Friday, January 15, 2016

After Elections of All India Muslim Majlis e Mushawrat


مسلم مجلس مشاورت کا انتخاب نو
سید منصورآغا
کل ہند مسلم مجلس مشاورت کا دوسالہ الیکشن بخیرخوبی پورا ہوگیا۔ اطلاع یہ ہے کہ نومنتحب صدر جناب نوید حامد 8جنوری بروز جمعہ اپنی ذمہ داری بھی سنبھال لیں گے۔ اس بار ممبران نے غیرمعمولی دلچسپی لی اورسابق کے مقابلے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ اہم صدارتی منصب کے لئے تین امیدوار تھے ۔جوصاحب سب سے پہلے از خود اس مقابلے میں اترے اورمشاورت کی روایات کے خلاف انتخابی مہم چلائی ،ان کو سب سے کم ووٹ ملے۔ان کی دیکھا دیکھی مجبوراً دیگر دو امیدواروں کی طرف سے بھی مہم چلائی گئی ۔ یہ بات دیگر ہے کہ اس مہم بازی میں کون کس حد تک چلا گیا۔ بہرحال اس سے گریزکیا جاناچاہئے تھااور آئین میں ترمیم کرکے آئندہ کے لئے از خود انتخابی مہم بازی کو نااہلی قراردیا جانا چاہئے۔
اس الیکشن میں تینوں امیدواروں کے درمیان ووٹ اس طرح تقسیم ہوگئے کہ کوئی بھی کل ڈالے گئے ووٹ کے نصف کے قریب نہیں پہنچ سکا۔ ہمارے نزدیک یہ طریقہ کارصحت مند نہیں۔ مشاورت کے رائے دہندگان کی تعداد تھوڑی سی ہے۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ دستورمیں ترمیم کرکے واحد قابل منتقلی رائے دہی (Single transferable voting) کا نظام نافذکیا جائے۔ جس میں ہرووٹر کواول اوردوسری ترجیح کاحق ہوتا ہے۔ اگرکسی امیدوار کو کل ڈالے گئے ووٹوں کا کم سے کم نصف نہیں ملتا، تو سب سے کم ووٹ پانے والے امیدوار کی دوسری ترجیح کو شمارکرکے اول ترجیح میں جوڑ دیا جاتاہے۔ یہاں تک کسی ایک امیدوار کو واضح اکثریت حاصل ہوجائے۔دوسراطریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ صدر کا امیدوار کوئی نہ ہو۔ عاملہ کے انتخاب میں جس کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں وہ صدر، جو دوسرے نمبر پر ہو وہ جنرل سیکریٹری اورجو اس کے بعد آئے وہ نائب صدرومعاون سیکریڑی کے فرائض انجام دے۔
انتخاب کے بعد بعض افراد نے چناں چنیں شروع کردی ہے ۔ نومنتحب صدر کے بارے میں اندیشہ ظاہرکیا جارہا ہے کہ ان کا جھکاؤ خاص سیاسی پارٹی کی طرف ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ اول صدر ڈاکٹرسید محمودباضابطہ کانگریسی تھے۔ مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی بھی کانگریس کے قریب تھے۔مشاورت کے کئی ارکان کسی نہ کسی جماعت سے ایم پی بھی رہے۔ اس لئے سیاسی رشتے پر اعتراض کیوں؟ البتہ ان کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا اوران کی وفاداریاں بکاؤ نہیں تھیں۔ سید شہاب الدین صاحب کے بارے میں بھی کہاجاسکتا ہے ان کو واجپئی جی سیاست میں لائے۔ہرچند کہ ہم ان کی نیک نیتی پر بھی شک نہیں کرسکتے۔جو کیا ، دوسروں کے مشورے اورتائید سے کیا، مگر نظررکھنے والے یہ بھی کہتے ہیں ان کے سیاسی تدبر سے بھاجپا کو فائدہ پہنچا اورمسلمانوں میں مشاورت غیر مقبول ہوئی۔ اس لئے کانگریس سے رشتوں کیلئے نومنتخب صدرپرالزام لگانا، بہت باوزن نہیں۔خاص طور سے اس لئے بھی کہ باقی امیدوار بھی مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھ چکے ہیں۔ 
نومنتخب صدر کے بارے کچھ ناپسندیدہ ریمارکس بھی ہوئے ہیں۔ یہ طرزعمل ہرگزصحت مند نہیں۔ ان کو کام کرنے دیجئے اورجہاں کوتاہی نظرآئے بیشک ٹوکئے۔ لیکن پہلے ہی بدگمان ہونا اوراس کی تشہیر کرنا درست نہیں ہوگا۔ ہم صرف استدعا اورامید کرسکتے ہیں کہ نومنتخب صدربردباری کا اظہارکریں گے اوراپنی کارکردگی سے ان الزامات کی نفی کریں گے اوریہ کہ وہ سبھی کا تعاون حاصل کرکے مشاورت کے کاز کو آگے بڑھائیں گے۔
ابھی ان کو مجلس عاملہ کے لئے نامزدگیاں کرنی ہیں۔ عاملہ کے الیکشن میں آخرکے چارامیدواروں کو برابرووٹ ملے ، جب کہ بیس کی تعداد میں دوکی ضرورت تھی۔ چنانچہ قرعہ اندازی میں دومنتخب قرارپائے ۔ہمارامشورہ ہے کہ ان دو کے برابر ووٹ پانے والے باقی دوکو نامزدگی میں شامل کیا جانا چاہئے۔ صدارتی انتخاب میں رنراپ کے نام پر بھی غورکیا جاسکتا ہے۔ مشاورت کو گزشتہ چار سال میں جو نئی زندگی رخصت پذیرصدرمحترم ظفرالسلام خاں کی سرگرمیوں سے ملی ہے اور جس طرح جشن زریں کامیاب ہوا، اس سے لوگوں کی توجہ مشاورت کی طرف بڑھی ہے۔امید ہے کہ اس میں اورجلا پیدا کی جائیگی اورمشاورت صحیح معنوں میں اجتماعیت کے ساتھ ملت کے مسائل پر رہنمائی کی ذمہ داری اداکرسکے گی۔ ہم نومنتخب صدراورارکان مجلس عاملہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اوراپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔
سید منصورآغا
ڈی۔۸۲، ابوالفضل انکلیو۔ نئی دہلی 
Cell: 9818678677

No comments: