Wednesday, January 13, 2016

Minority Character of AMU Under Cloud

احوال عالم
ہماری مسلم یونیورسٹی پھر نرغے میں
سید منصورآغا،نئی دہلی
مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ کیس میں مرکزی حکومت نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے بروز پیر، 11 جنوری سپریم کورٹ میں یہ کہا کہ اس کے نزدیک مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے، اور یہ کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق یو پی اے حکومت نے جو اپیل دائر کی تھی اس کو واپس لے گی جس میں یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ مسلم یونیورسٹی ایکٹ 1981 کے بموجب اقلیتی ادارہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے بہار اسمبلی انتخابات سے بی جے پی کا لبادہ اوڑھے ہوئے سیوم سیوکوں کی سرکار نے کوئی رہنمائی حاصل نہیں کی ہے اور اترپردیش و دیگرریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے قبل ایک مرتبہ پھر وہی روش اختیار کی ہے جس سے انتخابات کے دوران رائے دہندگان کی طبقاتی گول بندی ہوسکے۔مہاراشٹر کے حالیہ بلدیاتی انتخابات نے بھی مودی کی اس مقبول عام ہیرو کی شبیہ کو سخت دھکا لگا ہے جو 2014کے پارلیمانی الیکشن میں بن گئی تھی۔ان میں بھاجپا چوتھے مقام پر آئی ہے جب کہ کانگریس اس سے چارگنی سیٹ لیکر پہلے مقام پر اوراین سی پی دوسرے مقام پر ہے۔چنانچہ ڈولپمنٹ اورخوشحالی کا جو مایا جال انہوں نے بنا تھا وہ بکھر چکا ہے۔ اب پھر ضرورت ہوگی کی مذہبی اورطبقاتی جنون کو جگایا جائے۔ اسی لئے اجودھیا میں رام مندرکے مسئلہ کو پھر زندہ کرنے کے لئے سبرامنیم سوامی کو کھڑا کیا گیا ہے ۔انہوں نے ’تین مساجد ہمیں دیدو‘‘ کا پرانا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔ہرچند کہ وزیراعظم ’’سب کا ساتھ اورسب کا وکاس‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، لیکن ان کی سرکار کو یہ بات پسندنہیں مسلم یونیورسٹی میں چند مسلم طلباکوترجیحی بنیاد پرداخلوں کی سہولت جاری رہے۔ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں سرکار کے اس موقف سے ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے باب میں عدم تحمل اورثقافتی فسطائیت کی پالیسی پر قدم بڑھارہی ہے اور نہیں چاہتی کہ ملک کی اقلیت سکون کے ساتھ رہ سکے اورہردم وہ اپنے آپ کو اوراپنے اداروں کو غیرمحفوظ سمجھتی رہے۔ 
کئی سال کے وقفے کے بعد جب 11 جنوری کو اس کیس میں سماعت پھر شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے سرکار کی ہدایت کے مطابق آنریبل جسٹس جے ایس کہر، جسٹس ایم وائی اقبال اورجسٹس سی ناگپم کی بنچ کو بتایا کہ ’’مرکزی حکومت کا موقف یہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ مرکز میں کار پرداز حکومت ایک سیکولرریاست میں اقلیتی ادارہ قائم نہیں کرسکتی۔‘‘
("It is the stand of the Union of India that AMU is not a minority university. As the executive government at the Centre, we can't be seen as setting up a minority institution in a secular state.")
صاف ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت گریز کی راہ اختیار کرنا چاہتی تاکہ اس موقف کی پیروی کی جاسکے جو آرایس ایس اور دیگر اقلیت مخالف ذہنیتوں کا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ آئین کی دفعات 30-29 پر عمل درامد ہو جو اقلیتوں کو ان کے تعلیمی اداروں اورثقافتی شناخت کے تحفظ کی گارنٹی دیتی ہیں۔ 
اصل معا ملہ اس وقت زیرغور یہ ہے کہ پارلی منٹ نے 1981 میں جو ایکٹ منظورکیا تھا، اورجس کو الہ آباد ہائی کورٹ کی ایک نفری بنچ نے کاالعدم کردیا تھا لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کے نفاذ کو سپریم کورٹ نے روک کر یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو برقراررکھا تھا، اورجس کے تحت تب سے اب تک یونیورسٹی میں داخلے ہورہے ہیں، جاری رکھا جائے یا غیرحقیقی تکنکی بنیاد پراٹھائے گئے اعتراض کو وزن دیتے ہوئے، ہندستانی مسلم نوجوانوں کو اعلا تعلیم کی سرکاری سہولت سے محروم کرکے اس سہولت کو بھی دیگرطبقات کے حوالے کردیا جائے جن کو ملک بھر میں درجنوں یونیورسٹیوں میں بہتر سہولتیں پہلے ہی حاصل ہیں؟ دنیا یہ بات جانتی ہے کہ ہندستانی مسلم اقلیت اعلا تعلیم میں دیگرطبقات سے نہایت پسماندہ ہے اوراس کو ایسی خصوصی سہولتوں کی لازما ضرورت ہے کہ وہ دیگرطبقات کے ہم درجہ آسکے اوراس کی بہترین صلاحیتیں ملک اور قوم کی ترقی کے لئے فروغ پاسکیں؟ 
دلیل یہ دی جارہی ہے کہ یونیورسٹی پارلیمنٹ کے منظورشدہ ایکٹ کے تحت چلائی جارہی ہے ۔ اس کے مصارف بھی سرکاراٹھاتی ہے۔ اس لئے اس کے اقلیتی کردار کو برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ پارلیمنٹ کے منظورشدہ قوانین سے توپورا ملک چلایا جارہا ہے۔ ساری شہری سہولتیں، سڑکیں، بجلی پانی، اسپتال ، ریل وغیرہ سرکاری خزانے سے چلائی جاتی ہیں۔ کل کو یہ بھی کہا جائیگا کی سیکولر ریاست میں سرکار اقلیت کے بجلی، پانی ، راستوں اورعلاج کے سول حقوق کے لئے وسائل فراہم نہیں کرسکتی۔ یونیورسٹی کے مصارف اگرسرکاراٹھاتی ہے تو کیا اس کے خزانے میں اقلیت کے افراد ٹیکس نہیں بھرتے اورکیا ان کو اس خزانے سے استفادے اورتحفظ کے حق سے محروم کردیا جائیگا؟ آئین نے جو گارنٹیاں کسی طبقہ کو دی ہیں ، ان کی حفاظت کی ذمہ داری سرکار کی نہیں تواورکس کی ہے؟ آپ سنگھی نظریات پر غورکیجئے تومعلوم ہوگا کہ واقعی وہ اقلیتوں کے ان تمام حقوق کو اس کو آئین نے دئے ہیں، محروم کردینا چاہتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ 1920 میں برطانوی پارلیمنٹ میں منظورشدہ ایکٹ سے ملاتھا۔ لیکن کیا اس میں شک ہے یہ کالج پہلے سے موجود تھا اوراس کا قیام مسلمانوں کو جدید علوم میں داخل کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔اس کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے لئے بجزاس کے کوئی قانونی راہ نہیں تھی کہ پارلیمنٹ سے ایکٹ منظور کرایا جائے۔ چنانچہ اس کالج کو جب یونیورسٹی کا درجہ دلانے کا خیال آیا تو بانیان نے اس کے لئے ’’مسلم یونیورسٹی ایسوسی ایشن‘‘ بنائی۔ اسی مسلم ایسوسی ایشن نے حکومت سے رجوع کیا۔ طویل جدوجہد کے بعد برطانوی حکومت نے اس شرط پر یونیورسٹی ایکٹ دینا منظورکیا کہ مسلم اقلیت اس کے لئے 30 لاکھ روپیہ سرکار کو بطورفیس ادا کرے۔ چنانچہ مسلم اقلیت نے ہی’’مسلم یونیورسٹی فاؤنڈیشن کمیٹی‘‘ قائم کی جس نے سرآغا خان کی سربراہی میں چندہ جمع کرنے کی مہم چلائی اور 30لاکھ روپیہ کی خطیر رقم جمع کرکے سرکاری خزانے میں بھری۔
سنہ 1910-20کی دہائیوں میں ملک کی اورخصوصا1857 میں لٹے پٹے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کیا تھی اور اس دور کے 30لاکھ روپیہ کی قدرزرآج کے نرخ میں کتنے ارب روپیہ ہوگی، ہم صرف اندازہ ہی لگاسکتے ہیں۔ چنانچہ یہ دلیل نامعقول ہے کہ یونیورسٹی کے قیام کے محرک، ممدد اور اس کے لئے زرکثیر خرج کرنے والوں کا کوئی رول نہیں تھا اوریونیورسٹی کے قیام کا سارا کریڈٹ صرف ایک قانونی دستاویز کو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک مسٹرروہتگی نے جو دلیل دی ہے وہ حق بجانب نہیں ہے۔ حکومت کوئی نیا اقلیتی ادارہ قائم نہیں کررہی ہے۔ پہلے سے جو ادارہ پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کے تحت فروغ تعلیم کا کردارادا کررہا ہے، جس سے غیرمسلم طلباء بھی برابر فائدہ اٹھا رہے ہیں، اسے اسی قانون کے مطابق چلتے رہنے دینا اور آئین کے مطابق اس کے اقلیتی کردار کی حفاظت کرنا اورمسلم اقلیت کومیسر تعلیمی سہولتوں کو برقرار رکھنا مطلوب ہے۔ یہ ہرحال میں یونین حکومت کی ذمہ داری ہے، جس سے وہ بچناچاہتی ہے۔
سابقہ حکومت نے سپریم کورٹ میں جو اپیل دائرکی تھی وہ بھی اسی قانون کی حفاظت کے لئے تھی جو 1981میں ہماری پارلیمنٹ نے منظورکیا تھا۔ اگرمودی سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اس قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے، توعدالت کے کندھوں پر رکھ کر بندوق چلانے کے بجائے پارلیمنٹ میں ترمیمی بل لائے اورمنظور کرائے۔
پس منظر
برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے انتظامی اموراپنے ہاتھ لیتے ہی سنہ1942 میں سرکاری کام کاج کے زبان فارسی کے بجائے اردو یا انگریزی کردی تھی۔ سنہ 1857 میں اقتدار پر مکمل برطانوی قبضہ کے فوراً بعد سرسید احمد خاں نے محسوس کیا کہ مسلمانان ہند کو جدید علوم سے آراستہ کیا جانا ازحد ضروری ہے تاکہ نئی ملازمتوں کے لئے ان کی اہلیت بحال ہواوربرطانوی ہندستان میں سرکارکی عملداری میں ان کا حصہ برقرار رہے ۔ اسی لئے انہوں نے سنہ1877ء میں علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورنٹیل کالج قائم کیا۔ اس میں جدید علوم کے ساتھ مسلم طلبا کے لئے ایک مختصرکورس دینیات کا بھی لازمی تھا۔ لیکن نئے حالات کے پیش نظر 1951 میں ایک ترمیمی قانون کے ذریعہ دینیات کے لزوم کو ختم کردیا۔
ہرچند کہ تقسیم کے بعد کے پرآشوب دورمیں مولانا آزاد نے بحیثیت وزیر تعلیم اور ڈاکٹر ذاکر حسین نے بحیثیت وی سی یونیورسٹی کو سنبھالا مگراس کے اقلیتی کردار پر زد سنہ 1865میں منظورشدہ ایک قانون سے پڑی ۔ اس کا پس منظریہ ہے کہ یونیورسٹی کے وی سی جناب بدرالدین طیب جی سے یونیورسٹی کے طلباء سخت برگشتہ تھے او ر ناراضگی ایک افسوس ناک واقعہ کے صورت میں اس وقت ظاہر ہوئی جب کچھ شاطروں کی شہ پر وی سی کو زود کوب کیا گیا۔ اس پر وزیراعظم اندراگاندھی جلال میں آگئیں اورنیا مسلم یونیورسٹی ایکٹ -1965-منظور کیا گیا۔ اس وقت ملک کے ایک ممتاز قانون داں، ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایم سی چھاگھلہ وزیرتعلیم تھے ۔ وہ اگرچہ پیدا تو مسلم گھرانے میں ہوئے تھے ، مگروفات کے بعدان کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو نذرآتش کیا گیا تھا۔ اس بدنام زمانہ ایکٹ کے خلاف کے خلاف بغیر ضروری تیاری کے سپریم کورٹ میں کیس لڑا گیا اور 1967 میں وہ فیصلہ آیا جس کو ’عزیز پاشا‘ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے نے اندراسرکار کے موقف پر مہر لگادی۔ 
لیکن جب مرکزی حکومت کواس غلطی کا احساس ہوا، اوراعتراف کیا گیا مسلم یونیورسٹی لامحالہ مسلم اقلیت کی کوشش اورسرمایہ سے قائم ہوئی، اور یہ کہ روز اول سے یہ ایک اقلیتی ادارے کے بطورکام کرتی رہی ہے،تو سنہ 1981 میں ایک اورترمیمی ایکٹ منظورہوا، جس میں پارلیمنٹ نے تسلیم کیا کہ مسلم یونیورسٹی کا مقصدآئین کی دفعات 30-29کے بموجب’’ہندستانی مسلمانوں کی تعلیمی اورثقافتی ترقی ہے۔‘‘ اس ایکٹ نے اس بنیاد کو ختم کردیا جس پر سپریم کورٹ کا سنہ1967 کا فیصلہ قائم تھا۔ اس کے تحت یونیورسٹی نے جب سنہ 2004 میں پی جی میڈیکل کورس میں بھی 50فیصدسیٹیں اقلیتی طلبا ء کے لئے محفوظ کردیں تو الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر ایک کیس پر ایک نفری بنچ نے 2006میں یہ فیصلہ صادرکردیا کہ 1981 کا ترمیمی ایکٹ غیرآئینی ہے اور یہ کہ بات وہی درست ہے جو عزیز پاشا کیس میں کہی گئی ہے۔یعنی مسلم یونیورسٹی کے قیام کا مقصد خاص مسلم اقلیت کی تعلیمی اورثقافتی ترقی نہیں،۔ 
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اس وقت کی یوپی اے سرکار نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جس کی سماعت اب ہورہی رہے۔ اس اپیل میں سنہ 1981 کے ایکٹ کی تائید کی گئی ہے اوردلیل دی گئی ہے کہ ہائی کورٹ کو مرکزی حکومت کے منظورشدہ کسی قانون کو کاالعدم کرنے کا جواز نہیں۔اب 11 جنوری کو مقدمہ کی پیشی کے وقت جب سرکاری وکیل نے مطلع کیا کہ ’’مرکزی حکومت مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ تسلیم نہیں کرتی۔اگرچہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک اپیل دائر کی تھی لیکن اب وہ اس کو واپس لینے پر مائل ہے۔ کیونکہ وہ محسوس کرتی ہے کہ عزیزباشا کیس میں جو فیصلہ دیا گیا وہی درست اورنافذالعمل ہے۔‘‘اس پر آنریبل جسٹس ای اقبال نے سوال کیا: ’’کیا موقف میں اس تبدیلی کاسبب مرکز میں حکومت کی تبدیلی ہے؟‘‘ تو مسٹر روہتگی نے کہا:‘‘سابقہ موقف غلط تھا۔ اس کودرست کرنا مقصود ہے۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے عزیزپاشاکیس میں جو فیصلہ صادرکیا تھا، وہی درست ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کواختیار ہے کہ وہ اس پر جو موقف اختیارکرنا چاہے کرے۔ اس پر بنچ نے ہدایت دی کہ مرکزی حکومت بیان حلفی داخل کرے اوراگلی سماعت کے لئے 4 مارچ مقررکردی ہے۔ 
یونیورسٹی کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ پی پی راؤ نے مسٹرروہتگی کے موقف پراصولی اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کارپردازحکومت پارلیمنٹ میں منظورشدہ ایکٹ کوعدالت میں کس طرح نکما یا ناقص (bad) قراردے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی 1981کے ایکٹ کے بموجب مستقلا اقلیتی ادارہ ہے۔ ایڈوکیٹ راؤ نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے جوفیصلہ دیا تھا اس کو بڑی بنچ کے حوالے کردیا جائے۔‘‘لیکن ہمارے خیال سے بحث کوسنہ1981 ترمیمی ایکٹ کے جواز تک محدود رکھا جانا چاہئے۔ پارلیمنٹ نے یہ قانون اپنے دائرہ اختیار میں منظور کیا ہے ۔ یہ آئین کی دفعات 30-29کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔یہ قانون آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
ردعمل
مرکزی حکومت کے اس موقف سے اس کا اصل چہرہ اوراصل ایجنڈہ کچھ اور بے نقاب ہوگیا ہے۔ مسلم مجلس مشاورت کے حال ہی میں سبکدوش صدر،معروف صحافی ڈاکٹرظفرالسلام خاں نے بھی بجا طور اس طرف اشارہ کیا ہے۔ایک نجی گفتگومیں انہوں نے کہا ہے کہ ان کو خیال تھا یہ سرکار تین ساڑھے تین سال بعد اپنے اصل ایجنڈے پرآجائیگی مگر بہار نتائج سے وہ بوکھلا گئی ہے۔ ابھی حال ہی میں ’اینمی پراپرٹی ایکٹ ‘میں ترمیم کے لئے آرڈیننس کا اجرا، رام مندر کا ایشو پھر اٹھایا جانا اور اب مسلم یونیورسٹی کا معا ملہ اس کا موقف اس کے فرقہ ورانہ ارادوں کو ظاہرکرتا ہے۔‘‘مشاورت کے نئے صدرمسٹرنوید حامد نے بھی ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘کا نعرہ لگانے والی مودی سرکار اقلیتوں کے مفادات کے خلاف عمل پیرا ہے۔‘‘امید ہے اوربہت سے بیانات بھی آئیں گے۔ لیکن فوری طور سے ان دوبیانات سے واضح ہے کہ ملت خوب سمجھ رہی ہے کہ یہ سرکار اپنا راج دھرم نبھانے کے بجائے اپنا بھگواایجنڈہ نافذ کرنے میں زیادہ فعال ہے۔ 
حکمت عملی کیا ہو؟
سرکار کے اس موقف سے بیشک مسلمانان ہند میں تشویش وتردد اورغم وغصہ کا ماحول بنے گا اورسنگھ پریوار کی باچھیں کھل جائیں گیں۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ صرف ملی معاملہ نہیں بلکہ قومی معاملہ ہے۔ آئین میں دی گئی گارنٹیوں کے حفاظت کا معاملہ ہے۔ چنانچہ اس تحریک میں راسخ ذہن برادران ملک کو شریک کرکے سیاسی محاذ کو سنبھالا جائے۔ دوسری طرف لازم ہے کہ ممتاز ماہرین قانون کی خدمات حاصل کی جائیں ۔سب مل بیٹھ کر صورتحال پر غورکرکے اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کریں۔اس کو محض مسلم اقلیت کا معاملہ بناکر ٹچی سیاست سے ہمارے کاز کونقصان پہنچ سکتا ہے اور مسلم مخالف طاقتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اہم مسئلہ مقدمہ کے مصارف کا ہوگا۔ اگر 1920میں مسلم یونیورسٹی ایکٹ کی منظوری کے لئے ملت 30لاکھ روپیہ کی خطیر رقم فراہم کرسکی تھی توآج کوئی وجہ نہیں کہ اپنے اس عظیم اثاثہ کے حفاظت کے لئے اہل ثروت آگے نہ آسکیں۔اگرمالی وسائل کی کمی رکاوٹ بنتی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ نہ ہم کو وہ تعلیمی مشن عزیز ہے اور نہ ہی اپنا ملی وقار کی حفاظت مطلوب ہے جس کی مسلم یونیورسٹی ایک علامت ہے۔ شورمچاتے رہنا اور بغیر حرکت میں آئے بیانات دیتے رہنا کچھ کام نہیں آئے گا ۔آپ تو بیان دیکر ٹھنڈے پڑجائیں گے اوراس کے نتیجہ میں اقلیت مخالف عناصرجو ش میں آجائیں گے جس ماحول ہمارے حق میں خراب اوران کے لئے سازگارہوگا۔اس کا اثر عدالتی فیصلے پر بھی پڑسکتا ہے۔ 
Cell: 9818648677

No comments: