Wednesday, January 6, 2016

All India Muslim Majlis e Mushawarat Elections

مسلم مجلس مشاورت کا الیکشن

سید منصورآغا
مشاورت کا الیکشن بخیرخوبی پورا ہوا۔ نومنتحب صدر جناب نوید حامد 8جنوری بروز جمعہ اپنی ذمہ داری بھی سنبھال لیں گے۔ اس بار ممبران نے غیرمعمولی دلچسپی لی اورسابق کے مقابلے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ اہم صدارتی منصب کے لئے تین امیدوار تھے ۔جوصاحب سب سے پہلے از خود اس مقابلے میں اترے اورمشاورت کی روایات کے خلاف انتخابی مہم چلائی ان کو سب سے کم ووٹ ملے۔ان کی دیکھا دیکھی مجبوراً دیگر دو امیدواروں کی طرف سے بھی مہم چلائی گئی ۔ اس سے گریزکیا جاناچاہئے اور آئندہ کے لئے انتخابی مہم بازی کو نااہلی قراردیا جانا چاہئے۔بہرحال تینوں کو ملنے والے ووٹوں میں فرق معمولی ہے۔
مناسب ہوگا کہ دستورمیں ترمیم کرکے واحد قابل منتقلی رائے دہی (Single transferable voting) کا نظام نافذکیا جائے۔ جس میں ہرووٹر کواول اوردوسری ترجیح کاحق ہوتا ہے۔ اگرکسی امیدوار کو کل ڈالے گئے ووٹوں کا کم سے کم نصف نہیں ملتا، تو سب سے کم ووٹ پانے والے امیدوار کی دوسری ترجیح کے ووٹوں کو شمارکیا جاتا ہے۔ یہاں تک کسی ایک امیدوار کو واضح اکثریت حاصل ہوجائے۔
انتخاب کے بعد بعض افراد نے چناں چنیں شروع کردی ہے ۔ نومنتحب صدر کے بارے میں اندیشہ ظاہرکیا جارہا ہے کہ ان کا جھکاؤ خاص سیاسی پارٹی کی طرف ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اول صدر ڈاکٹرسید محمود اور مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی ؒ پراس الزام کا اطلاق ہوتا ہے۔ مگران کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ شہاب الدین صاحب کے بارے میں بھی کہاجاسکتا ہے ان کو واجپئی جی سیاست میں لائے۔ہم ان کی نیک نیتی پر بھی شک نہیں کرسکتے۔جو کیا ، دوسروں کے مشورے اورتائید سے کیا مگر نظررکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں ان کی تدابیر سے بھاجپا کو فائدہ پہنچا۔ اس لئے یہ الزام جو نومنتخب صدر پر لگایاجارہا بہت باوزن نہیں۔ ان پر کچھ دیگر ناپسندیدہ ریمارک بھی ہوئے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان کی کارکردگی ان الزامات کی تردید کردیگی اوروہ سبھی کا تعاون حاصل کرسکیں گے۔ باہمی مشورے سے سب کو ساتھ لیکر آگے بڑھیں گے۔ابھی ان کو مجلس عاملہ کے لئے نامزدگیاں کرنی ہیں۔ عاملہ کے الیکشن میں آخرکے چارامیدواروں کو برابرووٹ ملے ، جب کہ بیس کی تعداد میں دوکی ضرورت تھی۔ چنانچہ قرعہ اندازی میں دومنتخب قرارپائے ۔ہمارامشورہ ہے کہ ان دو کے برابر ووٹ پانے والے باقی دوکو نامزدگی میں شامل کیا جانا چاہئے۔ صدارتی انتخاب میں رنراپ کے نام پر بھی غورکیا جاسکتا ہے۔ 
مشاورت کو گزشتہ چار سال میں جو زندگی رخصت پذیرصدرمحترم کی سرگرمیوں سے ملی ہے اور جس طرح جشن زریں کامیاب ہوا، اس سے لوگوں کی توجہ مشاورت کی طرف بڑھی ہے۔امید ہے کہ اس میں اورجلا پیدا کی جائیگی اورمشاورت صحیح معنوں میں اجتماعیت کے ساتھ ملت کے مسائل پر رہنمائی کی ذمہ داری اداکرسکے گی۔ ہم نومنتخب صدراورارکان مجلس عاملہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اوراپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔
Cell: 9818678677

No comments: