Friday, October 16, 2015

Presidents post of All India Muslim Majlis e Mushawratآل انڈیا مسلم مجلس شاورت کی صد ار ت

آل انڈیا مسلم مجلس شاورت کی صد ار ت
 سید منصورآغا
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے تاریخی جشن طلائی کے بعد اچانک کچھ لوگوں کی نظریں اس پر لگ گئی ہیں۔اگرچہ اس کا انتخابی عمل ابھی شروع نہیں ہوا اورنہ کسی تاریخ کااعلان ہوا، لیکن ایک سابق ایم پی صاحب نے اپنے لئے ہی کنویسنگ شروع کردی ہے۔ ان کا ایک خط اسپیڈ پوسٹ سے موصول ہوا۔ اغلاط سے پرڈیرھ صفحہ کا مکتوب مظہر ہے کہ موصوف کو مشاورت کی تاریخ اورطریقہ انتخاب کا اندازہ نہیں۔ مشاورت کی روایت یہ ہے کہ از خود بڑھ کرکوئی کسی منصب کے لئے اپنا نام پیش نہیں کرتا۔ اپنے نام کی کنویسنگ کوبھی پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا۔
ہم ارکان کی سیاسی سرگرمیوں کو خارج نہیں کرتے ۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مشاورت کو اپنے ابتدائی دور میں اس لئے نقصان پہنچا تھا کہ بعض افرادنے اس کے پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی ایجنڈہ کے لئے استعمال کرنا چاہا۔ چنانچہ جس شخص کا اپنا ذاتی سیاسی ایجنڈہ بھی ہے، وہ اگر مشاورت کے کسی اہم منصب پرفائز ہوگیا تو یہ اندیشہ بجا ہے کہ وہ ملی مفادات کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا ۔ مشاورت کے صدر کی نظروسیع ہو نی چاہئے۔تحریراورتقریر کا بھی سلیقہ ہونا چاہئے اوروہ مشاورت کی سرگرمیوں میں کسی بھی صورت شریک رہا ہو۔ مشاورت کا کوئی رکن اگرسیاسی عزائم رکھتا ہے، اور مشاورت اس کی تائید و حمایت کرے تواس میں کوئی مضایقہ نہیں۔
ایک طبیب کی وفات
میرٹھ کے معروف یونانی طبیب حکیم جمیل احمدصاحب کا گزشتہ جمعرات8 اکتوبر کو انتقال ہوگیا۔وہ83 سال کے تھے۔ ان کی وفات سے گویامیرٹھ میں ایک یونانی مطب بند ہوگیا۔ تدفین جمعہ کو ہوئی جس میں کئی معروف شخصیات اوربڑی تعدادمیں ان کے متعلقین نے شرکت کی۔ قدیم وضع کے سادہ مزاج،باکرداراوردیندارانسان تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔بروزپیرمیرٹھ ہی کی ایک اورمعروف ہستی سرتاج بیگم صاحبہ وفات پاگئیں۔وہ نواب شمس الحق پرانی کوتوالی والی کی آخری نشانی تھیں۔لاولد تھیں۔ تقریبا85 سال عمر پائی۔ اللہ ان کی بھی مغفرت فرمائے۔
cell: +919818678677

No comments: