Wednesday, November 4, 2015

تدریسی تکنک پر اساتذہ کی دوروزہ ورکشاپ کا انعقادAll India Educational Movement organized Teachers workshop

فوٹو۔ دائیں سے بائیں ۔ امان للہ خاں، پروفیسر اے اے قاضی، سید منصورآغا، مہرالدین، عبدالرشید
تدریسی تکنک پر اساتذہ کی دوروزہ ورکشاپ کا انعقاد
آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے زیراہتمام مزید تربیتی پروگراموں کا منصوبہ
نئی دہلی۔ پرائمری اوراپرپرائمری اساتذہ کے لئے ’تدریسی تکنک‘ پر آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کی دوروزہ ورکشاپ اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ اساتذہ کے لئے جدید تکنک اورہنرمندی کی اشد ضرورت ہے۔ نیزتعلیمی اداروں کا قیام ہی کافی نہیں،پڑھنے کے لئے گھروں اورمحلوں میں سازگار ماحول بھی ضروری ہے۔یہ ورکشاپ اردو اکادمی دہلی کے تعاون سے منعقد ہوئی جس میں زوراس بات پر دیا گیا کہ کلاس رو م کا ماحول خوشگوار بنایا جائے اورطلباء کی دلچسپی ان کے موضوع میں ، خصوصاً حساب او ر سائنسی موضوعات میں پیدا کرنے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ زوراس بات پر دیا گیا کہ کچھ چیزیں یاد کرادینا کافی نہیں،بلکہ سبق اس طرح سے پڑھا جائے کہ بچے کی فطری جستجو کوجلاملے۔ وہ باتوں کو سمجھنے اورخود آگے بڑھنے کا ہنر سیکھ لے۔ جناب عبدالرشید(سابق ڈپٹی سیکریٹری حکومت ہند) جنرل سیکریٹری ، موومنٹ نے اس کامیاب ورکشاپ کو کنڈکٹ کیا ۔ جس میں 82ٹیچرس نے شرکت کی ۔ان میں ماسوا چند سب خواتین تھیں۔تقریباً ایک درجن ممتازشخصیات اورماہرین تعلیم نے شرکاء سے خطاب کیا، جن میں سید سعید احمد کا نام خاص طور سے اہم ہے ۔ وہ اس میں شرکت کے لئے پونا سے تشریف لائے اور دواجلاسوں میں تقریبا تین گھنٹے نہایت مفید نکات بڑے دلچسپ انداز میں بیان کئے۔شرکاء نے ماہرین کو توجہ سے سنا اورمکالمہ کے دوران سوالوں کے جوابوں اورمزید اپنے سوالوں سے ثابت کردیا کہ جو باتیں کہی گئیں ان کو پوری دلچسپی سے سنا اورسمجھا بھی گیا۔ اعلان کیا گیا کہ عنقریب ایسی ہی ورکشاپ پرانی دہلی میں اور مشرقی دہلی میں بھی کی جائیگی۔
عبدالرشید اگوان، مسٹرسید سعید، عبدالرشید، پرہ فیسر ریحان خان سوری (مائک پر)

مسٹر عبدالرشید اگوان، چیرمین کنولج ٹرسٹ نے افتتاحی کلمات میں اساتذہ کے لئے مختصرمدتی ریفریشر کورسزکی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ریحان خان سوری نے کہا کہ اگر آپ اس تیزرفتار دنیا میں دوسروں سے بازی مارلیجانا چاہتے ہیں توکلاس روم میں تدریس کے جدید طریقوں کو روشناس کرانا ہوگا۔ 
سید محم سعید

مسٹرسید سعید نے خاص طور سے ٹیچر کے رویہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنی دلکش پیش کش میں ٹیچر کی شخصیت اوربات کہنے کے انداز کے مثبت اورمنفی پہلوؤں کے نفع ونقصان پر توجہ دلائی۔ٹیچر وہی کامیاب ہوتا ہے جو بچوں کے لئے پرکشش ہو اور اپنے مقصدسے بھٹکتا نہیں۔اس کا مقصد نئی نسل میں خوداعتمادی پیدا کرنا اوراسے علم وہنر کی راہ پر ڈالنا ہے۔ خاص طورسے انہوں نے کہا کہ پڑھانا پیشہ نہیں بلکہ ایک ہنر اور ایک مشن ہے۔ اس کو پوری دلچسپی سے انجام دیجئے۔

جامعہ ملیہ کے پروفیسرشعیب عبداللہ نے دومشکل اصطلاحوں ’آبجکٹو‘ اور ’سبجکٹو‘ کے حوالے سے یہ اہم نکتہ بیان کیا کہ بچوں کواس نظریہ سے مت جانچئے کہ جوآپ نے بتایا تھا ، اس کو اس نے کتنا یاد رکھا؟ بلکہ یہ دیکھئے کہ اس کے سیکھنے اورسمجھنے کے عمل میں کتنی اورکیسی پیش رفت ہورہی ہے؟ 
ڈاکٹرمحمد ضمیر نے طلباء کے شخصیت سازی میں ٹیچرکے رول پر توجہ دلائی اورکہا کہ مختلف قسم کی سرگرمیاں بچوں میں زیادہ بہتر دلچسپی پیداکرتی ہیں اور وہ زیادہ بہترطور سے سمجھنے کے اہل ہوتے ہیں۔ اسکالر اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر نسیمہ خان نے اپنے طویل اوردلچسپ تجربات بیان کئے۔ وہ چاہتی تھیں کہ ہرطالب علم کے ساتھ ٹیچر کا براہ راست تعلق ہو۔ جو بچے کمزور ہیں ان کو ڈانٹنے ڈپٹنے کے بجائے ان پر خصوصی توجہ دینا اوران کی ذہن کی گتھی کوکھولنا اہم ہے۔ آپ بچوں کے لئے نمونہ ہیں۔ ہربچے کو ویسی ہے توجہ دیجئے جیسا وہ آپ کااپنا بچہ ہے۔
ممتاز ماہر تعلیم جناب مہرالدین نے مثالیں دے دے کر بتایا کہ حساب اورجیومیٹری جیسے خشک موضوعات کو بھی کتنا دلچسپ بنایا جاسکتا ہے؟ انہوں نے اس بات پر خاص طور سے زوردیا کہ کلاس روم میں لیکچر دینا اورطلباء کو مختلف سرگرمیوں کے ذریعہ مطلوبہ نتائج کی طرف متوجہ کرنا کس قدرمختلف نتائج دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے لیکچرسن کر اکتا جاتے ہیں لیکن اگرآپ ان کو کسی سرگرمی کے ذریعہ بات سمجھاتے ہیں تو وہ اس کو جلدی سے سمجھ لیتے ہیں اوراس کو دوہرا کر یاد بھی کرلیتے ہیں۔کوئی کام ایسا مت کیجئے جس سے بچوں کی حوصلہ شکنی ہو اوران کے ذہنوں میں خوف اوراندیشہ پیدا ہو۔ ان میں خوداعتمادی پیداکرنا ٹیچر کے ذمہ داری ہے۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے موومنٹ کے نائب صدر سید منصورآغا نے کہا کہ آنے والادور خواتین کادور ہوگا۔ بچوں کی اچھی تعلیم اورتربیت کا بوجھ بھی ان پر ہی ہے۔ ان کو نہ صرف یہ کہ بچوں کے ذہنوں میں علم کی شمع روشن کرنی ہے بلکہ معاشرے کو بھی درست کرنا ہے تاکہ اس میں تعلیم کی اہمیت کی سمجھ پیدا ہوسکے۔ 
پروفیسر اے اے فیضی اورڈاکٹرجاوید جمیل نے بھی ٹیچرس کو خطاب کیا اوران کو پوری دلچسپی سے اپنے فرائض کی انجام دہی پر متوجہ کیا۔ موومنٹ کے صدر امان اللہ خاں نے بیشتر اسکولوں کے پست معیار کی وجہ ٹیچرس کی عدم صلاحیت اوران کو مناسب مشاہرہ نہ دئے جانے کو بتایا۔ جناب مظفرعلی ، خازن موومنٹ نے شرکاء اورانتظام کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اورمبارکباد پیش کی۔ پروفیسر فیضی ، امان اللہ خان، عبدالرشید اور منصورآغا نےشرکاء کو سرٹفیکٹ تقسیم کئے۔
شرکا ورکشاپ
سید شریف الحسن نقوی کی وفات پر اظہا رتعزیت
نئی دہلی۔ دہلی اردواکادمی کے اولین سیکریٹری، ماہر تعلیمات اور دہلی شعبہ تعلیم کے ممتاز افسرسید شریف الحسن نقوی کی وفات پر آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کے انتقال کی اطلاع اساتذہ کی دوروہ ورکشاپ کے دوران ملی۔ سید منصورآغا نے قرارداد تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت خوش خلق، متواضع اورہمدردانسان تھے۔ قرارداد کی تائید صدرامان اللہ خاں اورجنرل سیکریٹری عبدالرشید نے کی ۔ شرکاء نے مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی اورپسماندگان کو تعزیت پیش کی۔
ورکشاپ کے بعد: محمد فاروق (ایس آئی ٹی) سید سعید اور سید منصورآغا

No comments: