Sunday, November 22, 2015

حیدرآباد کی ڈائری- تحریر محمد علم اللہHyderbad's Diary: Mohd Alamullh

حیدر آباد آئے ہوئے تقریبا ایک مہینہ گزر گیا۔ چاچو سے ملاقات کا پروگرام بنتا ہی رہا مگر اب تک ملاقات نہیں ہو سکی ۔ برادرم عبد الحسیب نے بتایا کہ چاچو تو اب امریکہ کوچ کر چکے ۔ خیر اب واپس آنے کے بعد ہی ملاقات ہو سکے گی۔
ہاں البتہ برادرم عبد الحسیب سے ملاقات اچھی رہی ۔ کئی دن سے پلان بن رہا تھا کہ ملاقات کیا جائے لیکن دفتر میں کچھ ایسی مصروفیت آ جاتی تھی کہ ہمیشہ پلان کینسل کرنا پڑتا تھا ۔ طویل انتظار کے بعد آخر ملاقات ہوئی اور خوب ہوئی یہ ملاقات بڑی دلچسپ اور یاد گار رہی ۔
ہم اور حسیب میاں دیر تک شہر حیدر آباد کے گلیوں اور کوچوں کی سیر کرتے رہے۔ وقت بہت کم تھا اور ہماری باتیں بہت زیادہ۔ مختلف موضوعات پر ڈھیر ساری باتیں ۔ ہماری اب تک صرف فون اور انٹرنیٹ سے ہی ملاقات رہی تھی، حقیقی ملاقات ہوئی تو دونوں کافی خوش ہوئے ۔ دیار غیر میں جب کوئی اس قدر اپنائیت سے ملتا ہے تو بچھڑے ہوئے لوگوں کی یادیں ایک پل کے لئے انسان بھول جاتا ہے ۔
یوں بھی دہلی سے حیدر آنے کے بعد مجھے یہاں نہیں ایک پل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ حسیب سے ملاقات اور بات ہوئی تو کافی اچھا لگا۔ اس درمیان حسیب میاں کے بارے میں کئی چیزیں جاننے کو ملی ۔ حسیب صرف علم و ادب کے شائق صالح فکر کے نوجوان ہی نہیں بلکہ ادب ،ثقافت ، تاریخ اور آرٹ کے بھی دلدادہ ایسے نوجوان ہیں جو دنیا میں موجود اضطراب اور بے چینی سے مضطرب اور پریشان ہمہ وقت اس کو بدلنے اور کچھ نیا کرنے کے لئے بے قرار رہتے ہیں۔
اس ملاقات میں جس پر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ ہماری قوم میں ایسے نوجوان ہیں جو صحیح معنوں میں کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ حسیب ڈاکٹر حمید اللہ پیرس والے کے انتہا کی حد تک مرید ہیں۔ ان کا یہ شوق ہی تھا کہ انھوں نے ہمیں اس ملاقات میں وہ جگہ بھی دکھائی جہاں حمید اللہ صاحب پیدا ہوئے تھے ۔ بوسیدہ ویران سی عمارت جہاں اب ویرانی اور پرندوں کا بسیرا ہے ۔ لگتا ہے برسوں سے یہاں کوئی نہیں رہتا ۔ سامنے ہی کسی بزرگ کا مقبرہ ہے جہاں لوگ عقیدت کے لئے آتے ہیں ۔ اس عقیدت کی منزل میں آنے والے لوگوں کو شاید ہی یہ معلوم ہوگا کہ سامنے ہی ایک ایسی ہستی کا بھی مکان ہے جنھیں ان کے اسلامی فکر اور ریسرچ کے حوالہ سے دنیا جانتی اور پہچانتی ہے۔
حسیب کا تعلق یوں تو انجینیرنگ کے شعبہ سے ہے لیکن ان کی نظراسلامی فلسفہ اور تاریخ پر بھی گہری ہے۔ حسیب ڈاکٹر حمید اللہ کے ادھورے کام کو مکمل کرنے کا نا صرف منصوبہ رکھتے ہیں بلکہ عملی طور پر اس کے لئے اپنے کاموں کا اغاز بھی ترجمہ اور تدوین کے ذریعہ شروع کر چکے ہیں۔
رات کافی بھیگ چکی تھی مجھے واپس بھی جانا تھا ۔ اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے واپسی کی اجازت مانگی۔ واپسی سے قبل ایک ہوٹل گئے وہاں اسپیشل بریانی کھائی اور پھر بائک سے واپس منزل کے لئے نکلے ، اگر میری ڈیوٹی صبح والی نہ ہوتی تو اور بھی باتیں کرتے لیکن صبح جلدی اٹھنا تھا یہ سوچ کر واپس ہونا پڑا ۔
ہماری اس ملاقات میں اردو محفل کا بھی خوب تذکرہ رہا بلکہ حسیب کا یہ جملہ مجھے ابھی بھی یاد ہے "کیا بات ہے ہم یہاں حیدرآباد میں بیٹھے ہیں اور امریکہ ، لندن ، فن لینڈ ، پاکستان دنیا کے کونے کونے میں بسے محفلین کی باتیں کر رہے ہیں" ۔(وسعت اللہ بھائی بی بی سی کے شکریے کے ساتھ )

No comments: