Saturday, February 27, 2016

HRD Minister adamant to close down all AMU centres, humiliates VC

By Zafarul-Islam Khan

The Milli Gazette

With a delegation of Kerala ministers and MPs, Kerala Chief Minister Mr. Oomen Chandy met HRD Minister Simriti Irani in her office in Delhi on 8 January seeking her support for the AMU Centre in Malappuram which is not progressing as planned. According to a reliable source, she told them bluntly, “This centre and other AMU centres were established without any legal sanction, hence they will all be closed down. “How you start a centre like this?” she said, adding: “What authority the VC has to take such an action. We are not going to give money.” She added, “there was no need for the AMU centres. I am going to close them down. We will not give a grant for this purpose.” The Kerala CM said we have given 345 acres of precious land in Perinthalmanna taluk of Malappuram for this purpose on the understanding that a full-fledged AMU centre will function there. “Take it back!” the HRD minister thundered.

While this discussion was on between the HRD Minister and Kerala CM-led delegaion, the AMU Vice Chancellor Lt. Gen (retd) Zameeruddin Shah entered the room. Irani asked him bluntly: “Why have you come?” He politely replied, “Ma’am, I have come at the invitation of the Kerala Chief Minister.” She shot back in anger: “Who pays your salary, Kerala CM or the HRD Ministry? Go back and sit in your room!” The humiliated VC made a hasty retreat while a stunned CM and his delegation looked on in utter disbelief. 

The HRD minister met the Kerala chief minister again at Trivandrum on 14 January. Before the second meeting, a BJP delegation had visited the AMU centre at Malappuram. During the second meeting, the HRD minister repeated what she had said in Delhiexcept but she said, “We will not give you anything extra!” This meant that the minister and her government have no immediate plan to close down the AMU centres but will allow it to meet a natural death. She also bluntly refused to allow an AMU school to run at the centre. 


AMU had decided in 2010 to open five centres, one each at Murshidabad, Malappuram, Kishanganj, Bhopal and Pune, which all were to be fully functional by 2020. Out of these, only the first three arepartially functioning but without any school which would add to their charm as students passing out from AMU schools have a 50 percent quota in AMU faculties and colleges. HRD Minister’s rejection of approving schools for these centres is to rob them of their attractiveness to the local people where these centre are established. 


The current HRD minister is behaving as if the AMU VC took a unilateral decision to establish these centres. In fact, these centres were part of the Union government’s scheme for the educational uplift of the Muslim community in the wake of the alarming Sachar report of 2006. AMU’s academic and executive council approved this scheme which was finally okayed in May 2010 by the President of India who is the Visitor of the university. Before their establishment, the Union government had engaged the Educational Consultants India Ltd (EDCIL), a public sector company, which prepared the project report after which UGC released funds. 


The Malappuram centre was established in 2010. Its projected growth for the year 2015 was 13,000 students and 13 faculties but even now it is offering only three courses, viz., MBA, B.Ed and Law which are attended by only 400 students at present. The Murshidabad centre too is offering only these three courses  while the Kishangarh centre is offering only B.Ed course.


In addition to offering free land for the Malappuram centre, Kerala government had also built the infrastructure for the campus while funds for the buildings were released by the UGC. The current condition of the Malappuram centre with a very small number of students and only a few of the projected courses means that the centre would die its own natural death in a few years time as only a few hundred students would not justify the huge budget needed to run the centre which was a matter of prestige for Kerala and that’s why before the CM, MPs from Kerala too had met the HRD minister. 


Back on 24 December, 2011, the then HRD Minister Kapil Sibal, while inaugurating the Malappuram Centre, had assured adequate funds for its future plans and development. In reply to a demand made by the Kerala Chief Minister Oommen Chandy in his presidential address. Sibal had said, “Paise ki zaroorati he to, hamaari taraf se koi kamee nahi hogi” (If money is needed, there will be no dearth from our side). 

(Source: The Milli Gazette, 1-15 March, 2016)


اسمرتی ایرانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سنٹروں کو بند کرنے کے درپے،

 وائس چانسلر سے بدتمیزی کی

نئی دہلی: معتبر انگریزی اخبار ملی گزٹ کی اگلی اشاعت میں ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے قلم سےشائع ہونے والی ایک سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ منسٹر اسمرتی ایرانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تمام سنٹروں کو بند کرنے کے درپے ہیں۔معتبر ذرائع کے حوالے سے ملی گزٹ نے اپنی اس خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ دہلی میں پچھلی ۸ جنوری کو منسٹری کے آفس میں وزیر صاحبہ سے کیرالا کے چیف منسٹر اومن چنڈی ،متعدد وزراء اور کیرالا کے ممبران پارلیمنٹ نے مالاپورم میں واقع علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں ملاقات کی اور ان کو توجہ دلائی کہ مذکورہ سینٹر مرکزی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ترقی نہیں کررہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر صاحبہ نے ترش لہجے میں کیرالا کے اعلیٰ وفد سے کہا: ’’یہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دوسرے سنٹر بغیر کسی قانونی اجازت کے بنائے گئے ہیں ، اس لئے وہ سب بند کردئے جائیں گے‘‘۔


وزیر صاحبہ نے مزید کہا’’: ایسے کیسے آپ سنٹر کھول سکتے ہیں ؟ وائس چانسلر کیسے ایسا قدم اٹھاسکتا ہے؟ ہم اس کے لئے پیسے نہیں دیں گے‘‘۔  وزیر صاحبہ نے اسی سخت لہجے میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا :’’ان سنٹروں کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ میں ان سب کو بند کردوں گی! اس مقصد کے لئے ہم کوئی گرانٹ نہیں دیں گے‘‘۔  جب کیرالا کے چیف منسٹر نے وزیر صاحبہ کو بتایا کہ اس مقصد کے لئے ہم نے مالاپورم میں ۳۴۵ ایکڑ بہت قیمتی زمین دی ہے تاکہ وہاں  ایک ہمہ گیر سنٹر بن سکے ، تو اسمرتی ایرانی نے اسی سخت لہجے میں ان سے کہا: ’’آپ زمین واپس لے لیجئے! ‘‘

ملی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق ، یہ بات چل ہی رہی تھی کہ وزیر صاحبہ کے کمرے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) ضمیرالدین شاہ داخل ہوئے۔ ایرانی نے ان سے پوچھا:’’آپ کیوں آئے ہیں؟‘‘۔ وائس چانسلر نے جواب دیا: ’’میڈم ! میں کیرالا کے چیف منسٹر کی دعوت پر آیا ہوں‘‘۔  اس پر اسمرتی ایرانی کا پارہ چڑھ گیا اور وہ بولیں:’’آپ کو تنخواہ کون دیتا ہے؟ کیرالا چیف منسٹر یا ہیومن ریسورس ڈولپمنٹ منسٹری؟ جائیے اور اپنے کمرے میں بیٹھئے!‘‘۔ اس ذلت آمیز سلوک پر وائس چانسلر صاحب خاموشی سے کمرے سے نکل گئے جبکہ کیرالا کے چیف منسٹر اور ان کے وفد کے ممبران خاموشی سے اس یقین نہ آنے والے حادثے کو دیکھتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد اسمرتی ایرانی تریوندرم گئیں جہاں ۱۴جنوری کو دوبارہ ان کی ملاقات کیرالا چیف منسٹر اومن چنڈی سے ہوئی اور یہ مسئلہ دوبارہ زیر بحث آیا ۔اس ملاقات میں وزیر صاحبہ نے اپنی پوزیشن ہلکی سی بدلتے ہوئے کہا’’:ہم کوئی نیا فنڈ نہیں دیں گے ‘‘ ۔ حکومت کیرالا نے اس نئے بیان سے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ متعلقہ سنٹر میں مزیدکورسیزکھولنے اور نئی سہولتوں کے لئے مرکز سے کوئی فنڈ نہیں ملے گا۔ دوسرےلفظوں میں مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ یہ سنٹر خود اپنی فطری موت مر جائے ۔ اسی ملاقات میں اسمرتی ایرانی نے مذکورہ سنٹر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ہائی اسکول کھولنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا۔

یاد رہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے 2010میں پانچ باہری سنٹر کھونے کا فیصلہ کیا تھا جو مرشد آباد، مالاپورم، کشن گنج ، بھوپال اور پونا میں قائم ہونے تھے۔ اور ان سارے سینٹرز کو 2020آتے آتے مکمل طور سے کام کرنا تھا۔ ان پانچ سنٹرز میں سے فی الحال صرف تین کھل سکے ہیں۔ مرشد آباد اور مالاپورم میں صرف تین کورسیز (ایم بی اے، بی ایڈ اور ایل ایل بی) اورکشن گنج سنٹر میں صرف بی ایڈ کی تعلیم دی جارہی ہے جبکہ باقی دو سنٹر ابھی تک کھل ہی نہیں سکے ہیں۔

کام کرنے والے تینوں سنٹروں میں مسلم یونیورسٹی کا ہائی اسکول نہیں کھل سکا  ہے جبکہ اسکول کی وجہ سے ہی ان سنٹروں کی افادیت بڑھے گی اور بچے ان میں داخلہ لیں گے کیونکہ  مسلم یونیورسٹی کے قانون کے مطابق اس کے اعلی کورسیز میں اس کے اپنے اسکولوں کے فارغین کے لئے ۵۰فیصد کوٹا ہے۔ ان اسکولوں کو کھولنے کی اجازت نہ دے کر مرکزی حکومت ان سنٹروں کی افادیت ختم کردینا چاہتی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ سارے سنٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کیایگزیکیوٹیو اور اکیڈمک کاؤنسل کی اجازت  اور صدرجمہوریۂ ہندکی بحیثیت وزیٹر منظوری کے بعد ہی کھلے تھے۔اس لئے ان  کے  غیر قانونی ہونے کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید برآں ان سنٹروں کو کھولنے سے پہلے خودہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ منسٹری نے ایک پبلک سیکٹر یعنی حکومتی کمپنی (ایجوکیشنل کنسلٹنٹس انڈیا لیمیٹیڈ)سے ان سنٹروں کے بارے میں پروجیکٹ بنوایا اور مثبت رپورٹ آنے کے بعد ہی ان سنٹرز کی آخری منظوری دی گئی اور فنڈ زجاری کئے گئے۔

کیرالا گورنمنٹ نے مالاپورم سنٹر کے لئے صرف زمین ہی نہیں دی بلکہ اس کاانفراسٹرکچر یعنی روڈ، پانی وغیرہ کا بھی انتظام کافی پیسے خرچ کرکے کیا۔ مالا پورم سنٹر 2010میں قائم ہوا اور پروجیکٹ کے مطابق 2015میں اس میں تیرہ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہوتے اور سنٹر میں ۱۳کورسیز پڑھائے جارہے ہوتے لیکن حالت یہ ہے کہ فی الحال اس میں صرف چارسو بچے پڑھ رہے ہیں اور وہاں صرف تینکورسیز پڑھائے جارہے ہیں۔ مرشدآباد میں بھی یہی حالت ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جلد ہی یہ سنٹر خود بخود بند ہوجائیں گے کیونکہ اتنے قلیل طلبہ اور اتنے قلیل کورسیز کے لئے اتنا بڑا کیمپس اور اس کے چلانے کے لئے ہونے والے بڑے اخراجات کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔

موجودہ وزیر کے برعکس جب اس وقت کے وزیر ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ  منسٹرکپل سبل مالاپورم سنٹر کی ایک نئی بلڈنگ کا افتتاح کرنے ۲۴ دسمبر ۲۰۱۱ کو گئے تھےتو اپنی تقریر میں انہوں نے اعلان کیا تھا:’’پیسے کی ضرورت ہوگی تو ہماری طرف سے کوئی کمی نہیں ہوگی۔‘‘


No comments: