Thursday, January 28, 2016

Hamara Jashn Jamhooriat aur lakht lakht jamhoor

احوال عالم
ہمارا جشن جمہوریت اور لخت لخت جمہور
سید منصورآغا،نئی دہلی
 یوم جمہوریہ کا روائتی جشن قابل دید تھا۔ ہم نے بھی راج پتھ کی پریڈکو ذوق وشوق کے ساتھ دیکھا اورمحسوس کیا کہ ہم عسکری اعتبار سے ایک مضبوط اور ثقافتی اعتبار سے ایک رنگا رنگ ملک کے باشندہ ہیں۔ ثقافتی منظرکشی میں مندربھی نظرآئے، مورتیاں بھی اورمذہبی عقائد کی علامت کچھ مراسم بھی۔ سب دیکھ کراچھا لگا۔ لیکن کیا یہ اچھا نہ ہوتا، ان جھانکیوں کے درمیان اس امتیازی سلوک کی جھلک نظرنہ آتی جو جمہوری نظام کے67برس بعد آج کااہم ترین صحافتی اورسیاسی موضوع بحث ہے۔ 
کیا کسی نے غورکیا کہ ان جھانکیوں میں جے پور کا ہوامحل تونظرآیا، آگرہ کا تاج محل، اجمیر کی درگاہ، لکھنؤ کاامام باڑہ، دہلی کی جامع مسجد ، لال قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ اور بیجا پورکاگول گنبد نظر نہیں آیا۔ ان پر نظرانتخاب کیوں نہیں گئی کہ ملک کی تاریخی اورثقافتی منظرکشی متوازن اورمنتوع ہوجاتی ۔ کچھ بھلا سیاحتی انڈسٹری کا بھی ہوتا؟ہوامحل ہم نے بھی دیکھا ہے۔ مارواڑ کے راجپوت حکمراں کے زنانخانہ کی یہ بیرونی دیوار، جس سے رانیاں جھانک کر باہر کا منظردیکھ لیا کرتی تھیں، خوب ہے۔ مگرجب ہوامحل کا انتخا ب ہو اور تاج محل کو نظرانداز کردیا جائے تو کئی سوال اٹھتے ہیں۔دونوں کے فن تعمیر، کشش ، عالمی شہرت اور گرد وپیش میں فرق زمین اورآسمان کاہے۔ تاج محل کے سامنے فوٹو کھنچوانا تواچھالگتا ہے، لیکن جن حکمرانوں کی بدولت ساتویں صدی عیسوی  (1632-58) میںایسی عظیم الشان عمارت وجود میں آئی، ان کو نفرت اورحقارت سے دیکھا جاتا ہے۔ہوامحل کی طرح تاج محل کسی راجہ کے زنان خانہ کی بیرون دیوار نہیں۔ یہ ایک عظیم کارنامہ ہے جس کی تعمیرنے 20 ہزارسے زیادہ کاریگروں اور ان سے کہیں زیادہ مزدوروں اوردیگرعملے کو26برس تک اس وقت روزگار دیااور آج بھی ہزاروںخاندانوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہے،؟اس کی تکمیل پر تین کروڑ بیس لاکھ روپیہ خرچہ آیا جو آج کے 52ارب80کروڑ کے بقدر ہے۔ کیا ہم تصورکرسکتے ہیں کہ اس جیسا شاندار اورپائدارکوئی پروجیکٹ اس دورمیں ،اتنی رقم میںمکمل کیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔تاج محل تو 4صدی سے بلا شکست ریخت سراٹھائے کھڑاہے۔لیکن آج حال یہ ہے ادھر پل بن کر تیارہوا اور ادھراس کی بنیاد کھسکی۔ دیوار ٹوٹی۔ تاج محل شاہ جہاں کے جس چیف آرکی ٹکٹ استاد احمد لاہوری کی نگرانی میں بنا، آج ہم اس کا نام بھی نہیں جانتے۔ بچوںکو پڑھایاجارہا ہے کہ ویدک کال میں ہوائی جہاز بھی تھا اورکاریں بھی تھیں، جس کاکوئی سائنسی یا تاریخی ثبوت نہیں۔ جو نظروںکے سامنے ہے، اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حالانکہ اس انجنیر کے نام اورکام سے بچوںکوواقف کرایاجاتا۔ اس کی ہنرمندی اورلگن کی داد دی جاتی۔ اس کے نام پر کالج قائم ہوتے۔یہ سب کیا ہے؟احساس کمتری میں مبتلا ایک ٹولے کا تعصب ،امیتازی سلوک، اورنئی اصطلاح میں ـ’عدم برداشت‘۔ 
برسبیل تذکرہ یہ بھی یاد کرلیں کہ استاد لاہوری کسی یورپی یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نہیں تھے۔عربی وفارسی مدارس کے فیض یافتہ تھے۔ افسوس ہمارے مدارس اس روایت کوبھلا بیٹھے ہیں۔ وہ چشمے خشک ہوگئے جن سے لاہوری جیسے ماہرمہندس اور انجنیرنکلا کرتے تھے۔جوقوم اپنی تاریخ اورتہذیب سے منھ موڑ لے، جوملت تاریخ پرفخرتوکرے مگراس سے کچھ رہنمائی حاصل نہ کرے، اس کی بہبود کی راہیں بیشک دشوار ہوجاتی ہیں۔ 
 ہمیں واقعی ہندستانی ہونے پر فخر ہے۔ہونا بھی چاہئے۔ یقینا ہم آج بھی سمجھتے ہیں: ’’سارے جہاں سے اچھا ہندستاں ہمارا‘‘۔لیکن یہ خیال بھی آتا ہے کہ ان 67برسوں میں جمہوری نظام حکمرانی تومتسحکم ہوا ہے مگرمزاج جمہوری قدروںسے آشنا نہیں ہوئے ۔ثقافتی سطح پر تو جانے دیجئے، نفاذ قانون کے معاملوںمیں طبقاتی امتیاز بڑھتا جاتا ہے۔ اسدالدین اویسی نے رجت شرما کے پروگرام ’آپ کی عدالت‘ میں یہ جائزسوال اٹھایا تھا کہ ہم توزباںکھولتے ہی پکڑے جاتے ہیں، جبکہ ہرروزاشتعال انگیز تقریروں اورریمارکس کے باوجودنفاذ قانون کی ایجنسیاں ڈاکٹرپروین توگڑیا کے دروازے پر دستک نہیں دیتیں۔ کیوں؟حقوق انسانی کے ایک علمبردارآنند تلتمب دے نے اپنے کالم ’’وہو کلڈ ویمولا‘‘ میں لکھا ہے:’’ جس طرح (عالمی طاقتوں کے حربوںسے) اختلاف کرنے والے مسلم نوجوانوںکو دینا بھرمیں دہشت گرد کہا جارہا ہے، دلت اورقبائلی نوجوانوںپر (جو برہمنیت میں ڈوبی ہوئی تحریکات سے) اختلاف کرتے ہیں، انتہاپسندی، قومی دشمنی اور نسل پرستی (جاتی وادی ) کا ٹھپا لگایا جاررہا ہے۔ ہندستانی جیلیں ایسے بے قصورنوجوانوں سے بھری پڑی ہیں، ان کوباغیانہ سرگرمی( دیش دروہ) اور غیرقانونی سرگرمی جیسے مبہم الزامات کے تحت قیدرکھا جارہا ہے(حالانکہ اکثرکے خلاف کوئی ثبوت نہیں ، اوربرسوں بعد ان کو رہائی نصیب ہوتی ہے)۔ تمام تعلیمی اداروں، خصوصاً اعلا تعلیمی اداروں کو بھگوا کنٹرول میں لینے کی بھاجپا حکومت کی جارحانہ پالیسی کی بدولت ہی روہتھ ومولا نے خودکشی کی اور ایسا لگتا ہے کہ آئندہ برسوںمیں اوربھی کئی روہتھ ہونگے‘‘۔ (Who killed Raohith Vemula- IE 26 January)
 بقول انل چمڑیا اقلیتی اور دبے کچلے طبقات امتیاز کی زد میں ہیں۔ پونا میں محمد عثمان، دادری میں محمد اخلاق،جنوب میں دابھولکر، پنسارے، کل برگی وغیرہ کی ہلاکت سے لیکراب حیدرآبادمیں للتھ ومولا اورتمل ناڈو میں تین میڈیکل طالبات کی خودکشی تک کے منظرنامہ پر نظرڈالئے ۔متاثرین بیشک مختلف طبقات سے ہیں۔ مگرسب ایک ہی جابرانہ نظریہ کا نشانہ ہیں۔ساراملک ’برہمنیت‘ کی ذہنیت کی زد میں ہے۔ اس نے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ ہٹلر کی طرح جمہوری نظام کی آڑ میں نسلی بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے۔ راج پتھ پر ڈھول نگاڑوںکی لئے کو تیزکرکے، ملک کے منظرنامے پر پردہ تو نہیں ڈالاجاسکتا۔ہمارا یوم جمہوریہ سامراجی طاقتوں سے نجات کا جشن ہے۔ پریڈ سے پہلے وزیراعظم وطن کے لئے شہید فوجیوں کو شردھانجلی دیا کرتے ہیں ۔اسی پریڈ میں دنیا کی ایک بدترین سامراجی طاقت کی نمائندگی کس ذہن کی عکاسی کرتی ہے؟  
انل چمڑنا اپنی تقریر میں جو مسلمانوںکے ایک اجتماع میں کی گئی نشاندہی کی ہے کہ دلتوں، مسلمانوں اوراقلیتوں کے ساتھ جو واقعات پیش آرہے ہیں، ان میں فرق تاریخ، مقام اورظاہری اسباب کا ہے لیکن بنیادی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ان سب کے پیچھے کارفرما ذہنیت ایک ہی ہے۔جس نے  پورے سماج کو لخت لخت کرڈالا ہے۔ غورکیجئے یہ حملے کن لوگوں پر ہورہے ہیں؟ یہ حملے ان افراد اورطبقات پر ہورتے ہیں جن کے تعلیمی اورمعاشی حالات کچھ بہتر ہوگئے۔ محض شک کی بنیاد پر بغیر کسی خطا کے ان نوجوانوںکو نشانہ بنایا جارہا ہے جو پڑھ لکھ گئے ہیں، معیشت کے کسی میدان میں آگے بڑھ گئے ہیں۔ ان کی اس بات میں بہت دم ہے کہ ان سب طبقوںکو اس تخریبی ذہنیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ساتھ آنا چاہئے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کمزورطبقے صدیوں سے برہمنی استحصال کا شکار رہے ہیں۔ ایک مدت تک گاندھی جی کا جادوچلتارہااوردلتوں نے خود کو ہندوسمجھ کر اس سماج میںضم ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن ان کے خلاف امتیاز جاری رہا۔جنسی ہوس مٹانی ہوتوان کی بہو بیٹیوںکو نشانہ بنانے سے پرہیز نہیں، ان کے ہاتھ کا پانی پینے سے پرہیز ہے۔ ریزرویشن کی بدولت جب اس طبقے کی نئی نسل میں بیداری پیدا ہوئی، تو ان کے خلاف کالجوں اور یونیورسٹیوںمیں بھاجپا کی طلباء تنظیم نے جارحانہ اندازاختیارکرلیا اور ان کا جینا حرام کردیا۔ روہت کی موت نے بندڈھکن کو کھول دیا ہے۔ اس سنگین واقعہ کے بعد جس طرح بشمول مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی ،بھاجپا لیڈروںنے پہلے تو حقائق کو دبانا چاہا، پھران کو توڑ مروڑ کر عوام کو ورغلانا چاہا اوراس کے پانچ دن بعد مودی جی نے مجبوراً بہلانا چاہا، وہ سب کے سامنے ہے۔ اسمرتی ایرانی کے دفتر سے جو خطوط یونیورسٹی کو لکھے گئے ان کا سبجیکٹ ہی جانبدارانہ ہے ۔ا س میں دلت لڑکوں کی آواز اوراحتجاج کو ’ ملک مخالف سرگرمی‘کہاگیاہے۔ ایک طرف کہا جارہا ہے کہ جانچ چل رہی ہے ، معاملہ عدالت میں ہے۔ ساتھ ہی فیصلہ سنایا جا رہا ہے کہ دلت لڑکوں کی سرگرمیاں "anti-national"   ہیں۔ صاف طور پر یہ دبائو ہے کہ یونیورسٹی کاروائی کرے۔ اسی دبائو میں ان کو معطل کیا گیا۔ مگر جب وہ دبے نہیں، ان کی آوزادبی نہیں، وہ حوصلہ نہیںہارے ،تو ان کو ہاسٹل سے بھی نکال دیا گیا۔یہ پانچ دلت طلباء کے مستقبل کا قتل نہیں اورکیا ہے؟ ایسی سنگ دلی بغیر ذہنوںمیں رچے بسے ازلی تعصب کے بغیرممکن نہیں۔ یہی تعصب اس سرکار کی غذا ہے۔
 افسوس کہ پریس کانفرنس کے دوران محترمہ اسمرتی ایرانی کا رویہ ہمدردانہ نہیں جارحانہ رہا اورانہوںنے ہرممکن کوشش کی کہ قصوروار روہتھ اوردیگردلت لڑکوںکو ہی ٹھہرایا جائے۔لیکن جب ان کی فراہم کردہ معلومات غلط ظاہر ہوگئیں، ہنگامہ بڑھا اورمودی جی کو خیال آیا کہ دلت ووٹ بنک تو گیا، تو لکھنؤ میں بڑے ہی ڈرامائی انداز میں اس پررنج جتایا۔ جو ان کی وزیر کی زبان میں ملک دشمن تھا وہ ’’ملک کا بیٹا ‘‘بن گیا۔ ا س کی ماں کا درد بھی یاد آنے لگا۔ 
حالانکہ پونا میں محمدعثمان کا دادری میں محمداخلاق کا، پھگواڑہ میں اسی ماہ جاوید احمد لون کا قتل ہوا، تو مودی جی کی زبا ن گنگ رہی۔ گویا وہ اس دھرتی کے بیٹے نہیں تھے۔لیکن اس رسمی سے اظہار غم کا کوئی اثرکیا تعصب، تحقیر اورتذلیل کی اور جانبداری کی اس روش پر ہوگا، جوسرکار نے اور پریوار نے عملاً دبے کچلے طبقات کے تعلیم یافتہ اورنسبتاًخوشخال طبقہ کے خلاف چلارکھی ہے؟ امبیدکرکی جے جے کارکے ساتھ سرکار اورپریوار نے دلتوں کے خلاف تعصب اورتحقیرکے رویہ عملاً اختیار کررکھا ہے،روہتھ ومولا کے اقدام نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اس کا خون رائیگان چلا جائیگا اگر دلتوں اوران کے ساتھ ہم مسلمانوںکے کوئی مستحکم حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ہمیں بحیثیت ہندستانی شہری ہمیں اس عصبیت کے خلاف اپنی آواز بلندکرنی ہوگی۔ ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اکیلے ہمارے شورمچانے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ الٹا سنگھ کے منصوبے کامیاب ہونگے۔ ضرورت ہے کہ ایک مظلوم قوم دوسری مظلوم قوم کی طرفداری میں کھڑی ہو اوراگرہمارے ذہنوں میں دلتوں کے بارے کچھ عصبیتیں ہیں توان پر قابو پایا جائے۔ بیشک وہ ساری عصبیتیں غیراسلامی ہیں اورہندوسماجی نظام کی بدولت ہمارے اندر آئی ہیں۔
Cell: 9818678677

No comments: