Thursday, March 17, 2016

اتحادکی باتیں ہی باتیںCalls of Unity in Jamiat Ulama-e-Hind and JamiatAhle Hadith Conferences in Delhi

احوال عالم
اتحادکی باتیں ہی باتیں
سید منصورآغا،نئی دہلی
گزشتہ ہفتہ دہلی میں دو بڑے جلسے ہوئے۔ ایک کا اہتمام جمعیۃ علماء ہند نے کیا اوردوسرے کا مرکزی جمعیت اہل حدیث نے۔جماعتی مقررین کے ساتھ ان جلسوں میں بعض غیربھاجپائی سیاسی لیڈران نے بھی ملک کی موجودہ سیاسی نہج پر تشویش کا اظہار کیا۔ (ایک تیسرا بڑاسیاسی ڈرامہ مذہب صوفیا کے حوالہ سے آئندہ چند روز میں ہونے والا ہے جس کو بظاہر سرکار کی سرپرستی حاصل ہے۔اس کا افتتاح وزیراعظم کریں گے۔)
ان دو جلسوں کی رپورٹوں سے ظاہرہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کی فکرمندی اور اس کے ازالے کی تدابیرمیں کوئی تضادیاتفاوت نہیں ہے۔ دونوں نے فرقہ پرست افتراقی طاقتوں سے ملک کو در پیش خطرے سے خبردار کیا ،’’ملی اتحاد ‘‘اور’’فرقہ ورانہ ہم آہنگی‘‘ پر زور دیا ۔ان مقاصد سے کسی راسخ ذہن کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔
ہم ان سب حضرات کا قرارواقعی احترام کرتے ہیں جنہوں نے ملک وملت کے تئیں اپنی فکرمندی کا اظہار کرنے کے لئے ان وقیع جلسوں کا اہتمام کیا۔خطیررقوم ان پر خرچ کی۔خواص نے اپنی پرمغز تقاریر سے محفلوں کو گرمایا اورعا م لوگوں نے اپنی ہزار مصروفیات و فکرروزگار کو بالائے طاق رکھ کر ان میں شرکت فرمائی۔ ہم یہ دعا بھی کرتے ہیں کہ اس چلت پھرت اورکلمات خیر کواللہ اثرپذیری سے روشن فرمائے۔ لیکن گستاخی معاف ایک ہی مقصد کے لئے دوجلسوں کے انعقاد سے ایک خلش ضرور پیدا ہوتی ہے۔ اتحاد کی یہ باتیں اگر دو الگ الگ پلیٹ فارموں کے بجائے ایک ہی متحدہ ملی وقومی پلیٹ فارم سے کہی جاتیں تو کیا زیادہ موثر نہ ہوتیں؟ 
جمعیۃ کے جلسہ میں ایک بات اچھی ہوئی۔ میرٹھ کے جلسے کے طرز پر محترم مولاناارشد صاحب کے ہمراہ مولانا سید سلیمان منصور پوری اور جناب محموداسعدصاحب بھی ڈائس پرموجود تھے۔انہوں نے خطاب بھی کیا۔ یہ تینوں ا فرادایک خاندان سے وابستہ ہیں۔ چندسال قبل تک ایک ساتھ تھے ۔ پھرنہ جانے کیا مجبوری لاحق ہوئی کہ دوپھاڑ ہوگئے۔معاملہ عدالت تک پہنچا۔اس کے باجود ملی اتحاد ان دونوں کا موضوع رہا۔ یہ جمعیۃ کا پہلا انتشار نہیں تھا۔ تاریخ کے اوراق الٹ کردیکھئے۔ سنہ 1920ء میں جب مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا تو عاملہ میں ملت کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی تھی۔ لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا، رفتہ رفتہ یہ’ ملی‘ جماعت صرف مکتب دیوبند کے وابستگان کی میراث بن گئی۔ بات اسی پر ختم نہیں ہوئی۔ قاسمیوں میں  بھی اتحاد نہ رہا اور کئی شاخیں نکل آئیں۔اصولی اختلا ف کچھ نہیں۔ طریقہ کار بھی  حسب سابق، مگرانا کی آواز نے اپنا کام کردکھایا۔ راہیں الگ ہوجانے کے باوجود ہرشاخ ’’ملی اتحاد‘‘ کا نعرہ لگاتی رہی۔ چند ماہ قبل میرٹھ کے ایک جلسہ سے اتحاد کی طرف جو مراجعت نظرآئی اس سے یقیناًبہی خواہان ملت کو خوشی ہوئی۔ خداکرے باقی ماندہ عناصر کو بھی ساتھ لیا جائے اورجمعیۃ اپنی ہیئت اول کوپلٹ آئے۔لیکن فی الحال اس کی کوی سبیل نظرنہیں آتی۔
راقم نے اپنے صحافتی کالم میں سخت بات کہنے یا سخت پیرایہ اختیارکرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے، لیکن بقول شخصے 
مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات،؍مقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے
نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ حضرات گرامی!یہ کیا ماجرا ہے کہ زبان پراللہ ورسول کا کلمہ، ملی اتحاد کا نعرہ اورمظاہرہ ضمنی اختلاف کے عدم برداشت اورتفرقہ پروی کا؟ ہم توعلم سے نابلد ہیں، لیکن جن کے سینوں کو خدانے قرآن اورسنت کے علم سے منورفرمایا ہے ،وہ زرا غورفرماکر بتائیں کہ قول وقرار اور فعل واقدام میں یہ دوئی کہیں ازقسم نفاق تو نہیں؟ جو ہم دکھاتے ہیں وہ ہوتے نہیں، جو ہیں، اس پرتقریراورتحریر کے بھاری بھرکم موٹے موٹے پردے ڈال کربندگان خدا سے چھپا نا چاہتے ہیں۔سادح لوح بندوں کو تو ورغلالیں گے،لیکن جب اس بصیر و علیم کے حضورحاضری ہوگی تو کیا منھ دکھائیں گے؟یہ القاب وآداب ،یہ اعلا نسبی کے دعوے، یہ ’مفکراسلام‘ ہونے کے خودساختہ تغمے، علم وفضیلت کے یہ چولے کیا کچھ کام آجائیں گے؟
اندیشہ ہے کہ صورت حال یہی رہی ، اخلاص پر ذاتی اغراض اوراپنا اپنا قد بڑھانے کا خیال حاوی رہا تو اتحاد ملت اور قومی یک جہتی کے نعرے بے رنگ ہی رہ جائیں گے۔بیشک آپ اپنے میدان کار الگ الگ رکھئے کہ اس میں بھی برکت ہے۔ لیکن جب معاملہ ملک وملت کا ہو تووہ کونسی چیز ہے جو سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے سے روکتی ہے؟ جب تک یہ انا فنا نہ ہوگی،انانیت سے دامن پاک نہ ہوگا، منزل کو ملت ترستی رہے گی۔ کیا حرج تھا اگر جو پیغام ان جلسوں میں دیا گیا، جس میں جماعت اسلامی ہند اورمسلم مجلس مشاورت سمیت کئی دوسری ملی جماعتوں کے اکابرین بھی ہم آواز ہوئے ، ایک ہی مشترکہ پلیٹ فارم سے دیا جاتا؟ یہ دونوں جلسے ایک دودن کے فصل سے ایک ہی شہر میں منعقد ہوئے۔ اس لئے زیادہ خلش پیدا کرتے ہیں۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اتحاد کی تلقین کرنے والے بس باتیں ہی باتیں کرتے ہیں، خود متحد نہیں ہوتے۔
جمعیۃ علماء ہند کی قومی یکجہتی کانفرنس کی ایک رپورٹ ، جو ملت ٹائمز نے شائع کی ہے ،میرے سامنے ہے۔ لکھا ہے ’’ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحیدکی شرکت ؛ مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے علماء ودانشوروں کا کانفرنس سے خطاب؛موجودہ حکومت کی پالیسی اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کی کوششوں کی سخت مذمت؛ مسلمانوں اور عیسائیوں کی گھر واپسی کی بات کرنے والے کسی کوکمزور نہ سمجھیں؛‘‘ایک بڑے اخبار نے شہ سرخی لگائی ہے: سرکار کی پالیسوں سے اقلیتوں کو خطرہ۔ وغیرہ
طرفہ تماشا یہ کہ جس اسٹیڈیم میں یہ کانفرنس ہوئی اس کی گنجائش سرکاری طور پر 14348افراد کی ہے۔ اڑ دھس کر ہزار پانچ سو افراد اور آ سکتے ہیں۔ مگرحیرت ہوتی ہے کہ بقول رپورٹر اس میں ایک لاکھ فرزندان توحید  سما گئے؟ اندازہ ہوتا ہے کہ خبرنگار کچھ زیادہ ہی پرجوش تھا ۔حقیقت نگاری کے بجائے کچھ اور ہی کررہا تھا۔ بہرحال رپورٹرنے یہ نہیں بتایا کہ ’’قومی یک جہتی‘‘ کے موضوع پر اس کانفرنس میں فرزندان توحید کے ساتھ کچھ ’’برادران وطن‘‘ بھی نظرآئے یا نہیں؟ ہماری اطلاع یہ کہ کوئی اکا دکا ہو تو ہو، ورنہ پورا آڈیٹوریم مدارس کے متعلقین سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ قومی یک جہتی کی درکار سب کو ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قومی یک جہتی کا موضوع بھی میٹ پارٹی یا بیف پارٹی جیسا بن گیا ہے جس سے ملک کی اکثریت کنارہ کش ہے۔ یا اس تک اس کا پیغام پہنچتا ہی نہیں۔قائدین کو غورفرمانا چاہئے کہ جب وہ فرقہ ورانہ ہم آہنگی اورقومی یکجتی کے مرکزی موضوع پر جلسے کرتے ہیں توسامعین میں ان کے اپنے مکتب فکراورمسلک کے متبعین کے علاوہ دیگرلوگ کیوں نہیں ہوتے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ یہ جلسے اپنا اپنا جھنڈابلند رکھنے کے لئے ہی کرتے ہوں؟ جمعیۃ کے جلسے میں کانگریس کے لیڈران بھی تشریف فرما تھے اور خوب بولے بھی۔ خصوصا محترم غلام نبی آزاد کی تقریر پر فرقہ پرستوں میں خوب شوراٹھا۔ لیکن جن کی نظرقومی سیاست کے نشیب وفراز پر ہے، ان سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ جہاں تک ہماری اقلیت کا تعلق ہے، اس کے مسائل کو الجھانے میں کانگریس کا کردار بھی داغدار ہے۔ پھر یہ پذیرائی چہ معنی دارد؟ بقول شخصے چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ کافر لگی ہوئی۔
دارلعلوم دیوبند کے محترم استاذ حدیث ،صدرجلسہ  مولاناارشدصاحب کا یہ جملہ ایک بڑے اخبار نے اپنی شہ سرخی بنایا کہ موجودہ حکومت اقلیتوں کے لئے خطرہ ہے‘۔ بیشک ہے۔ لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں۔اس سے بڑھ کر ہے۔ یہ حکومت جس ڈگر پر چل رہی ہے وہ پورے ملک کے لئے خطرہ ہے۔محسن انسانیت ﷺ کے متبعین کوبات پوری انسانیت کی کرنی چاہئے، صرف ایک فرقہ کی کیوں؟یہ بات آپ کے مقام ’خیرامت‘ سے بھی فروتر ہے اورسیاسی اعتبار سے بھی کج ہے۔ آپ بات صرف اقلیتوں کی کریں گے، دلتوں کی، پریشان حال کسانوں کی اوردیگر برادران وطن کی نہیں کریں گے تو وہ آپ کی طرف متوجہ کیوں ہونگے؟
اس جلسے میں غلام نبی آزاد صاحب نے درست فرمایا:لڑائی ہندو۔ مسلمان کے درمیان نہیں ،بلکہ فرقہ پرستی اور سیکولرازم کے درمیان ہے۔‘‘ سیکولرزم سے مراد یہ ہے سرکار کا کوئی دھرم نہ ہو، دھرم کے نام پر کوئی سیاست نہ ہو اورتمام باشندے اس کی نظر میں برابر ہوں۔ ہماری مشکل یہ ہے روزاول سے اس پر عمل میں کوتاہی رہی ہے۔ بحیثیت ایک اقلیت ہمارے تعلق سے سابقہ حکومتوں کی پالیسی معاندانہ رہی ہے، خیراندیشانہ نہیں رہی ۔ سچر رپوٹ اس کا ثبوت ہے کہ ’’سیکولر ‘‘ سرکاروں کا رویہ بھی ہمارے ساتھ سیکولر نہیں رہا ہے۔ مودی کی سرکار سے کیا شکوہ کہ وہ دراصل سنگھ کے سیوم سیوکوں کی سرکار ہے۔ 
محترمہ سونیا گاندھی نے بجا فرمایا:’’ قومی یکہجتی کے لئے جمعیۃ علما ہند کا کردار ہمیشہ قابل تعریف رہا ہے‘‘۔ حضرت مولانااسعد مدنی صاحب کی یاد میں ایک سیمنار میں ، جو وگیان بھون میں ہوا تھا، راقم نے ایک بات کہی تھی کہ جمعیۃ آزادی سے پہلے بھی ایک قومی نظریہ اور قومی یکجتی کی حامی رہی ہے۔بلکہ اس کی سیاست کا محور یہی رہا ہے۔ تحریک آزادی کے دوران اس نے جم کر دوقومی نظریہ سے لوہا لیا تھا ۔ جب گاندھی جی اورسردارپٹیل کی ایماء پر کانگریس نے بھی دوقومی نظریہ پر مہر لگادی اور ملک کی تقسیم کو منظورکرلیا، تب بھی جمعیۃ کے قائدین اور متوسلین ہی تھے جو ایک قومی نظریہ کو اپنے سینے سے لگائے رہے۔ آج بھی وہی ایک قومی نظریہ کی لڑائی لڑرہی ہے۔‘‘ سونیا جی نے اس حقیقت کا اعتراف بطریق احسن کیا ہے۔ ان کا شکریہ لیکن کیا وہ کانگریس کے کارکنان اورباشندگان وطن کو بھی یہ پیغام دیں گی؟  کیا ان کی پارٹی ہندتووا کے دباؤ سے خود آزاد کرکے سیدھے سچے سیکولرزم کے راستے پر چل سکے گی؟ 
اسی ہفتہ صوفی ازم کے نام پرایک بڑی کانفرنس ہورہی ہے۔سمجھا جاتا ہے کہ یہ کانفرنس ہمارے وزیراعظم کے منصوبے کی تحت ہورہی ہے۔ اسی لئے متعدد موقرسنی علماء اورتنظیموں نے اس سے لا تعلقی اختیار کرلی ہے۔ اس بے حمیتی کا کیا جواب ہے کہ بھاجپا اورآرایس ایس یہ طے کریں کہ ہندستانی مسلمانوں کا مشرب کیاہونا چاہئے اورکچھ لوگ ان کے آلہ کار بن جائیں؟ اللہ ہماری ملت پر رحم فرمائے۔ آمہن۔ 

No comments: