ تعداد884،(8.84%) سکھوں میں 639، (6.39%)   بودھوں میں 617 (6.17%) اور ہندؤں میں 598   (5.89%) ہے۔ تعلیم کے اس منظرنامے کو سامنے رکھ کر ہمیں یہ غورکرنا چاہئے کہ سول سروسز اور دیگر سرکاری ملازمتوں میں ہماری شرح کم ہونے کے اسباب میں ہماری تعلیم سے غفلت کا کتنا بڑا حصہ ہے؟
تعلیم کے تعلق سے ہمارے معاشرے کا ایک بڑاسنگین اورعمومی مسئلہ یہ ہے کہ عمومی ماحول ”تعلیم دوست“ Education friendly نہیں ہے۔اورہمیں اس کی کوئی فکر بھی نہیں کہ اپنے گھروں اورمحلوں میں ایسا ماحول فراہم کریں جس سے طلباء کا دل پڑھائی میں لگے اوران کے درمیان علمی مسابقہ کی فضا بنے۔ بڑی تباہی ارزاں جدید آلات موبائل، لیپ ٹاپ،کمپیوٹر اور ٹی وی وغیرہ پر بڑوں کی حد سے زیادہ دلچسپی اوراس میں بچوں کے گرفتار ہونے سے آرہی ہے۔ کھیل کود کا صحت مند ماحول تباہ ہو رہا ہے۔پہلے یہ وباصرف شہروں تک تھی اب اس کا نیٹ ورک دوردراز دیہات تک بھی پہنچ گیا ہے۔ ہماری سرکاراس کو اورارزاں کررہی ہے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ عمومی آبادی حقیقی مسائل سے بیخبرڈجیٹل دنیا میں ڈوبی رہے گی۔ بیشک ڈجیٹل دنیا حیرت انگیز ہے۔ اس پر معلومات کے خزانے موجود ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کا عام طور پر استعمال کس کام کے لئے ہورہا ہے؟وہاٹس اپیپ توافواہیں پھیلانے اورفساد کرانے کا آسان آلہ بن گیا ہے۔ ایف بی کی افادیت سے وقت کا ضیاع زیادہ ہے۔ اب اگرہم ہمہ وقت خود بھی اورہمار بچے بھی اس حیرت انگیز دنیا میں گم رہیں گے تو ہمیں اپنی زبوں حالی پر حیرت اورافسوس کرنے کا کوئی حق نہیں رہ جائیگا۔

No comments: