Saturday, March 26, 2016

صوفیاء کی روایت اورعالمی صوفی کانفرنس Sufi Tradition and World Sufi Conference

صوفیاء کی روایت اورعالمی صوفی کانفرنس 
سید منصورآغا،نئی دہلی
گزشتہ ہفتہ دہلی میں ایک تین روزہ صوفی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ کانفرنس کئی اعتبار سے منفرد اور سبق آموز رہی۔ اس کے پس پردہ اغراض ومقاصد پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ہم نے بھی اشارتاً کچھ عرض کیا تھا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نیتوں کا حال صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ البتہ ظاہر پر گفتگو کی جاسکتی ہے اوراس دعا کے ساتھ کہ نیت میں اگر کچھ کجی بھی ہے تو اللہ انجام بخیر فرمائے اورہمارے کلمہ گوبھائیوں کے عمل سے نیکی فروغ پائے۔ آمین۔ ہمارے اس تبصرے کو اسی نظرے سے ملاحظہ فرمائیں۔
تاریخ کا نادر واقعہ:
گزشتہ 15صدی کی اسلامی تاریخ میں ، جب کہ عرب تاعجم اولیاء، اتقیاء اورصوفیاء کی ذات بابرکات کا فیض عام تھا،ہن نے کہیں نہیں پڑھا کہ ارباب تصوف نے کوئی کانفرنس کی ہو اور ارباب اقتدار سے قرب چاہا ہو، خود اپنے یا اپنے متوسلین کے لئے جاہ ومراعات کی گزارشات بھی کی ہوں۔ البتہ صوفیاء کے حلقہ درس میں ایک خلق خدا حاضر ہوتی۔ تاریخ میں ایسے ایک دونہیں متعدد واقعات درج ہیں کہ ارباب اقتدار نے کسی صوفی عالم کو نوازنا چاہا، حاضری کا عزم کیا اوران بزرگ نے انکار کردیا۔کوئی شاہ ملاقات کا خواہش مند ہوا ہو اورصوفی صاحبان جوق درشوق باریاب ہونے دوڑ پڑے ہوں، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ صوفیائے باصفا ارباب اقتدار کو خاطر میں نہیں لاتے۔اس اعتبار سے دہلی کی یہ کانفرنس ایک نئی روایت ہے جو یقیناًصوفیاء کرام کی روایات سے میل نہیں کھاتی۔
یہاں بس ایک واقعہ 16صدی کے مشہورصوفی بزرگ میاں میرعلیہ رحمۃ کا سن لیجئے۔ ایک مرتبہ بادشاہ جہانگیر لاؤ لشکرکے ساتھ لاہور میاں صاحب ؒ کی قیام گاہ پر پہنچا۔خدام نے بادشاہ کو دروازے پر ہی روک دیا۔حضرتؓ سے اجازت مل گئی تو بادشاہ اندرداخل ہوا۔شکایتاً کہا:’’ بادر درویش دربانِ نا باید‘‘ یعنی درویش کے دروازے پر دربان نہیں ہونا چاہئے‘۔ حضرت ؒ نے فرما یا:’’ بباید کہ سگ دنیا نا آید‘‘ یعنی یہ اس لئے کہ دنیا کا کتا اندرنہ آئے۔‘‘ سچے صوفیاء کو تو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ دنیا کا کوئی طالب ان کی مجلس میں آئے، کجا کہ وہ خود دنیا کے طلب گار بن کر اقتدار کے در پر جائیں۔
صوفیائے اسلام کا کلمہ استقبالیہ ’’السلام علیکم ‘‘ہے۔ ان کا نعرہ ’’اللہ اکبر‘‘ اورورد ’’لاالہ الا اللہ‘‘ ہے۔ ان کا وظیفہ حیات اپنے رب کی خوشنودی کے لئے تگ و دوہے۔ ساری دنیا کے انسان ان کا کنبہ اور پورا کرہ ارض ان کا وطن ہے۔ان کا مشغلہ خدمت خلق ہے۔ وہ موٹا جھوٹا لباس سے سترپوشی فرمالیتے ہیں اورزمین پر پڑ کرسوجاتے ہیں۔ اس کانفرنس میں ہرمنظر مختلف نظرآیا ۔وزیراعظم تشریف لائے تو نعرہ ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘ کا گونجا۔شرکاء کاقیام عالی شان ہوٹلوں میں رہا۔بعض مقررین زرق وبرق لباس زیب تن فرماکرآئے۔ افتتاح کے لئے وزیراعظم نریندرمودی کا انتخاب ہوا، جو کم سنی سے آرایس ایس کے کارکن اورکئی دہائیوں تک اس کے مبلغ رہے۔ انہوں نے اسلام کے جو محاسن یہاں گنوائے ،ان سے بھلا کس کو انکار ہوسکتا ہے؟ بیشک اسلام امن و آشتی اورروحانی بالیدگی کا مذہب ہے۔ صوفیاء کرام خلق خدا کی فلاح واصلاح کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیتے ہیں۔ وہ دنیاسے رغبت نہیں فرماتے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جوان کی راہ پر چلتا ہے،وہ مخدوم نہیں، خلق کا خادم ہوتا ہے۔ دعا کے عوض دنیا طلب نہیں کرتا۔کانفرنس میں وزیراعظم نے جو کہا، ان کے منھ سے جوالفاظ نکلے ، یقیناًقابل تحسین ہیں۔ لیکن ان کا یہ خطاب چندسوال بھی غورطلب چھوڑ گیا۔
چند سوال:
جلسہ گاہ میں جو حضرات تشریف فرما تھے، کیا ان میں کوئی ایسا تھا جس کو اسلام اورصوفیائے اسلام کے ان محاسن کا علم نہ رہا ہو جو محترم وزیراعظم نے گنوائے؟ ہرگز نہیں۔ شرکائے جلسہ کا تودن رات کا سبق یہی ہے۔ان باتوں کے کہنے کا منشاء اگر حق کا اعتراف اوراعلان ہے تو اس کا خیر مقدم ہے۔ اس پر جو نعرہ تحسین بلند ہوئے وہ بھی خوب سہی۔مذہب صوفیاء میں بنیادی اہمیت اخلاص نیت کی ہے۔ جو یہاں مفقود نظرآتا ہے۔ بظاہر مقصدبھولے بھالے لوگوں سے واہ واہی حاصل کرنا اوران داغوں کوچھپانا ہے جو ان کے دامن پر سنہ 2002سے اوران کے نظریاتی پریوار پر گزشتہ نوے سال سے لگتے رہے ہیں اورجن میں روز اضافہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وزیراعظم کو اگران باتوں کی سچائی پر یقین ہے (اگرنہیں ہے تو خدا کرے ہوجائے ) تو ان کو یہ باتیں ہم سے نہیں،اپنے پریوار اورپارٹی کے ان لوگوں سے کہنی چاہئیں جورات دن عوام کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے ہیں ۔ اس ملک سے اہل ایمان کے وجود کو مٹادینے کی تدبیریں کرتے رہتے ہیں۔ جو ان کی مساجد ، مدارس، خانقاہوں اورزیارت گاہوں کو شک کی نظرسے دیکھتے ہیں۔ وزیراعظم ان کو بتائیں کہ اسلام اوراہل اسلام امن واشتی کے علم بردار ہیں۔ ان کے پیچھے مت پڑو۔
اس کانفرنس میں تو ان کو یہ بتانا چاہئے تھا امن و آشتی کے علم برداراہل اسلام کو اس ملک میں امن و چین سے رہنے دینے کے لئے ان کی حکومت کیا اقدام کررہی ہے ؟ان پر ساٹھ ستردہائیوں سے جاری ناانصافیوں کے ازالہ کے لئے کیا ہورہا ہے؟دوسروں پرالزام دھرنے کے بجائے وہ یہ بتاتے کہ فتنہ و فساد پھیلاکر ان کو جھلسانے، زندہ جلانے،ان کی املاک کو تباہ کرنے، آبائی وطن چھوڑ نے کے لئے مجبور کرنے کے واقعات کوروکنے کے لئے وہ کیا قدم اٹھارہے ہیں؟ افسوس کہ جس دوران یہ کانفرنس ہو رہی تھی، ان کی کابینہ کے ایک وزیرآگرہ میں اور دوسرے مظفرنگر میں فرقہ ورانہ منافرت پھیلانے والے بیانات دے رہے تھے۔ اورگزشتہ الیکشن میں جنہوں نے کھل کر اہل ایمان کے خلاف زہراگلا ان کو انہوں نے اپنی کابینہ میں شامل کرکے اورگورنر بناکر اعزاز بخشا ہے۔ 
افسوس یہ بھی ہے کہ اس کانفرنس کے دوران سرکارکی توجہ جن مسائل کی طرف دلائی گئی، ان میں بھی تمام اہل اسلام کی نمائندگی سے گزیرکیا گیا۔ صوفیاء کاطریقہ عقیدہ اورعمل کی بنیاد پر کسی سے تفریق و تعصب کا نہیں ہوتا۔ صوفی مسلک یہ نہیں کہ ایک کے گناہ کے لئے دوسرے کو خاطی قراردیا جائے اور منافرت بین المسلمین کو ہو ا دی جائے ، جیسا کہ اس کانفرنس میں ہوا۔ صوفیوں کے ان نام لیواؤں کے قول وعمل میں کچھ جھلک ان صفات عالیہ کی بھی ہونی چاہئے جن کی بدولت صوفیاء کرام اپنی زندگی میں مرجع خلائق بنے ۔ ان کی مجلسوں میں کھلے کافراور مشرک بھی آتے اورفیض پاتے۔وہ سب کا بھلا چاہتے ہیں اور کسی کو برا بھلا نہیں کہتے۔ یہی وجہ ہے کہ وصال کے بعدبھی خلق خدا ان کو یاد کرتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلک صوفیاء سے وابستگی ظاہر کرنے والے اس کانفرنس کے داعی اس کے خلاف عمل کرتے ہوئے کیوں نہیں جھجکے؟
بین اقوامی دہشت گردی
اس کانفرنس کامدعا اس بین اقوامی دہشت گردی کی مذمت بھی تھاجس کی تخم ریزی تو امریکا اور اس کے دوست یورپی ممالک نے کی لیکن جس کو ایک سازش کے تحت اسلام اورمسلمانوں سے وابستہ کردیا گیا۔یہ بات جگ ظاہر ہے کہ القاعدہ، طالبان اورداعش و آئی ایس وغیرہ ان استعماری طاقتوں کے ہی پیدا کردہ ہیں۔ان کے پاس جو جنگی ساز وسامان ہے ،وہ کہیں پرچون کی دوکان پر نہیں ملتا ۔ یہ استعماری طاقتیں ہی فراہم کرتی ہیں۔ اورپھران کوبہانہ بناکرعالم اسلام کو تباہ کرتی ہیں۔ موجودہ کانفرنس کی شان نزول 13/11کا پیرس واقعہ ہے جس کے فوراً بعد ہمارے وزیراعظم نے اس کے خلاف محاذ میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔بیشک ہرظلم اور دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہئے، چاہے وہ آئی ایس کی ہو یا اسرائیل اوربرما کی۔ خود وزیراعظم اورمرکزی وزیر داخلہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ہندستان آئی ایس سے محفوظ ہے، اس لئے آئی ایس ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔جہاں تک ہم مسلمانوں کا تعلق ہے، ہم مکرر کہہ چکے ہیں کہ میڈیا میں جوکچھ بتایا دکھایا جاتا ہے، اس میں چاہے مبالغہ اورغلط بیانی ہی کیوں نہ ہو ، یہ قتل وخون اوربردہ فروشی اسلام کی روح کے سراسر خلاف اورلائق مذمت ہے۔ گزشتہ دہائی میں مسلمانان ہند کو دہشت گردی سے وابستہ کرکے ملک کی فضا کومسموم کرنے کا سلسلہ جب شروع ہوا،تبھی ہمارے ارباب علم ودانش اوربہی خواہان ملک و ملت نے ملک بھر میں مذمتی جلسے اورکانفرسیں کیں ۔مضامین لکھے۔ بیان دئے۔کانفرنسوں کی پہل اگرچہ جمعیۃ علماء ہند نے کی، لیکن ان میں غیر ملکی بھی آئے اورسبھی مکاتب فکر کی نمائندگی ہوئی۔دیکھنا یہ چاہئے کہ اس وقت ہندستانی عوام اور مسلمانان ہند کوکن سنگین مسائل کا سامنا ہے؟مصنوعی مسائل کو اچھالنے سے توجہ اصل عوامی مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اس کانفرنس نے اتنا ہی نہیں کیا کہ ان مسائل سے توجہ بٹ گئی، بلکہ مسلکی تفرقہ کی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جو باعث خیر ہرگز نہیں۔یہ تفرقہ صرف بریلوی اورغیربریلوی کا نہیں،کیونکہ خود بریلوی مسلک کے علماء کرام اوراہم تنظیموں نے بھی اس کانفرنس کے بارے میں اشکال کا اظہار کیا اورشرکت سے انکار کیا۔ 
خانہ زاد شدت پسندی:
بیشک شدت پسندی بڑی مہلک بیماری ہے۔ اس کانفرنس کے ظاہری داعیان کوفکر سات سمندر پار کی ہی نہیں، اس شدت پسندی کی ہونی چاہئے جس کے مظاہر ہماری مساجد میں، قبرستانوں میں ، بیاہ شادی کی تقریبات میں اورجلسہ جلوسوں کے دوران نظرآتی ہے۔ کہیں امامت کا جھگڑا کھڑا کیا جا رہا ہے،مساجد میں تالے ڈلوائے جارہے ہیں، کہیں کسی کے مسجد میں آجانے اور شریک نماز ہوجانے پرفتنہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ کہیں نماز جنازہ اداکرنے ، جنازہ اٹھانے اورمردے کو دفنانے پر جھگڑا ہوتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کے دورمبارک میں تو مشرکین عرب اوراہل اسلام مشترکہ آبائی قبرستانوں میں دفن ہوتے تھے۔ جنگ میں مارے گئے مخالفین ومعاندین اسلام کی لاشوں کی بھی بے حرمتی منع تھی۔ اہل اسلام ہی ان کو کفنا کر مشترکہ قبرستانوں میں دفناتے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے کھلے منافقین اور معاندین کی نماز جنازہ سے بھی صحابہ کرامؓ کو نہیں روکا۔ہماراحال کیا ہے؟ عشق نبوی ؐکا دعوا تو ہے مگر عمل سنت نبویؐ کے خلاف ہے۔ محض جزوی مسلکی اختلاف پر نماز جنازہ سے انکار ، تدفین سے فرار ،یہاں تک کہ قبر سے مردے کو نکال پھینکنے تک کی خبریں آرہی ہیں۔کیا یہ شدت پسندی ان حضرات کے نزدیک توجہ طلب نہیں؟ افسوس کہ صوفیاء کے نام کا دم بھرنے والے خاموش ہیں اوران کے متعلقین یہ سب کررہے ہیں ۔اپنی گھرپڑوس اوراپنی بستیوں سے بے خبر، ہر دم نئے نئے فتنوں کو ہوا دینے والے ہاتھ سات سمندرپار کی دہشت گردی کے خاتمہ میں کس طرح کارگر ہوسکیں گے؟
اس کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹرطاہرالقادری ، ایڈوکیٹ نے تصوف اورصوفیاء کے مذہب کی وضاحت بڑے ہی عالمانہ انداز میں کی۔اپنی طویل تقریرمیں انہوں نے مراجعت الی اللہ کے گیارہ مراحل تو گنوادئے، مگر خوداحتسابی کا کوئی ذکر سنائی نہیں دیا۔حالانکہ اصلاح کا عمل خود اپنی ذات کے احتساب سے شروع ہوتا ہے۔ جب تک اپنے قول وفعل کی دوئی کو مٹایا نہیں جاتا، جب تک اپنے فکر وذہن اوراعمال کو شرک سے پاک نہیں کیا جاتا، جب تک سگ دنیا کو قلب سے نکال کر باہر نہیں کیا جاتا اورخالص رضائے الٰہی کو منشاء و مقصود نہیں بنایا جاتا، انسان قرب الٰہی کے ان گیارہ مراحل میں سے ایک مرحلہ میں بھی داخل نہیں ہوسکتا۔ کوئی ذکروفکر، جبہ سائی،قدم بوسی، مرشدنوازی اور کوئی فعل کوئی کلمہ کام آنے والا نہیں۔اللہ ہمیں نیک قول اورنیک عمل کی توفیق دے۔ آمین۔ (ختم

1 comment:

DR ARZOO ZAIDI said...

کاش مسلمان اسلام کو عملا بہی اپنا لیں اور آپکے جیسے بقلم حضرات خاموش نہ رہیں۔