Monday, August 1, 2016

کشمیر: راستے بند ہیں سب کوچہ قاتل کے سوا؟ Kashmir: Raste band hen sab koocha e qatil ke siwa?


سید منصورآغا،نئی دہلی
یہ خبریقینا آپ نے سن لی ہوگی کہ فلم اداکار سلمان خان کو ہرن کے شکار کے کیس میں ہائی کورٹ نے بری کردیا ہے۔ یہ معاملہ ستمبرسنہ 1998ء کا ہے جب سلمان فلم ”ہم ساتھ ساتھ ہیں“ کی شوٹنگ کے لئے جودھپورمیں تھے۔ ان پرالزام تھا کہ انہوں نے جودھپور کے قریب جنگل سے ایک چنکارا (سیاہ ہرن) 26ستمبر کو اور دوسرا 28ستمبر کو شکارکیا۔ اگرچہ شکار کے باقیات نہیں ملے،لیکن دیگرشہادتوں کی بنیاد پر ’حیات صحرائی تحفظ قانون سنہ1972‘ (وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ)کے تحت ان پر مقدمہ قائم کردیاگیا۔گرفتاری ہوئی، ذیلی عدالت سے سزا ہوئی، جیل گئے،ضمانت ملی،  بیرون ملک سفر پر پابندی لگی۔ یہ مقدمہ 18سال چلا اور جب بھی کوئی تاریخ پڑی یا کوئی نیا شگوفہ کھلا، میڈیا کو خوب مشغلہ مل گیا۔ اخباروں میں خبریں آئیں، تبصرے آئے، ٹی وی چینلس پر چرچائیں ہوئیں۔ سبحان اللہ، کس قدرخوش قسمت ہیں ہمارے ملک کے جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور! کیسی اہمیت ہے سماج اورقانون میں ان کی جان کی! چاہے خون کے نشان،شکار کے باقیات ملیں، نہ ملیں، مگرشکاری خود شکار ہو جاتا ہے۔ عدالت میں تو مقدمہ بعد میں چلتا ہے،میڈیا میں پہلے ہی ٹرائل شروع ہوجاتا ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتا۔
ہرن سے زیادہ حساس معاملہ گائے کا ہے۔ حتٰی کہ اپنی موت مر جانے والی گائے کی کھال اتارنا بھی گناہ ہوگیا۔ مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے والوں کو بغیر ثبوت اورگواہ سر عام مارمار کرادھ مراکئے جانے کی خبریں برابرآرہی ہیں۔ دیکھنے والے خوشی خوشی  دیکھتے ہیں۔کسی کو رحم نہیں آتا۔ پولیس بھی چشم پوشی سے کام لیتی ہے۔ گؤ رکشا کے نام پر دبنگوں کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ محض شک کی بناء پر مسافروں کوروک کرتلاشی لی جاتی ہے۔مارا پیٹا جاتا ہے۔افواہ پھیلا کر رات کے اندھیرے میں گھرسے نکال کر ہلاک کیا جاتا ہے اورپھران حرکتوں کو جائز ٹھہرانے کے لئے بے دریغ سیاسی مہم چلائی جاتی ہے۔ وائے حسرت، ہمارا قانون، ہمارامیڈیا اورہمارا سماج جتنا حساس اوربیدار جانوروں کے تحفظ بارے میں ہے، کاش اتنا ہی حساس ان جانوں کے بارے میں بھی ہوتا جو خود ان کے گھر کی عورتوں، گاؤں، بستی کے دلتوں اورمسلموں کے جسموں میں ہیں۔ 
اس ملک میں انسان کشی کی تاریخ طویل ہے۔ہرروز کہیں نہ کہیں مہابھارت ہوجاتا ہے۔ سنہ 1947میں کیا کچھ نہیں ہوا؟ صوفی سنتوں اورولیوں کی سرزمین پنجاب انسانی لاشوں سے پٹ گئی۔میرٹھ میں ملیانہ کے سنہ1987کے کیس، گجرات کے سنہ 2002 کے قتل عام کی یاد تازہ ہے۔ مگرنیلی کے قتل عام کا تواب ذکر بھی نہیں آتا۔ 18 فروری سنہ 1983کو آدھی رات سے صبح تک چھ گھنٹوں میں وسطی آسام کے نیلی علاقے میں تین ہزارسے زیادہ بے بس انسانوں کو اس لئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کہ وہ بنگالی بھاشی غریب مسلمان تھے جن کا حق رائے دہی اندراسرکار نے بحال کردیا تھا۔ ظاہر ہے ان کا ووٹ کانگریس کو جاتا جوفرقہ پرستوں کومنظور نہیں ہوا۔ اس سیاسی قتل عام کودوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی نسل کشی قرار دیا گیا تھا۔ یہ سانحہ ہرن کے مبینہ شکار سے 15 سال پہلے پیش آیا، مگرآج تک کسی نے سنا کہ ہمارے قانون نے سرگرمی دکھائی ہو اور کسی کو سزا دلائی ہوئی؟ 
ایسی ہی ہلاکتیں 6 دسمبرسنہ1992کو بابری مسجدکی شہادت کے بعد پورے ملک میں اور خصوصاً عروس البلاد ممبئی میں ہوئیں۔ جسٹس سری کرشنا رپورٹ کے مطابق صرف ممبئی میں 900افراد مارے گئے جن میں 80 افرادتصادموں میں مارے گئے۔ جب کہ 347چاقو زنی میں اور 91آتش زنی میں ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ 356 پولیس فائرنگ میں مرے۔ہم یہ تخصیص نہیں کریں گے کہ مارے گئے لوگوں میں ہندو صرف 275 اورمسلمان 575کیوں تھے، جب کہ ہندو اہنسک اور مسلم ہنسک قرار پاتے ہیں اوران کی آبادی بھی 18 فیصد ہے۔بیشک ہندوبھی ہمارے ہم وطن بھائی ہیں۔ہماری نظر میں ان کا خون بھی ایسا ہی بیش قیمت ہے، جیساکسی مسلمان کا۔ لیکن یہ سوال ضرور کریں گے کہ کیا انسان کا خون گائے، بیل، ہرن، مور، بندر یا کسی اورجنگلی جانور کی جان سے بھی زیادہ ارزاں ہے کہ سینکڑوں اورہزاروں ماردئے جائیں، پولیس کی گولیوں سے بھون ڈالے جائیں مگر قوم کے اورسرکا ر کے ضمیر پر زرابھی ملال نہ ہو۔الٹا اس کو ردعمل قراردیا جائے، اس کی تاویل نیوٹن کی تھیوری سے کی جائے؟
یہ تمہید ہم نے اس لئے باندھی کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو یہ تسلی دلاسکیں کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ خون اور جان ہمارے حکمرانوں کی نظروں میں ان کے ہی ارزان ہیں۔ نہیں، پورے ملک میں کشمیر سے کنیا کماری اورپنجاب سے منی پورتک دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے لئے موجودہ سرکار کو ہی دوش نہیں دیا جاسکتا۔ یہ سانحات اس ذہنیت کی دین ہیں جس میں سابق حکمراں موجودہ سے مختلف نہیں رہے۔ اگر مختلف ہوتے تواقلتیوں نے ان کو ٹھکرانہ دیا ہوتا اور وہ خود آج ایوان اقتدار میں اقلیت میں نہ آگئے ہوتے۔(جاری: دیکھیں:دوسرا حصہ)

No comments: