Saturday, March 26, 2016

’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ ، موہن بھاگوت، بھاجپا اوراسدالدین اویسی "Bharat Mata kee Jai"; Mohan Bagwat, BJP and Asaduddin Owaisi ,

’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ ، موہن بھاگوت، بھاجپا اوراسدالدین اویسی

سید منصورآغا، نئی دہلی
جب سے مرکز میں مودی سرکار آئی ہے، آرایس ایس کے رہنما بشمول جناب موہن بھاگوت اپنے فکرو ذہن کے مطابق کوئی نہ کوئی متنازعہ بات کہتے رہتے ہیں جس پر بحث چھڑجاتی ہے اور کھلے ذہن کے ہندودانشور، صحافی اورسیاست داں بھی فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس بار ان کے ایک بیان پر جناب اسد الدین اویسی ، ایم پی بھی بول پڑے اورایسا بولے کہ بحث کا رخ بدل گیا۔ بھاگوت صاحب نے 3مارچ کو یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ نئی نسل میں قوم پرستی کا جذبہ پپروان چڑھانے کے لئے ان کو ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘بولنے کی تربیت دی جانی چاہئے۔ اس کے چندروز بعد لاتورکے ایک جلسہ میں اویسی صاحب نے کہہ دیا کہ میری گردن پر چھری بھی رکھ دو گے تو میں ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘نہیں بولوں گا۔ اویسی صاحب خیر سے تجربہ کار سیاست داں اور لائق بیرسٹر ہیں۔ بھاگوت جی کے جواب میں انہوں نے کوئی دلیلپیش نہیں کی،کوئی قانونی نکتہ نہیں اٹھایابس ایک سطحی اورہیجان انگیز بات کہہ دی۔جس پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ کسی نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، کسی نے شہریت ضبط کرنے کا،کسی نے پاکستان بھیج دینے کا تو کسی نے گرفتارکرلینے اورگردن زدنی کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس تلملاہٹ سے ممکن ہے اویسی صاحب اوران کے حلقہ کو مزہ آتا ہو، مگرمخالفین کو ملک کی سیاسی فضا مکدرکرنے کاموقعبہرحال مل گیا۔ ان کی گردن پر تو چھری کیا رکھی جاتی ، فرقہ پرست سیاست دانوں کواکثریتی طبقہ میں یہ بدگمانی پھیلانے کا موقع مل گیا کہ اویسی صاحب اوران کے ہم مذہب حب الوطن نہیں ہیں۔ جاوید اختر صاحب کی راجیہ سبھا میں الوداعی تقریر نے جلے پر تیل کا کام کیا۔جاوید صاحب ’’بھارت ماتا ‘‘ کے تصوراوراس کی علامت سمجھی جانے والی مشرکانہ تصویروں سے تو بے خبرنہیں ہوسکتے البتہ ان کے لئے مشرکانہ اعمال سے گزیر کی شاید وہ اہمیت نہیں جو مومن کے دل میں ہونی چاہئے۔ بہرحال اویسی صاحب اورجاوید صاحب کی مداخلت کے بعد یقیناًاس بحث سے فائدہ بھاجپا کو ہوسکتا ہے، خصوصاً اس لئے کہ چاراہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔
اویسی صاحب کے اس بیان پر ہم ان پر بھاجپا کے ساتھ نوراکشتی کا گمان تو نہیں کر سکتے، لیکن یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ لاتورکے جلسے میں اپنی زبان کھولنے سے پہلے بیرسٹرصاحب نے یہ غورنہیں کرلیا ہوگا کہ اس کے کیا سیاسی اثرات پڑسکتے ہیں؟ ہوسکتا ہے ان کو ذاتی طورسے کچھ فائدہمل جائے، مگر فرقہ ورانہ فضا کا مکدر ہونا بیشک ملک اورقوم کے حق میں نہیں ہے۔ 
بھاگوت جی کا ذہن ایک مخصوص سانچہ میں ڈھلا ہوا ہے جس میں دیگرفرقوں اورعقائد کے لئے کوئی سمائی نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بت پرستی کی مخصوص ذہنیت کا فروغ ہی قومی مسائل کا حل ہے۔ ان کی تنظیم گزشتہ نوے سال سے اپنے چیلوں کو یہی سبق پڑھا رہی ہے۔ ان کی کسی بات پر ردعمل ظاہر کرنے سے پہلے سوبار سوچ لینا چاہئے کہ اس کا اثرات کہاں تک جائیں گے؟ اگران کی بات پر فرقہ ورانہ انداز سے کوئی تنازعہ کھڑا نہکیا جائے توبات زیادہ دورتک بھی نہیں جائیگی۔ ان کی ہربات کوہندواکثریت قبول نہیں کرتی۔ ان کی بعض باتوں کی رد تو ان کے ان چیلوں کوکرنی پڑجاتی ہے جو وزارت کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ مثلا ریزرویشن پر انہوں نے جب بھی منھ کھولا ، سرکارمیں بیٹھے سنگھیوں کو اس کے خلاف بولنا پڑا۔البتہ جب کسی بات پر فرقہ ورانہ رنگ چڑھ جاتا ہے تو سادہ لوح باشندگان وطن بھی بدل جاتے ہیں۔
اویسی صاحب کے بیان پر تنازعہ اٹھا تو قوم پرستی پر بھاگوت کی نصیحت کو بھاجپا نے اپنیکندھے پر سوار کرلیا۔پارٹی کی مجلس عاملہ نے ایک قرارداد منظورکرکے یہاں تک کہہ دیا کہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ نہ بولنا ایسا ہی ہے جیسا آئین کی توہین کرنا۔‘‘ یہ ایک لغوبات ہے جس کی ہماراآئین اورمروجہ قانون تائید نہیں کرتا اور ملک کا کوئی باشندہ بھاجپا اورسنگھ کے نظریہ کا پابند نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ہم بھاجپا کے اس نظریہ کو سختی سے رد کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ حقیقت اس سے قطعی برعکس ہے۔ ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘ بولنا ہرگز کسی ہندستانی پر لازم نہیں ہے۔ البتہ اس پر اصرار کرنا ہمارے آئین اورقانون کے خلاف اور آئین کی توہین ہے ۔ہندتووادیوں کا خیال یہ ہے کہ ’’بھارت ماتا کی جئے ‘‘ کا مشرکانہ نعرہ آئین سے وفاداری کا اعادہ ہے۔یہ ایک ناقص تصور ہے جس کی کوئی قانونی یا منطقی بنیاد نہیں۔ کیا بھاجپا یہ کہنا چاہتی ہے کہ اب تک جن کروڑوں باشندگان ہند نے یہ نعرہ نہیں لگایا ، وہ ملک کے تئیں وفادار نہیں تھے اور آئین کا احترام نہیں کرتے تھے؟ ہرگز نہیں۔ یہ فسطائی نظریہ فرد کی اس آزادی پر شبخون ہے جس کی گارنٹی آئین نے دی ہے اورسپریم کورٹ نے جس پرمہر لگائی ہے۔ 
ہمار ے وزیراعظم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت کے لئے بس آئین ہی محترم کتاب ہے۔جب سشما سوراج نے گیتا کوقومی کتاب قراردئے جانے کا شوشہ چھوڑا تھا تب بھی انہوں نے کہا تھا کہ ہماری قومی کتاب صرف آئین ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے غیرممالک جاکر وہا ں کے حکمرانوں کو گیتا پیش کی تھی۔آئین ہند نہیں۔ ہماراآئین سیکولرہے جس کا مطلب یہ ہے کہکسی پر کوئی ایسا نظریہ نہیں تھوپا جاسکتاجو اس کیعقیدے کے خلاف ہو۔یہ قرار داد یقینااس اصول کے منافی ہے۔ یہ وزیراعظم کی موجودگی میں ، ان کی تائید سے اسی جلسے میں منظور ہوئی جس میں انہوں نے اصرار کے ساتھ کہا تھا، ’’ میری حکومت کا بس ایک ایجنڈا ہے، ترقی ،ترقی اورترقی۔ ‘‘سوال یہ ہے ترقیاتی ایجنڈے کے ساتھ ہندتووا کا یہ ایجنڈہ نتھیکرنے کا کیا مطلب ہے؟ 
ان کی پارٹی اوران کے ہم نواؤں نے جے این یو طلباء اور اظہار خیال کی آزادی کے دیگرہم نواؤں کو نشانہ بنانے کے لئے قوم پرستی کی مخصوص ،محدود اورمشرکانہ تعبیر پر فاسدانہ طریقے سے جو اصرار شروع کیا ہے وہ یقیناًباعث تشویش ہے۔لیکن اس کامقابلہ جذباتی اعلانات سے نہیں کیا جاسکتا۔ مہاراشٹرکی بھاجپا، شیوسیناسرکار نیخلاف ضابطہ ایک رکن اسمبلی کو معطل کرکے اس کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ممبر اسمبلی معطلی کے لئے ضوابط موجود ہیں۔ اسپیکر کو ہی اس فیصلہ کا حق ہے، ارکان اسمبلی کو نہیں۔ لیکن بھاجپا کے راج میں قانون کو بالائے طاق رکھ کر ’’اکثریت کی دھاندلی‘‘ چلائی جا رہی ہے۔ وارث پٹھان نے ہرگز کسی ضابطہ کو نہیں توڑا لیکن ان کو اسمبلی کی کاروائی میں حصہ لینے سے اس لئے روک دیا گیا کہ انہوں نے جبراً یہ نعرہ لگانا قبول نہیں کیا۔ افسوس کہ کانگریس بھی اس میں بھاجپا،شیوسینا کے ساتھ ہوگئی۔ ایک طرف کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اس نظریہ کے مخالف کنہیا کمار کی ہمدردی میں جاکر کھڑے ہوتے ہیں۔دوسری طرف ان کی پارٹی اس فاسد نظریہ کے حق میں بھاجپا کا ساتھ دے رہی ہے۔ کانگریس کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ ہندتووا اورہندوراشٹروادیوں کی پچھ لگو بن کررہنا چاہتی ہے یا اسسیکولر ہندستان کا ساتھ دینا چاہتی جو جواہرلال نہرو کی قیادت میں ’جے ہند‘ کے نعرے کے ساتھ وجود میں آیا تھا اور پروان چڑھا ۔
غورطلب بات یہ بھی ہے کہ کیا یہ نعرہ لگانا کسی کا آئینی فریضہ ہوسکتا ہے، جیسا کہ بھاجپا کی سیاسی قرارداد میں کہا گیا ہے اورجس کے ذریعہ پورے ملک میں ایک غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے؟ سچ یہ ہے کہ بھاجپا نے اس نظریہ کا جواز پیش کرنے کے لئے آئین کو غلط طور پر آڑ بنایا ہے۔ آئین اورقانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آئین کی دفعہ 51(A) میں کہا گیا ہے کہ ہندستانی باشندے کی ذمہ داری ہوگی ہے کہ’’ آئین کا پابند رہے اور قومی پرچم اورقومی ترانہ کے آدرشوں کا احترام کرے۔ ‘‘ لیکن اہم بات یہ ہے کہ آئین سازوں نے اس شق کورہنما اصولوں کے تحت رکھا ہے اس لئے اس کو قانونی جوازحاصل نہیں۔اس سے آئین سازوں کی یہ منشاء ظاہر ہوتی ہے کہ اس طرح کے کسی معاملے میں حکومت کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی ۔ شہری کو ملک اورقوم کی کس علامت پر اٹھ کھڑا ہونا ہے ،اس کو اس کے ضمیر کی آوازاور عقیدے کی آزادی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ 
یہ نکتہ قدرے گنجلک ہے اوراس کی وضاحت سادہ الفاظ میں مشکل ہے۔البتہ اس کی منشاء کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے جو اس نے اگست 1986میں دیا تھا اورجس میں آئین کی اسی دفعہ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ بجوئے امانیول اوردیگر بنام ریاست کیرالہ کے عنوان سے محفوظ ہے۔جسٹس اوچنپا ریڈی اور جسٹس ایم ایم دت کی بنچ کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا قومی ترانے کے گانے میں شرکت سے انکار کو جرم قراردیا جاسکتا ہے۔ یہ سوال اس لئے زیر غورآیا تھا کی ایک چھوٹے سے فرقہ جیہوواہ کے تین بچوں کواس لئے اسکول سے نکال دیا گیا تھاکہ انہوں صبح کی دعا کے وقت قومی ترانے گانے سے انکار کردیا تھا اوردلیل یہ دی تھی یہ ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ہے۔عدالت عالیہ ان بچوں کو اسکول سے اخراج کو کالعدم کرتے ہوئے،اسکول کے اقدام کو بچوں کی’’ ضمیر کی آزادی اورآزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل پیراہونے کے بنیادی حق ‘‘کے خلاف قراردیا ۔ عدالت نے صاف کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں جو قومی ترانہ کو گانا لازم کرتا ہو۔ اگر کوئی شخص قومی ترانہ نہیں گاتا اورخاموش کھڑا رہتا ہے تو یہ قومی ترانے کی بے توقیری نہیں۔ عدالت نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ’’ ملکی اورقومی روایات ہمیں تحمل سکھاتی ہ۔ہمارا فلسفہ ہمیں تحمل سکھاتا ہے۔ ہمارا آئین بھی تحمل پر عمل کراتا ہے۔ہمیں اس کو ہلکا نہیں کرنا چاہئے۔‘‘
ایک موقر روزنامہ نے اس بحث کے دوران سرکار اوربھاجپا کو مشورہ دیا ہے کہ قوم پرستی پر بھاگوت کے نظریہ کو قبول کرنے سے پہلے اس کو آئین اورسپریم کورٹ کے فیصلے کا مطالعہ کرلینا چاہئے تھا۔ بھاجپا کی مجلس عاملہ میں کئی قانون داں موجود ہیں۔ ایسا نہیں کہی ان کو یہ اہم فیصلہ یاد نہیں آیا ہوگا ۔ لیکن شاید پارٹی اورحکومت نے یہ تہیہ کرلیا کہ وہ آئین اورقانون کے احترام کا شور تو مچائے گیں، مگر اس کو نہ آنکھ کھول کر پڑھیں گے اورنہ اس پر عمل کریں گے۔ اس کی ایک تلخ مثال ملک سے بغاوت کے الزام میں حالیہ گرفتاریاں ہیں، حالانکہ قانون کا معمولی جانکار بھی یہ کہہ رہا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس نظریہ اوررویہ کے خلاف ہے جو سرکاراختیار کررہی ہے۔ اس سنگین غلطی کا نتیجہ خود پارٹی اورسرکار کے حق میں نہیں گیا۔ لیکن ان پر قوم پرستی کا وہی جنون پھیلانے کا سودا سوار ہے جو ہٹلر نے پھیلا یا تھا اورجس کا نتیجہ جرمنی کی تباہی کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔(ختم)

No comments: