Wednesday, July 13, 2016

The Zakir Naik Episode: قصہ ذاکرنائک کا: ”مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو“

احوال عالم

سید منصورآغا،نئی دہلی
مرزاغالب کا مشہورشعر ہے:
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
مفہوم اس چیستاں کا یہ ہے کہ شہد کی مکھی باغ میں جائے گی توچھتہ بنائے گی۔ اس میں موم بنے گا۔موم سے موم بتی بنے گی۔وہ جلے گی توپروانہ اس پرجان دیگا۔ پروانے کو جلنے سے بچانا ہے تو مگس (شہد کی مکھی) کو باغ میں نہ جانے دو۔ اس شعر سے وابستہ ایک حکایت بھی سن لیجئے۔ایک صاحب پان نوش فرمانے پنواڑی کی دوکان پر آئے تو اپنا کتا بھی ساتھ لے آئے۔ دوکان پر موم بتی جل رہی تھی اوراس کے گرد پروانے منڈلا رہے تھے۔ پروانوں سے پیٹ بھرنے چند چھپکلیاں بھی آگئیں۔کتے نے جو چھپکلیوں کو دیکھا تو پہلے تو غرایا اور پھر ان پر جھپٹ پڑا۔ چھپکلیاں تو بھاگ گئیں مگرغریب پنواڑی کاکتھہ، چونا، چھالیہ، تمباکو سب بکھر گیا۔ اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ اورڈنڈا اٹھاکرکتے پر دے مارا۔ کتا تو ٹیاؤ ں ٹیاؤں چلاتا ہوا پسپا ہوگیا لیکن اس کے مالک صاحب طیش میں آگئے۔ پنواڑی کا گریبان پکڑ کرنیچے گھسیٹ لیا اور جم کرا س کی پٹائی کردی۔ جھگڑادیکھ کر پولیس آگئی۔ معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچا۔ قاضی صاحب نے ایک پولیس افسر کو جانچ کا حکم دیا۔ اس نے شاید غالبؔ کا یہ شعر پڑھ رکھا تھا۔ رپورٹ حاضر کردی۔ حضوراصل قصور توشہد کی مکھی کا ہے۔ حکم دیجئے کہ شہر کی اردگرد ان کے سارے چھتوں کو جلادیا جائے تاکہ پھرایسا فساد پھر نہ ہو۔
ایسی ہی ایک حکایت حیدرآباد سے ایک نوجوان دوست علم اللہ نے لکھ بھیجی ہے۔ محلے کے لوگوں نے، جن کے مکانوں کے شیشے گلیوں میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کی گیندوں سے ٹوٹ گئے تھے،وراٹ کوہلی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے کہ یہ بچے ان کے دیکھا دیکھی ہی کرکٹ اسٹار بننے کے شوق میں ہمارے شیشے توڑ رہے ہیں۔کوہلی کو سزا دی جائے۔

میڈیا میں استغاثہ 

یہ حکایتیں اس استغاثہ کے پس منظر میں یاد آگئیں جو ان دنوں میڈیا میں اورہمارے بعض لوگوں کے ذہنوں میں ڈاکٹرذاکر نائک کے خلاف چل رہا ہے۔ ایک زمانے میں جب پاکستان کا کیو ٹی وی چینل یہاں آزاد تھا، کبھی کبھی ہم بھی ان کا پروگرام دیکھ لیا کرتے تھے۔پیس ٹی وی کبھی نہیں بھایا کہ اس میں کبھی تلاوت قرآن کے دوران اورکبھی مقرر کے جملے کے درمیان ہی اشتہارنشر ہونے لگتاہے۔البتہ جامعۃ الفلاح، بلریاگنج، ضلع اعظم گڑھ کی گولڈن جوبلی تقریب میں ذاکرصاحب کے پروگرام میں موجود رہنے اور ان کی سنی سنائی باتیں پھر سننے کا موقع ملا۔ میں ان کی عوامی مقبولیت دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دوردراز دیہات سے بہت بڑی تعداد میں مرد اور خواتین ان کو سننے آئے تھے اوردیر رات واپس لوٹے تھے۔بہت سوں کو میلوں دورجانا تھا اوران کے پاس کوئی سواری بھی نہیں تھی۔بیشک یہ مقبولیت اللہ کا انعام ہے اوراسلام سے لوگوں کی وابستگی کااظہار ہے۔ ان کو پابندی سے سننے والوں میں ایک بڑانام معروف صحافی ومصنف خوشونت سنگھ کا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک کالم میں ڈاکٹرذاکر نائک کی ذہانت، لیاقت اورانداز استدال کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ کیوٹی وی پر ان کا پروگرام پابندی سے دیکھتے ہیں۔ اس کے لئے پہلے سے تیارہوکر بیٹھتے ہیں۔ دوسرا کام کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔اچھا یہ ہوا کہ سنگھ صاحب سنہ 2014ء میں وفات پاگئے۔ ورنہ کیا بعید کہ موجودہ حکومت ان کے خلاف بھی انکواری بٹھادیتی۔

مواعظ سے فرق

ڈاکٹر ذاکرنائک کے پروگراموں کا مواد اورانداز بیان ہمارے روائتی علماء کی تقریروں اور مواعظ سے مختلف ہوتا ہے۔ان دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ ڈاکٹرنائک کا طرز استدلال منطقی ہے، جو ذہنوں کوخیرہ کرتا ہے۔جب کہ ہمارے قدماء اپنے مواعظ میں قرآنی اسلوب کواختیاکرتے تھے جو ذہن کو مطمئن اورقلب کو منور کرتا ہے۔ اس کا جو اثرعقاید، اعمال اور انداز فکرپر پڑتا ہے، وہ منظقی طرز استدلال سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس فرق کو آپ یوں سمجھئے کہ نماز کی ادائیگی کے وقت ایک صورت تو یہ ہے کہ پوری توجہ ارکان ”ٹھیک ٹھیک‘‘ ادا کرنے پر مرکوزرہے۔ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھائیں، ہتھیلی کا رخ کدھررہیں؟ پیر کس طرح رکھیں،ہاتھ کہاں باندھیں، کیسے باندھیں،رکوع میں کمر کتنی جھکائیں، سجدہ میں سرناک اورہاتھ کیسے ٹکائیں وغیرہ۔بیشک اس طرح نماز کا ظاہری حسن سنورجائیگا۔ دوسری نماز وہ ہے جس میں توجہ اللہ کی حضوری پراس طرح مرکوز ہو کہ انسان اپنے آپ کو ہی بھول جائے۔ جب سرسجدہ میں رکھا ہو تویہ دھیان ہی نہ رہے کہ سبحان ربی الاعلٰی کا کلمہ تین مرتبہ دوہرایا یہ تین سومرتبہ۔ یہ وہ نماز ہے جس کی نیت باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے جسم میں پیوست تیرنکلوانے کے لئے باندھی تھی۔ علامہ اقبالؔ نے اسی نماز کے لئے کہا ہے:
وہی ایک سجدہ ہے کارگر، جو ہو فکروہوش سے ماورا
وہ ہزارسجدے فضول ہیں، جو رہین لغزش پا نہیں 

ذاکرنائک کی خوبی

مجھے ذاکر نائک کے والد محترم ڈاکٹرعبدالکریم نائک کے ہمراہ تو چندروز سفر میں ساتھ رہنے کا موقع ملا تھا لیکن ذاکر صاحب کو بس دورسے ہی دیکھا ہے۔میں کہہ نہیں سکتا کہ ان کے سجدے میں لغزش پا کا اثر کتنا ہے اور ان کے خلاف جو صاحبان بیانات دے رہے ہیں ان کے حصے میں نماز میں استقامت کتنی آئی ہے؟تاہم یہ سچائی ہے کہ جدید ذہن استدلال پر زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔ اس لئے ان کو ذاکرنائک کا انداز بہت بھاتا ہے۔اپنے عوامی پروگراموں میں وہ ہر ٹیڑھے سیدھے سوال کا جواب برجستہ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی یاداشت غضب کی ہے۔ان کا مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ بھی خوب ہے۔ وہ مختلف مذہبی کتابوں سے جو حوالے زبانی دیتے ہیں، میں نے چند مرتبہ ان کو چیک کیا اوردرست پایا۔ وہ عموماً اسلام کی خوبیوں کو بڑے سلیقہ سے پیش کرتے ہیں۔ طول کلامی نہیں ہوتی۔ جوابات مختصراورعین سوال کے مطابق ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے اندازسے ادیان عالم کی گہری واقفیت کے ساتھ دین حق پران کا گہرا ایمان بھی جھلکتا ہے۔ اللہ نے ان کو قبول عام بخشا ہے اوراس کا استعمال وہ انسانوں کو اسلام کی جانب راغب کرنے میں کر رہے ہیں۔ بیشک ان سے متاثر ہوکر کچھ لوگ اسلام کی حقانیت کی طرف ضرورراغب ہوتے ہونگے۔ اللہ ان کی نیت کی حفاظت فرمائے اوران کی خدمات کو معاندین اسلام کے باطل پروپگنڈے کاتریاق بنائے۔

مخالفانہ مہم

ان کے خلاف تازہ مہم ڈھاکہ حملے کے بعد اخبا رڈیلی اسٹار کی اس غیرمصدقہ خبر کے بعد شروع ہوئی کہ سفاک قاتلوں میں ایک نوجوان ذاکر نائک سے متاثر تھا۔ بعد میں اخبار نے وضاحت کی اس نے صرف یہ لکھا تھا ان میں سے ایک نے سنہ 2015میں ذاکر نائک کے ایک ویڈیو کو فیس بک پر شئر کیا تھا۔ اس نے صفائی پیش کی ہے کہ نہ تو اس نے ذاکر نائک کو دہشت گردی کا موئد بتایا اور وہ ایسا خیال کرتا ہے۔ لیکن حسینہ واجد کی سرکار نے، جو بیرونی دباؤ میں بنگلہ دیشی عوام میں اسلام پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے حواس باختہ ہے اوراسلام پسندوں کے لئے پھانسی کے پھندے لٹکائے بیٹھی ہے،،فوراً بلا تحقیق اس خونریزی کا الزام اسلام پسندوں کے سرمنڈھ دیاجب کہ ان کے وزیر داخلہ اسد الزماں خان نے حالیہ خونی وارداتوں میں، جن میں کئی ممتاز شخصیات کا قتل بھی شامل ہے، اسرائیل پر شک ظاہر کیا ہے۔ اسلام پسندوں پر حسینہ واجد کے بلا تحقیق الزا م کی لپیٹ میں ڈاکٹر نائک بھی آگئے۔ ضابطہ کی کاروائی کے بغیران کے چینل پر آمرانہ انداز میں تالا جڑدیا گیا۔ شکایت حکومت ہند سے بھی کردی گئی جو اس وقت آرایس ایس کے پرچارکوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے بھی اناً فاناً ان کے خلاف جانچ پڑتال کا حکم دیدیا۔ ٹی وی چینلز کو اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا ایک موقع مل گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بعض نادان مسلمان بھائی بھی سنگھیوں کے دُھن پر گیت گانے لگے اور وہی مطالبہ کرنے لگے جو اسلام مخالفوں کا ہے۔ بظاہر یہ وہ اصحاب ہیں جو قدماء کے پیروکار ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے صرف دولت بٹورنے کی دوکانیں لئے بیٹھے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اگرموجودہ سرکار ذاکرنائک جیسے مقبول عام  مبلغ اسلام کو زیرکرنے میں کامیاب ہوگئی توکل کو باری اسلام کے دوسرے نام لیواؤں کی بھی آئے گی۔
اسی دوران ایک خبر یہ آئی تھی کہ دارلعلوم دیوبند نے بھی ڈاکٹرذاکر نائک کے خلاف فتوٰی جاری کیا ہے جس کی وضاحت مولانا عبدالخالق مدراسی، قائم مقام مہتم نے کردی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ موجودہ وبال کے پس منظر میں کوئی فتوٰی جاری نہیں ہوا، البتہ اٹھ دس سال قبل ان کے طریقہ کار سے اختلاف ضرور کیا گیاتھا۔ مولانا نے بڑی ہی معقول بات یہ کہی ہے کہ”بعض امور پران سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن وہ عالم اسلام کے ایک مسلمہ اسکالر ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔چنانچہ بغیر مناسب انکواری کے ان کومطعون کرنا، جیسا کہ میڈیا میں ہورہا ہے اوریہ الزام کہ وہ دہشت گردی کے حامی ہیں، صریحاً بے اصل ہے۔“اسی طرح کا موقف جماعت اسلامی ہند، جمعیت اہل حدیث، جمعیۃ علماء ہند اورملی کونسل سمیت کئی دیگر چھوٹی اوربڑی تنظیموں اورافرادنے بھی اختیار کیا ہے۔ پونا میں کوئی درجن بھرمسلم تنظیموں نے مشترکہ مظاہرہ کیا، جلوس نکالا۔ہم بھی اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ 

یہ کوتاہ نظرلوگ

لیکن بہرحال ملت اسلامیہ میں طالع آزما اورکوتاہ نظرافراد کی کمی نہیں رہی۔ان کی تاریخ جہاں ٹیپو سلطان اورصلاح الدین ایوبی کے کارناموں سے بھری ہے وہیں میرجعفراورمیرصادق بھی کم نہیں ہوئے۔ چنانچہ ان صاحبان کے طرف سے سیوم سیوکوں کی سرکار سے دست بستہ گزارش کی جاری ہے کہ ذاکرنائک پر پابندی لگائی جائے۔ایک صاحب نے تو ایک سانس میں ان کا پاسپورٹ ضبط کرلینے اوران ملک بدر کرنے کا بھی مطالبہ کرڈالا۔لیکن عوام کے رجحان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عام مسلمانوں کی اکثریت اس معاملے میں ڈاکٹرذاکر نائک کے ساتھ کھڑی ہے۔ان میں وہ لوگ بھی ہیں جن کو ان سے مختلف وجوہ سے اختلاف یا انقباض ہے۔ذاکرنائک کی ایک عالمی حیثیت ہے۔ ان کو سعودی حکومت سے خدمت اسلام کے اعتراف میں شاہ فیصل ایوارڈ مل جکا ہے۔اس لئے آثار یہ ہیں کہ مودی کی سرکار، جو خود سعودی اعزاز قبول کرچکے ہیں، سوچ سمجھ کر اقدام کریگی۔تاہم موجودہ سیاسی ماحول میں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کی بنا پر معاندین اسلام کے آلہ کار نہ بن جائیں۔ اپنی بات علامہ اقبال ؔکے ایک شعر پر ختم کرتا ہوں۔امید کہ اہل نظر اپنی دعاؤں سے نوازیں گے۔
دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثرِ کہن
نہ تیری حکایت سوز میں، نا میری حدیث گداز میں 

وزیراعظم کا بیان

محترم وزیراعظم نریندر مودی نے نیروبی (کینیا) میں یونیورسٹی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے بالکل درست کہا ہے کہ  ”نفرت اورتشدد کی تبلیغ کرنے والے ہمارے معاشر ے کے تانے بانے کے لئے خطرہ ہیں۔“ہرچند کہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن یہاں میڈیا نے اس کا رخ ذاکرنائک کی طرف موڑ دیا۔ یہ ایک نازیبا حرکت ہے۔ ذاکر نائک کے ہزاروں ویڈو ٹیپ مہاراشٹرا پولیس کے محکمہ خفیہ نے چھان مارے اور ان میں کوئی بات قابل گرفت نہیں پائی۔ ذاکر نائک تو بہت زورشور سے ہندومسلم دوستی کی بات کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ تمام فرقے آپسی اختلافات کے باوجود مل جل کر ملک کو آگے بڑھائیں۔ اسی طرح ہمارا ملک سپرپاور بن سکے گا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں ہندستان ایک بہترین ملک ہے۔ البتہ کچھ دوسرے لوگ ہیں جو دعوا تو قوم پرستی کا کرتے ہیں، لیکن علی الاعلان فرقہ ورانہ نفرت اورتشدد کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سرزمین ہند سے مسلمانوں کو مٹا دو۔کوئی ان کو ملک بدر کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔کوئی کہتا کہ ساری مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کردو۔کوئی مسلم لڑکیوں کو اٹھا لیجانے کی دھمکی دیتا ہے۔کوئی جگہ جگہ کم سن نوجوانوں کو اسلحہ چلانے کی تربیت دے رہا ہے اوران کے ذہنوں میں اقلیت مخالف زہر گھول رہا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ چنانچہ ہم اپنی ملی تنظیموں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ وزیراعظم کے اس بیان کے حوالہ سے ایک محضرنامہ معہ حوالہ جات تیارکر کے ان کو پیش کریں اور ان سے گزارش کریں کہ نام نہاد ہندو نوازوں کو اس طرح کی حرکتوں سے باز رکھا جائے۔ یہ کام ان کے لئے کچھ مشکل بھی نہیں۔ ایسے کئی لوگ حکمراں پارٹی کے اور ان کی کابینہ کے رکن ہیں۔ اکثر لوگوں کا تعلق سنگھ پریوار سے ہے اوروہ وزیراعظم کے مداح بھی ہیں جن سے واقعی ہمارے معاشرے کے تانے بانے کو خطرہ لاحق ہے۔ (ختم)
Cell: 9818678677

No comments: