Thursday, September 24, 2015

اسلامی قانون ، اختلاف مسالک اور اصلاح معاشرہ Islami Law, Difference of Masalik and Social Refortms

احوال عالم
اسلامی قانون ، اختلاف مسالک اور اصلاح معاشرہ 

سید منصورآغا،نئی دہلی
سپریم کورٹ کے لائق ایڈوکیٹ جناب مشتاق احمد علیگ کا ایک وقیع مضمون بعنوان ’’اسلامی قانون، اصلاح معاشرہ اور مختلف مسالک‘‘ پیش نظر ہے جو کئی اخباروں میں شائع ہوا ہے۔یہ مضمون کانپور کے محترم قاضی مولانا رضا خان نوری کے تاریخ ساز فیصلے کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ محترم قاضی صاحب نے دو خواتین کے استغاثہ پر، جن کے شوہر مدت سے لاپتہ ہیں، شافعی مسلک کے مطابق فیصلہ صادر کیا، جس کے تحت فسخ نکاح کے لئے شوہر کی بے خبری کی مدت چارسال ہے ۔ فقہ حنفی میں یہ مدت سترسال بتائی جاتی ہے۔ یہ مدّت ناقابل فہم ہے کہ عورت لاپتہ شوہر کی واپسی کا سترسال تک انتظار کرتی رہے اور اس کے بعد اس کو نکاح کی اجازت ملے۔ گمان غالب یہ ہے کہ امام صاحب نے سات سال فرمایا ہوگا اورمحرر یا نقل نویس سے غلطی سے ایک صفربڑھ گیا یاقلم سے سیاہی کا قطرہ گر گیااورپڑھنے والے نے ستر پڑھ لیا۔ سترسال انتظارکا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ ساری عمر یونہی گزار دے۔یہ انصاف کہا ں ہوا؟جو دین انصاف اورترحم کا حکم دیتا ہے اورہرحکم میں فطرت انسانی کی ٰرعایت کرتا ہے، اس کی امام ابوحنیفہ ؒ جیسا شناسا ایسی ناقابل فہم و ناقابل عمل تعبیر کیسے کرسکتا ہے؟ 

قاضی نوری صاحب نے یہ اہتمام بھی فرمایا کہ اپنا فیصلہ دیگرعلماء اورمفتیان کرام کی مجلس میں سنایا۔گویا قاضی صاحب کے اس فیصلے کو دیگرعلماء کی بھی تائید حاصل ہوگئی ۔ اللہ ان سب کواس جرأت اور بصیرت کا اجرعظیم عطا فرمائے اور اس کو ملت اسلامیہ کے لئے ایک مثال بنائے۔ یہ ان حضرات کے حق میں ایک صدقہ جاریہ ہوگا۔ انشاء اللہ۔
دراصل مسالک کے معاملہ میں جو ضدی رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہ خوددین کے مزاج اورائمہ اربعہ کے عمل کے منافی ہے۔ روایت مشہور ہے امام عبداللہ المالک بن انس یمنی ؒ معروف بہ امام مالک ؒ کی تصنیف ’’مُوَطّا‘‘جب منظرعام پر آئی تو خلیفہ وقت المنصورنے چاہا کہ اس کی نقول تمام مملکت میں پھیلادی جائیں اورحکم کردیا جائے کہ اسی کے مطابق عمل کیا جائے ۔لیکن حضرت امام مالک ؒ نے اس کو پسند نہیں کیا۔ انہوں چاہا کہ ہرفقہ رائج رہے۔ ایک سبق آموز واقعہ کہیں یہ بھی پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ امام ابوعبداللہ محمد بن ادریس الشافعی ؒ (ولادت150ہجری) اس مسجد میں تشریف لے گئے جس میں امام ابوحنیفہ ؒ (وفات 150ھ) درس دیتے تھے ۔ نماز کا وقت ہوا تو مصلیان نے امام شافعیؒ سے امامت کی خواہش کی۔ قرینہ بتاتا ہے ان مصلیان میں ایسے حضرات بھی شامل ہونگے جنہوں نے حضرت امام اعظمؒ سے علمی استفادہ کیا، ان کی صحبت میں تربیت پائی اوران سے محبت وعقیدت رکھتے تھے۔ انہوں نے امام اعظم ؒ کے مصلے پر امام شافعی کوکھڑا کردیا۔ امام شافعی ؒ نے نماز پڑھائی اور حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے طریقہ سے پڑھائی۔ بعد میں اس کا دفاع بھی کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئمہ کرام اوران کے قریبی متبعین میں کس قدر توسع تھا۔ انہوں نے کسی دیگرامام کے مسلک کو باطل نہیں ٹھہرایا ۔ لیکن آج ان کے نام لیواؤں کے ذہنوں میں مسلکی تعصب کا زہر اسقدر بھردیاگیا ہے کہ دیگرمسلک کے امام کے پیچھے نماز پڑھنا تودور ، بعض امام صاحبان تو یہ بھی گوارا نہیں کرتے کہ دوسرے مسلک کا کوئی مسلمان اس کی امامت میں نماز ادا کرلے۔ امام شافعی ؒ تو امام ابوحنیفہؒ کے مصلے پر نماز پڑھاسکتے ہیں، لیکن کسی شافعی یا مالکی کوحنفی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ یہ طریقہ تو ائمہ اربعہ میں سے کسی بھی امام کی پیروی نہیں۔ ہم سخت گناہ گار ہیں، لیکن قاضی شہر کانپورمولانا رضا خان نوری صاحب اور ان کی تائید کرنے والے علماء و مفتیان کرام کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں کہ انہوں نے ملت کو توسع کی جوراہ دکھائی ہے، اس کو قبول فرما اورقبول عام بنا۔ آمین۔
اجتہاد کی ضرورت
مفقودالخبرکے بارے میں ایک بات اورعرض کرنے کو جی چاہتا ہے۔غورفرمائیں کہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ (سنہ ولادت 80 ،وفات 150ھ) اورحضرت امام شافعی ؒ (ولادت 150،وفات 204ھ) کے دور میں آمدورفت اوررسل رسائل کے ذرائع کیا تھے اورآج کیا ہیں؟اس زمانے میں لوگ پیدل یا مویشیوں کی پشت پر سفرکرتے تھے۔ تلاش معاش میں دوردورنکل جاتے۔ اطلاع رسانی کے ذرائع بھی آج جیسے نہ تھے کہ پلک جھپکتے دنیا کے ہرکونے سے رابطہ ہوجائے۔ اُس زمانے میں کوئی گھرسے نکلتا تومدّتوں سفرکرکے منزل پر پہنچتا۔اگر اس کی خیرخبر چند سال تک نہ آتی تو ان حالات میں اس کی رعایت ضروری تھی ۔ آج کوئی گھرسے نکلے اور بیوی بچوں سے ایسا بے فکر ہوجائے کہ سالوں ان کی خبر نہ لے اورنہ اپنی دے۔ یہ قطعی دوسرے صورت ہے۔ وہ مجبوری تھی ۔ یہ اپنی ذمہ داری اورفرض سے فرار ہے۔ اب تو کوئی گرفتاربلا بھی ہوتو گھراطلاع دینا ناممکن نہیں۔ چنانچہ موجودہ حالات میں مدت مفقودالخبرکے مسئلہ میں اجتہاد کی ضرورت ہے۔حالات اور ظروف بدل جائیں توحکم بھی بدل جاتا ہے۔ 
اگرخاتون معمر ہے، کوئی اس کا ولی وارث یا آمدنی کا راستہ بھی ہے ،تو بیشک بیٹھی رہ سکتی ہے۔ لیکن اگرعورت جوان ہے تو صورتحال مختلف ہوگی۔ خصوصاً اس لئے کہ اس دورمیں جنسی ترغیبات کی یلغار ہے۔اس کی رعایت بھی چاہئے۔ چنانچہ اس کو چندماہ سے زیادہ انتظار کی صعوبت میں ڈالنا خلاف مصلحت ہے۔بی بی کیسی ہی پاکباز کیوں نہ ہو، شوہر کی جدائی میں اس کی زندگی توعذاب بن ہی جائیگی اوروہ نارمل زندگی نہیں جی سکے گی۔یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک شب حضرت عمرؓ نے گشت کے دوران کسی خاتون کو ایسا کلام پڑھتے ہوئے سنا جس میں شوہر سے فراق پر آہ وزاری تھی۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اس کا شوہرمحاذ جنگ پر ہے۔ عرصہ سے گھر نہیں آیا۔ خلیفۂ وقت نے مشورہ کے بعد چارماہ کی مدت مقررفرمادی کہ کسی نوجوان عورت کا شوہر اس سے زیادہ مدت محاذ پر نہ رہے۔اگرایک نشست میں طلاق ثلاثہ کے لئے حضرت عمرؓ کے انتظامی حکم کا حوالہ دیاجاسکتا ہے تو مفقودالخبرشوہر کی نوجوان بیوی کو چارماہ میں گلاخلاصی کیوں نہیں دلائی جانی چاہئے؟ بشرطیکہ وہ چاہے۔
مشتاق صاحب نے اپنے مضمون میں بشمول طلاق ثلاثہ اوربھی کئی معاملات پر ناقدانہ نظرڈالی ہے۔ ان سب پر تنگ نظری کے دائرے سے باہرنکل کر غوروفکر کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ مضمون اس اعتبار سے بھی اہم ہے اس وقت ایک نام نہاد ’مفکراسلام ‘ نے ’’تحفظ شریعت ،تحفظ آئین ‘‘ عنوان سے ایک تحریک چھیڑی ہوئی ہے۔ اس میں کچھ اورمحترم اصحاب بھی ساتھ لگ لئے ہیں۔ اس تحریک کے عنوان سے گمان یہ ہوتا ہے قانون شریعت کو دینی نقطہ نظر سے جو تقدس حاصل ہے،ان صاحب کی نظرمیں آئین کا تقدس بھی اسی کے ہم پلہ ہے۔ حالانکہ اہل اسلام کا مسلمہ عقیدہ یہ ہے کہ قانون شریعت کی بنیاد قرآن ،سنت واجماع امت ہے۔ اس کی بنیادیں نہیں بدلی جاسکتیں۔ جہاں تک ملکی آئین کا تعلق ہے، ہم سب واقف ہیں کہ یہ انسانی صوابدید کا شاہکار ہے۔ بحیثیت ہندستانی شہری ہم اس کا احترام کرتے ہیں ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلی منٹ اس میں 121بارترمیم کرچکی ہے۔ اس میں بعض شقیں ایسی ہیں جن کو بدلے جانے کا مطالبہ ہم بھی کرتے ہیں۔ جو ہمارے لئے عقائد کے خلاف ہیں۔ یکساں سول کوڈ،بین مذاہب شادیاں ،زنا بالرغبت ،بغیررسمی شادی ساتھ رہنا اور شراب نوشی وغیرہ جن قوانین کے تحت مباح ہیں ، وہ سب اسی آئین کے تحت آتے ہیں۔جب آپ’’ تحفظ آئین‘‘ کہتے ہیں تواس میں ان چیزوں کا تحفظ بھی شامل ہوجاتا ہے جن کو بدلنے کا مطالبہ خود بھی کرتے ہیں ۔ مطلوب صرف بنیادی حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے۔ لیکن یہ تحریک سارے معاملے کو خلط ملط کررہی ہے۔
جب یہ صاحبان ’’ تحفظ شریعت‘‘ کہتے ہیں تومراد بشمول شریعت ایکٹ وہ پورا مجموعۂ قوانین ہوتا ہے جس کو’’مسلم پرسنل لاء‘‘ کہتے ہیں ۔آپ نے ان مجموعہ قوانین کو بھی قرآن کادرجہ دیدیا ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق ان میں اصلاح سے بھی انکارکرتے ہیں۔ حالانکہ یہ قوانین محض تعبیرات اورتاویلات ہیں اور تقاضائے وقت کے مطابق نصوص شرعیہ کی تعبیر و تشریح اور انطباق میں اصلاح واجتہاد کی گنجائش ہے۔ اہل علم کے نزدیک بشمول شریعت ایکٹ تمام مروجہ قوانین میں اصلاح وترمیم نہ صرف کی جاسکتی ہے ،بلکہ بعض معاملات میں مطلوب ومحمودبھی ہے۔لیکن آپ ان کو اسی طرح حرف آخر قراردیتے ہیں جس طرح نصوص شرعیہ ہیں۔ اوراس طرح انسانوں کی تعبیر وتشریح کو غیرواجب تقدس عطاکرتے ہیں۔ ایک نکتہ یہ بھی ذہن میں رہے کہ آپ جس آئین کے امین بن کر اس کے تحفظ کی تحریک چلارہے ہیں اسی کے تحت پارلیمنٹ کو اس مجموعہ و قوانین میں بھی ترمیم کا قانونی اختیارحاصل ہے۔ آخری بات یہ کہ اپنے دینی شعائر کی حفاظت خود ہماری اپنی ذمہ داری ہے ۔سرکاری یا عدالتی مداخلت اس وقت ہوگی جب کوئی مسلم فریق استغاثہ پیش کرے ۔ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ مظلوم فریق کو یہ اعتماد نہیں ہوتا کہ قاضی صاحب سے انصاف مل جائیگا۔تحفظ شعائراسلامی کے لئے کسی سے بھیک مانگنے اوراس کو بہانا بناکر سیاست کرنے کے بجائے معاشرے کی اصلاح اوراس میں بیداری کی اورروشن ضمیری کی فکر ہونی چاہئے۔
ہماراحال یہ ہے کہ یوگا کی اپیل پر تو ناگواری کا اظہار خوب ہوا مگرجب کہ اسی 31؍اگست کو سپریم کورٹ نے24؍ہفتہ کا حمل گرانے کی منظوری دیدی اور اس کی تقلید میں9؍ستمبر کو یوپی ہائی کورٹ نے ایسی ہی اجازت صادرکردی تو کسی طرح کی ناگواری کا اظہار نہیں کیا گیا۔ ہمارے کسی قائد محترم نے مادررحم میں قتل جنین پراحتجاج نہیں کیا۔کیا اس لئے کہ یہ غیرمسلم بچیوں کا معاملہ تھا حالانکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی اورقرآن نے تنبیہ فرمائی تھی، یہ شناعت غیرمسلم عربوں میں ہی تھی۔ رحم مادر میں قتل کئے گئے ان بچوں سے جب پوچھا جائیگا : ’تم کو کس جرم میں ہلاک کیا گیا‘ (التکویر: 81)توان صاحبان سے کیا یہ نہیں پوچھا جائیگا کہ برائی کو فروغ ہوتے دیکھتے رہے اورتم خاموش رہے ؟ خاموشی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ بتانے کی ضرورت نہیں۔
لکھنؤ کی اچھی مثال
امام باڑہ سبطین آباد، حضرت گنج نے ’ کندھے سے کندھا ‘ملا کر، شیعہ اورسنیوں کو ایک ساتھ نماز عید ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔ نماز سنی امام پڑھائیں گے۔ اس عیدالفطر پر بہت سے شیعہ مصلیوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد میں سنی امام کے پیچھے عید کی نماز ادا کی تھی۔ یہ ایک اچھی مثالیں ہیں۔ لکھنؤ وہ شہر ہے جو شیعہ سنی فسادات کے لئے بدنام رہا ہے۔ ایک ایسے شہر سے اگرایسی صدابلند ہوتی ہے تو یقیناًلائق ستائش ہے۔ہم اس کے داعیان کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ان کا اخلاص اس سے ظاہر ہے کہ دعوت نامہ میں اپنا نام نہیں دیا ہے۔ اللہ ان کے اس عمل کو قبول فرمائے۔ آمین۔
Cell: 9818678677

No comments: