Tuesday, March 22, 2016

جمہوریت پرقوم پرستی کے فاسد نظریہ کی یلغارDemocracy under attack of perverse conception of Nationalism

جمہوریت پرقوم پرستی کے فاسد نظریہ کی یلغار
سید منصورآغا، نئی دہلی
قوم پرستی کا ایک فاسد نظریہ اس وقت ملک کی فضاؤں میں گشت کررہا ہے۔ اس نظریہ کے حامل سمجھتے ہیں اورچاہتے ہیں ان کی ہر رائے ،نظریہ اورانداز معاشرت سے اختلاف کو کچل دیا جائے ۔ جو آواز ان کے خلاف اٹھے اس کو ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا جائے۔ یہاں تک کہ جس پراختلاف کا شک بھی ہواس کو بھی بھیڑجمع کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا جائے۔ یہ فاسد نظریہ یقیناًایک نادانی ہے۔ملک سے دشمنی ہے۔ اس کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن اسی کو دانائی، دیش بھکتی اورقوم کی ہمدردی سمجھ لیا گیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کوسنجیدگی سے سمجھ لیا جائے اورپھرحکمت کے ساتھ اس کے تدارک و اصلاح کی کوشش کی جائے۔ 
اس فاسد نظریہ کی اصل اس گمراہ کن خیال میں گم ہے کہ حب الوطنی اور نام نہاد قوم پرستی ایک ہی سکے کے دوپہلو ہیں۔ یہ مفروضہ اصولاً غلط ہے۔ انسان جہاں پیداہوا، جس مٹی میں کھیلا کودکربڑا ہوا، جہاں کا پانی پیا ، اناج کھایا، جن لوگوں کے درمیان اس نے شعور کی منزلیں طے کیں، جہاں اس کے بزرگوں کی ہڈیاں دفن ہیں، وہ اس کا وطن ہے۔ اس سے محبت ایک فطری جذبہ ہے، چاہے ترک وطن کرکے سات سمندر پار ہی کیوں نہ جابسے۔ اپنے وطن کی ماٹی کی خوشبو انسان کے رگ وپے میں بسی ہوتی ہے۔ اس گھر، خاندان، محلہ پڑوس، گاؤں اوراس کے ا طراف آباد اقوام سے اس کا تعلق گہرا ہوتا ہے۔ اسی فطری جذبہ محبت کا نام ’’حب الوطنی‘‘ ہے۔اس جذبہ پر کسی طرح کا ملمع چڑھانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رہے وہ کمینہ فطرت لوگ جو اپنی ماں کا گلا بھی کاٹ سکتے ہیں، تو ان کا کیا ٹھکانہ؟ وہ نہ اپنوں کے ہوتے ہیں اورنہ پرایوں کے۔ اپنے وطن کی اسی محبت نے ہمیں مجبور کیا کہ جب ملک مذہب کے نام پر تقسیم ہورہا تھا اور ہمارے آبائی خطے میں اپنی افرادی قوت کمزور ہوجانے اورنادیدہ مسائل کے اندیشوں کے باوجود ہم نے اس کو چھوڑا نہیں۔ اپنے اہل وطن سے ہمارایہ تعلق ذات، برادری ، قبیلہ اورہم مذہبیت کے رشتوں سے بلند وبرترہے۔کیونکہ ہم مانتے اورجانتے ہیں کہ :
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے، ہندستاں ہمارا
ہماری اس حب الوطنی کو کسی ایسے طبقے سے سرٹی فکیٹ کی درکار نہیں جو مجبوراًاس ملک کا باشندہ ہے، جس نے ہماری طرح اس کو اپنا وطن نہیں چنا ہے۔ 
تاریخ عالم پر ایک نظرڈالئے تو 15ویں صدی عیسوی تک ’’قومیت‘‘ کی بنیاد پر ریاست کا کوئی تصور نہیں تھا۔ایک قافلہ منگولیہ سے اٹھتاہے، ایک جہاز بحرقلزم سے روانہ ہوتا ہے، ایک سیاح مراقش سے گھوڑے کی پشت پر سوارہوتا ہے اوربے شمار حکمرانوں کی قلمرو سے گزرتا ہوا ہندستان آجاتا ہے۔ یہاں آکر بس جاتا ہے ، یہی خطہ اس کی آئندہ نسلوں کا وطن قرارپاتاہے۔علامہ اقبال نے بانگ دی:
اے آب رود گنگا، وہ دن ہیں یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب قافلہ ہمارا
ان قافلوں میں فوجی بھی آئے، حکمراں بھی آئے، تاجربھی آئے اورانسانیت کا دردرکھنے والے اہل علم اورصوفیاء بھی تشریف لائے، جنہوں نے خداترسی اورخداشناسی کا درس دیا۔ ان کے ساتھ مقامی باشندوں نے کوئی بیربھاؤ نہیں رکھا۔ بلکہ ان کے ساتھ سماجی، معاشی اورمعاشرتی رشتے قائم کئے ۔ متعدد علماء نے مقامی باشندوں کو ’اہل کتاب کے مشابہ ‘ قراردیا، چنانچہ ان کے ساتھ شریعت کے دائرے میں شادی بیاہ کے رشتے بھی قائم ہوئے۔ مسلم بادشاہوں نے بلا ترددمقامی باشندوں کو اپنی افواج اورسول انتظامیہ میں اعلامناصب دے کر حکمرانی میں شریک کیا۔ مقامی خواتین کو رانی اورمہارانی کا درجہ دیا اوران کی قدروں ، رسم ورواج اورنظام حیات میں کوئی مداخلت نہیں کی۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مسلم حکمرانوں نے مقامی باشندوں کے عائلی معاملات میں ہرگز کوئی دخل نہیں دیا۔ان کی عبادت گاہوں کو ان کا حق سمجھ کر بڑی بڑی جاگیریں دیں اور کامل تحفظ فراہم کیا۔ 
تاریخ کے اسی دور میں ، جو ہندستان میں مسلم حکمرانی کا دور تھا ،یوروپ سے مادہ پرستی کا دیو نمودار ہوا جس نے روحانیت پر یلغار کی اورمذہبت کو نشانہ بنایا۔ اسی کے بطن سے قومیت یا قوم پرستی( نیشلزم) کے نظریہ نے جنم دیا۔ طاقتوراقوام نے کمزور اقوام کو غلام بنایا۔ پہلے قریب کے اورپھر دور دراز کے خطوں پر قبضے کئے۔ ان کے افرادی اورمادی وسائل کا استحصال کیا۔ ہندستان اوراس کے گردوپیش خطوں پر انگریزوں کا قبضہ اور افریقی علاقوں پراطالوی ، فرانسیسی اورجرمنی کے جبری قبضے کئے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان قابضین نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں خون خرابہ کیا اورانسانیت کے جذبہ کو مجروح کرکے ’’قوم پرستی‘‘ کے نظریہ کو عمل کا جامہ پہنایا۔اسی نظریہ کو اطالوی ڈکٹیٹر مسولینی اور جرمنی کے جابرہٹلرنے پروان چڑھایا۔ ان کی قدرمشترک انسان کی شہری آزادی کو سلب کرلینا اورجبروظلم کی بالادستی قائم کرنا تھا۔ اسی طرح کی ڈکٹیٹرشپ قائم کرنے کی کوشش آج ہمارے ملک میں ہوتی نظرآتی ہے۔ ’قوم پرستی ‘ کے اس نظریہ کی بنیاد حق وانصاف پرنہیں بلکہ اپنے ذاتی انفرادی واجتماعی مفادکا حصول ، خودغرضی اوردوسروں پر بالادستی کا قیام ہے۔ چنانچہ جو اقوام حق پسند، انصاف پسند اور خداسے ڈرنے والی ہیں ،ان کے نزدیک قوم پرستی کا یہ نظریہ صریحاً فاسدہے اور حب الوطنی کے جذبہ سے صریحاًماوراء ہے ۔ جمہوری نظام میں ان اقدامات پرجو ’قوم پرستی’ کے نام پر کئے جاتے ہیں، اور اعلااخلاقی اقدار اورانصاف پسندی کے خلاف ہیں، ان پر اعتراض اوراحتجاج دنیا بھرمیں روا ہے ۔ مثلاً امریکا اوردیگر یورپی ممالک میں عوام نے دیگر ممالک پر فوج کشی کی سرکاری پالیسی پر زبردست مظاہرے کئے۔تقسیم کے بعد جب ہمارے حکمرانوں نے سرکاری خزانے میں سے پاکستان کا حصہ دینے سے آنا کانی کی تو گاندھی جی نے اس کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ چنانچہ سرکاری پالیسیوں سے اختلاف ایک جمہوری حق ہے۔اس کو ملک دشمنی، بغاوت، دیش دروہ جیسے الفاظ سے منسوب کرکے اورمیڈیا میں ان اختلافات کے خلاف جھوٹا پروپگنڈا کرکے ، خلاف حقیقت بیانات دینا، دیش بھکتی نہیں ہے۔ جبر کی یہ پالیسی جس کو نیشنلزم کے نام سے ہوادینے کی کوشش کی جارہی ہے وہ ان اخلاقی قدروں، قدیم روائتوں اور مذہبی عقائد کے منافی ہے جو اس برصغیر کے باشندوں کو ورثہ میں ملے ہیں اورجو ان کو بیحد عزیز ہیں۔
لیکن بہرحال اس دور میں’نیشن اسٹیٹ‘ یا ’قومی ریاست ‘کا نظام ایک بین اقوامی قانونی حقیقت ہے۔اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔مثلا اپنی قومی ریاست کی حدود، اس کے باشندوں اوراس کے قدرتی وسائل کی حفاظت،اس میں امن واتحاد کی برقراری ،قانون کی عمل داری، انصاف کا قیام اور ہر طرح کے جبروظلم کاخاتمہ اس میں شامل ہے۔چنانچہ انصاف کی حکمرانی کے لئے آئین اوراس کے تحت قانون بنائے جاتے ہیں۔ دنیا یہ تسلیم کرتی ہے کہ ہمارے ملک کا آئین مثالی اورمعیاری ہے۔ حب الوطنی اورقوم پرستی کا تقاضا یہ ہے کہ آئین اورقانون کو رہنما بنایا جائے۔اس میں فرد کو جو آزادیاں دی گئی ہیں، ان کا احترام کیا جائے۔ جو لوگ ان کا احترم نہیں کرتے اوران کی علی الرغم اپنے نظریات کو تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ یقیناًاس ملک سے خیرخواہی نہیں کررہے ہیں۔ اورجو حکومت ان کی ان حرکتوں سے چشم پوشی اختیارکررہی ہے وہ بھی یقیناًآئین کے اس حلف کی پاسداری نہیں کررہی جو اقتدار سنبھالتے وقت انہوں نے لیا تھا۔ 
حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم روہت ومولا کی خود کشی کے بعد جس طرح قوم پرستی کے نام پر جے این یو پر یلغارہوئی ہے، طلباء یونین کے صدر سمیت دیگر طلباء کو ناحق گرفتارکیا گیا اوران پر سپریم کورٹ کے واضح رہنما اصولوں کے خلاف ’بغاوت‘ کا الزام لگایا گیا ، وہ دراصل قوم پرستی کے انتہا پسندانہ فاسد نظریہ کا شاخسانہ ہے۔ جمہوری نظام میں حکومت کے اقدام اوراس کی پالیسیوں سے اختلاف کا بنیادی حق ہر فرد کو حاصل ہوتا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں کی بدولت عوامی احتساب کے دور سے گزر رہی ہے۔ ان ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے طرح طرح کے موضوعات کو چھیڑا جارہا ہے۔ قانون کی پاسداری کو لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے اوراس بات کی عجلت ہے کہ پوراملک ایک مخصوص محدود نظریہ کے حامل تنگ دل، جمہوریت کش طبقہ کے مٹھی میں آجائے۔ ہمیں بائیں بازو کی تحریکات سے کسی خیرکی امید نہیں کہ جہاں بھی اس نظریہ کے حاملین کو اقتدارملا، وہاں خونریزیوں اور ناانصافیوں نے تمام حدود کو پار کرلیا۔عوام کی بنیادی شہری اورمذہبی آزادیوں کو کچلا گیا اورکچلاجارہا ہے،اس کے علی الرغم ہم یہ کہتے ہیں ایمرجنسی کے فوراً بعد سنہ1977ء کے پارلیمانی الیکشن کے دوران ہمارے ارباب حل وعقد نے جمہوریت کی بقا کے بڑے مقصد کے لئے جس طرح آرایس ایس اورجن سنگھ کے ساتھ اشتراک کیا تھا اسی طرح جمہوری اقدار کی پامالی اورہٹلرشاہی کے اندیشے کے پیش نظرلازم ہے کہ ان عناصر کو تقویت پہنچائی جائے جو اس وقت اس حکومت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ (ختم)
Cell: 9818648677

No comments: