Friday, November 13, 2015

ْQuality Education neads Quality teaching; Green Eduvision Training Programe Inauguarted


معیاری تعلیم تربیت یافتہ اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں۔منصور آغا

گرین ایجو وژن لمٹیڈ کے تحت اساتذہ کے لئے 15روزہ تربیتی کورس کا آغاز پر افتتاحی خطاب

نئی دہلی ۔12نومبر(یو این این) آج گرین سرکل ایجو وژن لمٹیڈکے تحت اساتذہ کے لئے ایک منفرد انداز کے مفت تربیتی کیمپ کا آغاز کیا گیا ۔ یہ کمپنی جوابتدائی دس کروڑروپیہ کی سرمایہ کاری سے شروع کی گئی ہے، انتہائی جدید اورسانٹفک طریقہ تدریس کو عام کرنے ساتھ ایسے افراد بھی تیارکریگی جو ٹیچرس کی نئی کھیپوں کوموثرانداز میں تربیت دینے کے لئے ٹرینر کی خدمات انجام دے سکیں۔ اسکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تربیت یافتہ ٹیچرس کے قحط کے پیش نظر ٹیچرس ٹرینر عمدہ روزگار کا ایک نیا شعبہ ہوگا۔ یہ کمپنی ترتبیت یافتہ اساتذہ کے لئے اچھے روزگار،اسکولوں کو کامبابی سے چلانے، ان کے معیار کو بلند کرنے اوران کو نفع بخش بنانے کے لئے مناسب عملہ، تکنیکی رہنمائی اورماہرانہ خدمات بھی فراین کرے گی۔
کل ہند پیمانے کی اس ادارہ کے تحت ایک 15روزہ تربیتی کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے نائب صدراور مشہور صحافی سید منصور آغا نے کہا کہ تعلیم میں کوالٹی کا فقدان ہے ،اسی لئے آج چپراسی کی اسامی کے لئے بھی بڑی بڑی ڈگری والے نوجوان امیدوار لائن لگائے ہوتے ہیں۔ آج طلباء کو ڈگریاں تومل جاتی ہیں، مگران میں مطلوبہ لیاقت پیدا نہیں ہوتی۔ حال یہ ہے کہ ایم اے پاس بھی چارلائن کی درخواست ٹھیک سے نہیں لکھ سکتا۔ یہ وہ دور ہے جب روزگارڈگری سے نہیں، لیاقت سے ملتا ہے ۔طلباء میں لیاقت اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک لگن رکھنے والے اعلاتربیت یافتہ اساتذہ ہر سطح پر دستیاب نہ ہوں۔ گرین سرکل نے آج جو یہ پہل کی ہے ،یہ ہمارے ملک کے تعلیمی ماحول کے لئے نہایت ہی انقلاب انگیز اقدام ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ چھوٹی سی شروعات ہے لیکن عصری تعلیم کی تاریخ میں یہ ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ عصری تعلیمی اداروں کے ٹیچرس کے ساتھ ہمارے دینی مدارس کے اساتذہ بھی جزوی ہی سہی، مگراس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ فی الحال اس کی کوئی فیس نہیں ، جس سے فائدہ اٹھایا جانا چاہئے۔امید ہے کہ اس سے تعلیم کے شعبہ میں نکھار آئے گااور کل کوپورا ملک اسے جانے گا ۔
گرین سرکل کے ڈائریکٹر انجنیر کلیم الحفیظ، چیرمین الاامین ایجوکیشن ٹرسٹ نے بتایا کہ گرین سرکل قائم کرنے کا مقصد تعلیمی طور سے پسماندہ طبقات کی تعلیمی ترقی ہے ۔ترقی کے لئے تعلیم ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ خصوصاً مسلم اقلیت کے زیرانتظام جو اسکول چلائے جا رہے ہیں ان میں معیارکا فقدان ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام کو بطورخراج عقیدت ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور مولانا ابوالکلا م آزاد کے نام منسوب کیا گیا۔ ابھی تک 24اساتذہ نے اپنا نام درج کرایا ہے، جب کہ مزید کی گنجائش ہے۔ہمارا منصوبہ ہے کہ 400اسکولوں کو تعلیمی سپورٹ سروسز فراہم کی جائیں۔ یہ خدمات چار شعبوں میں فراہم ہونگیں۔ باصلاحیت اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو چلانے کے اہل افراد کی فراہمی ہے سرفہرست ہے۔ ہم تربیت دے کے ایسے افراد فراہم کریں گے جو اسکول انتظامیہ میں ماہر ہوں اور ایسے استاذ تیار کریں گے جو کلاس رومزکو علم کا گہوارہ بنادیں۔ہماری کوشش یہ ہوگی کہ تعلیم کو معیاری بنانے کے لئے تکنیکی مہارت اور دوسری معلومات فراہم کی جائیں۔ہم عنقریب این سی آر میں ایک ماڈل اسکول قائم کررہے ہیں۔جو نمونہ کے طور پر کام کریگا۔ یہ کمپنی نئے اسکولوں کے قیام کے لئے بھی منصوبہ سازی اوردیگرمشاورتی خدمات انجام دیگی۔
مسٹر کلیم الحفیظ نے کہا اب تک تعلیم کے کام کو خیراتی کام سمجھاجاتا تھا جب کہ اب یہ پوری دنیا میں ایک انڈسٹری بن گئی ہے۔ ساؤتھ میں جو ادارے کامیابی سے چل رہے ہیں وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑاحصہ ضرورت مند بچوں کے مصارف پر خرچ کرتے ہیں۔ اس طر ح تعلیم کے شعبہ میں جو خیراتی کام پست معیار سے ہورہا تھا اس سوچ سے اس کا معیار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پینل میں تعلیم کے شعبے کے اعلا ترین ذہن شال ہیں اور ہمیں ان کی خدمات حاصل رہیں گیں۔
ڈائیں سے بائںل سید ساحل آغا، ڈاکٹڑ غزالی، ڈاکٹرشمسی، ، منصورآغا، کللیم الحفیظ انجنئر، جناب مہرالدین تقریر کرتے ہوئے
ایجوکیشن رسرچ کا ایک بڑانام مسٹر مہر الدین (ریٹائیرڈ انسپکٹر آف اسکول، دہلی) نے بتایا کہ کوئی بھی بچہ ایسا نہیں ہوتا جس میں قدرتی صلاحیتیں نہ ہوں۔ جدید تحقیق یہ ہے کہ بچوں میں آٹھ قسم کی صلاحتیں ہوتی ہیں ۔اساتذہ کو یہ پکڑنا ہوتاہے کہ بچے کی کس صلاحیت کو ابھارا جائے ۔یہ کام تربیت کے بغیر نا ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ ناکام نہیں ہوتا ، بلکہ ناکامی اس سے استاد یا گھر کے ماحول کی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ مہر الدین صاحب اس کمپنی نے اساتذہ کے تربیتی شعبہ کا ڈائرکٹر مقرر کیا ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے کہا کہ شارٹ کٹ سے کچھ بھی نہیں مل سکتا۔ہم شارٹ راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹارگیٹ مقرر کیا جائے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے دل وجان سے کوشش کی جائے ۔اگر انسان کوشش کرتا ہے تو پوری کائنات اس کی مدد کرتی ہے ۔گرین سرکل کے نائب صدر ڈاکٹر ایف ایم شمشی نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اورسب سے تعاون کی اپیل کی ۔ گرئن وزن کا دفتر 157، جسولا وہار، پاکٹ دو، اوکھلا میں قائم کیا گیا ہے۔ اس کے ڈائرکٹر کلیم الحفیظ کا دفتر ہوٹل ریورویو،اوکھلا۔ کالندی کنج روڈ ، ابوالفضل انکلیو میں واقع ہے۔ 

No comments: