Thursday, April 14, 2016

The disaster from fireworks. Water crises and false religiosity: آگ کا قہر،پانی کا قحط اور فاسد دھارمکتا


حوال عالم
آگ کا قہر،پانی کا قحط اور فاسد دھارمکتا 
سید منصورآغا،نئی دہلی
کیرالہ کے شہر کولام کے پتن گل مندر میں اتوار کو علی الصبح ساڑھے تین بجے خود انسان کا کیا دھرا ایک سانحہ پیش آیا جس میں ایک سو دس سے زیادہ افراد کی جانیں گئیں اور کوئی چارسوزخمی ہوئے۔ ان میں بعض زندگی بھر کے لئے معذوری کا کرب جھیلیں گے اوربعض جزوی معذوری کا۔ ہمارے نزدیک یہ سوال غیر اہم ہے کہ متاثرین کا تعلق کس دھرم اورذات سے تھا؟ ہمارا ایمان ہے کہ سب انسان ایک ہی ماں اورباپ کی اولاد ہیں اور سب کی جانیں برابر مقدس اورمحترم ہیں۔جان بوجھ کر یا جانتے بوجھتے کوئی ایسی حرکت کرنا جس سے خود اپنی یا کسی دوسرے کی جان جوکھم میں پڑجائے، لوگوں کو تکلیف پہنچے ، ہرگزکسی مذہب کی تعلیم کا حصہ نہیں ہوسکتی۔ 
مندرانتظامیہ نے آتش بازی کا یہ جان لیوا کھیل اس کے باوجود کھیلا کہ مندر کے گرد آباد لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور سابق میں کچھ مکانوں کو اس طرح کی آتش بازی سے نقصان پہچا تھا۔اس کے جو فضائی آلودگی بڑھتی ہے اوراس سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے وہ بھی جگ ظاہر ہے۔ 
ضلع انتظامیہ نے اس کھیل کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا۔ اتفاق سے علاقہ کے ضلع کلکٹراورایس ڈی ایم ،دونوں مسلمان ہیں۔ دونوں نے جب قاعدے کے خلاف ہونے والے آتش بازی کے اس مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تو ان کے خلاف بدنیتی سے مذہبی منافرت کی مہم چلائی گئی۔ یہ مہم بھی کسی دین دھرم کی تعلیم کا نتیجہ نہیں ہوسکتی۔ مندرانتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ آتش بازی محض علامتی ہوگی اوراس میں 15کلو سے زیادہ آتش گیر مادہ استعمال نہیں ہوگا ،مگر وہاں تو کئی کونیٹل آتش بازی لاکر اسٹاک کر دی گئی تھی۔ لوگوں کو اکسایا گیا کہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے آئیں۔ کئی سیاسی لیڈروں نے بھی ناموری کی خاطرلاکھوں روپیہ کے آتش بازی دان کی ۔ پولیس نے بھی ضلع حکام کے آرڈر کو پس پشت ڈال دیا اورآتش بازی کرانے میں مدد دی۔ بہانا یہ بنایا کہ روکتے تو فساد ہوتا۔ اب نہیں روکا تو کیا ہوا؟ اس کے لئے کون ذمہ دار ہے؟
دھماکہ میں اس عمارت کے پرخچے اڑ گئے جس میں یہ آتش بازی رکھی گئی تھی۔ صبح تین بجے تک اس میں سے اسی فیصد آتش بازی فضا کوآلودہ کرچکی تھی ۔ دھماکہ ہوا تو اسٹاک میں صرف بیس فیصد آتش بازی بچی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ آتش بازی کے سامان سے بھری ہوئی دواورگاڑیاں کچھ فاصلے سے کھڑی ملیں۔ گویا جھوٹی شان اور مذہبیت کے نام پر لاکھوں روپیہ آگ اوردھوئیں میں اڑادیا گیا اوراتنی بڑی تباہی کو دعوت دی گئی۔اگر دھرم کا صحیح شعور ہوتا تو یہ رقم غریبوں کے علاج ومعالجہ اورتعلیم پر خرچ کی جاسکتی تھی۔اتنے پیسے میں ایک اسکول بن سکتا تھا۔ بیس تیس بے آسرابچیوں کی شادی ہوسکتی تھی۔کئی بیواؤں کو سہارادیا جاسکتا تھا۔ ایک ڈسپنسری قائم کی جاسکتی تھی۔ مگرحالیہ چند برسوں میں مذہب کے نام پر فرعونی سیاست نے مذہبی اقدار کو پامال کردیا ہے اورمذہب کے نام پرجنون، خون اور حماقتوں کو فروغ دیا ہے۔ 
یہ سب کون کررہا ہے؟وہی لوگ جو بھارتیہ سنسکرتی اورسبھیتا کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں اوراپنے علاوہ ہرکسی کو دیش کا دشمن قراردیتے ہیں۔ ایسی مذہبیت جو مذہبی اقدار کو پامال کرتی ہو چاہے ہندوؤں میں پنپے یا مسلمانوں میں ، لائق مذمت ہے۔ اس سانحہ کو ہمیں اسی نظر سے دیکھنا چاہئے اوراس ذہنی مرض کے علاج کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ اس طرح کی فاسد ذہنیت ملک کے ہر طبقے اور فرقے میں پنپ رہی ہے۔ ہرایک نے مذہب کی اپنی تعبیر گڑھ لی ہے ۔ انسانیت کو راحت پہنچانے کے بجائے انسانوں کو آزار پہچانے کو دین اوردھرم کا کام سمجھ لیا گیا ہے۔
خبریں یہ بھی ہیں کہ مندرٹرسٹ کے ذمہ داروں نے پولیس اورانتظامیہ افسران سے غلط بیانی سے کام لیا۔ آخر وہ کونسی دیوی یادیوتا ہے جو جھوٹ اورمکاری سے کی جانے والی ایسی رسم سے خوش ہو جس سے انسانوں کو تکلیف پہنچے؟جن لوگوں کا اخلاق اس قدرگرا ہوا ہو وہ ہرگز اس اہل نہیں کہ کسی مندر، مسجد، مٹھ یا کسی دیگرمذہبی مقام کے منتظم بنائے جائیں۔ 
اس سانحہ سے متاثر ہونے والے سبھی خاندانوں کے ساتھ ہم ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اوراس امر پر تاسف کرتے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پرہونے والی خرافات کا مزالوٹنے وہاں جمع ہوگئے تھے جب کہ اس طر ح کے حادثے کو خطرہ پوری طرح سے محسوس کیا جا رہا تھا اوراس کوروکنے کی تدابیر کو خود مذہب کے ٹھیکیداروں اورعوام کے نام نہاد نمائندوں نے ناکام کردیا تھا۔عوام بھی ان کے ساتھ ہولئے۔ 
اس کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک بڑے ہندو مذہبی رہنما نے کہہ دیا ہے کہ یہ حادثہ دراصل شنی مندر میں خلاف روایت عورتوں کے داخل ہونے سے پیش آیا۔ ہرسال مندروں میں میلوں ٹھیلوں کے دوران جان لیوا حادثے ہوتے رہتے ہیں۔کیا ان سب کے لئے عورتیں ہی قصوروار ہیں؟ ہندستان کی قدیم روایات میں عورت ذات کے خلاف اس طرح کی گری ہوئی ذہنیت عام رہی ہے ۔ لیکن اب ماحول بدل رہا ہے اورکسی بھی شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی حادثہ کے لئے عورت ذات پر لانچھن لگائے۔ہم اپنی ساری ہندوبہنوں کی طرف سے اس بیجا الزام کی مذمت کرنااپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس پر واقعی احتجاج کیا جانا چاہئے۔
پانی کا قحط: 
ایسا ہی ایک بڑاسانحہ خود انسان کی اپنی حماقتوں کی بدولت مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ علاقہ میں پانی کے قحط کی صورت میں اپنے پر پھیلا رہا ہے ۔ اس آفت کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں سیاست دانوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے ان سب تالابوں اورجھیلوں کو بھرکربستیوں میں بدل دیا گیا ہے جن میں برسات کا پانی جمع ہوتا تھا۔ راجدھانی دہلی میں بھی یہی ہوا ہے۔چنانچہ چالیس سال پہلے پانی محض چند فٹ پر دستیاب تھا ۔اب ساٹھ سترفٹ گہرائی تک بھی نہیں ملتا۔ زمینی پانی کی بربادی حد سے زیادہ ہو رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہریانہ اورپنچاب جیسے علاقے بھی بنجر ہوتے جارہے ہیں۔ مہاراشٹرا میں تو سرکاری خزانوں سے اربوں روپیہ آبی وسائل کے فروغ کے نام پر لیڈروں اورٹھیکیداروں کے پیٹ میں پہنچ چکا ہے اورہوا کچھ نہیں۔ ان بدبختوں کو خداکا خوف نہیں آتا۔ ان علاقوں سے یہ خبریں بھی آرہی ہے کہ پانی گراں قیمت پر فروخت ہورہا ہے یہاں تک مریضوں اورمعذوروں کو بھی نہیں مل رہا ہے۔ گاؤں کے باشندے بڑی تعداد میں اپنے گھربار اورکھیت کھلیان چھوڑ کر شہروں کی طرف نکل گئے ہیں اوراپنے پیچھے بوڑھے ماں باپ کو اس مصیبت میں گرفتارچھوڑ گئے ہیں۔ ایک خبرامباجوگائی (سابق نام مومن آباد)ضلع بیڑ سے یہ آئی ہے کہ ایک معمر خاتون کو اپنی روٹی بیچ دینی پڑی تاکہ پینے کو پانی مل جائے۔ خود غرضی کا یہ عالم ہے اور آفت میں بھی لوٹ مارکابازر گرم ہے۔ 
دوسری طرف مہارشٹرا کے وزیراعلا اوروہاں کی سرکار ’’بیف بین‘‘اور ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘،جیسی غیرحقیقی بحثوں کو ہوادیکر اس آفت پرپردہ ڈا ل دینا چاہتی ہے۔ بات گھوم پھر کر پھر مودی جی اوران کے مداحوں پر آتی ہے جنہوں نے عوام کے حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال کرے مصنوعی مسائل کو اورفرقہ ورانہ منافرت کو ابھارا ہے۔کبھی لوو جہاد کا نعرہ لگتا ہے، کبھی گھرواپسی کی مہم چھیڑی جاتی ہے، کہیں شری رام کے نام پر مندر کی تحریک کو ہوادی جاتی ہے، کہیں گؤماتا کا چرچا ہے اورکہیں کوئی اورمصنوعی مسئلہ ہے۔ 
یوپی بھاجپا صدر
اس دوران بھاجپا نے اترپردیش میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں پارٹی کی باگ ڈوردیدی ہے جو شایدامن اورانصاف کے معنے اورمفہوم کو ہی نہیں سمجھتا۔ یہ صاحب چند سال پہلے تک وی ایچ پی میں تھے۔ سنہ 2011میں کسیا گاؤں کے ایک کسان غلام غوث عر ف چاندخاں کے قتل میں نامزد ہوئے۔ چاندخاں کا قتل عین عید کے دن اس وقت ہوا تھا جب اس نے وی ایچ پی کے شرپسندوں کو نماز کے وقت تیزآواز سے ڈیک بجانے کوروکا۔ رپورٹ کے مطابق موریہ کے اکسانے پر وی ایچ پی کے لوگوں نے غلام غوث پر لاٹھیاں برسائیں جس سے ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ان کی اس حرکت کا انعام ان کو یہ ملا کہ پہلے بھاجپا کے ٹکٹ پر ایم ایل اے اور پھر پھول پور سے ایم پی چن لئے گئے۔ بھاجپا صدر نامزد کردئے جانے کے بعد یہ عقدہ کھلا کہ وہ ایک غریب مسلمان کا خون کرکے بڑے لیڈربنے ہیں۔ مقتول چاند خاں کے بھائی کا بیان ہے کہ اس وقت بی ایس پی کی سرکار تھی اور مقدمہ درج ہوگیا تھا۔ مگرسماجوادی سرکار نے مظلوم خاندان کی کچھ سدھ نہیں لی اوربالواسطہ موریہ کی مدد کی۔ چنانچہ موریہ کے دباؤ میں اوراس کے خوف سے سارے گواہ عدالت میں مکرگئے اورملزمان بری ہوگئے۔ ایسے شخص میں بھاجپا کو یوپی میں اپنا مسیحا نظرآیا ہے۔
ایک اورایسا ہی ہیرو گزشتہ ہفتہ گجرات میں ابھرا ہے ۔ سابق پولیس افسر ونجارا، جس پر عشرت جہاں، سہراب الدین، کوثربی اورپرجاپتی سمیت کم از کم آٹھ افراد کو فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے کا الزام ہے، جب عرصہ بعد عدالت سے اجازت ملنے پر احمدآباد واپس لوٹا تو بھاجپائیوں اوران کے ہم نواؤں نے اس کا زبردست استقبال کیا۔ سوال یہ ہے کہ اخلاق اورکردار کی دعویدار یہ پارٹی اب ایسے لوگوں کو جن کا نام جرائم سے جڑا ہے، آگے بڑھا کر کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ کیا وہ ہندستانی عوام کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ جرم کرو اور آگے بڑھو؟ مودی جی زرا سوچ کر بتائیں کہ کیا دیش ایسے ہی ترقی کریگا اور بھاگوت جی بھی فرمائیں کہ دنیا بھر میں بھارت ماتا کی جے بولے جانے کے کیایہی لچھن ہیں؟
Cell: 9818678677

No comments: