Saturday, March 12, 2016

Jamiat factions unite to give massages of communal harmony, unity andPatriotism. Hit at detractors of secular ethos and ultra Nationalists.



Maulana Arshad Madno 12 March

ملک کے سیکولر آئین کی حفاظت کیلئے آخری سانس تک لڑتے رہیں گے:قومی یکجہتی کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کا اعلان
اندراگاندھی اندور اسٹیڈیم میں قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد ،ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید کی شرکت
مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے علماء ودانشوران کا کانفرنس سے اظہار خیال،موجودہ حکومت کی پالیسی اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کی کوششوں کی سخت مذمت
جمعیۃ کی تقسیم کے بعد عوامی اسٹیج پر پہلی مرتبہ پر ایک ساتھ دیکھے گئے مو لانا ارشدمدنی صاحب،مولانا محمود مدنی صاحب اور قاری عثمان صاحب
مسلمانوں اور عیسائیوں کی گھر واپسی کی بات کرنے والے کسی کوکمزور نہ سمجھیں :مولانا سید ارشد مدنی
لڑائی ہندو ۔ مسلمان کے درمیان نہیں بلکہ فرقہ پرستی اور سیکولرازم کے درمیان ہے : غلام نبی آزاد
قومی یکہجتی کے لئے جمعیۃ علما ہند کا کردار ہمیشہ قابل تعریف رہا ہے:سونیا گاندھی
تمام خامیوں کے باوجود ہندوستانی مسلمان پڑوسی ملکوں کے مسلمانوں کے مقابلے بہتر حالت میں ہیں:مولانا محمود مدنی
پوری دنیا کو اپنا کنبہ بتانے والے نریندر مودی اپنے کنبہ کو ہی اپنانے میں ہچکچا رہے ہیں:اچاریہ پرمود کرشنن
(ملت ٹائمز)
نئی دہلی ، 12؍مارچ
شمس تبریز قاسمی کی رپوٹ
قومی یکجہتی کانفرنس میں مذہب ومسلک سے بالاتر ہوکر علماء کرام، دانشوارن قوم اور قائدین ملت نے واضح لفظوں میں اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ،بے انتہاء جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ہندوستان کو آزادی ملی ہے ،اس لئے آئین سے چھیڑ چھاڑ اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوئی بھی کوشش کامیابی سے ہم کنار نہیں ہونے دی جائے گی ۔
اندرا گاندھی اندور اسٹیڈیم نئی دہلی میں منعقد ہونے والی قومی یکجہتی کانفرنس میں ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر حضرت مولانا سید ارشدمدنی صاحب نے اپنے صدراتی خطاب میں کہاکہ ملک کو ’ہندو راشٹر‘بنانے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔یہ سیکولر ملک ہے یہاں مختلف مذاہب کے پیروکار اپنی مذہبی علامتوں اور تشخص کے ساتھ دستور کے تحت ہی زندہ رہ سکتے ہیں ، ملک کے دستور اور سیکولرازم کے تحفظ کے لئے ہم اپنی آخری سانس تک جد و جہد کرتے رہیں گے ، جہاں تک ملک کے 25کروڑ مسلمانوں اور پانچ کروڑ عیسائیوں کی گھر واپسی کی بات ہے تو یہ دھمکیاں دینے والے اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ صرف انہوں نے ہی نہیں بلکہ دوسروں نے بھی اپنی ماں کا دودھ پیا ہے۔
مولانا نے مزید کہاکہ آج ملک بھر میں ایک کرب، گھٹن اور خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ملک میں فرقہ پرستی کا ایساننگا ناچ پہلے کبھی نہیں ہوا۔حالات اس وقت جس قدر تشویشناک ہیں، ماضی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ملک پوری طرح فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں سیکولرازم اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی ، سماجی تنظمیں اور دیگر ادارے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہوکر ان کے ناپاک عزائم کو ناکام کردیں، کیونکہ اگرملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی ، عدل وانصاف سے کام نہیں لیا جائے گا تو اس ملک کاشیرازہ منتشر ہوجائے گا جو اکثریت اور اقلیت دونوں کے لئے تباہ کن ہوگا۔ مولانا مدنی نے حکمراں جماعت بی جے پی کے لیڈروں پر سیدھا نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کسی کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے والے یا کسی کو ملک کا غدار قرار دینے والے وہ کون ہوتے ہیں ؟ پہلے وہ یہ بتائیں کہ انہوں نے اس ملک کے لئے کیا کیا ہے اور ان کے آباء و اجداد نے ملک کی آزادی کے لئے یا اس کے بعد کیا قربانیاں پیش کی ہیں ؟مولانا مدنی نے جے این یو تنازع پر بھی لب کشائی کی اور کہاکہ ہم دل وجان کے ساتھ کنہیا کمار کے ساتھ ہیں ،تاہم ہم نے اس معاملہ میں مسلمانوں کو آنے سے ہم نے منع کیا انہوں نے کہاکہ کسی بھی تعلیمی ادارے پر جبراً آر ایس ایس کی سوچ نہیں تھوپی جا سکتی۔ مولانا ہریانہ اور دوسری ریاستو ں میں دلتوں پر کئے جا رہے مظالم کی بھی سخت مذمت کی اور کہاکہ متاثرہ علاقوں میں جمعیت نے ریلیف کا بھی کام کیا ہے۔ 
 اندرا گاندھی اندورا اسٹیڈیم میں قومی یکجہتی کانفرنس میں شریک فرزندان توحید کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر (فوٹو :ملت ٹائمز)

اندرا گاندھی اندورا اسٹیڈیم میں قومی یکجہتی کانفرنس میں شریک فرزندان توحید کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر (فوٹو :ملت ٹائمز)
مولانا مدنی نے کہا کہ حکومت فرقہ پرستی اور نفرت پیدا کرنے والی قوتوں پر قدغن لگانے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔ آج جوحالات ہیں اس میں کشمیر سے کنیا کماری تک ایک خوف کا ماحول ہے، ہندو اور مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی گئی ہے۔ بر سراقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے لیڈر، منتخب نمائندے اور وزراء تک ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں کہ ملک میں نفرت کا ماحول بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کہیں دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے تو کہیں گؤ کشی کے فرضی الزامات عاید کر کے بے قصور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے، کہیں ایک کے بدلے دس سر لانے کی بات کہی جا رہی ہے توکہیں حق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کی زبان کاٹ لانے پر انعامات کے اعلان کئے جا رہے ہیں۔ ایک طرح سے مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں نیز دلتوں کے صبرو ضبط کا امتحان لیا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ا س کی جانب سے فرقہ پرستی کے جراثیم کے انسداد کے لئے کوئی اقدامات نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ایک طرح سے ایسے عناصر کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔
مولانا مدنی نے یہ بھی وضاحت کی کہ اس کانفرنس کا مقصد کسی بھی پارٹی کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ فرقہ پرستی کسی سیاسی جماعت میں ہو یا کسی بھی مذہب کے لوگوں میں ،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی کا مقابلہ فرقہ پرستی سے نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے اشتعال انگیزی کرنے والے مسلمان لیڈروں کو سیاست سے دوررہنے کا مشورہ دیا۔مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی مسلسل گرفتاریوں کے سبب فکر مند ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں ناکافی ثبوتوں کے باوجود نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیجتی رہی ہیں ۔ جب تک یہ لوگ عدالتوں سے بری ہوتے ہیں تب تک ان کی زندگی کے بیش قیمت سال برباد ہو چکے ہوتے ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ جن متعصب افسران کے پھنسائے جانے کے سبب یہ نوجوان اور کنبے بر باد ہو جاتے ہیں ان افسران کو سزا ملنا تو دور ان سے باز پرس تک نہیں کی جاتی ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات محسوس کی جا رہی ہے کہ ملک کی پانچ ریاستو ں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر حکومت مسلمانوں میں اتحاد کو ختم کرنا چاہتی ہے مولانا مدنی داعش اور ا س کے نظریا ت کی بھی سخت مذمت کی اور کہاکہ وہ اسرائیل اور امریکہ کی پیدوار ہے۔
اس موقع پر یو پی اے کی چیئر پرسن اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے اپنا پیغام ارسال کیا جسے راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے پڑھ کر سنایا۔ سونیا گاندھی نے جمعیۃ علما ء ہندکے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے نام بھیجے اپنے تحریری پیغام میں قومی یکجہتی کانفرنس کے انعقاد کے لئے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر اسے ایک اچھا اور کارگر قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ ملک اس وقت ایک نازک دور سے گذر رہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ایک گہری سازِ ش کے تحت ملک کے اتحاد کو توڑ رہی ہیں اور نفرت کا ماحول پیدا کر ر ہی ہیں ۔ ملک کے سیکولر عوام کو خاص طور سے نشانہ بنایا جا رہا ہے ، یہ سب کے لئے قابل تشویش ہے۔ ایسے ماحول میں ملک کے تمام باشندوں کو مذہب، ذات پات ، رنگ و نسل کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہو کر قومی یکجہتی کے لئے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ قومی یکہجتی کے لئے جمعیۃ علما ہند کا کردار ہمیشہ قابل تعریف رہا ہے۔جمعیۃ علما ہندنے کانگریس کے ساتھ مل کر ملک کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی۔تقسیم کے وقت بھی جمعیۃ علما ہندنے گاندھی جی کے ساتھ مل کر قومی یکجہتی کے پرچم کو اٹھائے رکھا ۔ موجودہ حالات میں جمعیۃ علما ہندنے پھر ایک قدم اٹھایا ہے ۔میں کانگریس پارٹی کی جانب سے ملک کی سا لمیت اور اتحاد کو مضبوط کرنے کے لئے کی گئی اس قومی یکجہتی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ ا سکے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
غلام نبی آزاد نے اظہار خیال کرتے ہوئے جد و جہد آزادی کے دوران جمعیۃ علما ہنداور علما ئے کرام کی قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کے لئے ان کی قربانیوں اور خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔آج ایک بار پھر ملک مشکل حالات سے گذر رہا ہے، ایسے میں مولانا سید ارشد مدنی کی قیادت میں جمعیۃ علما ہند کی یہ کوشش قابل ستائش ہے ۔ آزاد نے کہا کہ ملک میں ہندو یا مسلمان کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ لڑائی فرقہ پرستی اور سیکولرازم کے درمیان ہے۔انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستی چاہے ہندو کی ہو یا مسلمان کی ہم سب کی مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس موقع پر ان تمام غیر مسلم حضرات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہر موقع پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ آزاد نے کہا کہ آج فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں ہر مذہب اور مکتبہ فکر کے لوگ شامل ہیں اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہی حق پر ہیں ۔
 جمعیۃ کی تقسیم کے بعد عوامی اسٹیج پر پہلی مرتبہ پر ایک ساتھ دیکھے گئے مو لانا ارشدمدنی صاحب،مولانا محمود مدنی صاحب اور قاری عثمان صاحب۔(فوٹو :ملت ٹائمز)

جمعیۃ کی تقسیم کے بعد عوامی اسٹیج پر پہلی مرتبہ پر ایک ساتھ دیکھے گئے مو لانا ارشدمدنی صاحب،مولانا محمود مدنی صاحب اور قاری عثمان صاحب۔(فوٹو :ملت ٹائمز)
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ملک کے جو موجودہ حالات ہیں اس میں مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے ۔ اس وقت ملک بحران میں اور انسانیت مشکل میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قومی یکجہتی کی بات صرف مسلمان ہی کیوں کرے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس ملک کو آزاد کرانے میں ہمارے اسلاف نے اپنا خون بہایا ہے ، یہ ہمارا ملک ہے ، ہمیں اس سے محبت ہے، اس لئے ہم خاموش تماشائی کیسے رہ سکتے ہیں ۔آج جمعیۃ علما ہندمولانا سید ارشد مدنی کی قیادت میں جد و جہد کر رہی ہے انشا اللہ کامیابی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام برائیوں اور خامیوں کے باوجود ہندوستان کے مسلمان اپنے پڑوسی ملکوں کے مسلمانوں کے مقابلے کہیں بہتر حالت میں ہیں ، اس کے لئے ہمیش اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اتفاق اور اتحاد کے ساتھ ہی فرقہ پرستی کا مقابلہ کیا جانا چاہئے ۔
اچاریہ پرمود کرشنن نے وزیر اعظم پر نشانہ سادھتے کہا کہ کل ہی انہوں نے کہا ہے کہ پوری دنیا ان کا کنبہ ہے ۔ واقعی یہ ایک اچھی بات ہے لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ پوری دنیا کو اپنا کنبہ بتانے والے نریندر مودی اپنے کنبہ کو ہی اپنانے میں ہچکچا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نفرت کی دیواریں اب اوپر اٹھنی شروع ہو گئی ہیں اس لئے انہیں فوراگرانا ہوگا ورنہ دیر ہوجائے گی۔انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ’نام نہاد سادھو‘ مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی بات کر رہا ہے۔ دو سال ہو گئے وہ کسی مسلمان کو تو پاکستان نہیں بھیج سکے لیکن خود وزیر اعظم ضرور پاکستان چلے گئے وہ بغیر بلائے اور ہندوستانیوں کو بغیر بتائے۔انہوں نے کہا کہ’ جب بونڈر اٹھتا ہے تو کوئی بھی لفنڈر بادشاہ بن جاتا ہے ‘۔ اچاریہ نے کہا کہ مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ انہیں جبراً دہشت گرد بنا یا جا رہا ہے ۔ ان کے علاوہ جسٹس کولسے پاٹل، جان دیال، ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم،مولانا حبیب الرحمن، مولانا اشہد رشیدی، ڈاکٹر ظفر الاسلام، منی شنکر ایئر ، نوید حامد، گلزار اعظمی سمیت کئی دیگر افراد نے بھی اظہار خیال کیا۔
قومی یکجہتی کانفرنس میں جمعےۃ علماء ہند کی جانب سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا، جس میں کہا گیاکہ جمعیۃ علماء ہند ملک کے ہر باشندے سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے دام میں نہ آئیں اور ملک کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں نیز اپنے آبا و اجداد کی قدیم روایتوں کو نہ چھوڑیں۔ جمعیۃ علماء ہند اس موقع پر ان تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور اداروں سے بھی پُرزور اپیل کرتی ہے جو ملک میں سیکولرازم اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ، کہ وہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہوجائیں اور فرقہ پرست طاقتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام کردیں۔
قبل ازیں کانفرنس کا آغاز دارالعلوم دیوبند کے استاذ قاری محمد آفتاب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ،قاری صالح نے بارگ رسالت مآب میں ہدیہ نعت پیش کیا،جبکہ نظامت کے فرائض جمعیۃ علما ہندکے جنر ل سکریٹری مولانا عبدالعلیم فاروقی نے انجا م دیئے،اس موقع پرجمعیۃ علما ہندکا ترانہ بھی پڑھا گیا۔
واضح رہے کہ اندرا گاندھی اندور ا اسٹڈیم نئی دہلی میں ہونے والی اس کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کے دوسر ے گروپ کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی صاحب اور صدر حضرت مولانا قاری عثمان صاحب بھی شریک رہے۔ ہم آپ کو بتادیں کانفرنس میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمند ر نظر آرہاتھا ،ملت ٹائمز کے اندازے کے مطابق میں کم وبیش کانفرنس میں ایک لاکھ سے زیادہ فرزندان توحید شریک تھے ۔


No comments: