Wednesday, March 30, 2016

یہاں جمہوریت کا، وہاں انسانیت کا خونin India DEMOCRACY, I'm PAKISTAN humanity MURDERED

یہاں جمہوریت کا، وہاں انسانیت کا خون

احوال عالم
سید منصورآغا
مودی سرکار نے آئین اورقانون کی پاسداری کو بالائے طاق رکھ کرحال ہی میں کئی ایسے اقدام کئے ہیں جن سے ملک میں جمہوری قدروں کی پامالی ہوئی ہے اورجمہوری نظام میں عوام کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ ان میں ایک نمایاں مثال توسپریم کورٹ کے واضح فیصلے کی ان دیکھی کرتے ہوئے’ قوم سے غداری‘ کے جھوٹے الزام میں جے این یو کے طلباء کی اورپروفیسر اے ایس ارگیلانی کی گرفتاریاں ہیں۔دوسرا اتراکھنڈ میں صدرراج کا نفاذ ہے۔ ان دونوں معاملوں میں عدالتوں میں سرکار کو منھ کی کھانی پڑی۔ طلباء چندروز جیل میں رہ کر باہر آگئے۔ ان چند دنوں میں ملک دوخیموں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک طرف جمہوریت پسند ہیں اوردوسری طرف آمریت کے علمبردار جو ملک میں ایک ہی دھرم اورکلچر کا بول بالا چاہتے ہیں۔اتراکھنڈ میں اگرچہ گورنر کی ہدایت پر اسمبلی کا اجلاس ایک دن بعد 28مارچ کو ہی ہونے والا تھا اورسپریم کورٹ کا واضح فیصلہ موجود ہے کہ اکثریت کا فیصلہ اسمبلی کے اندر ہی ہوگا، مگرمرکز کی بھاجپا سرکار پر ہوس اقتدار میں ڈوبی ہوئی ان کی پارٹی کا دباؤ اس قدرشدید تھا کہ ایک دن پہلے ہی آناً فاناً ریاستی حکومت کو برخاست کرنے کا فرمان جاری کردیا گیا اورریاست میں بالواسطہ حکومت کرنے کے لئے صدرراج لگادیا گیا۔ لیکن ریاستی ہائی کورٹ کی ایک رکنی بنچ نے اگلے ہی دن حکم دیا کہ اکثریت کا فیصلہ 31مارچ کو ریاستی اسمبلی میں ہوگا۔ہرچند کہ 30مارچ بروز بدھ مرکزی حکومت نے اس عبوری حکم کے خلاف ایک دورکنی بنچ میں عرضی دائر کی ہے کہ صدرراج کے نفاذ کے بعد اسمبلی میں اکثریت کے فیصلے کا کیا قانونی جواز ہے لیکن تا دم تحریر اس پر چیف جسٹس پر مشتمل دورکنی بنچ کا ردعمل معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ اس کے باوجود اگر یوں کہاجائے تو یہ درست ہوگا کہ سیاست دانوں نے جمہوری نظام کا خون کرنے کی جو ٹھانی تھی اس کو روکنے کی ہائی کورٹ کی طرف سے کوشش ہوئی ہے۔ ابھی صورتحال غیرواضح ہے۔ سردست دونوں خیمے زورآزمائی میں مصروف ہیں۔ کئی قانونی پیچیدگیاں ہیں، لیکن اگرکل اسمبلی میں طاقت آزمائی ہوگئی اورکانگریس کی طرفدار ممبران کی تعداد زیادہ نکلی تو مرکزی حکومت کی یہ اخلاقی شکست ہوگی۔اس سارے قصے میں ممبران اسمبلی کے لئے دولت مندی کے درکھل گئے ہیں۔ توڑ پھوڑ بھاجپا میں بھی ہوسکتی ہے۔ دیکھنا ہوگا چارریاستی اسمبلیوں کے چناؤ سے پہلے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟آخرکار پلڑابھاجپا کا بھاری رہے یا کانگریس کا، بڑے پیمانے پر دولت کے کھیل سے انکار نہیں کیا جاسکے گااوریہ چیز بذات خود جمہوریت کے لئے سم قاتل ہے۔اس کا موقع بھاجپا کی طالع آزمائی کی وجہ سے ہی آیا ہے۔
پاکستانی سانحہ
ادھرپاکستان کی ثقافتی راجدھانی لاہور سے یہ وحشت ناک خبرآئی کہ اتوارکے دن گلشن اقبال پارک میں ، جہاں ایسٹرکے موقع پر میلا لگا ہوا تھا اوربڑی تعدادمیں عورتیں، بچے اورمرد سیروتفریح میں مصروف تھے کہ بچوں کے ایک جھولے کے پاس ایک خود کش بم دھماکہ ہوا جس میں اسی سے زیادہ بے قصور معصوم افرادد لقمہ اجل بن گئے اورتین سوسے زیادہ زخمی ہوگئے۔ان میں سے نجانے کتنے دوران علاج دم توڑ جائیں گے اورکتنے معذوری اورمجبوری کی زندگی جینے پر مجبور ہونگے۔ یہ ایسٹرکا موقع تھا۔ بڑی تعداد میں عیسائی بھی موجود تھے۔ ہرچند کی ظالموں نے عیسائیوں کو نشانہ بنانے کا دعوا کیا ہے مگر مگرمرنے اورزخمی ہونے والوں میں زیادہ تعدادمسلمانوں کی ہے۔
اس درندگی کی ذمہ داری تحریک طالبان کے ایک گروپ جماعت الاحرار نے قبول کرلی ہے۔ اس کے ترجمان احسان اللہ احسان نے (ممکن ہے یہ نام فرضی ہو)یہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آباد اقلیتیں کیونکہ جزیہ نہیں دیتیں، اس لئے ان کی جان ومال اورعبادت گاہوں کو تباہ کرنے کو حق ان کو مل گیا ہے۔ مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں اقلیتوں کی حیثیت ذمیوں کی ہے اور اسلام نے ذمیوں کو غیرمشروط پناہ اورتحفظ کا حکم دیا ہے۔پاکستان میں کیونکہ اقلیتی فرقہ کے افراد بھی برابر سے سرکار کو ٹیکس اداکرتے ہیں اس لئے ان کو تحفظ فراہم کرنے کی قومی ذمہ داری سے انکارکرنا شریعت کی پامالی کے سوا کچھ نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حملے میں بڑی تعداد مسلمانوں کی بھی ماری گئی ہے۔ ان کو خون ناحق بہرحال اس تحریک کے ذمہ داروں کے سر ہے ۔ان سے قصاص لیا ہی جانا چاہئے جو قانون شریعت کے مطابق خون کا بدلہ خون ہے۔ حکومت پاکستان کواپنی یہ ذمہ داری بلا تامل ادا کرنی چاہئے۔
اسی روز پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں بھی ایک ہنگامہ برپا ہوا ۔ ان کے قائدین دعوا کر رہے ہیں کہ وہ حنفی ہیں اورمسلک اہل سنت والجماعت کی اتباع کرتے ہیں۔ یہ لوگ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتازقادری کے مداح ہیں۔ انہوں نے مظاہرکیا اورجلوس نکالا۔ ممتاز قادری نے اپنا جرم قبول کیا تھا اور جرم ثابت ہوجانے کے بعد اس کو پھانسی دیدی گئی۔ لیکن یہ لوگ ممتاز قادری کو شہیدقرارددینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس نے گورنر کو جوش غضب اوراندھی مذہبیت کے جنون میں برسراعام اس لئے قتل کردیا تھا گورنر نے ملک میں نافذ توہین رسالت قانون میں خامیوں پر انگشت نمائی کی تھی۔ اس قانون کا پاکستان میں اقلتیوں خلاف کھل کرغلط استعمال ہورہا ہے۔کوئی بھی شخص ذاتی رنجش نکالنے کے لئے پولیس میں توہین رسالت کی شکایت درج کرادیتا ہے اورپولیس آنکھ بند کرکے اس کو گرفتارکرلیتی ہے اوراس سے رشوت طلب کرتی ہے۔مثال کے طور پر گزشتہ دنوں ایک شخص کے خلاف اس لئے شکایت درج کرادی گئی کہ اس نے اپنی دوکان کے سائن بورڈ پر ایک جلسہ کا اشتہار چسپاں کرنے سے روکا تھا۔ اس صورت حال کا سبب توہین رسالت کی وہ تعبیروتشیریح ہے جس نے عوام کو گم گشتہ راہ صواب کررکھا ہے۔ بہت سے لوگ غیض وغصب میں مبتلا ہوکر سخت زیادتیوں، یہاں تک کہ قتل بھی کو کارثواب سمجھ بیٹھتے ہیں اورقرآن کے احکامات تک کو بھلا دیتے ہیں۔ ا س فتنہ کی جڑ میں وہ واعظین اورخطیب صاحبان ہیں جو جوش عقیدت میں عوام کو جنون کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ عوام ان کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں اورغلط راہ پر چل پڑتے ہیں۔ اس کج روی کی اصلاح کی کنجی اورذمہ داری تھی علماء اسلام پر ہی ہے۔ 
مودی اوراَذان
مغربی بنگال سے یہ خبرآئی کی جس وقت مودی صاحب ایک جلسہ میں پوری روانی سے تقریر کر رہے تھے، قریب کی ایک مسجد سے اذان کی آواز آئی۔مودی جی نے تقریرروک دی اور جب اذان ختم ہوگئی تومجمع کو تما م مذاہب کااحترام کرنے کی تلقین فرمائی۔بھلے یہ کوئی دکھاوا ہو،مگریہ ایک سعیددکھاوا ہے۔ انہوں نے جو تلقین تمام مذاہب کے احترام کی ہے ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ہرچند کہ ان کی پارٹی کے لوگ اوران کے دیگرہم نوا برابر غیرہندوعبادت گاہوں کے بے حرمتی اوران کی عبادت کے اوقات میں شرانگیزی اورفساد برپا کرنے کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے مودی صاحب نے ایسی حرکتوں پرکبھی کسی کو ٹوکا نہیں۔ لیکن بہرحال ان کی زبان سے یہ بھلی بات نکلی ہے ،ہم اس دن کا انتظارکریں گے جب ان کی پارٹی کے لوگ ان کی اس تلقین پر عمل کرکے دکھائیں گے اورنماز کے اوقات میں مساجد کے سامنے ہڑدنگ سے پرہیز کرنے لگیں گے اوران کے دائیں بائیں رہنے والے لوگ جلسوں میں یہ اعلان کرنا چھوڑدیں گے مسجد کی ہرمینار سے اذان بندکرائی جائیگی اوروہاں سے بھجن پوجن کی آواز گونجا کرے گی۔ 
بھاگوت اور بھارت ماتا کی جئے
لکھنؤ میں آرایس ایس کے چنندہ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت جی نے کہا ہے کہ بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے کے لئے کسی کو مجبور نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ ہم کو ایسی مثال قائم کرنی چاہئے کہ دنیا خود ہماری جئے جئے کارکرے۔ ہم ان کے اس نصیحت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امید ہے ان کی یہ نصیحت ان کے پریوار کے ان لوگوں نے اوران کے ہم نوا ٹی وی چینلز کے انکرس نے بھی سن لی ہوگی جو گزشتہ دو ہفتہ سے اس مسئلہ کو ہوا میں اچھال رہے ہیں اور ایسا تاثردے رہے ہیں اس نعرے سے انکار ملک سے غداری ہے۔ امید ہے کہ مہاراشٹرا ممبران اسمبلی نے بھی سن لیا ہوگا اورکانگریس لیڈران نے بھی جو اس معاملہ میں بھاجپا سے بھی زیادہ گرم جوشی دکھارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی وارث پٹھان کی معطلی کو خارج کرکے ان سے معافی مانگ لی جائیگی۔ بھاگوت جی کے سابقہ بیان کے بعد ان نے ہم نواؤں میں جنون کی یہ کیفیت کے گزشتہ روز دہلی میں ایک مدرسہ کے طالب علم کی ہڈیاں توڑ دی گئیں، جس نے جے ماتاکی بولنے سے انکارکردیا تھا۔ 
اس دن خوشی ہم کو ہوگی جب دنیا میں ہندستان کی جئے جئے کارہوگی۔ لیکن اس کیلئے اتنی سی نصیحت سے کام نہیں چلے گا بلکہ آرایس ایس کواپنا پورا مزاج بدلنا ہوگا۔ اس کی حکمت عملی تویہی ہے کہ ہندتووا کے نام پر زورزبردستی کی جائے اوراکثریت کے بل پر اقلیت کی رائے کو کچلا جائے۔جگہ جگہ یہی ہورہا ہے۔ توجہ اور چیزوں پر بھی کرنی ہوگی۔ آپ شوق سے ’گؤ مترپان‘ کریں ، لیکن دوسروں کو کم از کم اس کی تجارت تو کرنے دیں۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ مویشیوں کے تاجروں کو راستے میں روک کر لوٹا جاتا اورقتل کردیا جاتا ہے۔ موہن بھاگوت جی اورمودی جی اگرچاہیں یہ حالت سدھرسکتی ہے ورنہ اگریونہی خراب ہوتی رہی تو بھارت کی جئے جئے کار کے بجائے اندیشہ ہے با ت الٹی ہوجائیگی۔
پولیس افسر کی اچھی مثال
دہلی کی وکاس پوری کالونی میں معمولی سی بات پرکہاسنی کے بعدپڑوس کی جھگی کالونی کے چند غنڈوں نے دانتوں کے ایک ڈاکٹرکو مارمار کر ہلاک کردیا۔اس جرم میں ابتدا میں جن شرپسندوں کا نام آیا،ان میں ایک عامراوراس کی ماں کا بھی نام تھا۔ چنانچہ سنگھ پریورار سے وابستہ گرگوں نے سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازارگرم کردیا اوراس کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش کی ۔ لیکن علاقہ کی خاتون پولیس آفیسر محترمہ مونیکا بھاردواج، اے سی پی؛ نے بڑی ہی ہوشمندی سے کام لیا۔ انہوں نے فوراً دو ٹوئیٹ کئے جس سے اس شرانگیزی کی ہوانکل گئی۔ مونیکا نے پہلے ٹوئیٹ میں لکھا’’ جو نو ملزمان اس معاملہ میں گرفتارہوئے ہیں ان میں چارنابالغ ہیں۔ اس میں کوئی مذہبی پہلو نہیں، جیساکہ کچھ لوگ افواہ پھیلا رہے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ امن سے رہیں۔ ‘‘ دوسرے میں انہوں نے لکھا:’’ نوملزمان میں پانچ ہندو ہیں۔ شروع میں جن دو افراد سے ڈاکٹر کی ہاتھا پائی ہوئی ان میں ایک ہندو اوردوسرا مسلمان ہے۔ یہ سب یوپی کے باشندے ہیں ،ان میں بنگلہ دیشی کوئی نہیں۔‘‘ مقتول ڈاکٹر کے ایک بھتیجے نے بھی بروقت بلاگ لکھ کر معاملہ کو سیاسی رنگ دئے جانے کی مذمت کی۔ دیگرگھروالوں نے بھی شرپسندوں کی حوصلہ شکنی کی اورعلاقے کو فرقہ پرستی کی آگ سے بچالیا۔ 
یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرپولیس افسرایماندار اورہوشمند ہو تو اس طرح کے تصادمات کو ٹالا جاسکتا ہے جو معمولی بات کوفرقہ ورانہ رنگ دیکر افواہیں پھیلانے کی بدولت ہوتے ہیں۔ نوجوان خاتون افسر محترمہ مونیکا بھاردواج کا یہ اقدام نہایت مستحسن اورمثالی ہے۔ دہلی کو فرقہ پرستی کی چنگاری سے بچانے کے لئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹرموصوف کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ، مثبت اقدام کے لئے ان کا بھی شکریہ 

- See more at: http://www.asiatimes.co.in/urdu/%DA%A9%D8%A7_%D9%84%D9%85/2016/03/49311_#sthash.RGrctdEg.dpuf

On 30 March 2016 at 17:36, Syyed Mansoor Agha <syyedagha@hotmail.com>wrote:



-- 

No comments: