Saturday, October 3, 2015

Middle East Migrants in Europe: A huge human tragedy

گھربدر ہونے کا کرب: جس پر پڑے وہی جانے

سید منصورآغا،نئی دہلی
گھربدر ہونے کا کرب وہی جان سکتا ہے جس پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔ آج انسانوں کی ایک بڑی تعداد، جو اپنا رشتہ اسلام سے جوڑتی ہے، جو ان خطوں میں بستی ہے جن میں مسلمانوں کی چلتی ہے، گھربدری کے کرب میں مبتلا ہیں ۔ان کو سہارامل رہا ہے اس مغرب میں جو اسلام کا اورمسلمانوں کا دشمن ازلی تصورکیا جاتا ہے۔ اس صورتحال پر غورکرنے بیٹھئے تو پہلے خود احتسابی لازم ہے ۔پھر اپنی ان آرا پر غور کیجئے جو غیروں کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں رچی بسی ہیں۔
حال ہی میں ترکی کے ساحل پراوندھی پڑی ہوئی ایک تین سالہ بچے کی تصویرمیڈیا میں، خصوصاً ایف بی پر غیرمعمولی توجہ کا مرکز بنی۔ سرخ ٹی شرٹ اوربلو پتلون میں ملبوس شامی معصوم بچے ’آلیان کردی ‘ کی یہ فوٹوآپ نے بھی دیکھی ہوگی اور دل میں کچھ کرب بھی محسوس کیا ہوگا۔ اس تصویر نے دنیا کو ہلا کررکھ دیا۔پناہ گزینوں کے مسئلہ پر انسانی نقطہ نظر سے ایک نئی بحث کو اس نے چھیڑدیا۔ یوروپ کے کئی شہروں میں پرہجوم جلوس نکالے گئے۔ خاموش سرجھکائے، بوجھل قدموں سے آگے بڑھتے ہوئے ان انسانوں کے ہاتھوں میں تختیاں تھیں جن پر لکھا تھا: ’سرحدیں کھول دو۔ پناہ گزینوں کو آنے دو۔‘
کون تھا آلیان کردی؟ کہاں کا رہنے والاتھا؟ کیوں سمندر میں ڈوب کرزندگی سے ہارگیا؟ کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ہونگے ۔آلیان کردی شام کا باشندہ تھا۔ وہ شام جو کبھی عالم اسلام کا مرکز تھا۔ جس کی عظیم اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ چند سال قبل تک جوشام ایک ترقی یافتہ اورلبرل عر ب ملک تسلیم کیا جاتاتھااورجو اب کھنڈروں میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس ملک پر 1971سے بعث پارٹی کی حکومت ہے ۔ اس کے سربراہ علوی شیعہ حافظ الاسد تھے۔ جب کہ شام کی اکثریت سنی ہے۔ حافظ الاسد کے بعد ان کے صاحبزادے بشرالاسدصدربن گئے۔دیگر پڑوسی عرب ممالک کی طرح اسد خاندان نے بھی جو نظام حکومت قائم کیا وہ آمرانہ ہے۔ فتنہ اس لئے کھڑا ہوا ایران سے ان کے روابط اچھے ہیں۔ امریکا اور یوروپ جوکل تک ایران کے سخت مخالف تھے، ان کے دشمن بن گئے۔پہلے اسد حکومت کو متزلزل کرنے کے لئے مسلکی فساد کو ہوا دی گئی۔اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے سازشیں کی گئیں۔ جب ان کا کوئی نتیجہ نکلتا نہ دکھائی دیا تو امریکا اوراس کے حلیف برطانیہ و دیگریوروپی ممالک کی شہ پر مسلح بغاوت شروع ہوئی ۔ ’داعش ‘ کا جنم ہوا۔ جس نے قدم جمتے ہی اپنے زیرقبضہ خطے کو انسانوں کی قتل گاہ بنادیا ۔ آلیان کردی کے خاندان نے اس قتل گاہ سے فرارحاصل کرکے محفوظ زندگی کی تلاش میں ہجرت کی ٹھانی۔ پہلے کنیڈا میں پناہ کی درخواست دی کہ آلیان کی ایک پھوپی وہاں مقیم ہیں۔ مگردرخواست منظور نہ ہوئی۔ مایوس ہوکر ایک کشتی سے یوروپ کا رخ کیا۔ کشتی چھوٹی تھی۔ مسافر گنجائش سے زیادہ تھے۔ چنانچہ کشتی ترکی کے ساحل سے کچھ فاصلہ پر ڈوب گئی۔ 17مسافروں میں سے آلیان کے پورے خاندان سمیت 12افراد سمندر میں سما گئے۔
یہ ایک واقعہ ہے۔ بحیرہ روم میں اس طرح کے درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سیکنڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ صرف شام سے ہی نہیں، مصر ، لیبیا، تیونس ،اریٹیریااورمتعدد دیگر افریقی ممالک کے باشندے پناہ کی تلا ش میں جان کو خطرے میں ڈال کر سمندرمیں نکلتے ہیں۔ ایک اچھی خاصی انڈسٹری انسانی اسمگلروں کی چل رہی ہے ۔ موٹی رقمیں لے کر ان پریشان حال لوگوں کو یوروپ پہنچانے کا بھروسہ دلایا جاتا ہے۔ عموما حادثے اس لئے پیش آتے ہیں کہ کشتیاں چھوٹی ہوتی ہیں اوران میں افراد گنجائش سے زیادہ بھرلئے جاتے ہیں۔ اسی سال 27اگست کو کم و بیش 500لیبیائی بیچ سمندر میں اس وقت ڈوب گئے جب ان کی دونوں کشتیاں ، جو’زوارہ ‘سے روانہ ہوئی تھیں ، طوفان میں ڈوب گئیں۔ اسی دن آسٹریا میں ایک کنٹینر سے 71شامیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ 19اپریل کو اٹلی کے قریب ایک جزیرے ’لمپے دوسا‘ میں ایک بحری جہاز چٹان سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا جس میں کم ازکم 800افریقی باشندے مارے گئے۔فروری میں بھی بحیرہ روم عبورکرنے کی کوشش میں 300افراد اس وقت ڈوب گئے جب ان کی کشتی طوفان میں غرقاب ہوگئی۔یہ چند بڑے واقعات ہیں۔ چھوٹوں کا کچھ شمار نہیں۔
ایک بین اقوامی جائزے کے مطابق اس سال جنوری تا اگست کم از کم ساڑھے تین لاکھ افراد پناہ کی تلاش میں یورپی یونین کے مختلف ممالک میں پہچے ہیں۔ گزشتہ سال یہ تعداد دولاکھ اسی ہزار تھی۔ان میں 62فیصد لوگ شام ، افغانستان اورافریقی ملک اریٹیریا کے باشندے ہیں۔ باقی لیبیا، سوڈان، پاکستان، نائجیریا، کوسووو، عراق، دارفور ، سومالیہ اور دیگر ممالک کے باشندے ہیں۔ یہ سب بہتر زندگی کی جستجو میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں یورپی ممالک میں پہچے ہیں ۔ان میں اکثر کو پناہ گزین کا درجہ دیدیا جاتا ہے ۔ فوری ضروری امداد ہراک کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ پناہ گزین چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔ یہی ان کی قدر بھی ہے۔
اب تک سب سے زیادہ پناہ گزینوں کو جرمنی نے جگہ دی ہے۔اب ترکی بھی آگے آرہا ہے۔ لیکن یونان ، آسٹریا اور ہنگری میں پناہ گزینوں کا دباؤ زیادہ محسوس کیا جارہا ہے۔ اٹلی میں کچھ پریشانی ہے۔ اس کی ایک وجہ ان ممالک کی خراب اقتصادی صورت حال ہے۔یورپی یونین کے ممالک اب ایسی یکساں پالیسی کی جستجو میں ہیں جس سے یہ بوجھ سب ممالک پر یکساں پڑے۔ اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران افغانستان، عراق اور شام کے جنگ زدہ علاقوں سے تقریبا تین ہزارافراد یومیہ پناہ کی تلا ش میں مغربی یوروپ کے ممالک میں داخل ہونگے۔ 
یورپی یونین کے ضابطے کے مطابق اگرکوئی شخص ایسے خطے سے آکرپناہ مانگتا ہے جہاں فتنہ وفساد، جنگ زدگی یا مقامی قوانین کی وجہ سے اس کی جان خطرے میں ہوتو اس کو پناہ دیدی جاتی ہے۔ ان پناہ گزینوں کورہنے کھانے کی سہولت اوربعد میں وظائف مقررکردئے جاتے ہیں، جو جرمنی جیسے بعض ممالک میں اتنے ہوتے ہیں کہ آرام سے گزربسر ہوجائے۔چنانچہ پاکستان میں جب قادیانیوں کو غیرمسلم قراردیا گیا تو بڑی تعداد میں پاکستانی جرمنی اوردیگر یورپی ممالک میں جاکر بس گئے اور پھل پھول رہے ہیں۔ان ممالک میں اسلام کے نا م پر جو تبلیغ ہورہی ہے، مساجد اورمراکز قائم ہورہے ہیں وہ عموما قادیانی ہی ہیں۔
اگرچہ اقوام متحدہ بھی اس طرح کے پناہ گزینوں کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے۔ مگر امریکا اورکنیڈا وغیرہ ممالک اس میں کوئی کردارادا نہیں کررہے ہیں۔ سارا بوجھ یورپی ممالک پر ہے اوراس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ خطہ ان خطوں سے قریب ہے جہاں امریکا اوراس کے حلیفوں نے بھاری تباہی مچائی ہے اوراچھے خاصے خوش حال اورپرامن ممالک کو کھنڈروں میں تبدیل کردیا ہے۔ 
ایسا ہی ایک مسئلہ برما کے ان پناہ گزینوں کا بھی ہے جن کو ہم روہنگیا کہتے ہیں۔ یہ برما کی اس ریاست کے باشندے ہیں جن کو جنگ عظیم سے قبل تک ’ارکان ‘ کہاجاتاتھا۔ جب انگریز اس خطے کو چھوڑ کرگئے تو ارکان کو ’یونین آف برما‘ کا حصہ بنادیا گیا۔ اس کی سرحد بنگال سے ملتی ہیں اوران کی زبان اورمعاشرت پر بنگالی اثرات ہیں۔ برما کی فوجی حکومت نے ان کی شہریت یہ کہہ کر سلب کرلی یہ بنگالی ہیں۔ بعض شدت پسند بودھ بھکشؤں نے ان کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان وطن چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ لیکن ان کو اس طرح تحفظ اورسہولتیں کہیں بھی میسر نہیں جیسی یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کو حاصل ہیں۔
بہرحال یہ انسانی حقوق کی پامالی کا ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس کے تما م پہلوؤں کا احاطہ کرنا تو دور، ان سب کا ذکر بھر کرنا کسی ایک اخباری مضمون میں ممکن نہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ ان فسادات کی جڑ میں کم ازمسلم ممالک کو یہ غورکرنا چاہئے کہ مسلکی شدت پسندی کا کتنا بڑا دخل ہے؟ لیکن ہمارے ضمیر پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ 
(راشٹریہ سہارا اردو کے دستاویز صفحات میں شائی ہو امورخہ ۲ اکتوبر 2015
Cell: 9818678677

No comments: