Friday, October 16, 2015

گائے کے تقدس کا مہلک جنون Development agenda abandoned, BJP takes shelter under the shadow of COW

احوال عالم
گائے کے تقدس کا مہلک جنون

سید منصورآغا،نئی دہلی
مولوی اسمٰعیل میرٹھی کے ایک نظم بچپن میں پڑھی تھی :
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
کل جو گھاس چری تھی بن میں
دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں
طویل نظم ہے اورنعمت الہٰی کے شکر سے لبریز۔ بچے بڑے سب ذوق و شوق سے پڑھتے ،یادرکھتے ۔یہاں تک کہ ہماری وزیر اقلیتی امورنجمہ ہبت اللہ کو بھی یاد ہے، حالانکہ وہ انگریزی میڈیم کی طالبہ تھیں۔ سوچتا ہوں آج اگرمودی کے دور میں مولوی اسمٰعیل حیات ہوتے تو شاید کچھ یوں کہتے:
اپنی گائے اٹھا لے مالک
جان ہماری بچا لے مالک
رحمت تھی کل تک جو گائے
زحمت بن گئی آج وہ گائے
دودھ دہی جو دے نہ پائے
ایسی گائے کس کو بھائے
گؤ کا نام اور گندی سیاست
ہر سو برپا شورِ قیامت
راجدھانی دہلی سے متصل داردی کی مضافاتی آبادی بسارا میں 29 ستمبر کو جو المناک سانحہ پیش آیا ،اس کی گونج یوپی کے ضلع مین پوری کے کرہال قصبہ میں بھی سنائی دی۔ چار افراد ایک مردہ گائے کے کھال اتار رہے تھے کہ ایک ہجوم نے آ گھیرا۔ ان میں سے دوتو نکل بھاگے مگر دو پکڑلئے گئے ۔ نا کوئی داد نا فریاد۔ نام پوچھااور مارنا شروع کردیا۔ منصوبہ زندہ جلانے کاتھا۔ مقامی بھاجپا صدر نے تیل بھی منگا لیا تھا۔ مگر قسمت سے پولیس فورس پہنچ گئی اور ان دونوں کواپنی تحویل میں لے لیا۔
ٹائمزآف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گائے ایک غیرمسلم کاشتکارکی تھی۔ بیمارتھی۔ مرگئی تو مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے والوں کوبلاکر اٹھوا دی۔ اسی دوران اسی کے لڑکے نے وہاٹس ایپ پر گؤ کشی کی جھوٹی خبر اپنے گروپ کو بھیجی ۔ بھاجپا اورسنگھ پریوار سے وابستہ گروپوں نے اس کو آگے بڑھا یا۔ چشم زدن میں لاٹھی ڈنڈوں اور آتشیں اسلحہ سے لیس بھیڑ وہاں جمع ہوگئی ۔ ’’جے شری رام ‘‘ اور’’گؤ ہماری ماتا ہے‘‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ بھگوااسٹال ان کے گلوں میں پڑے تھے اورسروں پر بندھے تھے۔ پولیس کو گمان ہے کہ یہ واقعہ اتفاقی نہیں بلکہ سازشی ہے۔ جن 31 افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ، ویڈیو کلپنگ سے پہچان کر جن کو پکڑا گیا،ان میں سے21کا تعلق بھاجپا سے بتایا جاتا ہے۔ پارٹی نے ان میں سے 14 کے ممبرہونے کی تصدیق کی ہے۔ان میں بھاجپا کے مقامی صدر راکیشن چندیل بھی شامل ہیں ۔ وہی آگے آگے تھے۔ بھیڑ میں اکثریت 18تا 25برس کے نوجوانوں کی تھی۔ان کا مطالبہ تھا کہ پولیس ان دونوں افراد کو ان کے حوالے کردے تاکہ وہ خود’انصاف‘ کا تقاضا پورا کردیں۔جب پولیس دباؤ میں نہیں آئی تو بلوائیوں نے پولیس کی ایک موٹرسائکل اور دو جیپ گاڑیوں کو جلا دیا ۔آناً فاناً شہر میں ایک ہی فرقہ کی املاک کو نذرآتش کردیاگیا۔ ہرچند کہ پولیس اورانتظامیہ کی مستعدی سے معاملہ فوری طور سے قابو میں آگیا۔ مگرذہنوں میں فساد تو پھیل ہی گیا۔ بقول حفیظؔ میرٹھی
ایسی آسانی سے قابو میں کہاں آتی ہے آگ
جب بھڑکتی ہے تو بھڑکے ہی چلے جاتی ہے آگ
پاسباں آنکھیں ملے، انگڑائی لے، آواز دے
اتنے عرصے میں تواپنا کام کرجاتی ہے آگ
دادری اورمین پوری کے ان معاملات میں مرکزی کابینہ کے وزیروں اور بھاجپا لیڈروں کی پوری پوری ہمدردی دنگائیوں کے ساتھ ہے۔ ہرچند تحقیق سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ نہ دادری میں کسی نے گائے کاٹی اورنہ مین پوری میں گؤ کشی ہوئی مگر بھاجپا کے ریاستی صدر لکشمی کانت باجپئی نے لکھنؤ میں کہہ دیا کہ ’’گؤ کشی کرنے والوں کی گرفتاری میں پولیس کی ناکامی کی وجہ سے ‘‘ عوام میں غصہ بھڑکا۔ اور یہ کہ پولیس اورانتظامیہ افسران گائے کی موت کی وجہ بیماری بتارہے ہیں، حالانکہ وہ دراصل کاٹی گئی تھی۔ یہ بات پوسٹ مارٹم رپورٹ اورگائے مالک کے اعتراف سے صاف ہوچکی ہے کہ گائے بیماری سے مری۔انہوں نے گرفتار شدگان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ’بے قصور‘قراردیا اوراعلان کیا کہ پارٹی چندیل اوران کی چنڈال چوکڑی کی رہائی کے لئے احتجاج کریگی۔ہریانہ کے وزیراعلا موہن لال کھتر نے یہ بے پرکی اڑائی کہ مقتول اخلاق نے گائے کے بارے میں کوئی ایسی ویسی بات کہہ دی تھی جس سے لوگوں میں غصہ پیداہوا۔
بھاجپا لیڈروں کے بیانات واضح طور سے اپنے کیڈر کی غنڈہ گردی اور لاقانونیت کی حوصلہ افزائی ہے۔ ان کا صاف مقصد گائے پر سیاست کرکے عوام کو گمراہ کرنااورفرقہ ورانہ کشیدگی پھیلانا ہے۔ یہ بیان ظاہر کررتے ہیں کہ 2014کے پارلیمانی الیکشن میں مودی نے وکاس ، پریورتن، سب کا ساتھ، مہنگائی ،اچھے دن اور روزگار فراہمی کے جولوک لبھاون نعرے لگائے تھے ،ان کی قلعی اتر چکی ہے۔ اس لئے پارٹی گائے کی سیاست پراترآئی ہے۔ 
نوادہ بہار کی انتخابی ریلی میں مودی جی نے دادری معاملے کا حوالہ دئے بغیر منھ کھولا اورایکتا، بھائی چارہ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے لئے صدرجمہوریہ کی نصیحتوں پرعمل کی تلقین کی۔ انہوں نے یہ نصیحت بھی دوہرائی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں نہیں لڑنا چاہئے بلکہ دونوں کو مل کر غریبی سے لڑنا چاہئے۔ ان کی نصیحت سرآنکھوں پر ۔ہونا ایسا ہی چاہئے، بشرطیکہ مودی جی اوران کا پریوار ہونے دے۔ہم فرقہ ورانہ لائنوں پر سیاست اورصحافت کے قائل نہیں۔ لیکن انصاف کی بات ہے کہنی ہوگی۔ آزاد ہند کا مسلمان تو غریبی، بیماری، ناخواندگی اور معاشرہ کی خرابیوں سے ہی لڑرہا ہے۔ گزشتہ 65 برسوں میں اس نے کوئی مطالبہ ایسا نہیں کیا، کوئی تحریک ایسی نہیں کھڑی کی جس کی زدکسی دیگرقوم پر پڑتی ہو۔ہم کسی کے عائلی معاملات، مراسم عبادات،خورد ونوش کی عادات اور زندگی گزارنے کے طورطریق وغیرہ پر کوئی اعتراض نہیں اٹھاتے۔ ڈیک اور بینڈ باجہ لے کر آرتی اورپوجا کے وقت کسی مندر کے سامنے ہلڑ نہیں مچاتے۔ کسی کی عبادت گاہوں پر دعویداری لیکر رتھ یاترا نہیں نکالتے۔ ان کو مسمار نہیں کرتے۔ کسی کی بچیوں کو اٹھالیجانے اورجبری شادی کی دھمکی نہیں دیتے۔ منھ پھٹ لیڈروں ، سادھویوں اورمہنتوں کو جو ہمیں پاکستان چلے جانے یا سمندر میں ڈوب مرنے کا مشورہ دیتے ہیں، یہ نہیں کہتے کہ تم خود کیوں نہیں ہمالیہ کی چوٹیوں پر چڑھ جاتے کہ دل لگاکر عبادت و ریاضت کرسکو۔ مسلمانوں نے اگر کچھ مانگا ہے تو انصاف مانگا ہے ۔ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے جو دہشت گردی کے نام پر ان پر روا رکھا گیا ہے۔ آج بھی سینکڑوں بے قصور نوجوان جیلوں میں قید ہیں۔ ہم ان کے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہم کسی کے رحم وکرم پر اس ملک میں نہیں رہتے۔ ہم نے اپنا اتنا ہی حق مانگا ہے جو آئین میں درج ہے۔آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی آستھا سب پر مسلط ہو۔کچن بھی آپ کی مرضی سے چلے اورخوابگاہ تھی۔ ہم نے کبھی کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا ۔نہ کریں گے کیوں کہ اسلام کا اصول یہ ہے ’تمہارادین تمہارے لئے، ہمارا دین ہمارے لئے۔‘ (الکافرون) 
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نہ ہمارا کوئی جھگڑا ہندو بھائیو ں سے ہے اور نہ ہندوؤں کا مسلم فرقہ سے۔اس کا ثبوت دادری بسارا کے ہندوؤں نے 11اکتوبر کو دومسلم بچیوں کی شادی کی میزبانی کرکے دیدیا۔حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کے سسرال والے وہاں بارات لانے پرآمادہ نہیں تھے۔ ان کے غریب باپ حکیم نے مجبوراًکہیں اور مدرسہ میں نکاح کا ارادہ کیا تھا، مگر انتظامیہ اور مقامی ذمہ دار باشندے حکیم کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ دونوں لڑکوں کے ورثاء کو آمادہ کیا کہ حکیم کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں۔ ہم گاؤ ں سے ہی رخصت کریں گے۔ان کی کوشش کامیاب ہوئی۔ دونوں باراتیں بسارا کے اسکول میں ہی آئیں۔ مقامی ہندوؤں نے باراتیوں کا استقبال اپنے مہمانوں سے بڑھ کر کیا۔ ہندو نوجوانوں نے مہمانوں کی تواضع کی۔ سارا انتظام ہندوبھائیوں نے کیا۔ انتظامیہ بھی مستعد رہا۔ یہ جذبہ قابل قدراورلائق مبارکباد ہے۔یہی اصل ہندستان ہے۔ بسارا کے باشندوں نے جتادیا کہ اکثریت کو اقلیت کے خلاف ورغلانے اور بھڑکانے کا کام بھاجپا اور اس کے بغل بچوں کا ہی وطیرہ ہے۔
نہ دادری میں گؤ کشی ہوئی اورنہ مین پوری میں۔سنگھی کیڈرنے ہی افواہ پھیلائی اورمٹھی بھر لوگوں نے تشدد برپا کیا ۔دادری میں ان کی تعداد چالیس سے زیادہ نہیں تھی۔ مین پوری میں اوربھی کم۔ اب مودی جی کی پارٹی کے ریاستی صدر اس تشدد کو جائز ٹھہرارہے ہیں ۔ خطاکاروں کی تائید اور بے قصوروں کی تاک میں مستعد ہیں۔ مودی جی ملک میں امن واما ن ، بھائی چارہ قائم ہوجائیگا اگر ووٹوں کی خاطر اس پرتشدد سیاست سے آپ توبہ کرلیں اور اپنی پارٹی کے لیڈروں کو بھی باز رکھیں۔ اس کے لئے آپ کو اپنا یہ نظریہ چھوڑنا ہوگا کہ ’’ہندوؤں کو اپنا غصہ نکالنے دیا جائے۔‘‘ یہ دھونس دھمکی، یہ غصہ جائز نہیں۔یہ ہندستان کی تباہی کا فرمان ہے۔ اس کی گونج دنیا بھرمیں سنائی دے رہی ہے۔
نوادہ کی ریلی میں اپنی تقریر کے دوران مودی جی نے تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہا۔ بلکہ گائے کی شاطرانہ سیاست کو بہار کے الیکشن میں بھی ابھارنے کی کوشش کی۔ حکومت ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی جو لوک سبھا الیکشن میں کئے تھے اس لئے اب آپ بھی گائے کی شرن میں آگئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بہار کے رائے دہندگان بیکاری اور آٹے دال، چاول، چینی کی گرانی کو دیکھ سمجھ کر ووٹ دیتے ہیں یا اس شور میں ہوش کھو بیٹھتے ہیں جو آپ کی پارٹی نے یوپی میں اٹھایا ہے۔اتنا طے ہے کہ ان واقعا ت سے پوری دنیا میں ملک کی شبیہ کو داغدارکردیا ہے۔

No comments: