Sunday, April 17, 2016

دل کی ہمواریRaziul Islam Nadvi on Sports and spirit of Islam

دل کی ہمواری 
تحریر مولانا رضی الاسلام ندوی کی ہے

         ڈاکٹر صاحب نے کہا : "آپ کو شوگر ہو گئی ہے_یہ ایک گولی روزانہ ناشتے کے ساتھ استعمال کیجیے اور روزانہ صبح ٹہلنے کا معمول بنائیے_" میں نے سوچا :صبح سویرے سڑکوں پر مارے مارے پھرنا ٹھیک نہیں، کچھ کھیلنا چاہیے_
          بیڈمنٹن کھیلنے کا پروگرام بنا_برادر انعام الرحمن خان،انچارج ایجوکیشنل فیڈریشن، جناب ارشد شیخ، انچارج شعبہ میڈیا، جناب انجینیر سلیم صاحب، قیم جماعت اسلامی ہند اور میں، ٹیم تیار ہوگئی_میری رہائش گاہ سے قریب اسکالر اسکول کے برابر جگہ تجویز کی گئی_وہاں کنسٹرکشن کا میٹیریل پڑا ہوا تھا، تھوڑی بہت صفائی کرکے بیڈمنٹن کی فیلڈ بنا لی گئی اور کھیل شروع ہوگیا_
    دوچار روز کھیلنے کے بعد اندازہ ہوا کہ زمین ہموار نہیں ہے، کنکر پتھر نکلتے رہتے تھے، زمین بھی اوبڑ کھابڑ تھی، چنانچہ طے ہوا کہ زمین کو باقاعدہ ہموار کرالیا جائے_مزدور لگائے گئے، پھاوڑے سے کنکر پتھر نکلوائے گئے، اونچا نیچا ختم کیا گیا، پانی ڈلوایا گیا، اس طرح زمین بالکل ہموار ہوگئی_
      اگلے دن کھیل میں بڑا مزا آیا، لیکن اس سے زیادہ لطف اور مسرت کی بات میرے لیے یہ تھی کہ اس عمل کے ذریعے ایک حدیث کا مفہوم میرے ذہن میں نقش ہو گیا_
          سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ص سے دریافت کیا گیا : سب سے بہتر انسان کون ہے؟ آپ ص نے فرمایا :کل مخموم القلب صدوق اللسان_کہا گیا : صدوق اللسان (زبان کا سچا) کا مطلب تو ہم جانتے ہیں، مخموم القلب(دل کا ہموار) سے کیا مراد ہے؟ فرمایا :اس سے مراد وہ متقی، پاکیزہ شخص ہے جس کے دل میں نہ گناہ ہو، نہ باغیانہ رویہ ، نہ کینہ کپٹ ، نہ بغض وحسد_ھو التقی النقی الذی لا اثم فیہ ولا بغی ولا غل ولا حسد (ابن ماجہ)
           عربی زبان میں "خمامۃ" کوڑا، مٹی، کنکر پتھر وغیرہ کو کہتے ہیں_گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد جو کوڑا کرکٹ اکٹھا ہوتا ہے اسے “خمامۃ البیت"اور کنویں کی صفائی کرنے پر اس کے اندر سے جو کوڑا، کیچڑ اور کنکر، پتھر، لکڑی وغیرہ کے ٹکڑے نکلتے ہیں، انھیں "خمامۃ البءر" کہا جاتا ہے_مخموم سے مراد ہے وہ جگہ جو اس طرح کی چیزوں سے پاک ہو_
         گناہ، باغیانہ رویہ، بدگمانی، کینہ، بغض، حسد وغیرہ کی وہی حیثیت ہے جو کنکر، پتھر، کیچڑ، کیل، کانٹے وغیرہ کی ہوتی ہے_جس طرح یہ چیزیں زمین کو گندہ اور اوبڑ کھابڑ کردیتی ہیں اسی طرح یہ برے اخلاق دل کو پراگندہ اور اس کی ہمواری کو متاثر کرتے ہیں_جو شخص اپنے دل کو ان چیزوں سے پاک کرلے وہ اللہ تعالٰی کی نگاہ میں بہترین انسان ہے_

No comments: