Monday, August 1, 2016

کشمیر: راستے بند ہیں سب کوچہ قاتل کے سوا؟Kashmir:Raste band hen sab kucha e qatil ke siwa??

(رپورٹ کا دوسرا حصہ)
کشمیر میں خونریزی: یہ سمجھنا کہ کشمیر میں حالیہ واقعات کا سلسلہ عیدالفطر کی شام(7جولائی، جمعرات) کو برہان وانی کی موت سے شروع ہوا، درست نہیں۔ اس کی کڑیاں اگست 2015ء میں پاکستان کے سیکیورٹی ایڈوائزر سرتاج عزیز کی ہند آمد سے ٹھیک ایک دن پہلے سرکار کے اس سخت موقف سے جاکر ملتی ہیں کہ کشمیری لیڈروں سے ان کی ملاقات مودی سرکار کو منظورنہیں ہے۔ سفارتی نزاکتوں سے عاری،سیاسی سطح پر کئے گئے اس فیصلہ نے ان ساری کوششوں کو سخت نقصان پہنچایا جوگفت وشنید کے ذریعہ کشمیر کی گتھی کو سلجھانے کے لئے باجپئی جی کے دور سے جاری تھیں۔اس کی ایک خاص فائل سابق وزیراعظم ڈاکٹرمن موہن سنگھ نے حلف برداری کے بعد خود مسٹرنریندرمودی کو سونپی تھی۔ 
 اگرچہ دسمبر2015 میں دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریوں اور حفاطتی مشیروں کی بنکاک میٹنگ اوروزیراعظم کے اچانک لاہورجانے سے ماحول کچھ بہترہوا تھا، لیکن یہ پہلے ہی دن سے صاف تھا کہ مذاکرات کے تعطل کاکشمیر پر منفی اثرہو گا۔اس سے شرپسند عناصر کو موقع مل گیا۔ اس میں پاکستانی حکمرانوں کی داخلی سیاسی مجبوریوں کو بھی دخل حاصل ہے۔ ان پیچیدگیوں کو ہمارے نوسکیھا حکمران سمجھنے میں قاصر رہے اورہمالیہ کی بلندی سے ہانک لگاتے رہے، جہاں سے زمین نظرنہیں آتی۔
برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں جو صورتحا ل پید اہوئی ہے وہ بھی پالیسی سازوں کی کوتاہ نگاہی کانتیجہ ہے۔ برہان کے خلاف کاروائی کے لئے عید کے دن کے انتخاب سے ایک غلط پیغام گیا۔ یہ ٹھیک وہی حرکت ہے جو امریکا کے اشارے پر عیدالاضحی کی صبح عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دے کر کی گئی تھی جس سے عراق میں مسلکی خلیج اور گہری ہوگئی۔ عید پر تمام دفاتراوربازار بند رہتے ہیں۔ چنانچہ آنا فانا سوگواروں کاایک بڑاہجوم امڑ پڑا۔ اس کے جنازے میں پابندیوں کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت سے صاف ظاہر ہے وادی کے عام عوام سرکارکی اس حرکت سے سخت مضطرب ہوئے۔ اس کا مطلب یہ ہے پی ڈی پی بھاجپا سرکار کی پالیساں ناقص ہیں اوروہ عوام میں اپنا اعتماد قائم کرنے میں سخت ناکام ہے۔ 
یہ بھی صاف نظرآتا ہے کہ اس آپریشن کا ہدف اس برہان کوپکڑکرقانون کے حوالے کرنا نہیں تھا بلکہ کس بھی طرح اس کا خاتمہ تھا۔چنانچہ اس گھرکو او رگھر کے مالک کے سیب کے باغیچہ کو بھی تاراج کردیا گیا جس میں وہ عیدمنارہا تھا۔ دہشت گردی کے ملزمان کو بغیر عدالتی کاروائی ہلاک کردینے کی ایک غیرقانونی روایت ہمارے ملک میں پنجاب اور کشمیر سے منی پورتک عام ہے۔ اس دوران سی آرپی ایف نے دوہزار سے زیادہ چھرے والے کارتوس ہجوم پر داغے جن سے بہت سے افراد کی آنکھیں بھی جاتی رہیں۔ سی آرپی ایف کے ڈی جی مسٹردرگاپرساد نے اعتراف کیا ہے اس مشن پر ادھوری تربیت یافتہ نفری کو لگایا گیا تھا جس نے بجائے جسم کے نچلے حصے کے اوپری حصہ کو نشانہ بنا یا۔7جولائی سے 24جولائی تک یہی ہوتا رہا۔ کسی نے ان کو روکا ٹوکا تک نہیں۔مظاہرین کے خلاف مہلک اسلحہ کا استعمال خود سوالوں کے گھیرے میں ہے مگر مسٹرداس کا اصرار ہے کہ فورس ”احتیاط کے ساتھ“ مہلک اسلحہ استعمال کرتی رہے گی۔
اس دوران وزیرخارجہ سشما سوراج اوروزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے جو بیانات دئے ہیں،انہوں نے سفارتی معاملے اورپیچیدہ کردیا ہے۔ شاید وہ ابھی یہ سمجھے ہی نہیں کہ اب وہ اپوزیشن لیڈر نہیں، وزیرہیں۔ سفارتی گتھیاں تلخ کلامی سے نہیں،ٹھنڈے مزاج سے حل ہوا کرتی ہیں۔ ان لیڈروں کو اس حقیقت کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کشمیر میں امن کا راستہ لاہور، اسلام آباد اورمظفرآباد ہوکر جاتا ہے جس کی نشاندہی باجپئی جی نے   کر دی تھی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ باجپئی جی نے پاکستان کی طرف جودریچے کھولے تھے اورصدرپرویز مشرف کے آخری دورتک سابق یوپی اے حکومت نے مفاہمت کی جو منزلیں طے کی تھیں، مودی سرکار نے ان سب پر پانی پھیردیا۔ خودمودی جی نے جو درکھولنے چاہے وہ ا نکی اپنی تلون مزاجی اورگھڑکیوں کی عادت کی وجہ سے کھل ہی نہیں سکے۔اب جوصورت حال ہے اس پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے  ”؎ راستے بند ہیں، سب کوچہ قاتل کے سوا“۔
نئی روشنی 
بعض تازہ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرکار کو اپنی غلطی کاکچھ احساس ہوا ہے۔ اس نے اس موقف کو ترک کرنے کا اشارہ دیا ہے کہ پاکستانی حکام کشمیریوں سے بات نہیں کرسکتے۔مودی سرکار کو آگے بڑھنے کے لئے خود پر اورکشمیری عوام پراعتمادمیں موجودہ خسارے کی تلافی کرنی ہی ہوگی۔ اگرمرکز کا رویہ کشمیری عوام کے ساتھ درست رہا، ان کے آئینی اورانسانی حقوق کا پاس لحاظ رکھاگیا تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ کسی کے ورغلائے میں آجائیں۔حکومت کے تئیں عوام میں بے اعتمادی کا سبب یہ ہے کہ جو وعدے کئے جاتے ہیں، وہ پورے نہیں کئے جاتے۔سرکار کو سمجھ لینا چاہئے کہ اس مسئلہ کو انسانوں کا شکار کرکے نہیں ان کے دلوں کو جیت کر ہی حل کیاجا سکتا ہے۔
اب حکومت بشمول حریت کانفرنس، جس کو غلطی سے علیحدگی پسند کہہ دیا جاتا ہے، سب سے بات چیت پر آمادہ نظرآتی ہے۔وفاقی نظام میں ریاستوں پر اعتماد کیا جانا چاہئے اوران کے اختیارات سوخت نہیں کئے جانے چاہیں۔ ہماراملک ایک بڑا ملک ہے۔ہمارا دل بھی بڑا ہونا چاہئے۔ بیشک ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں لیکن اپنی سرحدوں کے اندراپنی ہی آبادیوں میں اپنے باشندوں سے ایسا برتاؤ نہ کریں جیسا  دشمن کے ساتھ ہوتا ہے کہ دیکھا اورگولی مار دی۔ حکومت کو اپنا لب و لہجہ بھی بدلنا ہوگا۔ کشمیریوں اور مسلم اقلیت کے خلاف اس کے قائدین نے گزشتہ سترسال میں جو زہرگھولا ہے، جواب بھی گھولا جارہا ہے، اس کا تریاق تلاش کرنا ہوگا۔ بے لگام میڈیا کو بھی اشتعال اورنفرت پھیلانے سے روکنا ہوگا۔ جہاں تک موجودہ صورت حال ہے اس کی تصویر تومرحوم علی سردارجعفری نے اپنے شعر میں کھول کر رکھ دی ہے:
تیغ منصف ہو جہاں، دار و رسن ہوں شاہد
بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا؟

No comments: