Thursday, May 5, 2016

Not intolerance, India is facing "politico-cultural fascism" عدم تحمل نہیں، یہ جارحیت اورلاقانونیت ہے۔

احوال عالم
  عدم تحمل نہیں، یہ جارحیت اورلاقانونیت ہے۔
سید منصورآغا،نئی دہلی
امریکی سرکاری ادارہ ”یو ایس سی آئی آر ایف“ (یو ایس کمیشن برائے بین اقوامی مذہبی آزادی)نے اپنی  تازہ رپورٹ میں گرفت کی ہے کہ ہندستان میں سنہ 2015 ء کے دوران مذہبی تعصب پر مبنی قولی و فعلی تشددکے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ تشدد کرنے والوں کو شہ برسراقتدار پارٹی سے ملتی رہی ہے۔ اس کمیشن نے اس سے گزشتہ سال کی رپورٹ میں بھی اس طرح کے واقعات کی نشاندہی کی تھی جس پر خاصا شور اٹھا تھا۔
اس طرح کے تشددکے لئے انگریزی میں "intolerance"کی اصطلاح رائج ہوگئی ہے،جس کا لفظی ترجمہ ہمارے اردو دوست ”عدم برداشت“ یا عدم تحمل“ کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہ اصطلاح اصل صورتحال کی غمازی نہیں کرتی۔ جس کو Intolerance  یا عدم برداشت کہا جارہا ہے وہ دراصل ”مذہبی وثقافتی تشدد پسندی اورکھلی جارحیت“ (aggression)ہے۔ برداشت توزیادتی کو کیا جاتا ہے۔ اس ملک میں اقلیتوں کا وجود، ان کی مذہبی وثقافتی آزادی، کسی دیگرفرقہ پر کوئی ظلم اورزیادتی نہیں جس کو”برداشت“کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہو۔ ہمارا وجود، ہماری آزادی ہماراآئینی، قانونی، جمہوری اور شہری حق ہے۔ اس کی مخالفت،اس میں مداخلت صریحاً جارحیت ہے۔ اس لئے ہم اس کو ”مذہبی وثقافتی بنیاد پر قولی وفعلی تشددوجارحیت“ قراردیتے ہیں۔ یہ ہم پر ناجائز حملہ ہے۔ہم جارحیت کا جواب جارحیت سے نہیں دیتے۔ مصلحت کا یہی تقاضا ہے۔ لیکن اس کو برداشت کرنا کمزوری اوراس کے خلاف آواز اٹھانا، اس کے دفیعہ کی پرامن کوشش کرنا اوراس کے لئے برادران وطن کے دلوں پر دستک دینا ہمارا قانونی حق اورذمہ داری ہے۔ ہماری آواز کو دبانے کی کوشش تشدد پسندی ہے جس کے پیش نظر ملک میں ثقافتی اجارہ داری قائم کرنا ہے۔ یہ جارحیت اور تشدد پسندی اب ”دہشت گردی“ کے زمرے میں داخل ہوا چاہتی ہے۔
امریکی مداخلت ناپسندیدہ
ہرچند کہ ہم یہ ہرگز پسند نہیں کرتے کہ ہمارے داخلی معاملات میں امریکا (یا کوئی دیگر ملک)مداخلت کرے جس کا انسانی حقوق اورمذہبی آزادی کے باب میں خود اپنا ریکارڈ داغدار ہے۔ لیکن حکومت کو لیپا پوتی کرنے کے بجائے اس پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے کہ اس رپورٹ سے بات پوری دنیا میں پہنچی ہے اورملک کی خراب تصویرسامنے آئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ امریکا ہند کو ٹھیک سے سمجھتا نہیں، یا ہم ایک جمہوری ملک ہیں یا ہمارے آئین اورقانون نے کیا گارنٹیاں دی ہیں۔بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان گارنٹیوں کو کس طرح پامال کیا جارہا ہے اوران کی روح کو کس کس طرح مجروح کیا جارہا ہے؟کس طرح جمہوریت کو اکثریت کی دھونس میں بدلا جارہا ہے؟ 
 مذکورہ رپورٹ میں حکومت ہندکو تلقین کی ہے کہ وہ ان”ذمہ داروں اورمذہبی لیڈروں“کی برسرعام سرزنش کرے جو اہانت آمیزبیانات دیتے ہیں۔دیسی اخباروں نے اس کے ترجمہ میں سہو کیا ہے اور لکھ دیا ہے:  ”حکومت برسرعام سرزنش کرتی ہے۔“ جملہ کا مبدا (Report suggested)ور رپورٹ کی بین السطوراس ترجمہ کی تائید نہیں کرتے۔ اس میں صاف کہا گیا ہے کہ  ”اقلیتی فرقوں خصوصاً عیسائی، مسلم اورسکھوں کو ڈرانے، دھمکانے، ہراساں کئے جانے اورتشددکے متعدد واقعات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔“ یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ یہ اذیتیں عام طورسے نام نہاد قوم پرست ہندوعناصرنے پہنچائی ہیں اوریہ کہ ”برسراقتدار پارٹی، بی جے پی نے پس پردہ ان شورش پسند وں کو شہ دی ہے اورمذہبی کشیدگی سے (سیاسی)فائدہ اٹھایا ہے۔“جو شہ دے رہے ہیں وہ سرزنش کیوں کریں گے؟ 
 منگل کی صبح نیٹ پر رپورٹ آتے ہی اس بڑی تعداد میں ردعمل آنے لگے۔ اس کالم نویس نے صبح نوبجے تک اس پر تقریباً 550  تبصرے پڑھے۔ان میں یہ صاف نظرآرہا ہے کہ ایک مخصوص سیاسی نظریہ کے حاملین رد اور تنقید کے لئے منظم ہیں۔ بیشتر تاثرات اسی تشددپسندی کی گواہی دے رہے ہیں جس پر رپورٹ نے گرفت کی ہے۔ اگران تاثرات کاجائزہ لیا جائے تو اس دعوے کی قلعی کھل جائیگی کی ہندستان میں نظریاتی اورفکری تشدد پسندی کا زور بڑھ نہیں رہا ہے۔کئی لوگوں نے دیگرممالک کا ذکر کرکے ان کی آڑ لینے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے کیا کرتے ہیں؟ ہمیں اس سے سروکار نہیں۔
دوسرا پہلو
بھاجپا اورسنگھ پریوار کے لیڈروں کا یہ دعواکہ قدیم زمانہ سے ہندستانی سماج میں صبروتحمل کا دوردورہ رہا ہے، ایک اعتبار سے غلط نہیں۔ مگراس کے لئے تھوڑی سی وضاحت درکار ہے۔اس سچائی سے کون انکارکرسکتا ہے کہ یہاں کے قدیم باشندوں میں صبروتحمل اورزیادتی کو خاموشی سے برداشت کرلینے کا مادہ انتہائی حد تک موجود رہا ہے۔ اگر نہ رہاہوتا تو ایس ایس/ ایس ٹی اور او بی سی جیسے طبقے وجود میں نہ آتے۔ ان مظلوموں کی تاریخی داستان اعلان کرتی ہے کہ اعلاذات کے ہرظلم اورہرزیادتی کو بڑی عاجزی اور مذہبی عقیدت مندی کے ساتھ سہا ہے۔ دنیا کے مظلوم ترین طبقوں میں بھی اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔غلامی سے بھی بدتر اونچ نیچ، چھوت چھات، ذہنی، جسمانی اورمالی استحصال کایہ نظام، مظلوم طبقوں کے بے پناہ صبرو ضبط کی بدولت ہی ہزاروں سال سے جاری رہاہے۔
لیکن اس صبروضبط کا کوئی کریڈٹ ان طبقوں اورتحریکوں کو نہیں جاتا جو اس کا ڈھنڈورہ پیٹے ہیں،حالانکہ وہ موجودہ آئین کو ہٹاکر، قدیم برہمنی ذہنیت اورہندو ثقافتی نظام کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں، ذات برادری کی اونچ نیچ جس کا لازمی حصہ ہے۔ برہمنیت کا تعلق کسی خاص ذات یا برادری سے نہیں، یہ ایک خاص قسم کی ذہنیت ہے جوتنگ نظری پرقائم ہے۔یہ ذہنیت نام نہاداعلاطبقوں کا ورثہ ہے۔ اس کے نزدیک دیگرطبقات فطری طور سے ذلیل، حقیر اورکمتر ہیں۔ان سے وہ اپنی ہرطرح کی خدمت لینے کا حق رکھتے ہیں۔ یہاں تک ان کے لئے ان کی خواتین کا جنسی استحصال بھی روا ہے۔
 گزشتہ ساٹھ، پینسٹھ سال میں دھارے کا رخ کچھ بدلا ہے۔ سابق دلت اوراچھوت اپنا حق جتانے لگے ہیں۔ ہزارہاسال سے ان کے ساتھ چھوت چھات برتنے اور ان کا استحصال کرنے والوں کے لئے نئی صورت حال باعث عار ہے۔ ان کا دل اب بھی وہی سب کچھ مانگتا ہے۔ مگراب صورتحال بدل رہی ہے اوران کو ”برداشت‘‘ کرنے کا مطالبہ اب ظالم طبقات سے کیا جانے لگا ہے، جو درحقیقت ان کے گلے سے نہیں اتر رہا۔  چنانچہ اب بھی دلتوں پرظلم وزیادتی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کنہیا کمار اوراس کے ساتھیوں کو جس چکی میں پیسنے کی کوشش ہورہی اس کے دونوں پاٹ اسی برہمنی ذہنیت اورقدیم روایت کی دین ہیں۔
تیسراپہلو
اس طبقاتی تشدد و نفرت کا ایک پہلو وہ ہے جو اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے۔یہ پہلو نیا نہیں ہے۔ اس کا سلسلہ قبل آزادی سے جاری ہے۔ آزادی کے بعد ہرچند کہ سیکولرآئین کے تحت سرکاریں برسراقتدارآتی رہیں، مگر ان میں بھی برہمنی ذہنیت حاوی رہی۔ چنانچہ اقلیت کش فسادات کا سلسلہ قائم کیا گیا،جن کو ”فرقہ ورانہ فساد“ کہہ کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک بھی ہلاکت خیزفساد ایسا نہیں ہوا جس میں صرف عوام ملوث رہے ہوں۔وبال ہمیشہ سیاسی غرض سے مٹھی بھرلوگوں نے کھڑا کیا۔ کسی چھوٹے موٹے تصادم کو بہانا بناکر اقلیت کو نشانہ بنایا گیا اورعوام نے نہیں، حفاظتی دستوں نے قتل وغارت گری کااصل کام کیا۔ یہ سب سیاسی سرپرستی میں ہوا۔ 
امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانبداری، عدالتی نظام میں کوتاہی جیسے دیرینہ مسائل کے ساتھ، جن کی بدولت مجرموں کو سزا نہیں مل پاتی، تعصب اورتشددپسندی نے ایک ایسا شدید ماحول پیداکردیا ہے جس میں اقلیتیں (بشمول پسماندہ طبقات اورآدی باسی) انصاف سے محروم رہ جاتے ہیں اورخود کو غیرمحفوظ پاتے ہیں۔ اس طرح کے جرائم سے پار پانے کے لئے ان کے سامنے کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔“ 
مودی جی کیا جواب دیں گے؟
 یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جب مودی جی سرکاری دورے پر امریکا جانے والے ہیں۔مذکورہ کمیشن نے امریکی سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ ہند میں مذہبی آزادی میں کوتاہی اورتعصب وتشدد میں اضافہ کے معاملے کو دو طرفہ بات چیت میں اٹھائے۔ عین ممکن ہے امریکا اس رپورٹ کا استعمال اپنی قومی فائدے کے لئے کرے۔ ہندستان نے ابھی حال ہی میں امریکا کواپنے فوجی سہولتیں استعمال کرنے کی اجازت دیکر سنگین غلطی کی ہے۔یقینا امریکا اس رپورٹ کے حوالے سے مزید مراعات کے لئے دباؤ ڈالیگا۔ 
 قارئین کو یاد ہوگا کہ صدرامریکا مسٹڑبارک اوبامہ جب ہندستان کے دورے پر آئے تھے تو سفارتی آداب کو نظراندازکرکے مسٹرمودی نے دوران گفتگو مہمان صدر کو ’مسٹرپریذیڈنٹ‘ کے بجائے ’اوبامہ‘ کہہ کر مخاطب کیاتھا۔ اس دورے کے موقع پر بھی صدراوبامہ نے ہندستان میں مذہبی تعصب کی رو کو یہ کہہ کرہدف تنقید بنایا تھا کہ ”ہرایک ہندستانی کو شاہ رخ خان، میری کوم اورملکھاسنگھ کی کامیابی پر یکساں خوش ہونا چاہئے۔“(ان تینوں کا تعلق اقلیتی فرقوں سے ہے۔)
ہمارے ملک میں فاسد قوم پرستی، گؤ رکشا، لوو جہاد اورگھرواپسی کے نام پر خصوصاً اقلتیو ں کے خلاف جو ماحول سازی کی گئی ہے، اس کا واحد مقصد اکثریتی طبقہ کے سادہ لوح رائے دہندگان کے جذبات کااشتعال دلاکر ووٹ حاصل کرنا ہے۔ ایسی صورت میں خود ہماری کیا حکمت عملی ہونی چاہئے؟ ہمارا مفاد ان کے لگائے ہوئے خاردار درختوں کو اورطاقت پہنچانا ہے یا فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے کچھ صبروضبط اورکچھ مثبت اقدامات پر متوجہ ہونا ہے؟  اس پر ہمیں غورکرلینا چاہئے؟ 
فوٹو جرنلسٹ کو صدمہ
دہلی کے ممتاز فوٹوجرنلسٹ جناب معین احمد کی والدہ کا گزشتہ منگل(3مئی) انتقال ہوگیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ تدفین جامعہ نگرقبرستان میں ہوئی جس میں متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان کے والدکا انتقال عرصہ قبل ہوگیا تھا۔معین صاحب کی تعلیم وتربیت ماں کی بدولت ہی ہوسکی۔ نیک خاتون تھیں۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اورمتعلقین کو صبرجمیل دے۔ آمین۔
Cell: 9818678677

No comments: